دوہفتہ بعد بھی ناخد ا مسجد میں مارپیٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکی- مسلمانوں کو شرم سارکردینے والوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں؟آخر پولس کس کے اشارے پر پورے معاملے سے چشم پوشی کررہی ہے۔پہلے فجر کی نما ز میں اور اس کے بعد جمعہ کی نماز میں مارپیٹ کی گئی۔کیا شہر کے سرکردہ افراد اور ذمہ داران کو کسی بڑے واقعے کے رونما ہونے کا انتظار ہے؟

0
88

ناہید اختر

انصاف نیوز آن لائن

2ستمبر کو ناخدا مسجد میں جمعہ کی نماز سے قبل دفتر کے تنازع کو لے کر ہوئے مسجد میں مارپیٹ کا واقعہ پیش آیا تھا۔مسجد میں نصب سی سی ٹی وی فوٹیج واضح کرتا ہے کہ اس حملے میں کون کون لوگ ملوث ہیں۔گرچہ متولی اور نائب امام قاری شفیق نے اپنے اپنے طور پر متضاد دعوے کئے ہیں۔مگر مسجد کے آس پاس موجود لوگوں اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں صاف صاف نظر آرہا ہے کہ نائب کے قریبی افراد متولی اور مسجد کے موذن حافظ ریا ض پر حملہ کررہے ہیں۔دو ہفتہ گزر جانے کے باوجود پولس نے مسجد کے متولی کے ذریعہ شکایت درج کئے جانے کے باوجود اس واقعے کی کوئی جانچ نہیں کی ہے۔جب کہ یہی وہ پولس ہے جو قاری شفیق کے بھتیجوں کی شکایت مسجد کے موذنین کو پولس اسٹیشن میں بیٹھاکر پریشان کیا تھا۔ایک مسلم پولس اہلکار نے ان موذنین پر دباؤ بنایاکہ وہ نائب امام سے صلح کرلیں۔

انصاف نیوز آن لائن نے اس پورے معاملے کی تفصیلی رپورٹنگ کی تھی۔جب کہ موذنین کے خلاف مارپیٹ کرنے کی پوری شکایت ہی فرضی تھی۔موذنین نے صرف نائب امام کے بھتیجے کے ذریعہ نکاح پڑھائے جانے پر اعتراض کیا تھا کہ جب وہ مسجد کا اسٹاف نہیں ہے اور مسجد سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے تو پھر کس حق سے نکاح پڑھاتا ہے۔صرف اس کی وجہ سے مارپیٹ کی شکایت درج کرائی گئی تھی۔ابھی تو مارپیٹ کی باضابطہ ویڈیو کلپ ہے اور مارپیٹ کرنے والوں کے چہرے نمایا ہورہے ہیں۔ایسے میں پولس کا کارروائی نہیں کرنا کئی سوالات کھڑا کرتا ہے۔

انصاف نیوز آن لائن کو ایک اور آڈیو کلب موصول ہوا ہے جس میں نائب امام کے قریبی فون پر بات کررہے ہیں کہ ان لوگوں نے مسجد کے ایک اور موذن حافظ عبد العزیز کی بھی پٹائی کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔مگر وہ اس لئے بچ گیا وہ موقع پر نہیں آسکا۔ان دونوں کی گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ مسجد ناخدا کا واقعہ منصوبہ بند تھا اور مسجد کے متولی اورموذن کی پٹائی کرنے کے تمام ترانتظامات کئے گئے تھے۔چناں چہ جب مسجد کے موذن حافظ ریاض نے نائب امام سے کہا کہ مسجد کے متولی آپ کو فون کررہے ہیں آپ ان سے بات کرلیں۔اسی درمیا ن مسجد میں پہلے سے موجود دس سے پندرہ لڑکے نے موذن پر حملہ کردیا اور اس کے بعد جب متولی اقبال عبد اللہ پہنچے تو ان پر بھی حملہ کردیا گیا۔ایسے میں یہ سوال لازمی ہے کہ آخر مسجدمیں دس سے پندرہ لڑکے اچانک جمع ہوگئے۔کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہنگامہ ارائی کرنے والوں میں مسجد ناخدا کے نائب امام کے بیٹے کے غیر مسلم دوست بھی موجود تھے۔اگر یہ دعویٰ درست ہے تو بہت ہی افسوس ناک ہے۔

مسجد ناخدا کے نائب امام نے دعویٰ کیا ہے کہ 30رمضان کو فجر کی نماز میں مارپیٹ کا کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے۔جب کہ نائب امام کا یہ دعویٰ سراسر جھوٹ ہے۔فجر کی نماز میں موجود مصلیان نے میڈیا میں آکرباضابطہ بیان دیا ہے کہ نائب امام قاری شفیق نے مسجد کے موذن حافظ عبد العزیز پر مائیک پھینک کر مارا اور کہا کہ اس نے میر ے خلاف سازش کی ہے اور جان بوجھ کر مائک کی آواز کو کم کردیا ہے۔اس درمیان ان کے رشتہ دار اور حامی ڈنڈے لے کر آگئے۔فجر کی نماز میں موجود علاقے کے سرکرہ شخصیت عمر خان اور غلام مصطفی نے باضابطہ طور پر امام کو سمجھایا۔سوال یہ ہے کہ مسجد میں بیٹھ کر کوئی شخص اس قدر سفید جھوٹ کیسے بول سکتا ہے۔تاہم یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں ہے کہ مسجد کے دفتر میں بیٹھ کر گالی گلو ج دیتے رہے ہیں اور گالیوں کا کئی آڈیوں اب وائرل ہورہا ہے۔

انصاف نیوز اس معاملے میں مسلسل رپورٹنگ کرکے اصل صورت حال سامنے لارہا ہے۔اس کا مقصد واضح ہے کہ مسجد کو غلط عناصر سے پاک کیا جائے اور صالح قیادت کو سامنے لایا جائے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ اس پورے تنازع میں مسجد کے متولیوں کا کردار بھی کوئی صاف ستھرا نہیں ہے۔ان کے اپنے معاملات واضح نہیں ہے۔اسی وجہ سے دو دہائی بیت جانے کے باوجود کوئی مستقل باصلاحیت اور صاحب تقویٰ امام کی تقرری کرنے میں ناکام رہے۔مسجد کو سیاسی اکھاڑہ میں تبدیل کرنے کا موقع دیا گیا۔مسجد میں بیٹھ کر انتخابی سیاست کیلئے لابنگ کی جاتی ہے۔اس پر لگام لگانے میں مسجد کے متولی حضرات ناکام رہے ہیں۔اسی طر ح نکاح پڑھانے کے نام پر بھی دھاندلی ہوتی رہی ہے اور اس وقت جو تنازع ہے اس کی جڑ میں نکاح کے نام پر ہونے والی آمدنی کی مساویانہ تقسیم کا مسئلہ بھی کارفرما ہے۔مسجد کی آمدنی، عملے کی تنخواہ بھی غیر واضح ہے۔مسجد کے متولیوں پر بھی مالی بدعنوانی کے الزامات مقامی لوگ لگاتے ہیں۔