Friday, July 19, 2024
homeاہم خبریںرفیع احمد قدوائی روڈ،حاجی محمد محسن اسکوائرپر غیر قانونی تجاوزات کی وجہ...

رفیع احمد قدوائی روڈ،حاجی محمد محسن اسکوائرپر غیر قانونی تجاوزات کی وجہ سے تاریخی اداروں کا وجود خطرے میں

سیاسی پشت پناہی میں پورے علاقے میں غیرقانونی طریقے سے دوکانیں کھول دی گئی ہیں ۔عالیہ یونیورسٹی ، مسلم انسی ٹیوٹ ، ہاسٹلس اور چرچ میں داخل ہونا مشکل ۔

کلکتہ26جولائی (انصاف نیوز آن لائن )

رفیع احمد قدوائی روڈ اور حاجی محسن اسکوائر تاریخی اہمیت کا حامل ہے، علم و دانش کا یہ مرکز ہے ۔اس علاقے میں جہاں تاریخی مدرسہ عالیہ جو اب یونیورسٹی کا بن چکا ہے ۔اے پی ڈیپارٹمنٹ مدرسہ عالیہ ، مسلم انسی ٹیوٹ، بیکر ہاسٹل ، ایلیٹ ہاسٹل ، مولانا آزاد کالج ، مولانا آزاد کا گرلس ہاسٹل، صدسالہ قدیم لارڈ جیسس چرچ اور اردو اکیڈمی جیسے ادارے واقع ہے۔اس علاقے کے محض چند سومیٹر کی دورپر کلکتہ گرلس کالج اور آس پاس کئی اہم مشہور اسکول ہیں ۔اسی طرح اسی علاقے میں مدرسہ بورڈ کا قدیم دفتر بھی ہے۔اس کے باوجود ناجائز تجاوزات اور سڑک پر دوکانوں کی وجہ سے اس علاقے میں چلنا مشکل ہے۔رفیع احمد قدوائی پر غیر قانونی پارکنگ ، حاجی محسن اسکوائر کے دونوں جانب ہاکروں نے قبضے کرلیا ہے ۔شام میں عام لوگوں کا گزرنا مشکل ہے۔المیہ یہ ہے کہ ناجائز قبضے کو حکمراں جماعت کی حمایت حاصل ہے ۔پولس اور مقامی انتظامیہ اس کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کررہی ہے۔
عالیہ یونیورسٹی برطانوی دورحکومت میں قائم ہونے والا پہلا تعلیمی ادارہ ہے ۔کلکتہ مدرسہ کی بنیاد وارن ہیسٹنگز نے 1781 میں رکھی تھی۔تاریخی مدرسہ سے کئی اہم شخصیات وابستہ رہی ہیں ، 2007میں بنگال حکومت نے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کےلئے تاریخی مدرسہ کو یونیورسٹی میں تبدیل کردیا۔اس وقت اس یونیورسٹی کے تین کیمپس ہیں ۔مسلم انسی ٹیوٹ 1920میں قائم کیا گیا تھا۔یہ ادارہ آج بھی کلکتہ کے مسلمانوں کا تہذیبی وثقافتی مرکز ہے مسلم انسی ٹیوٹ تحریک آزادی میںمجاہدین آزادی کا مرکز رہ چکا ہے۔بنگلہ کے مشہور شاعرقاضی نذرالاسلام یہاں اپنی مشہور نظم باغی پیش کرچکے ہیں ۔لائبریری کے علا وہ ٹینس اور دیگر کھیل کے مراکز ہیں ۔اسی طرح 175 سالہ پرانالارڈ جیس صرف چرچ نہیں ہے بلکہ دارالمطالعہ ہے جہاں بڑی تعداد میں طلبا و طالبات مطالعہ کرنے کےلئے آتے ہیں ۔ سنٹر فار فلم اسٹڈیز کی بنیاد فادر گیسٹن روبرج نے 1970 میں ستیہ جیت رے کی مدد سے رکھی تھی۔فرانسیسی بولنے والے مونٹریال سے جیسوئٹ پادری بننے والے فلمی ماہر روبرج، جو 1961 میں کلکتہ آئے اور 2020 میں اپنی موت تک یہاں مقیم رہے، کو شہر میں فلمی مطالعہ کا ایک اہم کردار سمجھا جاتا ہے۔بیکر اور ایلیٹ ہوسٹل بھی تاریخی ادارہ ہے ۔یہاں دیش بندھوشیخ مجیب الرحمن یہاں قیام کرچکے ہیں ۔


رفیع احمد قدوائی روڈ کے دونوں اطراف اور حاجی محمد محسن اسکوائر کے آس پاس علاقے میں ہر طرف جھونپڑیوں کا جال ہے، سڑک پر ہی پھل فروٹ کی دوکانیں ہیں ، گرلس ہاسٹل کے سامنے جوس کی دوکانیں ہیں ۔چرچ کی دیوار کو پیش خانہ مچادیا گیا ہے۔اردو اکیڈمی کے سامنے غیر قانونی پارکنگ ہے۔ان تجاوزات کی وجہ سے اس ادارے کا تقدس پاما ل ہوچکاہے۔
غیر قانونی تجاوزات سے تنگ آکر کل لارڈ جیسس چرچ کے احاطے میںواقع چترابنی ہال میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں سماجی کارکنان اور ان اداروں سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔مسلم انسٹی ٹیوٹ کے جنرل سیکریٹری نثار احمد نے بتایا کہ کلکتہ کارپوریشن کے میئر فرہاد حکیم اور دیگر اعلیٰ عہدیداران سے باربار شکایت کی گئی ہے کہ اس علاقے میں ناجائز اور غیر قانونی قبضہ میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ یہ سب ووٹ کی سیاست کا حصہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ مسلم انسی ٹیوٹ میں ایک ممبر پارلیمنٹ واضح لفظوں میں کہا کہ وہ اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتے ہیں ۔


خیال رہے کہ مسلم انسٹی ٹیوٹ کےصدر ترنمول کانگریس کے راجیہ کے رکن ہیں ۔اس کے باوجود مسلم انسی ٹیوٹ کے آس پاس غیر قانونی قبضہ میں اضافہ ہوا ہے۔جب کہ یہ علاقہ تین وار ڈ پر مشتمل ہے۔تینو ں وارڈ کے کونسلر کا تعلق حکمراں جماعت سے ہے۔
پریس کانفرنس میں نثار احمد نے بتایا کہ میڈیا کے ذریعہ ہم حکومت تک اپنی بات پہنچانا چاہتے ہیں ، تحریک چلائی جائے گی، اس کے بعد بڑے پیمانے پر پریس کانفرنس کی جائے گی اس کے بعد بھی اگر یہ ناجائزقبضے ختم نہیں ہوئے تو ہم عدالت جائیں گے اور سب اس میں عرضی گزار ہوں گے۔ سماجی کارکن حسنین امام ہاسٹل کے سپرنٹنڈنٹ تاجدار علی مرزا۔ اور تنویر احمد خان، سکریٹری، مولانا آزاد کالج ایلومنائی ایسوسی ایشن، نیوز کانفرنس میں موجود لوگوں میں شامل تھے۔

اس سے قبل علاقے کے سرکردہ افراد نے میئر فرہاد حکیم کی توجہ مبذول کرائی تھی مگر انہوں نے اس پر کارروائی کرنے کے بجائے پولس انتظامیہ پر ڈال دیا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ ہاکرس سڑکوں پر باضابطہ دوکان کس کی اجازت سے لگارہے ہیں اور انہیں حوصلہ کس نے دیا۔اسی طرح یہ علاقوں تین وارڈ پر مشتمل ہے تینوں وارڈ کے کونسلر ترنمول کانگریس کے ہیں، علاقے کے ممبر اسمبلی اور ممبر پارلیمنٹ بھی ترنمول کانگریس کے ہیں ۔مسلم انسی ٹیوٹ کے صدر ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا کے رکن ہیں ۔ایسے میں سوال یہ لازمی ہے کہ یہ ہاکرس اتنے طاقتور کیسے بن گئے ۔ہردن ناجائز تجاوزات میں اضافہ ہورہا ہے اور یہ طاقتور افراد بے بس بنے ہوئے ہیں ۔
سوال یہ بھی ہے کہ عدالت جانے میں تاخیر کیوں برتی جارہی ہے ۔اگر عدالت کی ہدایت آجائے تو پھر ان کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔نثار احمد کہتے ہیں کہ عدالت جانا ہماری آخری آپشن ہوگا ۔اس سے قبل ہم تحریک چلائیں گے اور عوام کو اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کریں گے کیوں کہ اس کی وجہ سے سب سےزیادہ عام لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہیں ۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین