حج سبسیڈی: وی آئی پی کوٹہ ختم مگر جہاز کے کرایوں کے لیے گلوبل ٹینڈر کب نکالا جائے گا؟

0
57

حج خالص عبادت ہے اور اس کے انتظامات بھی اسی نقطہ نظر سے کیے جانے چاہئیں مگر المیہ یہ ہے کہ حج انتظامات ہمیشہ سے سیاسی پولرائزیشن کی زد میں رہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں حج کمیٹی کی تشکیل سے لے کر ریاستوں کے درمیان حج کوٹہ کی تقسیم اور سبسیڈی تک سبھی امور کو متنازع بناتی رہی ہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد 2018 سے حج سبسیڈی کو ختم کر دیا گیا ہے۔ حج سبسیڈی کی تاریخ آزاد ہندوستان سے شروع نہیں ہوتی بلکہ یہ سب سے پہلے 1932 میں متعارف کرائی گئی تھی۔ برطانوی حکومت نے سرکاری خزانے سے حج کمیٹی قائم کی تھی۔ بمبئی اور کولکاتہ دو بندرگاہوں سے اس کی شروعات کی تھی۔ ایسے میں حج سبسیڈی کو مسلمانوں کی خوشامد سے جوڑنے کا جواز کیا ہے؟ سپریم کورٹ نے حج سبسیڈی پر جو فیصلہ سنایا ہے وہ بادی النظر میں پروپیگنڈے پر مہر لگانے کے مترادف ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ حکومت صرف حج امور پر سبسیڈی دیتی تھی بلکہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بھی مختلف ریاستی حکومتیں سہولتیں اور رعایتیں فراہم کرتی ہیں۔ کنبھ میلے کے انعقاد پر ہونے والے اخراجات کو چھوڑ بھی دیا جائے تب بھی تیرتھ یاتریوں کے لیے مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں نے کئی اسکیمیں شروع کر رکھی ہیں۔ مدھیہ پردیش جہاں بی جے پی کی حکومت ہے وہاں مکھیہ منتری تیرتھ یاترا یوجنا کے تحت ہر سال کل 77,000 یاتریوں کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ مدھیہ پردیش واحد ریاست ہے جو پاکستان میں مقدس مقامات (ننکانہ صاحب مزار اور ہنگلاج ماتا مندر) چین (کیلاش مان سروور) کمبوڈیا (انگکوروت) اور سری لنکا (سیتا مندر اور اشوک واٹیکا) کے سفر پر سبسڈی دیتی ہے۔مدھیہ پردیش کے علاوہ چھتیس گڑھ، گجرات، کرناٹک، دہلی اور اتراکھنڈ جیسی کئی دیگر ریاستیں مانسروور یاترا پر جانے والوں کو اخراجات کا ایک حصہ فراہم کرتی ہیں جو تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے بنتی ہے۔ کیلاش مانسروور یاترا فی الحال چینی حکومت کے ساتھ دو طرفہ انتظام کے تحت منعقد کی جاتی ہے۔ ہندوستانی حکومت ہر یاتری کے بورڈنگ اور رہائش کے لیے تقریباً چھ ہزار روپے ادا کرتی ہے۔ ان حقائق کے باوجود حج سبسیڈی پر عدالت سے لے پر ایوانوں تک بحث و مباحثہ ہو رہا ہے۔

حج سبسیڈی کی ایک تاریخ ہے۔ آزادی کے بعد 1959 میں پہلی مرتبہ حج ایکٹ نافذ کیا گیا اور اس میں انگریزی دور سے آنے والے نظام کو باقی رکھا گیا تھا۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے سعودی عرب کے سفر کا طریقہ سمندر سے ہوائی سفر میں تبدیل کیا گیا تو حج کمیٹی ایکٹ میں 1973 میں مزید ترمیم کی گئی۔ اسی مناسبت سے حکومت نے سمندری اور فضائی کرایوں کے فرق کو پورا کرنے کے لیے سبسڈی میں بھی اضافہ کیا۔ 1995 تک تقریباً پانچ ہزار عازمین حج سمندری سفر کرتے تھے جبکہ ہر سال تقریباً انیس ہزار عازمین حج ہوائی سفر کرتے تھے۔ 1995 میں سمندری سفر کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا اور تمام عازمین حج کو ہوائی حمل ونقل کا استعمال کرنا پڑا۔
2011 میں جسٹس مارکنڈے کاٹجو اور جسٹس گیان سدھا مشرا کی بنچ نے تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ حج سبسیڈی کوئی غیر قانونی قدم نہیں ہے۔ انہوں نے آرٹیکل 27 کی بھی تشریح کی۔ تاہم 2012 میں جسٹس آفتاب عالم کی قیادت والی بنچ نے جسٹس کاٹجو کے فیصلے کو رد نہیں کیا کیوں کہ دو رکنی بنچ کو دوسرے رکنی بنچ کے فیصلے کو رد کرنے کا اختیار نہیں ہے لیکن انہوں نے کہا کہ حج خالص مذہبی عبادت ہے جو ان لوگوں پر فرض ہے جو سفر کے اخراجات برداشت کرنے کی طاقت رکھتے ہوں، اس لیے حج سبسیڈی کو مرحلہ وار اگلے دس سالوں میں ختم کر دیا جائے۔چنانچہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 2018 میں حج سبسیڈی کو ختم کر دیا گیا۔حکومت کے اس قدم کا مسلم حلقوں کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا مگر ضروری ہے کہ حج کے انتظامات، جہاز کا کرایہ اور حاجیوں کے قیام و طعام کے انتظامات میں شفافیت لائی جائے۔ پانچ سال گزر جانے کے باوجود اب تک حج اصلاحات پر کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ حج مہنگا ترین ہو گیا ہے اور متوسط طبقے کے لیے حج کے سفر کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس سمت میں حکومت ہند نے ایک اچھا کام یہ کیا ہے کہ حج میں وی آئی پی کوٹہ ختم کر دیا ہے۔

سعودی حکومت کے لیے لاکھوں عازمین حج کے لیے محفوظ مہمان نوازی کی خدمات فراہم کرنا چیلنج رہا ہے۔ لہذا سعودی حکومت صورتحال کو متوازن کرنے کے لیے دنیا بھر کے ممالک کے لیے آبادی کے اعتبار سے حج کوٹہ مختص کرتی ہے تاکہ حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر کے ممالک کو مناسب نمائندگی دی جا سکے۔ یہ کوٹے کسی ملک کی مسلم آبادی کی بنیاد پر تقسیم کیے جاتے ہیں۔ بھارت میں حج کے انتظامات وزارت اقلیتی امور کے تحت حج کمیٹی کے ذریعہ کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف پرائیوٹ ٹورس اینڈ ٹراویلس کے ذریعہ کیے جاتے ہیں۔

سعودی حکومت کی جانب سے الاٹ کردہ کوٹہ کا ستر فیصد حصہ حج کمیٹی آف انڈیا کو دیا جاتا ہے اور تیس فیصد سیٹیں پرائیوٹ ٹورس اینڈ ٹراویلس کو دی جاتی ہیں جو حج کے لیے کوئی بھی چارج لینے کے لیے آزاد ہیں۔ حج کمیٹی آف انڈیا ریاستوں کی مسلم آبادی کی شرح کے اعتبار سے حج کوٹہ کی تقسیم کرتی ہے۔ حج کمیٹی آف انڈیا کے کوٹے کی پانچ سو سیٹیں ’’سرکاری صوابدیدی کوٹہ‘‘ کے لیے الگ کر دی جاتی ہیں۔ ان پانچ سو میں سے سو ایوان صدر کے پاس جاتی ہیں، پچھتر وزیر اعظم کے پاس، پچھتر نائب صدر کے پاس اور پچاس اقلیتی امور کے وزیر کے پاس ہوتی ہیں اور باقی سیٹیں حج کمیٹی آف انڈیا کے پاس رہتی تھیں۔ سرکاری صوابدید کوٹہ کا مسئلہ 2011 میں سپریم کورٹ کے روبرو پیش ہوا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس کوٹے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ناانصافی ہے۔ اس وقت یہ کوٹہ پانچ ہزار تھا جسے کم کرکے پانچ سو کر دیا گیا تھا۔ اب مرکزی حکومت نے اس کوٹے کو ختم کرتے ہوئے حج کے امور سے وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کر دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ وزارت اقلیتی امور کی جانب سے یہ بہتر قدم ہے۔

وی آئی پی کوٹے کے خاتمے کے بعد ایک ٹی وی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سمرتی ایرانی نے کہا کہ ’’وزیر اعظم کا خیال تھا کہ اگر ہمیں وی آئی پی کلچر کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے تو جس بھی محکمے میں بھی کوئی خاص درجہ بندی پائی جاتی ہو تو اسے ختم کر دینا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم کے عزم کی عکاسی کرنے والی ایک جامع حج پالیسی کا اعلان کیا جائے گا جو غریبوں کی ضروریات کا خیال رکھے گی۔ سوال یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیاد پر سبسیڈی کا خاتمہ تو کر دیا مگر پانچ سال گزر جانے کے باوجود اب تک جہاز کے کرایہ پر کوئی ایسی پالیسی نہیں بنائی گئی ہے جس سے عازمین حج پر بوجھ کم ہو سکے۔ حج امور سے متعلق مختلف مطالعات سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ حج سبسیڈی کا فائدہ حاجیوں کو نہیں بلکہ ایر انڈیا کو ہوتا تھا۔ اب جبکہ سبسیڈی ختم ہو گئی ہے اور ایر انڈیا بھی پرائیوٹ کمپنی کا حصہ بن گیا ہے تو پھر عازمین حج کو کم سے کم کرایہ میں سروس فراہم کرنے والوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے گلوبل ٹینڈر کیوں نہیں نکالا جا رہا ہے؟ سب جانتے ہیں کہ پیشگی بکنگ کی وجہ سے جہاز کا کرایہ کافی کم ہوتا ہے مگر حج کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ پیشگی بکنگ ہونے کے باوجود ایر انڈیا حاجیوں سے تقریباً پچاسی تا نوے ہزار روپے اضافی وصول کرتا ہے۔