Wednesday, May 29, 2024
homeاہم خبریںہندو قدامت پسند اُردو سے اتنے نالاں کیوں؟

ہندو قدامت پسند اُردو سے اتنے نالاں کیوں؟

نیاز فاروقی
——–
اپنی سرزمین یا برادری کی تاریخی کامیابیوں پر فخر محسوس کرنا ایک عام بات ہے اور اس لحاظ سے انڈیا میں اردو ان زبانوں میں سے ایک ہے جس پر بہت سے اہلِ زبان فخر کرتے ہیں۔

اس کی وجہ سادی سی ہے اور وہ یہ کہ اُردو فارسی، عربی، ہندی اور سنسکرت جیسی متعدد زبانوں اور روایتوں کا سنگم ہے جو کہ انڈین معاشرے کی وسعت کی نمائندگی کرتی ہے۔

لیکن حالیہ دنوں میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اُردو اور اس سے منسلک تہذیب و تمدن انڈیا کی ہندو قدامت پسند جماعتوں کی بظاہر ضد بن چکی ہے اور ماہرین کے مطابق اس کی وجوہات میں ہر وہ جواز شامل ہے جو کہ انڈیا میں دائیں بازو کی سیاست کا بڑے پیمانے پر حصہ ہے۔

اس کی حالیہ مثال گذشتہ ہفتے نظر آئی جب دائیں بازو کی ایک سخت گیر نظریات رکھنے والی جماعت سے منسلک افراد نے فیب انڈیا نامی ملبوسات بنانے والی کمپنی کی طرف سے جاری کردہ ’جشنِ رواج‘ نامی ایک اشتہار پر یہ کہہ کر احتجاج کیا کہ یہ اشتہار ہندو مذہب اور روایات کو غلط طریقے سے پیش کرتا ہے۔

ساتھ ہی اس کے نام میں اُردو الفاظ کے استعمال پر بھی سوالیہ نشان لگائے گئے۔

حالیہ برسوں میں اس نوعیت کے بہت سے واقعات رونما ہوئے جن میں اُردو زبان، اردو ثقافت اور یا اس سے جڑی تہذیب سے متعلق نشانیوں پر شدید تنقید دیکھنے میں آئی۔ مثلاً سنہ 2018 میں ریاست اترپردیش کی حکومت نے شہر الہ آباد کا نام بدل کر پریاگ راج رکھ دیا۔

اسی طرح ’مغل سرائے‘ کو ہندو نظریاتی رہنما کے نام پر ’دین دیال اپادھیائے‘ اور فیض آباد کو ’ایودھیا‘ کے نام سے بدل دیا گیا۔ ریاست اتر پردیش کے ہی دوسرے شہروں جیسا کہ سلطان پور، علی گڑھ اور مظفر نگر کے ناموں کو بدلنے کے حوالے سے بحث جاری ہے۔

ان اقدامات کا جواز پیش کرتے ہوئے مظفر نگر کے رکن اسمبلی سنگیت سوم نے کہا تھا کہ ’یہ ہندوستان کی ثقافت کو بحال کرنے کی کوشش ہے‘، خاص طور پر ’ہندوتوا‘ جسے مغلوں نے ’مٹانے کی کوشش‘ کی تھی۔

احمد آباد کے بارے میں بات کرتے ہوئے گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ نتن پٹیل کہہ چکے ہیں کہ ’یہ نام غلامی کی علامت‘ ہے۔

اسی طرح کی سیاست اور ملبوسات کی کمپنی کے اشتہار پر تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے نئی دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اُردو کے سربراہ ڈاکٹر شہزاد انجم کہتے ہیں کہ ’اس طرح کی کارروائیوں کی وجہ سیاسی ہے بالکل ویسے ہی جیسے شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کا معاملہ ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اسے ایک مسئلے کی شکل دی جا رہی ہے لیکِن سچائی تو یہ ہے کہ اخبارات کی زبان، ریڈیو کی زبان، ٹی وی کی زبان، عام بول چال کی زبان سب ہندوستانی ہے۔ اس میں اُردو اور ہندی دونوں شامل ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اُردو بغیر ہندی کے زندہ نہیں رہ سکتی ہے اور ہندی کا وجود اُردو کے بغیر نامکمل ہے۔‘

ڈاکٹر شہزاد انجم مزید کہتے ہیں کہ ’اس وقت بھی انڈیا میں جو لوگ اُردو کے لیے سب سے زیاد کام کر رہے ہیں وہ ہمارے غیر مسلم لوگ ہی ہیں-

ہندی، ہندو، ہندوستان

اردو پر ہندو قدامت پسندوں کے اعتراضات اور اس پر ہندی کی برتری کے دعوؤں کی ایک طویل تاریخ ہے۔

19ویں صدی میں جب ہندوستان کی سرکاری زبان فارسی تھی اور عام لوگوں کی زبان اُردو تھی، بھارتیندو ہریش چندر نے ’ہندی، ہندو اور ہندوستان‘ کا نعرہ دیا تھا۔ یہ نعرہ سنہ 1920 کی دہائی میں مزید مقبول ہوا جب ہندو دائیں بازو کے نظریات انڈیا میں ایک ٹھوس شکل اختیار کر رہے تھے۔

انڈیا میں جدوجہد آزادی کے رہنما ان تضادات سے واقف تھے۔

انڈیا کے بابائے قوم مہاتما گاندھی نے سنہ 1925 میں شمارہ ’ینگ انڈیا‘ میں لکھا تھا کہ ’ہمیں مقامی زبانوں کو دبانے کے لیے نہیں بلکہ ان کے علاوہ ایک مشترکہ زبان کی ضرورت ہے۔ عام طور پر اس بات پر اتفاق کیا جاتا ہے کہ یہ میڈیم ہندوستانی ہونا چاہیے جو کہ ہندی اور اردو کا مجموعہ ہو، نہ کہ اس میں سنسکرت، فارسی یا عربی کی بہتات ہو۔‘

سنہ 1937 میں جواہر لال نہرو نے بھی ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ہندوستانی زبان ایک ’گولڈن مین‘ ہے یعنی ’سنہری اوسط‘ ہے۔

یہ بحث آزادی کے بعد آئین ساز اسمبلی میں آئین کا مسودہ تیار کیے جانے کے دوران بھی جاری رہی۔ بہت سے ارکان نے ہندوستانی کے بجائے ہندی کو (جو کہ اُردو کے اثرات سے محروم ہو) ایک ممکنہ قومی زبان کے طور پر پیش کیا۔

انڈیا میں، جہاں کہ متعدد علاقائی زبانیں ہیں اور ہر ایک سے ان کی ثقافت اور تاریخ جڑی ہے، ایک قومی زبان کا انتخاب کرنا آسان کام نہیں تھا۔ اور یقیناً اس پر اتفاق رائے بنانے کے لیے اسمبلی نے سب سے زیادہ وقت زبان کے موضوع پر لیا۔

بالآخر اس کا نتیجہ ایک عارضی درمیانی راستے کے طور پر آیا جسے کچھ محققین نے ایک ’بے من کا سمجھوتہ‘ کہا۔ اس سمجھوتے کے مطابق دیوناگری رسم الخط میں ہندی یونین کی سرکاری زبان ہو گی (سرکاری، قومی نہیں)۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اگلے 15 برسوں تک تمام سرکاری مقاصد کے لیے انگریزی کا استعمال جاری رہے گا، تاکہ غیر ہندی بولنے والی ریاستیں آسانی سے منتقلی کر سکیں۔ اس کی آخری تاریخ 26 جنوری 1965 تھی۔

لیکن اس کے بعد ہندی کے نفاذ کے اشارے بڑے پیمانے پر احتجاج کا باعث بنے اور سنہ 1956 میں انڈیا کو لسانی بنیادوں پر اپنی ریاستوں کی تنظیم نو کرنا پڑی۔

جب بالآخر 1965 کی ڈیڈ لائن آئی تو شمالی ہند کے سیاست دانوں، بشمول وزیر اعظم لال بہادر ساشتری، دوبارہ ہندی کو قومی زبان کے طور پر لانے کی کوشش کی۔ لیکن تمل ناڈو (جہاں تمل بنیادی زبان ہے) میں پُرتشدد احتجاج شروع ہو گئے، اور یہاں تک کہ مرکزی حکومت میں موجود تمل ناڈو کے وزرا مستعفی ہو گئے۔

ملک کے کئی حصوں میں فسادات ہوئے، خاص طور پر تمل ناڈو میں (ہندی کو مسلط کرنے کی مخالفت اس قدر مضبوط تھی کہ اس نے ٹی ڈی پی نامی ایک سیاسی جماعت کی شکل اختیار کر لی جو کہ تمل ناڈو کی موجودہ حکمران جماعت ہے۔)

وزیر اعظم کو بالآخر ملک کو یقین دلانا پڑا کہ ریاستیں انگریزی یا اپنی پسند کی زبان استعمال کر سکتی ہیں۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ ہندی اور انگریزی سرکاری زبانیں رہیں گی لیکن غیر ہندی بولنے والی ریاستیں انگریزی اور ایک علاقائی زبان کو اپنی سرکاری زبانوں کے طور پر منتخب کر سکتی ہیں۔

یہ معاملہ اب بھی سرکاری طور پر موجود اور انگریزی اور ہندی سرکاری زبانوں کے طور پر استعمال ہوتی ہیں لیکن کوئی قومی زبان نہیں۔

دوسری مقامی زبانوں کے برعکس اردو کی حیثیت

اسی طرح اردو انڈیا کی سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے، لیکن حکومتی تعاون کی کمی اور ملک میں اس سے منسلک معاشی امکانات کی کمی کے باعث زبان لکھنے اور بولنے والوں کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔

دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے منسلک ماہرِ سیاسیات و لسانیات پاپیا سین گپتا حکومت کی جانب سے اردو کو نظر انداز کیے جانے کی مثال 2019 میں جاری ہونے والی نئی تعلیمی پالیسی کے حوالے سے دیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’نئی تعلیمی پالیسی کے صفحات میں کہیں بھی آپ کو اردو نہیں ملے گی۔ حکومت نے درحقیقت سنسکرت کو لازمی بنانے کی کوشش کی ہے اور آپ کو زبان کی مزید سنسکرتائزیشن اور برہمنائزیشن نظر آئے گی، لیکن اردو مکمل طور پر غائب نظر آئے گی۔ کم از کم یہ بات تو اس میں حکومت نے واضح طور پر کہہ دی ہے۔‘

اگرچہ ماضی میں اردو کے ساتھ امتیازی سلوک پر احتجاج ہوئے ہیں، اس بار شاید ہی کہیں پرزور طریقے سے اس کی مخالفت ہوئی ہو۔ تاہم غیر ہندی بولنے والی ریاستوں پر ہندی کو دوبارہ مسلط کرنے کی کوششیں ہمیشہ سنجیدہ احتجاج کا باعث رہی ہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ دائیں بازو کی ہندو تنظییں دیگر ہندوستانی زبانوں کے ساتھ ایک حکمت عملی سے پیش آتی ہیں لیکن اردو پر ان کا حملہ براہ راست اور غیر معذرت خواہ ہوتا ہے۔

پاپیا کہتی ہیں کہ ’یہ ہندوتوا کی سیاست ہے۔ اس کے پیچھے صرف مذہب ہی نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ایک پوری سیاسی معیشت ہے۔ انڈیا ہمیشہ سے کثیر الثقافتی ملک رہا ہے اور فیب انڈیا کے خلاف احتجاج جیسی کارروائیوں کے ذریعے وہ ثقافت پر اجارہ داری مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

اردو سے اتنی نفرت کیوں؟

ہندو دایاں بازو زبان اور مذہب کے فرق کو اکثر الجھاتا ہے۔ حالانکہ ماہرین اردو کو بین الثقافتی زبان سمجھتے ہیں، ہندو قدامت پسند اسے خصوصاً مسلمانوں کی زبان کے طور پر دیکھتے ہیں اور وسیع پیمانے پر اس سے منسلک دوسرے ثقافتی نشانات جیسے فارسی اور عربی یا مغلوں اور مسلمانوں کے دور حکومت سے متعلق ہر چیز کی مخالفت کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس مخالفت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

تقسیم ہند کے بعد جب پاکستان نے اردو کو اپنی قومی زبان کے طور پر اپنایا، انڈیا میں اس کے برعکس ہندی کو ملک کی قومی زبان بنانے پر مزید زور دیا جانے لگا اور اردو کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ لیکن زمینی سطح پر عام بول چال کی زبان اردو ہی ہے، یہاں تک کہ ہندی بولنے والے بھی اردو سے منسلک الفاظ کا عام طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ ناگوار سچائی سیاست کے راستے میں نہیں آتی۔

فیب انڈیا کے متنازع اشتہار ’جشنِ رواج‘ کی مثال دیتے ہوئے پاپیا کا کہنا ہے کہ رواج یا جشن اب کوئی عربی یا فارسی لفظ نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘یہ چلتی بھاشا ہے، اس قسم کی اصطلاحات کو عام بول چال میں استعمال کیا جاتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اس طرح کی کارروئیاں تین اہم پہلؤں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ پہلا یہ کہ مارکیٹ (کاروباری دنیا) ان کے مقرر کردہ ’قوانین‘ کی ضرور پابندی کرے۔ دوسرا یہ کہ یہ وہ طے کریں گے کہ ہندو کون ہے اور اس قوم کا نظریہ کیا ہو گا۔ تیسرا یہ کہ اس طرح کی کارروائیاں کسانوں کے احتجاج، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے دیگر اہم مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے میں مدد کرتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ‘مسلمانوں کے خلاف بیان بازی اب تک ان کے لیے کافی مددگار ثابت ہوئی ہے۔‘

اگرچہ بہت سے لوگ مسلم مخالف بیانیہ اور کارروائیوں کو ملک کے بڑے مسائل کے طور پر دیکھتے ہیں، تاہم کولکتہ کی عالیہ یونیورسٹی میں میڈیا کے پروفیسر محمد ریاض اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بالکل بھی خلفشار نہیں ہے۔ یہ یقینی طور پر لنچنگ کے برابر نہیں ہو سکتا ہے لیکن یہ ان کے بڑے منصوبے کا ایک بہت اہم حصہ ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ حالیہ برسوں میں زیادہ نمایاں ہو رہا ہے اور بے ضرر طریقوں سے ظاہر ہو رہا ہے۔ ’مثال کے طور پر بالی وڈ کو لے لیں۔ یہ ہمارے معاشرے کا مظہر ہے۔ بالی وڈ کی فلمیں ہندوستانی زبان میں ہوا کرتی تھیں اور اس میں اردو ایک اہم حصہ تھا، چاہے انھیں ہندی فلمیں ہی کیوں نہ کہا جائے۔‘

’لیکن 1990 کی دہائی میں نغمہ نگاروں اور گلوکاروں کی موجودہ فصل پچھلے پیشہ وروں کے برعکس، جو کہ اردو جانتے تھے، زبان کو بمشکل ہی جانتے ہیں اور یہ ان کے تلفظ سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔ یہ زبان کی قدر میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔‘

وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ بات ہندی اخبارات کے لیے بھی حقیقت ہے جو کہ اب انگریزی الفاظ کا آزادانہ استعمال کرتے ہیں لیکن ہندوستانی زبان کا ایک جزو اردو ان میں بہت کم نظر آتا ہے۔

ہندو دایاں بازو اردو کو ایک غیر ملکی اور خصوصاً مسلمانوں کی زبان سمجھتا ہے اور اکثر مذہب اور روایت میں فرق نہیں کرتا۔ یہ فعل دانستہ ہے یا نادانستہ ہے، وہ بحث کا موضوع ہے لیکن اس سے ان کے مقصد میں ضرور مدد ملتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ حالیہ واقعات بتاتے ہیں کہ ان کی مخالفت کرنے والے یا تو معافی مانگ لیتے ہیں یا خاموشی اختیار کرنا بہتر سمجھتے ہیں، جو کہ ماہرین کی نظر میں ہندو قدامت پسندوں کی جیت ہے۔

انجم کہتے ہیں کہ حالانکہ ’یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن جو ’نیا ہندوستان‘ بن رہا ہے، یہ اس کا حصہ ہے۔‘

متعلقہ خبریں

تازہ ترین