مذہب ، رنگ اور سیاست کے نام پر کسی کو بھی شہری حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا ہے۔۔ میں صدیق کپن کی بیٹی ہوں جن کے تمام شہری حقوق چھین لئے گئے ہیں۔۔یوم آزادی کے موقع پر منعقد جیل میں بند صحافی صدیق کپن کی بیٹی کی تقریر موضوع بحث

0
73

ملاپورم(انصاف نیوز)
جیل میں بندکیرالہ کے صحافی صدیق کپن کی نو سالہ بیٹی کیپیر کو کیرالہ میں واقع اپنے اسکول میں یوم آزادی کے موقع پر کی گئی تقریرملک بھر میں موضوع بحث ہے۔صحافی صدیق کپن کی بیٹی نے اپنی تقریر میں شہریوں کے حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مذہب، رنگ اور سیاست کے نام پر شہریوں کو حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
کلکتہ سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامہ ٹیلی گراف نے صدیق کپن کی بیٹی مہناز کپن کی تقریر کو نمایاں انداز میں شائع کیا ہے۔
مہناز کپن کیرالہ کے ملاپورم ضلع کے وینگارا میں واقع جی ایل پی اسکول کی کلاس چہارم کی طالبہ ہے۔یوم آزادی کے موقع پر منعقد پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں صدیق کپن کی بیٹی مہناز کپن ہوں۔ میرے والد ایک صحافی ہیں اور وہ اس وقت جیل میں ہیں۔ میرے والد کو ان تمام حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے جو ایک شہری کو حقوق حاصل ہیں۔

صدیق کپن کو 5 اکتوبر 2020 کو پاپولر فرنٹ آف انڈیا (PFI) کے تین ارکان کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا جو ان کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔صدیق کپن اس وقت ایک دلت لڑکی کی عصمت دری اور قتل کی خبر کی تحقیق اور رپورٹنگ کرنے کے لیے اتر پردیش کے ہاتھرس جا رہے تھے۔صدیق کپن اس وقتسے جیل میں ہیں۔ اس کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ یو اے پی اے کے تحت سماج میں امن کو خراب کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کیا گیاہے۔

مہناز نے 15 اگست کو کہاکہ
’’آج عظیم ملک ہندوستان یوم آزادی کے 76 ویں سال میں پہنچ گیا ہے۔ ایک ہندوستانی ہونے کے ناطے میں فخر سے کہتی ہوں – بھارت ماتا کی جے۔ مہناز نے کہا کہ ہندوستانیوں کو قربانی اور شہادت کے بعد آزادی ملی۔
مہناز نے کہا، ’’ہم گاندھی، نہرو، بھگت سنگھ کی قربانیوں کی وجہ سے آج آزادی کا جشن منا رہے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگوں نے آزادی کے لیے اپنی جانیں دیں۔ آج ہندوستان میں اپنی مرضی کے مطابق بولنے، کھانے پینے اور کسی بھی مذہب کو اختیار کرنے کی آزادی ہے۔ اظہار رائے کی آزادی ہندوستان میں آزادی ہے۔ تمام ہندوستانیوں کو ان لوگوں کی مخالفت کرنے کا حق ہے جنہیں یہ ملک چھوڑنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ آپ سے اختلاف کرنے والوں کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
مہناز نے کہاکہ ’’ہماری عزت کو کسی کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے۔ لیکن آج بھی بدامنی کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ مذہب، رنگ اور سیاست کے نام پر حملے ہو رہے ہیں۔ ہمیں اسے روکنا ہوگا اور متحد رہنا ہوگا۔ ہمیں کسی بھی قسم کی بدامنی کے آنے سے پہلے اسے روکنا چاہیے۔ ہمیں ساتھ رہنا چاہیے اور ہندوستان کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہیے۔ ہمیں ایک بہتر کل کا خواب دیکھنا چاہیے۔” مہناز نے اپنی تقریر جئے ہند اور جئے بھارت کے ساتھ ختم کی۔
اپنی تقریر کے بعد مہناز نے ٹیلی گراف کو بتایا کہ ان کا پسندیدہ مضمون ریاضی ہے۔ مہناز نے کہا کہ وہ تقریری مقابلے میں حصہ لینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ہیں۔مہناز نے کہا کہ وہ وکیل بننا چاہتی ہیں۔ مہناز کی والدہ ریحانہ کپن اپنے شوہر کو بری کروانے کے لیے قانونی جنگ لڑ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بیٹی کو لوگوں کے درمیان تقریر کرنا پسند ہے۔کپن کی ضمانت کی عرضی کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے خارج کر دیا۔ اخبار کے مطابق ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ہاتھرس میں صحافیوں کا کوئی کام نہیں ہے اور کپن کے ساتھ شریک ملزمان میڈیا سے وابستہ نہیں ہیں۔ کپن نے پولیس کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ پی ایف آئی کا رکن ہے۔
کپن دہلی میں ملیالم نیوز پورٹل azhimukham.com کے لیے کام کرتا تھا۔ اس کے ساتھ وہ کیرالہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس کے سکریٹری بھی تھے۔