Wednesday, May 29, 2024
homeخصوصی کالمتحریک آزادی کا ایک گمنام ہیرو:شیر علی آفریدی

تحریک آزادی کا ایک گمنام ہیرو:شیر علی آفریدی

نوراللہ جاوید

ہندوستان کی آزادی کی تاریخ جبر ، تعصب ، بدنیتی کا ایک مکمل نمونہ ہے ،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پوری تاریخ جبر کا شکار ہوتی جارہی ہے، ہیرو ویلن اور ویلن ہیرو کے کردار میں آچکا ہے ۔یا اگرہیرو اپنے کردار میں باقی ہے تو تاریخ کے جبر نے ان کے نظریات اور ان کے عقیدے کو ختم کردیا گیا ہے ۔اس کی سب سے بڑی مثال شہید بھگت سنگھ ہے، ان کی زندگی پر بالی ووڈ میں کئی فلمیں بنیں، ملک کا ہرطبقہ ان کو ہیرو مانتا ہے اور ان کی یاد میں ہرسال23مارچ کو شہید دیوس بھی منایا جاتا ہے ۔شاعر کی زبان میں شہیدبھگت سنگھ کی چتاء پر ہربرس میلے بھی لگتے ہیںمگر اس ہنگامہ آرائی میں شہید بھگت سنگھ کے نظریات اور ان سیکولر و لبرل سوچ وقت گزرنے کے ساتھ فنا ہوتی جارہی ہے۔شہید بھگت سنگھ جو نسلی تفریق، مذہبی تعصب اور فرقہ واریت کا سخت مخالف تھا اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی، اظہار خیال کی آزادی ، احترام انسانیت کا علمبردارتھا مگر آج ان لوگوں کے ہاتھوں یر غمال بن چکا ہے جن کی شناخت مذہبی عصبیت، نسلی تفریق اور فرقہ وارانہ تقسیم کیلئے ہے ۔بلکہ جان بوجھ کر شہید بھگت سنگھ کی شخصیت کو یرغمال بنالیا گیا ہے تاکہ ان کے نظریات اورسوچ ختم ہوجائے اور صرف ان کا نام باقی رہے ۔اوم پرکاش مشرا نے صحیح کہا ہے……
اس کے باوجود شہید بھگت سنگھ خوش نصیب ہیں ، ان کانام ابھی بھی زندہ ہے اور ان کی چتاء ہربرس میلے لگتے ہیں اور دیش بھگتی گیتوں میں ان کا اسم گرامی شامل ہے ۔بلکہ وہ ایک آئیکونی شخصیت ہیں جس کے ذریعہ حب الوطنی کے جذبات کو ابھارا جاتاہے ۔نام نہاد راشٹرواد کی پہچان بھی بنتے جارہے ہیں بلکہ ان کی شخصیت کمرشیلائز ہوچکی ہے، ان کانام صنعت کاروں اور تجارتی اداروں کیلئے نفع کا ذریعہ بن گیا ہے۔ ان کے نام پر فلم ساز کروڑوں روپے کمارہے ہیں، کپڑے اور پوسٹروں کی کمپنیاں ان کی تصویریں چھاپ کر کروڑوں کے مالک ہورہے ہیں۔مگر تحریک آزادی کے سیکڑوں ایسے بدنصیب ہیرو ہیں جنہوں نے وطن کی خاطر جان کی قربانی کی، انگریزی استبداد سے پنجہ آزمائی کی اور جان و مال اور خاندان تک قربان کردیا ۔لیکن وہ لوگ جان دے کر بھی گمنام ہوگئے ۔تاریخ کے جبر کا شکارہوگئے ۔ان ہی گمنام ہیرو میں سے ایک پشاور جو اب تقسیم ہند کے بعد پاکستان کا حصہ ہے کے خیبر ایجنسی ترح گائوں کا رہنے والا قبائلی نوجوان ’’شیر علی آفریدی‘‘ ہے۔جنہوں نے 8فروری 1872کو وائسرے لارڈ میوجو جزیرہ انڈو مان نکوبار کے دورہ پر تھے پر حملے کرکے ہلاک کردیا ہے ۔اسی قتل کے جرم میں11ایک مہینے بعد ہی مارچ 1872کو تختہ دار پر چڑھادیا گیا ۔
آسٹریلیائی نیشنل یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیلن جیمس کے مضمونThe Assassination of Lord Mayo: The ‘First’ Jihad?کے مطابق وائسرائے رچرڈ لارڈ میو کے قتل برطانوی حکمراں حیران اور صدمے سے دو چار ہوگئے ۔یہ واقعہ ان کیلئے ناقابل یقین تھا ۔ہندوستان میں 1857کی جنگ آزادی کی ناکامی اور ہندوستانی عوام بالخصوص مسلمانوں کی گرفتاری اور سزائوں کے باوجود انہیں اس بات کا یقین نہیں تھا کہ کوئی وائسرائے ہند کا بھی قتل کرسکتا ہے؟ایسے وائسرے کے قتل سے صرف چند مہنے قبل ہی 20ستمبر 1871میں کلکتہ ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس جوہن نارمن کا عبد اللہ نامی ایک شخص نے قتل کردیا ۔برطانوی حکمراں کو اندازہ تھا کہ عدلیہ سے وابستہ شخصیتوں پر حملے ہوسکتے ہیں اس لیے پہلے الرٹ جاری کردیا گیاتھا۔مگر وائسرائے جیسی شخصیت جس کی سیکورٹی کے انتظامات کافی سخت ہوتے ہیں اس کے قتل کا اندازہ انہیں کبھی بھی نہیں تھا۔مشہور انگریزی کالم نویس اور مصنف ’سعید نقوی‘ نے بھی اپنی کتابBening the other :The Muslim in Indiaمیں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ وائسرائے جیسی شخصیت کے قتل سے صرف ہندوستان ہی نہیں پورا برطانیہ صدمے سے دو چار ہوگیا ۔1857کی ناکام بغاوت کے بعد انگریزوں کی جانب سے جاری ظلم و تشدد، گرفتاری کے باوجود انہیں اتنے بڑے رد عمل کی امید نہیں تھی۔
مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ 8فروری 1972کو جزیرہ انڈو مان نکوبار میں وائسرائے ہند کا پشاوری نوجوان کے ہاتھوں قتل کے اتنے بڑے واقعے کے باوجود تاریخ کی کتابوں میں ’’شیر علی آفریدی‘‘ سے متعلق کوئی خاص تفصیل موجود نہیں ہے ۔مولانا غلام رسول مہر نے اپنی کتاب ’’سرگذشت مجاہدین‘‘ میں شیر علی کا قدرے ذکر کیا ہے جب کہ ہندوستان میں تحریک آزادی کی کتابیں شیر علی کے ذکر سے بالکل خالی ہے۔انگریزی مورخین کا رویہ تعصب پر مبنی ہے ۔وہ شیر علی آفریدی کو ہیرو بنانے کے حق میں نہیں ہیں اس لیے اتنا بڑا اوقعہ رونما ہونے کے بعد بھی انگریزی مورخین نے شیر علی آفریدی کے خاندانی پس منظر اور ان کی ذہنی اتار چڑھائو کا مطالعے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔پروفیسر ہیلن جیمس نے اپنے مقالے میں پورا زور شیر علی آفریدی کو ’’وہابی تحریک‘‘ (انگریزی استبداد کے تئیں نفرت ، بیزاری اور غلامی سے نجات حاصل کرنے والے ہر شخص کو انگریز مصنفین وہابی قرار دے کرمسلمانوں کے ایک خاص گروہ سے جوڑتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے دوسرے گروہ کے افراد ان سے متاثر نہیں ہوں)سے وابستہ کرنے کی کوشش کرکے شیر علی کی قربانی کو ایک خاص نظریہ کے ساتھ محدود کرنے کی کوشش کی ہے ۔ہیلن جیمس نے لکھا ہے کہ شیر علی آفریدی بھی اسی جیل میں تھاجہاں وہابی تحریک کے قائدین مولانا جعفر تھانیسری، یحیٰ علی اور مولوی احمد اللہ کو رکھا گیا تھا ۔جیمس کے مطابق ممکن ہے کہ آفریدی کی ان مجاہدین سے ملاقات ہوئی ہوگی اور ان سے ہی ترغیب پاکر اس نے یہ قدم اٹھا یا ہوگا۔تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ شیر علی 1857کی بغاوت میں شامل نہیں تھا بلکہ اس وقت انگریز حکومت میں ملازم تھا۔وائسرائے ہند لارڈ میو کے قتل کی فورنسک جانچ کرنے والی ٹیم نے بھی اپنی رپورٹ میں بھی انہیں باتوں کا ذکر کیا ہے شیر علی مولانا جعفر تھانیسری سے ہی متاثر ہوکر اتنا بڑا قدم اٹھایا ہوگا۔جانچ ٹیم کا حصہ رہے ایشوری پرساد جو 1857کی بغاوت میں مجاہدین کو غلط کیسوں میں پھنسانے کیلئے مشہور تھے اور برطانوی حکومت میں انہیں نیک نامی حاصل تھی اور اس کے عوض ہی انہیں سورج گڑھ کا ڈپٹی کلکٹر بنایا گیا تھ نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا کہ وائسرے ہند کا قتل صرف ایک پشاوری نوجوان کا کارنامہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے کالا پانی کے جیل میں بند مجاہدین کا دماغ ہے۔
شیر علی آفریدی کے اس اقدام اور جرأت کے نتائج کو سمجھنے کیلئے آپ کو برطانوی راج میں وائسرائے کے عہدے کی اہمیت کو سمجھنی ہوگی۔ آج ملک میں وزیر اعظم کی جو حیثیت ہے، اس وقت وہی حیثیت انگریزی راج کے گورنر جنرل (وائسرائے )کی ہوتی تھی یہ الگ بات ہے کہ وائسرائے کے طور پر وہ برطانیہ کی حکومت کو رپورٹ کرتا تھا۔اس وقت اگر سب سے زیادہ کسی کی سیکورٹی تھی تو وہ گورنر جنرل کی ہی تھی لیکن 8 فروری 1872 میں شیر علی نے تمام سیکورٹی بندو بست کو توڑتے ہوئے لار ڈ میو کا قتل کرکے برطانیہ کے غرور کو خاک میں ملادیا۔ بھگت سنگھ نے جس سانڈرس کا قتل کیا وہ ڈی ایس پی سطح کو آفیسر تھا، پونے میں چاپیکر برادران نے کمشنر کی سطح کے افسر کا قتل کیا تھا، راس بہاری بوس اور وشواس نے لارڈ ہارڈنگ کے ہاتھی پر دہلی میں داخل ہوتے وقت بم پھینکا تھا، مہاوت کی موت ہو گئی لیکن ہارڈنگ بچ گیا۔ لارڈ اروین کی اسپیشل ٹرین پر بھگوتی چرن بوہرا اور اس کے ساتھیوں نے آگرہ سے دہلی آتے وقت بم پھینکا تھا، وہ بچ گیا۔ ایسے کتنے ہی انقلابی ہیں جنہوں نے جان کی بازی لگا کر بہت سے انگریز حکام پر حملے کئے، ان میں سے کئی موت کے شکار بھی ہوگئے لیکن کوئی اتنا کامیاب نہیں ہوا، جتنا شیر علی آفریدی۔اس کے باوجود شیر علی آفریدی کا ذکر ہماری کتابوں میںموجود نہیں ہے۔نسل نو شیر علی آفریدی سے متعلق نہیں جانتی ہے ۔انہیں بھگت سنگھ اور دوسرے انقلابیوں کی طرح یاد نہیں کیا جاتا ہے۔تعجب کی بات یہ ہے کہ حکومت نے جزیرہ وائپر جہاں شیر علی کو پھانسی دی گئی وہاں میں لارڈ میوکا مجمسہ نصب کیا گیا ہے مگر تعجب ہے کہ وہاں بھی شیر علی کے نام کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
لارڈ میو کے قتل کے ضمن شیر علی سے متعلق جوباتیں کہی گئی ہیں کہ اس کے مطابق شیر علی آفریدی پشاور کے انگریزی کمشنر کے آفس میں کام کرتا تھا اور خیبر پختون علاقے کا رہنے والا پٹھان تھا۔ وہ انبالہ میں برطانوی گھڑ سواری ریجمنٹ میں بھی کام کر چکا تھا۔ یہاں تک کہ 1857 کی پہلی جنگ آزادی میں روہیل کھنڈ اور اودھ کی جنگ میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے حصہ بھی لے چکا تھا۔ انگریزی کمانڈر رینیل ٹیلر اس بہادری سے اتنا خوش ہوا کہ اس کو تحفے میں ایک گھوڑا، ایک پستول اور بہادری کا ایک سرٹیفکیٹ بھی دیا۔1867میں وہ گھریلو جھگڑے میں پھنس گیا۔خاندانی جھگڑے میں شیر علی پر اپنے رشتہ دار حیدر کا قتل کرنے کا الزام لگا۔ اس نے پشاور میں موجود اپنے تمام افسران کے سامنے خود کو بے گناہ بتایا۔ لیکن کسی نے اس کی بات نہیں مانی اور اس 2 اپریل 1867 کو موت کی سزا سنا دی گئی۔اس واقعہ نے شیر علی آفریدی کی سوچ اور نظریہ کو بدل دیا ۔انگریزوں کی وفاداری کے باوجود اسے گناہ ناکردہ کی سزا دی جاری ہی ہے۔اس کا یقین انگریز عدلیہ سے اٹھ گیا ۔پہلی بار اسے احساس ہوا کہ کبھی بھی کسی انگریز پر قتل کا مقدمہ چلنے سے پہلے ہی اسے برطانیہ واپس بھیج دیا جاتا ہے، لیکن آج اسے بچانے والا کوئی نہیں ہے کیوں کہ وہ انگریز نہیں بلکہ ایک ہندوستانی ہے۔
اس نے فیصلے کے خلاف اپیل کی، ہائی کورٹ کے جج کرنل پلاک نے اس کی سزا کم کرکے عمر قید کر دی اور اس کو کالا پانی یعنی انڈومان نکوبار بھیج دیا۔ تین سے چار سال سزا کاٹنے کے دوران کالا پانی کے جیل میں قید کے دوران 1857کے انقلابیوں سے اس کی ملاقات ہوئی اور ان ملاقات نے شیر علی کی انگریزی حکمراں سے ناراضگی کو دشمنی میں تبدیل کردیا ۔اسی درمیان جیل میں اس کے اچھے رویہ کی وجہ سے 1871 میںاسے جیل سے رہائی مل گئی مگر جزیرۃ سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔اس نے حجامت کاکام شروع کردیا۔
اسی درمیان گورنر جنرل لارڈ میو جزیرہ انڈومان نکوبار کے پورٹ بلیئر میں سیلولر جیل کے قیدیوں کے حالات جاننے اور سیکورٹی امور کا جائزہ لینے کے لئے 7فروری کو انڈومان پہنچے ۔8فروری لارڈ میو اپنے سیکورٹی دستے جس میں 12 سیکورٹی آفیسر شامل تھے کے ساتھ جزیرہ ہوپ ٹائون کا پورا دن دورہ کیا۔شام کے وقت وہ لوٹنے لگا ۔ان کی آمد کی خبر نے انگریزوں کی بے وفائی، نا انصافی اور 1857کے بعد انگریزوں کے مظالم اور اس کے بعد اس نے تین سے چار سال جو سیلور جیل میں انقلابیوں کی زبانی جو کہانی سنی تھی اس کی وجہ سے اس کے دل و دماغ میں جو جذبہ انتقام بھڑکا اور اس کو بجھانے کیلئے آفرید ی کے پاس اس سے اچھا کوئی موقع نہیں تھا۔ علی آفریدی نے اس دن طے کر لیا تھا کہ آج اپنا مشن مکمل کرنا ہے، ۔ وہ خود چونکہ اسی سیکورٹی دستے کا رکن رہ چکا تھا، اس لئے بہتر جانتا تھا کہ وہ کہاں چوک کرتے ہیں اور کہاں لاپرواہ ہو جاتے ہیں۔۔ شام سات بجے کا وقت تھا، لارڈ میو اپنی کشتی کی طرف واپس آ رہے تھے۔ لیڈی میو اس وقت کشتی میں ہی ان کا انتظار کر رہی تھیں۔پورٹ پر اندھیرا تھا، اس وقت روشنی کے انتظامات بہت اچھے نہیں ہوتے تھے۔ فروری کے مہینے میں ویسے بھی فوری طور اندھیرا ہو جاتا ہے۔ وائسرائے جیسے ہی کشتی کی طرف بڑھے ان کا سیکورٹی عملہ بے فکر ہو گیا ۔انہیں یقین بھی تھا کہ وائسرائے تک پہنچنے کی ہمت کون کر سکتا ہے۔مگر ان کی امیدوں کے برخلاف اچانک شیر علی بجلی جیسی سرعت کی طرح وائسرائے پر اپنی نائی والے اوازار استرا یا پھر چاقو سے حملہ کرتے ہوئے ٹوٹ پڑا، جب تک خود وائسرائے یا سیکورٹی دستہ کے اہلکاروں کو کچھ سمجھ میں آتا لارڈ میو خون میں شرابو ہوکر سمندر میں گرگئے۔انہیں سمندر سے نکالا گیا مگر اس وقت ان کی سانس جسم سے علاحدہ ہوچکی تھی۔شیر علی کو موقع ہی پکڑ لیا گیا، پورے برطانوی سلطنت میں دہشت پھیل گئی، لندن تک بات پہنچی تو ہر کوئی ساکت رہ گیا، جب وائسرائے کے ساتھ یہ ہو سکتا ہے تو کوئی بھی انگریز ہندوستان میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کرسکتا ہے۔اس قتل کے واقعہ سے دہشت میں آئی انگریز حکمراں یہ جاننے کی بھر پور کوشش کی کہ کہیں اس کے پیچھے انقلابیوں کی کوئی سازش تو نہیں ہے؟ شیر علی آفریدی سے مختلف زاویہ سے پوچھ تاچھ کی گئی؟مگر وہ ایک ہی جمہ ادا کرتا رہا کہ ’’’مجھے اللہ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے، میں نے اللہ کی مرضی پوری کی ہے میرے اس کام میں کوئی بھی شریک نہیں ہے ‘‘۔شیر علی آفریدی نے اپنے بیان میں پٹنہ میں کار گزار چیف جسٹس کے قتل میں ملوث عبد اللہ سے متعلق بھی بات کی۔انہیں بھائی کہہ کر مخاطب کیا ۔ظاہر ہے کہ عبد اللہ کا تعلق پشاور سے نہیں تھا ۔
کچھ تاریخ دانوں بشمول آسٹریلیائی پروفیسر ہیلن جیمس شیر علی آفریدی کو پہلا جہادی بتانے کی کوشش کی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ انگریزوں کے رویے سے ناراض تھامگر انگریزوں کی غلامی کا احساس اسے کافی بعد میں ہواتھا۔آفریدی کو انگریزی کی ناانصافی کا بھی شدت سے احساس تھا کہ انگریزوں کی ہر خطا معاف اور ہندوستانیوں کی ہر خطا پر سزا دی جاتی ہے۔لارڈ میوکے قتل کی جانچ کردہ ٹیم نے بھی لکھا ہے کہ شیر علی جزیرہ انڈومان نکوبار آنے سے قبل وہابی تحریک یا پھر انگریزوں سے اس قدر متنفر نہیں تھا کہ وہ اتنا بڑا قدم اٹھائے۔ تاہم شیر علی نے سیلولر جیل میں جو تین چار سال کاٹے تھے، اس وجہ سے اور اس کی نظروں میں انگریزوں کے تئیں اس کے نظریہ میں تبدیلی آئی ۔کیوں کہ سیلور جیل میں زیادہ تر ان قیدیوں کی تعداد تھی جو انگریزوں کے مخالف تھے۔اسی جیل میں مولانا جعفر تھانیسری اور موالانا یحیٰ بھی محبوس تھے۔مگر کسی جانچ میں یہ بات ثابت نہیں ہوئی ہے کہ جیل میں اس کی ملاقات جعفر تھانیسری سے ہوئی تھی یا نہیں ۔خود مولانا جعفر تھانیسری نے بھی اپنی خود نوشت ’’کالا پانی‘‘ میں نہ شیر علی کا کوئی ذکر کیا ہے اور نہ ہی لارڈ میو کے قتل کا ذکر موجود ہے۔عجب بات یہ ہے کہ جس طریقہ سے شہید بھگت سنگھ نے اسمبلی بم سانحہ سے قبل اپنی مخصوص ٹوپی والیتصویر پہلے ہی خبارات میں بھیج دیا تھا، اسی طرح شیر علی نے بھی گرفتاری کے بعد اپنی تصاویر میں کافی دلچسپی دکھائی۔ شاید وہ بھی اس بات کا خواہش مند تھا کہ نسلیں اسے یاد رکھیں۔
ہندوستان کے بہت سے کالم نویس اور مورخ شیر علی کے اس قدم کو کوئی انقلابی یا پھر ملک کی آزادی کیلئے اٹھایا قدم ماننے سے انکار کرتے ہیں ۔ان کے مطابق شیر علی نے لارڈ میو کا قتل ذاتی بنیاد پر کیا تھا۔کیوں کہ اس نے انگریزوں کی خدمت کی تھی، اسے امید تھی انگریز حکمراں قتل کے معاملے میں اس کی حمایت کریں گے مگر حمایت نہیں ملنے سے مایوس ہوکر اس نے یہ بڑا قدم اٹھایا اور لارڈ میو کا قتل کردیا۔۔مگر سوال یہ ہے کہ شیر علی کی دشمنی تو پشاور کی مقامی انتظامیہ یا پھر وہاں کے کمشنر سے ہونی چاہیے۔ لارڈ میو سے شیر علی کی ذاتی رنجش کیا ہوسکتی ہے۔قتل کے الزام میں پھنسانے میں میو کا نہ کوئی رول تھا ۔اگر شیر علی کو بدلا لینا تھا وہ پشاور کے کمشنر سے بدلہ لیتے جس کی وہ خدمت اور ان کے بچوں کی نگہبانی کی فرائض کو ادا کیا تھا وہ کسی بھی طرح جزیرۃ سے نکل پشاور جانے کی کوشش کرتا اور وہاں جاکر انتقام کی آگ بجھاتا۔اس لیے ہیلنس جیمس اور دیگر افراد کی یہ تھیوری قابل قبول ہے کہ وہ کالا پانی میں قید کے زمانے میں ہی اس کی ملاقات کسی ایسے قیدی ہوئی ہوگی جن سے متاثر ہوکر اس نے یہ قدم اٹھا یا ہوگا۔جہاں انگریزوں کی نوکری کا سوال ہے تو 1857 کی پہلی جنگ آزادی میں اہم کردار ادا کرنے والے نانا صاحب کے دیوان عظیم اللہ خان اور آزاد ہند فوج کو کھڑی کرنے والے کمانڈر موہن سنگھ بھی انگریزوں کے خلاف بغاوت کرنے سے قبل انگریزوں کی ملازمت کرتے تھے۔انگریزوں کے درمیان مقبول ہونا جرم ہے تو عظیم اللہ خان بھی کانپور میں انگریزوں اور یورپیوں کے درمیان مقبول تھے۔جس طرح گاندھی جی کو جنوبی افریقہ میں ٹرین سے اتارنے پر انگریزوں کی نسل پرستی کے خلاف غصہ آیا، کرتار سنگھ سرابھا بھی سان فرانسسکو میں ذلت جھیلنے کے بعد غدر تحریک میں شامل ہوئے، لالہ لاجپت رائے پر لاٹھیاں برسنے کے بعد سیکڑوں ہندوستانی نوجوانوںنے انگریزی کی نوکری چھوڑ کر انگریز کے خلاف تحریک میں شامل ہوگئے۔اگر شیر علی اپنے ساتھ ہوئے نا انصافی سے مایوس اور انقلابیوں سے ملاقات کرنے کے بعد انگریز دشمنی میں وائسرائے کا قتل کردیتا ہے تو پھر وہ عظیم کارنامہ کیوں نہیں ہوسکتا ہے۔شیر علی کو شہید کا درجہ کیوں نہیں مل سکتا ہے؟
شیر علی کی قربانی اور ملک کی آزادی کیلئے شیر علی کے جذبات کی شہادت لارڈ میو کے قتل کی جانچ کی رپورٹ دیتی ہے کہ’’ جیل میں اس کی سیل کے ساتھیوں سے بھی پوچھ گچھ کی گئی، ایک قیدی نے بتایا کہ شیر علی آفریدی کہتا تھا کہ انگریز ملک سے تبھی بھاگیں گے جب ان کے سب سے بڑے افسر کو مارا جائے گا ۔ظاہر ہے کہ وائسرائے ہی سب سے بڑا افسر تھا۔اسی طرح شیر علی نے 8فروری سے صرف چند دن قبل ہی سیلور جیل میںحجامت سے کمائے کے روپیوں سے مٹھائیاں اور کیک خریدی اور اس نے قیدیوں کے درمیان تقسیم کی اوروہ بے انتہا خوش تھا۔۔ لندن ٹائمز کے رپورٹر نے اس پھانسی کی رپورٹنگ کی ۔وہ لکھتے ہیں کہ جیل آفیسر نے آخری خواہش جیسی کوئی بات اس سے پوچھی تھی تو شیر علی نے مسکرا کر جواب دیا تھا، ’’نہیں صاحب‘‘۔ لیکن پھانسی سے پہلے اس نے دو رکعت نماز پڑھی اور پھانسی کے پھندے کی طرف بڑھ گئے۔لندن ٹائمس کے رپورٹر نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے
’’میں نے اس قیدی سے پھانسی سے قبل طویل انٹرویو لیا، پھانسی سے چند قبل میں نے اس کے چہرے کو میں نے غور سے دیکھا کہ وہ مطمئن تھا ۔جزیرہ وائیپرجہاں اس کو پھانسی دی جانی تھی جانے کیلئے ایک کشتی کی گئی ۔وائیپرجزیرۃ پر کوئی خاص تیاری نہیں تھی۔صرف 30سے 40یورپی شہری موجود تھے۔شیر علی مسکرا رہا تھا ۔آفیسر نے پوچھا کوئی خواہش ہے ،شیر علی نے کہا کہ نہیں صاحب ، پھر اس نے بلند آواز میں نماز پڑھی ۔اور اس کے بعد وہ یہ کہتے ہوئے کہ ’’گناہ گار ہم بھی ہیں تم بھی ہو،فیصلہ اگلی دنیا میں خدا کرے گا‘‘۔پھانسی کے پھندے کی طرف بڑھ گیا‘‘۔
یہ رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ شیر علی کو انگریزوں نے بہت ہی خاموشی سے پھانسی کے پھندے پر لٹکا یا گیا۔ان کا مقصد واضح تھا کہ وہ لارڈ میو کے قتل کی وجہ سے جو دہشت پھیلی ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔انہیں خوف تھا کہ اگر شیر علی کی پھانسی کی خبر عا م ہوگی یہ پورے ہندوستان میں بغاوت کی تحریک کو دوبارہ زندہ کردے گی۔بالخصوص خیبر ایجنسی جہاں کے حالات پہلے سے ہی بدتر تھے۔ر انگریزی کالم نویس اور مصنف ’سعید نقوی‘ نے بھی اپنی کتابBening the other :The Muslim in Indiaنے بھی اس حقیقت کی نشاندہی کی ہے کہ لارڈ میوکے قتل کو انگریزوں نے 1857کی بغاوت سے جوڑنے سے گریز کرتے ہوئے پوری کارروائی کو شیر علی کے بدلے کی کارروائی سے تعبیر کیا۔تاکہ شیر علی شہادت کا درجہ حاصل نہ ہوا اور وہ تحریک آزادی کا لیڈر نہ بن سکے اور اس کوکوئی مثال نہ بناسکے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین