2019 کے انتخابات پر سوال اٹھانے والے پروفیسر سے پوچھ تاچھ کیلئے آئی بی کی ٹیم اشوکا یونیورسٹی پہنچی

آئی بی نے اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر سبیاساچی داس کے ایک تحقیقی مقالے پر تنازعہ کے بعد یونیورسٹی کیمپس کا دورہ کیا، جس میں 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں 'دھاندلی' کا امکان ظاہر کیا گیا ہے

0
75

نئی دہلی: ملک میں تعلیمی آزادی پر اٹھ رہے سوالات کے درمیان انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کی ایک ٹیم ہریانہ کی اشوکا یونیورسٹی پہنچی۔ آئی بی کی ٹیم یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے ایک سابق پروفیسر کے ذریعہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات پر ‘ڈیموکریٹک بیک سلائیڈنگ ان دی ورلڈس لارجیسٹ ڈیموکریسی’ کے عنوان سے ایک تحقیقی مقالے کی جانچ پڑتال کے سلسلے میں کیمپس پہنچی تھی۔ رپورٹ کے مطابق آئی بی کی ٹیم سابق اسسٹنٹ پروفیسر سبیاساچی داس سے پوچھ گچھ اور اس سلسلے میں اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے فیکلٹی ممبران سے بات کرنا چاہتی تھی۔

کیمپس ذرائع نے تصدیق کی کہ آئی بی حکام کی ایک ٹیم نے داس کی تلاش میں یونیورسٹی کا دورہ کیا۔ داس کے تحقیقی مقالے میں 2019 کے عام انتخابات میں ووٹروں کی ہیرا پھیری کے بارے میں بات کی گئی تھی، جس کے بعد تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔ تاہم یونیورسٹی کی طرف سے آئی بی حکام کو اطلاع دی گئی کہ داس چھٹی پر ہیں۔ اس کے بعد آئی بی حکام نے شعبہ اقتصادیات کے دیگر فیکلٹی ممبران سے ملنے کی درخواست کی۔

داس نے اس ماہ کے شروع میں یونیورسٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد پروفیسر پلاپرے بالاکرشنن نے بھی داس کا استعفیٰ منظور کیے جانے کے خلاف احتجاجاً یونیورسٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ یونیورسٹی کے کئی شعبوں بشمول معاشیات، سماجیات، بشریات اور سیاسیات نے داس کی حمایت کی ہے اور ان کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ ملک بھر کی 91 یونیورسٹیوں کے 320 ماہرین معاشیات نے بھی داس کی حمایت کی ہے اور یونیورسٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انہیں فوری طور پر بحال کرے۔

شعبہ معاشیات نے داس کے استعفیٰ کی منظوری پر مایوسی کا اظہار کیا تھا اور یونیورسٹی کی گورننگ باڈی کو ایک کھلا خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’جلد بازی‘ کی منظوری سے ان کا اعتماد ٹوٹ گیا ہے۔ فیکلٹی ممبران نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی گورننگ باڈی ان کے کام میں مداخلت نہ کرے اور ان پر زور دیا کہ وہ 23 اگست تک داس سے متعلق مسئلہ کو حل کریں۔