Friday, July 19, 2024
homeدنیاعمران خان: پویلین سے جیل تک

عمران خان: پویلین سے جیل تک

منظر بدلتا ہے اور عمران خان ایک کمرے میں بیٹھے اینکر رچرڈ کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ ’مجھے دو مرتبہ سیاست میں آنے کی آفر ہوئی۔ لیکن ہر کسی کو اپنی کمیوں کا احساس ہوتا ہے۔ مجھے علم ہے کہ میں سیاست دان نہیں بن سکتا۔‘

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو سرکاری توشہ خانہ کے تحائف غیر قانونی طور پر بیچنے کے الزام میں اسلام آباد کی ضلعی اور سیشن عدالت کے جج دلاور خان نے تین سال قید اور پانچ سال کے لیے نا اہلی کی سزا سنائی ہے۔

عمران خان نے پاکستان کے 22ویں وزیر اعظم ہونے کا حلف 18 اگست 2018 کو اٹھایا۔ ان کا پورا نام عمران احمد خان نیازی ہے۔

عمران خان 25 نومبر 1952 کو میانوالی میں اکرام اللہ خان نیازی اور شوکت خانم کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ چار بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں۔

لاہور کے کیتھڈرل سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ایچی سن کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ عمران خان نے اعلیٰ تعلیم کبلی کالج آکسفورڈ سے حاصل کی جہاں انہوں نے معاشیات کے مضمون میں ڈگری مکمل کی۔

1974 میں یونیورسٹی کے دوران عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔

عمران خان نے 1971 سے 1992 کے درمیان پاکستان کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کھیلی۔ پاکستان نے کرکٹ کا واحد ورلڈ کپ بھی عمران خان کی کپتانی میں 1992 میں جیتا جس کے بعد انہوں نے کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا۔

آسٹریلیا کے مشہور ٹی وی پروگرام 60 منٹس نے 1992 کا کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے کے بعد عمران خان پر ایک خصوصی ڈاکومینٹری بنائی۔ اس کا نام ’عمران خان: اے لیونگ گاڈ‘ رکھا گیا۔

اس ڈاکومینٹری کے لیے پروگرام کی خصوصی ٹیم پاکستان آئی اور عمران خان کے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو فلمایا گیا۔ اس ڈاکومینٹری کی سب سے خاص بات عمران خان اور ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے ساتھ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کا ظہرانہ تھا۔

کھانے کے دوران عمران خان اینکر رچرڈ کو نواز شریف سے متعارف کرواتے ہوئے کہتے ہیں ’سر یہ رچرڈ ہیں۔ آسٹریلیا سے آئے ہیں۔ 60 منٹس کی ریکارڈنگ کے لیے۔‘

نواز شریف ان سے حال احوال پوچھتے ہیں جس کے بعد رچرڈ سوال کرتے ہیں کہ ’کیا آپ کو اس نوجوان پر فخر ہے؟‘ نواز شریف کہتے ہیں ’جی بہت زیادہ۔‘

رچرڈ اگلا سوال کرتے ہیں کہ ’اگر یہ سیاست میں آنے کا فیصلہ کریں تو کیا یہ آپ کی ٹیم کے لیے درست انتخاب ہوں گے؟‘ نواز شریف نے اس سوال کے جواب میں جو جملہ کہا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔

نواز شریف نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ’میں نے انہیں (عمران خان کو) بہت پہلے یہ آفر کی تھی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ پتہ نہیں کیوں۔ لیکن میری آفر اب بھی موجود ہے۔‘

اس کے بعد منظر بدلتا ہے اور عمران خان ایک کمرے میں بیٹھے اینکر رچرڈ کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ ’مجھے دو مرتبہ سیاست میں آنے کی آفر ہوئی۔ لیکن ہر کسی کو اپنی کمیوں کا احساس ہوتا ہے۔ مجھے علم ہے کہ میں سیاست دان نہیں بن سکتا۔‘

Pakistan’s captain Imran Khan holds the 1992 World Cup Trophy during the victory presentation at the Melbourne Cricket Ground 25 March 1992. Pakistan defeated England in the 50th over by 22 runs to win the final of the World Cup competition. (Photo by STEPHEN DUPONT and – / AFP)

عمران خان 25 مارچ 1992 کو بطور فاتح کپتان میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں 1992 کرکٹ ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے (اے ایف پی)

1992 میں یہ رائے رکھنے والے عمران خان کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ صرف چار سال بعد ہی انہوں نے تحریک انصاف کی بنیاد رکھ دی؟

عمران خان نے نے اپنے کئی انٹرویوز میں بتایا ہے کہ جب انہوں نے شوکت خانم میموریل ہسپتال بنانے کا عمل شروع کیا تو انہیں احساس ہوا کہ حکومتی معاملات میں کتنی کرپشن شامل ہے۔ اس پر ہی انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ سیاست کے میدان میں قدم رکھیں گے۔

لیکن شاید یہ واحد وجہ نہیں ہے جس کی باعث عمران خان سیاست میں آئے۔ گو کہ انہوں نے کبھی اس کا کھل کر اظہار کیا نہ اقرار لیکن شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کے دوران عوام سے ملنے والی بھرپور پذیرائی نے انہیں سوچنے پر مجبور کیا ہو گا کہ اس سپورٹ کو ووٹ میں بھی منتقل کیا جا سکتا ہے۔

پھر عمران خان کی پارٹی نے 1997 میں چراغ کے انتخابی نشان کے ساتھ پہلا الیکشن لڑا۔ عمران خان نے اپنی سیاسی کمپین کے اشتہار میں اپنے ووٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے یہ جملہ کہا کہ ’الیکشن والے دن آپ کو پولنگ بوتھ تک پہنچانے کے لیے نہ ہمارے پاس گاڑیاں ہیں اور نہ پیسہ۔‘

یہ جملہ کہتے ہوئے عمران خان کے چہرے پر امید تو دور امید کی پرچھائی بھی نہیں تھی کہ ووٹر ان کی بات پر عمل کریں گے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے تلقین کرتے ہوئے کہا ’آپ نے خود آنا ہے اور چراغ پر مہر لگانی ہے۔‘

بہرحال، عمران خان کی پارٹی کو پارلیمان میں پہلی نشست 2002 میں حاصل ہوئی جب انہوں نے میانوالی سے قومی اسمبلی کی نشست جیتی۔

اس موقعے پر عمران خان قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں اپنے دیرینہ دوست اور مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری نثار علی خان کے ساتھ اسمبلی حال میں داخل ہوئے۔ یہ مناظر پی ٹی وی کے کیمرے نے محفوظ کیے اور آج بھی یو ٹیوب پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

عمران خان نے پہلی شادی برطانیہ کے مشہور گولڈ سمتھ خاندان کی بیٹی جمائمہ گولڈ سمتھ سے 1995 میں کی۔ جمائمہ خان نے خاندان کی جانب سے ملنے والے ترکے کا پیسہ عمران خان کے خیراتی ادارے اور ان کی سیاست میں استعمال کیا۔

2002 میں پرائیویٹ ٹی وی چینلز نے ٹاک شوز کرنا شروع ہوئے تو عمران خان کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ ہر شو کا حصہ بنیں۔ آسانی سے میسر آ جانے، اچھی گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھنے اور نوجوانوں میں فین فالونگ ہونے کی وجہ سے ٹاک شوز کے اینکرز بھی انہیں اپنے پروگرامات میں بلانے لگے۔

ایک وقت میں جنرل پرویز مشرف کے ریفرنڈم کی حمایت کرنے والے عمران خان نے آہستہ آہستہ اپنا موقف مشرف کی پالسیوں کے خلاف پیش کرنا شروع کر دیا۔

یہ وہ دور تھا جب شیخ رشید احمد بھی مشرف کے وزیر تھے اور انہوں نے عمران خان کو تانگہ پارٹی کا خطاب دیا تھا۔ کیونکہ ان کے بقول قومی اسمبلی میں صرف ایک نشست رکھنے والی جماعت کے ممبر کو مجموعی قومی مسائل پر رائے دینا زیب نہیں دیتا۔

2004 میں عمران خان اور جمائمہ خان نے اپنی راہیں جدا کر لیں اور جمائمہ طلاق لے کر واپس برطانیہ چلی گئیں۔

حالات اور واقعات نے عمران خان کو 2008 کے جنرل الیکشن کا بائیکاٹ کروایا۔ اس طرح 2013 تک تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں کوئی نمائندگی نہ تھی۔

پارلیمانی سیاست سے الگ تھلگ رہ کر تحریک انصاف کو موقع ملا کہ اس نے اپنی تنظیم سازی مضبوط کی۔ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ذریعے اپنا پیغام یونیورسٹی، کالجوں کے نوجوان لڑکے لڑکیوں تک پہنچایا۔ سوشل میڈیا کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس پر اپنی گرفت مظبوط کی۔

پھر عمران خان کو جہانگیر خان ترین جیسے ساتھی بھی میسر آ گئے جنہوں نے مالی معاونت سے پارٹی کا میڈیا ونگ اور تشہیر پروان چڑھائی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں تحریک انصاف کی حمایت میں اضافہ ہوا۔

اس حقیقت کا سب سے پہلا عملی مظاہرہ لاہور میں 30 اکتبور 2011 کو مینار پاکستان پر ہونے والے جلسے میں کیا گیا۔ یہ تحریک انصاف کا ایک ایسا پاور شو تھا جس کی دھمک حکومتی ایوانوں اور میڈیا میں ایک جیسی سنی گئی۔

ایک انہونی کیفیت تھی کہ وہ جماعت جو اس وقت کی پارلیمانی سیاست میں ایک نشست بھی نہیں رکھتی لیکن پنجاب کے دل لاہور میں اتنا بڑا جلسہ کیسے منعقد کروا سکتی ہے؟

Supporters of Pakistani politician and former cricketer Imran Khan gather for a rally in Lahore on October 30, 2011. A crowd of thousands gathered October 30, for a rally in the Pakistani city of Lahore called by Khan to press President Asif Ali Zardari to step down. The rally, seen as a show of strength, comes two days after Sharif’s brother Shahbaz, attracted some 30,000 people at an anti-Zardari protest also in the key political battleground of Lahore. AFP PHOTO/Arif ALI (Photo by Arif Ali / AFP)

عمران خان کے حامی 30 اکتوبر 2011 کو مینار پاکستان پر ہونے والے جلسے کے دوران ( اے ایف پی)

اس جلسے کے بعد تحریک انصاف میں الیکٹ ایبلز کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا جو 2013 کے انتخابات تک جاری رہا۔

2013 کے انتخابات کے بعد عمران خان پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھرے۔ قومی اسمبلی میں 38 نشستیں حاصل کیں اور خیبر پختونخوا میں حکومت بھی بنائی۔ لیکن سب سے بڑی کامیابی متحدہ قومی موومنٹ کے کرو فر کے باوجود کراچی میں اپنا ووٹ بینک بنانا تھا۔

اب تحریک انصاف تانگہ پارٹی نہیں بلکہ پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی قوت تھی اور ماضی میں تانگہ پارٹی کا طعنہ دینے والے شیخ رشید احمد خود عمران خان سے الحاق کے بعد اسمبلی میں ان کے حمایت یافتہ ممبر کے طور پر موجود تھے۔

مبینہ دھاندلی کے خلاف بھرپور تحریک، لانگ مارچ اور کرپشن کے خلاف غیر متذلزل موقف نے عمران خان کی پذیرائی میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔

مشہور زمانہ دھرنے کے دوران ہی عمران خان اور برطانوی نژاد پاکستانی اینکر ریحام خان کی شادی کی اطلاعات آئیں۔ دھرنے کے اختتام پر اس خبر کی تصدیق ہوئی اور دونوں نے اپنی شادی کا اعلان کیا۔ لیکن یہ شادی چند ماہ ہی چل سکی اور دونوں میں طلاق ہو گئی۔

2018 کے عام انتخابات سے پہلے عمران خان نے پاک پتن کے ایک روحانی خاندان کی خاتون بشریٰ بی بی سے شادی کا اعلان کیا۔

عمران خان نے احتساب، روزگار کی فراہمی اور قومی وقار میں اضافے کے بیانیے پر 2018 کے الیکشن لڑے اور قومی اسمبلی، خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان میں حکومتیں بنائیں۔

نمبرز کی حد تک یہ ایک کمزور حکومت تھی لیکن مقتدر اداروں کی مکمل حمایت کی باعث ابتدائی دو سال مثالی رہے۔ لیکن فوج کے ایک اہم عہدے پر تعیناتی پر اختلاف رائے کی وجہ سے سالار اعظم اور وزیر اعظم کے درمیان خلیج بڑھتے بڑھتے تحریک انصاف کی اقتدار سے بے دخلی پر ختم ہوئی۔

اپریل 2022 میں قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔

اقتدار سے بے دخلی کے بعد تحریک انصاف اور عمران خان نے فوج مخالف بیانیہ دیا۔ جس کی انتہا نو مئی 2023 کو اہم فوجی عمارتوں پر جلاؤ گھیراؤ کی صورت ظاہر ہوئی۔

اس کے بعد تحریک انصاف کے کارکنوں اور لیڈر شپ کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہوا۔ اس کریک ڈاؤن کے بعد کئی اہم رہنما یا تو انڈر گراؤنڈ چلے گئے یا پارٹی عہدوں سے مستعفی ہو کر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

ملک کے مقتدر حلقوں کی جانب سے سخت کارروائیوں کے پیش نظر عمران خان نے اپنی سیاسی سرگرمیاں تقریباً ختم کر دیں اور صرف اپنے مقدمات کی پیشیوں پر ہی میڈیا سے گفتگو کیا کرتے۔

نو مئی کے واقعات کے بعد عمران خان پر تقریباً 200 مقدمات قائم کیے گئے۔ اسلام آباد تو کبھی لاہور کی عدالتوں سے ضمانتیں کروانے میں ان کا وقت صرف ہونے لگا۔

ان کے دیرینہ سیاسی رفقا ایک کے ایک بعد ایک کر کے ان کا ساتھ چھوڑنے لگے اور پریس کانفرنس میں نو مئی کے واقعات سے برأت اور تحریک انصاف سے علیحدگی کے اعلانات ہونے لگے۔

عمران خان پر قائم توشہ خانہ سے تحائف غیر قانونی طور پر بیچنے کے الزام میں قائم مقدمے میں 5 اگست 2023 کو جج دلاور خان نے فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کو تین سال قید اور پانچ سال کے لیے نا اہل قرار دے دیا۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین