Thursday, May 30, 2024
homeہندوستانسوئٹزرلینڈ کے داووس میں یوگی کی مخالفت-- بین الاقوامی وکلاء کے...

سوئٹزرلینڈ کے داووس میں یوگی کی مخالفت– بین الاقوامی وکلاء کے گروپ کی مخالفت کے بعد یوگی کا دورہ رد

سوئٹزرلینڈ کے داووس میں 16 سے 20 جنوری کے درمیان ورلڈ اکونومک فورم کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے شریک ہونے کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے تھے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یوگی آدتیہ ناتھ داووس کیوں نہیں گئے، اس سلسلے میں کوئی بیان تو سامنے نہیں آیا ہے، لیکن بین الاقوامی وکلاء کے گروپ کے ذریعہ اٹھایا گیا ایک قدم سرخیوں میں ہے۔ دراصل گزشتہ دنوں گویرنیکا 37 چیمبرس نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر انسانیت کے خلاف جرم کرنے کا الزام عائد کیا اور مجرمانہ شکایت بھی درج کرائی۔

انگریزی نیوز پورٹل ’دی نیوز منٹ‘ پر اس تعلق سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعہ دسمبر 2019 و جنوری 2020 کے درمیان اتر پردیش میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف مظاہرہ کر رہے لوگوں کو دبایا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ یوگی کے خلاف مجرمانہ شکایت سوئس کریمنل کوڈ کی دفعہ 264 میں دیے گئے عالمگیر دائرۂ حقوق کے اصولو کے تحت بین الاقوامی جرائم و حقوق انسانی وکلاء کے ایک ماہر گروپ گویرنیکا 37 چیمبرس کے ذریعہ گزشتہ منگل یعنی 17 جنوری کو سوئس فیڈرل پروزیکیوٹر کے دفتر میں درج کی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ دفعہ 264 ’قتل عام اور انسانیت کے خلاف جرائم‘ سے متعلق ہے۔ گویرنیکا 37 چیمبر کے بانی اور جی-37 چیمبرس کے جوائنٹ چیف ٹابی کیڈمین نے ایک ای میل کے جواب میں ’دی نیوز منٹ‘ کو بتایا کہ کریمنل رپورٹ سے جڑے ہوئے سبھی مواد، متاثرین کی جانکاری، شکایت دہندگان اور عرضی دہندگان کی جانکاریاں زندگی و سیکورٹی کے پیش نظر راز رکھی گئی ہیں۔ گویرنیکا 37 چیمبرس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کو دبانے کے لیے اتر پردیش میں دسمبر 2019 اور جنوری 2020 کے درمیان ہندوستان میں جھوٹے جیل، مظالم اور شہریوں کے قتل کا حکم دیا تھا۔‘‘ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف درج مجرمانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ کام انسانیت کے خلاف جرائم کے درجہ میں آ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی شہریوں اور بیشتر مسلم آبادی پر ہونے ولاے حملے کو منظم کہا گیا ہے۔ گویرنیکا 37 چیمبرس نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ ’’پولیس تشدد میں وزیر اعلیٰ کا کردار 19 دسمبر 2019 کو دی گئی ایک تقریر سے واضح ہے، جس میں انھوں نے پولیس سے مظاہرین کے خلاف ’بدلہ‘ لینے کی بات کہی تھی۔ ایک ہندوستانی ریاست کا اعلیٰ عہدیدار ہونے کے باوجود وزیر اعلیٰ کو ان جرائم کے لیے سیاسی چھوٹ حاصل نہیں ہے۔‘‘

’دی نیوز منٹ‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ درج شکایت کے مطابق دسمبر 2019 میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کو لے کر کئی لوگ، خاص طور سے مسلم طبقہ پرامن مظاہرہ کے مقصد سے سڑکوں پر اتر آئے تھے۔ ان میں سے کئی لوگوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا اور ان پر حملہ بھی کیا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یوپی پولیس نے مبینہ طور پر 22 مظاہرین کو مار ڈالا اور کم از کم 117 کے ساتھ زد و کوب والا معاملہ پیش آیا۔ اتنا ہی نہیں، 307 افراد کو منمانے طریقے سے حراست میں لے لیا گیا۔ گویرنیکا 37 چیمبرس نے مجرمانہ شکایت کو جوڑتے ہوئے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ، جن کی اتر پردیش پولیس پر گرفت ہے، مبینہ جرائم کی جانچ اور مقدمہ چلانے میں ناکامیاب رہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین