ایرانی خواتین کی مزاحمت کی تاریخ بہت طویل ہے

ایران کے اسلامی انقلاب سے پہلے عورتوں میں شعور آ گیا تھا کہ انہیں بنیادی ضرورتوں کے تحفظ کے لیے احتجاج کرنا چاہیے۔

0
95
A demonstrator raises his arms and makes the victory sign during a protest for Mahsa Amini, a woman who died after being arrested by the Islamic republic's "morality police", in Tehran on September 19, 2022. - Fresh protests broke out on September 19 in Iran over the death of a young woman who had been arrested by the "morality police" that enforces a strict dress code, local media reported. Public anger has grown since authorities on Friday announced the death of Mahsa Amini, 22, in a hospital after three days in a coma, following her arrest by Tehran's morality police during a visit to the capital on September 13. (Photo by AFP)

ڈاکٹر مبارک علی

سوشل احتجاج کا ایک اہم موضوع ایرانی خواتین کے مظاہرے ہیں۔ خواتین کے یہ مظاہرے خصوصیت سے 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد زیادہ ہونے لگے۔

ایرانی خواتین اسلامی انقلاب سے پہلے بھی سیاسی طور پر متحرک نظر آتی ہیں۔ قاچار خاندان کے دوران حکومت میں 1901 میں خواتین نے شاہ کی گاڑی کو گھیر لیا تھا اور اس کو اپنے مطالبات پیش کیے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عورتوں میں سیاسی شعور آ چکا تھا اور وہ مردوں کے ساتھ مل کر بھی احتجاج میں شرکت کرتی تھیں۔

جدید دور میں آتے آتے ایران کی خواتین پسماندگی کے ایک طویل سفر سے گزری ہیں۔ اسلامی معاشرے میں رہتے ہوئے ان کے لیے ضروری تھا کہ وہ پردہ کریں اور اگر گھر سے باہر جائیں تو سر سے پاؤں تک خود کو چادر میں لپیٹ لیں۔ گاؤں اور دیہات کی عورتوں کے لیے پردہ ضروری نہیں تھا کیونکہ وہ کھیتوں میں کام بھی کرتی تھیں اور مویشیوں کی دیکھ بھال بھی کرتی تھیں۔

وراثت میں عورتوں کا حصہ آدھا ہوتا تھا۔ ابتدائی دور میں عورتوں کو تعلیم بھی نہیں دی جاتی تھی۔ بلکہ جدید دور میں تین فیصد عورتیں پڑھی لکھی ہوتی تھیں۔ یہ عورتیں اپنے حقوق سے یکسر غافل ہوتی تھیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی آئی اور جب ایران میں جدت پسندی کا آغاز ہوا تو عورتوں کو تعلیم کے مواقع بھی ملے اور ان میں سیاسی شعور بھی آیا۔

اس لیے جدید دور میں ہم عورتوں کی مزاحمتیں تحریکوں کو دیکھتے ہیں جو ایک قدامت پسند معاشرے کے لیے چونکا دینے والی بات تھی۔ مردوں کو بھی اس بات کا احساس ہوا کہ عورتوں کو گھروں میں بند کر کے نہیں رکھا جا سکتا ہے۔

جب وہ گھروں سے باہر نکلیں اور دوسری عورتوں کے ساتھ مل کر ایک تنظیم بنائی تو ان میں اپنی طاقت کا احساس بھی ہوا۔ یہی وہ وقت تھا جب ایران میں سوشل ازم کے نظریات بھی اُبھر رہے تھے، جس کی وجہ سے عورتوں اور نوجوانوں میں تبدیلی کی زبردست خواہش تھی۔

خواتین کی مزاحمت اس وقت زیادہ ہوتی تھی جب کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں بڑھ جاتی تھیں اور تاجر گندم کا ذخیرہ کر لیتے تھے جس کی وجہ سے بیکریوں میں روٹی دستیاب نہیں ہوتی تھی۔ کیونکہ ایرانی کھانوں میں روٹی کا استعمال ہوتا ہے، اس لیے بغیر روٹی کے کھانا مکمل نہیں ہوتا۔

لہٰذا 19ویں صدی میں میں تہران اور شیراز میں جب مہنگائی کے سلسلے میں مظاہرے ہوئے تو عورتوں نے ان میں پوری پوری شرکت کی۔ ایک موقعے پر جب شاہ ایران شیراز آئے تو عورتوں کا جلوس ان کی رہائش گاہ پر گیا اور مہنگائی کی شکایت کی۔ کیونکہ شہر کے مجتہد نے عوام کی حمایت کی تھی، اس لیے شاہ نے اسے کربلا بھیجنے کا فیصلہ کیا اس پر مردوں کے ساتھ عورتوں نے بھی احتجاجی جلوس نکالا اور مجتہد پر زور دیا کہ وہ شہر چھوڑ کر نہ جائے۔

1880 میں شیراز کے گورنر نے یہ اعلان کیا کہ مذہبی مقامات پر جو پناہ دی جاتی تھی اور وہ قانون کی گرفت سے باہر ہو جاتے تھے، آئندہ اس کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس پر عورتوں نے اس چھوٹ ختم ہونے پر جلوس نکالا اور جامع مسجد میں جا کر احتجاج کرتے ہوئے امام مسجد کو نماز بھی نہ پڑھانے دی کہ جب تک اس نئے قانون کو ختم نہیں کیا جاتا یہ احتجاج جاری رہے گا۔

1891 میں شیراز اور بشر شہروں میں ہیضے کی وبا پھیلی۔ اس کے بارے میں یہ مشہور کیا گیا کہ یہ وبا روسی تاجر لے کر آئے ہیں۔ یہ سن کر عورتوں اور مردوں نے روسی تاجروں کی دکانوں پر حملے کیے اور لوٹ مار کی۔

1895 میں اصفہان، ہمدان اور دوسرے شہروں میں بھی روٹی کی قلت اور مہنگائی نے عورتوں کو مجبور کیا کہ وہ پبلک میں احتجاج کریں۔ اگرچہ ایک دو بار فوج نے روکنے کی کوشش بھی کی مگر وہ عورتوں کا مقابلہ نہیں کر سکے۔

شیراز میں غذائی قلت کے خلاف تقریباً 15 سو عورتوں اور مردوں نے جلوس نکالا۔ جلوس میں یہ عاتم کرتے رہے جس کی وجہ سے لوگوں کے مذہبی جذبات اُبھرے۔ عورتوں نے اپنے احتجاج کا یہ سلسلہ نکالا کہ وہ ایران میں جگہ جگہ دس محرم کو ہونے والے واقعات کو ڈرامائی انداز میں پیش کرتے تھے۔ یہ ایک ایسا سلسلہ تھا کہ جس کی سرپرستی حکومت بھی کرتی تھی۔

ایران کے اسلامی انقلاب سے پہلے عورتوں میں اگرچہ یہ شعور تو آ گیا تھا کہ انہیں بنیادی ضرورتوں کے تحفظ کے لیے احتجاج کرنا چاہیے، لیکن سیاسی طور پر وہ بادشاہت کے نظام کے مخالف نہ تھے اور مذہبی طور پر بھی ان پر علما کا اثر و رسوخ تھا۔

انہوں نے یہ ہمت ضرور کی کہ شاہ ایران کے سامنے جا کر اپنے مطالبات پیش کیے اور مسجد کو اپنے مظاہروں کا مرکز بنایا۔ ان میںسیاسی سوچ، تعلیم اور جدت پسندی کے رحجانات کی وجہ سے پیدا ہوئی اور بائیں بازو کی تحریکوں سے بھی ان کا تعلق پیدا ہوا۔ جب یہ صحافت، ادب، آرٹ، موسیقی اور فلموں میں آئی تو ان کی ذہنی صلاحیتوں کا پوری طرح سے اظہار ہوا۔

موجودہ دور میں ایرانی خواتین پابندیوں کے باوجود اپنی شخصیت کا اظہار کر رہی ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے موجودہ حکومت کی مزاحمت کرتی ہیں۔

حال ہی میں جب نوجوان لڑکی کو حجاب کے سلسلے میں پولیس نے اتنا مارا کہ وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ اس پر عورتوں کی زبردست تحریک اُٹھی اور انھوں نے شہر کے وسط میں جمع ہو کر اپنے حجاب اور برقعوں کو آگ لگا دی۔ احتجاجاً اپنے سر کے بال بھی کاٹے۔

یہ تحریک پورے ایران میں پھیل گئی اور اب تک جاری ہے۔ عورتوں کا یہ احتجاج ایران کی مذہبی حکومت اورعورتوں کے خلاف اس کے قوانین پر ہے۔ اپنے جذبات کا اظہار انہوں نے بھرپور طریقے سے کیا۔

یہی جذبہ معاشروں میں تبدیلیاں لانے کا باعث بنتا ہے۔