کویت میں ہندوستانی سفارت خانہ کے باہر کویتی شہریوں کا احتجاج۔کویت میں ہندوستانی برادری کو اپنے مذہبی آزادی پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ہندوستانی حکومت دوسرے مذاہب کے عقیدےاور مذہبی عمل کااحترام کرے

0
77

کویت (اخلد الہندی)
کویتی اسلامی آئینی تحریک کی خواتین ممبران نے کویت میں واقع ہندوستانی سفارت خانے کے سامنے گرین آئی لینڈ اسٹینڈ پر ایک احتجاجی دھرنا دیا، جس میںسیکڑوں خواتین اور کویت کے شہری شامل تھے۔تاہم اکثریت کویت کی خواتین کی تھی۔احتجاج کے دوران حجاب کےلئے جدو جہد کررہی مسلم طالبات کی حمایت میں نعرے بازی اور اس پورے معاملے میں عالمی برداری کی خاموشی کے خلاف مذمتی نعرے لگائے جارہے تھے۔

خواتین کے ہاتھوں میں بینر تھے جس میں لکھے تھے ک’’ہم سب ایک ہیں ‘‘۔احتجاجی خواتین کا کہنا تھا کہ حکومت ہند اپنے شہریوں کے مذہبی جذبات اور انسانی حقوق کا احترام کرے گی ۔
کویتی اسلامی آئینی تحریک کے نمائندے ڈاکٹر عبدالعزیز الثقابی نےاس موقع پر کہا کہ کویت کے عوامنے ہمیشہ دنیا بھر کے مسلم بھائیوں کی حمایت میں آواز بلند کی ہے۔اس وقت ہندوستان میں جو کچھ ہورہا ہے ایسے حالات میں تمام مسلم بھائی اوربہنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بھائیوںکی حمایت میں آواز بلند کریں ۔اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں کے شہری، بنیادی اور شرعی حقوق پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے-

الثقابی نے عالمی برادری اور دنیا بھرکی انسانی حقوق کی تنظیموں کی شرمناک خاموشی کی مذمت کرتےہوئے کہا کہ جو آزادی کے نام پر شور مچانے والے اظہار رائے کی آزادی اور شہری حقوق سلب کئے جانے پر خاموش کیوں ہے۔کیا یہ ان کا دوہرا معیار نہیں ہے۔الثقابی نے مزید کہا کہ ہمیں ہمیشہ دنیا اور عالمی برادری کو حقوق اور آزادیوں کے تحفظ میں اس کے کردار کو یاد دلانے کی ضرورت ہے، اس لیے اسلامی برادری کی جانب سے دنیا کو پیغام پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ کویتی حکومت اور پارلیمنٹ اس مسئلے پر توجہ دے گی اور ایک مذمتی بیان جاری کیا جائے گا۔اس کے علاوہ کویت میں ہندوستان کے سفیر کو طلب کرکے انہیں کویت کے عوام کے جذبات واحساسات سے آگاہ کیا جائے۔الثقابی نے کہا کہ یہ کویت کے عوام کا فخر ہے۔ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے ہم اس کے خلاف احتجاج کرتے رہیں گے۔


دھرنے میں شریک دانا الشرفہ نے کہاکہ ہندوستان میں مسلم خواتین کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک صریح ناانصافی ہے، اور کسی شخص کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کو اپنے مذہبی عقائد سے دستبردار ہونے پر مجبور کرے۔
سیاسی کارکن اور ایڈوکیٹ اسرا المتوق نے کہاکہ مذہبی دہشت گردی ناقابل قبول ہے، اور ہندوستانی حکومت کواس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اسلامی ممالک، خاص طور پر خلیجی ممالک میںہندوستانی شہری پورے سکون و اطمینان کے ساتھ رہتے ہیں ۔خلیجی ممالک میں آبادی بیرونی میں سب سے بڑی برادری ہندوستانیوں کی ہے ۔وہ اپنے مذہبی عقائد اور رسومات میں مکمل آزادی کے ساتھ عمل کرتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہاکہ ہمارے احتجاج کا مقصد حکومت ہند تک ہماری آواز پہنچانا ہے، اور ہندوستان میں کویتی سفارتخانہ ہماری آواز اور پیغام ہندوستانی حکومت تک پہنچائے، اور وہاں کی مسلم خواتین کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے خلاف احتجاج کریں۔انہوں نے کہاکہ کہ پردہ نہ ہٹانے کی صورت میں مسلم خواتین کو تعلیم سے روکنا ناقابل قبول ہے اور اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔


احتجاج میں شریک محمد الانصاری نے کہا کہ ہندوستان میں مسلم خواتین کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کہ ہند-کویت کے تعلقات زمانہ قدیم سے ہیں، خاص طور پر تجارت کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان انسانی تعلقات بھی قدیم ہیں ہیں، ہندوستانی حکومت سے ہمارے مطالبہ وہ مذاہب کا احترام کرے۔انہوں نے کہاکہ کویت میں ہم ہندوستانی کمیونٹی کا احترام کرتے ہیں، اور وہ ملک کے اندر رہنے والی سب سے بڑی کمیونٹی ہیں، اور ہم انہیں اپنی اسلامی رسومات اور عقائد کی پیروی کرنے پر مجبور نہیں کرتے ہیں، اور انہیں عقائد اور رسومات پر عمل کرنے کی آزادی ہے، ہندوستانی حکومت سے بھی ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ہم آہنگی اور بھائی چارہ کے ماحول کو قائم کرے اورمسلمانوں کی مذہبی عقائداور عمل کا احترام کرے۔