انہیں ڈر تھا کہ میں اپنے بیٹے کے لیے انصاف مانگوں گی ۔اس لئے میرے پرچہ نامزدگی کو خارج کردیا : شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج میں شہید کی ماں کا دعویٰ

0
44

بجنور(عرشی قریشی)
میرا بیٹا شہید ہے – میں ایک قابل فخر باپ ہوں، اس کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی،یہ الفاظ ہیں سلیمان کے والد زاہد حسین کے ہیں ۔20 سالہ سلیمان 20 دسمبر 2019 کو بجنور ضلع کے نہتور میں پولیس کی فائرنگ میں موت ہوگئی تھی ۔شہری ترمیمی ایکٹ پاس ہونے کے بعد یہاں مسلمان احتجاج کررہے تھے۔زاہد حسین جب مجھ سے بات کررہے تھے اس وقت ان کے آنکھو ں سے آنسو ٹپک رہے تھے۔
سلیمان کی ماں اکبری خاتون ریندھی ہوئی آواز میں کہتی ہیں نہیں، میرا بیٹا کسی احتجاج میں شامل نہیں تھا۔ وہ اس تاریک دن جمعہ (جمعہ) کی نماز پڑھنے مسجد گیا اور جب وہ مسجد سے واپس آرہا تھا تو چند پولس والوں نے اسے اٹھالیا اور گیس منڈی چوک پر لے گئے، برہنہ کر کے گولی مار دی۔تاہم، دو سال بعد، بجنور کی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) نے جولائی 2021 میں سلیمان کے اہل خانہ کی جانب سے شکایت میں نامزد چھ پولیس اہلکاروں کو کلیئر کر دیا۔اکبری کہتی ہیں کہ’’سلیمان کی غیر موجودگی کو کوئی چیز نہیں بھر سکتی‘‘ –


سلیمان کا مشترکہ خاندان دو منزلہ گھر میں رہتا ہے، یہ گھر چار چھوٹے کمروں پر مشتمل ہے جو ایک بڑے صحن سے منسلک ہے، صحن کے بیچوں بیچ ایک ہینڈ پمپ ہے، کمرے کی دیواریں گلابی رنگ کی ہیں۔سلیمان اپنے کالج کے دوسرے سال میں UPSC کا امیدوار تھا، اس نے نوئیڈا میں کوچنگ کی کلاسیں لی تھیں، اور وہ کالج کے لیے نہتور واپس آ یا تھا۔
اکبری کہتی ہیں کہ ’’میرا بیٹا بہت ذہین تھا، وہ ہر وقت پڑھتا تھا، وہ نوئیڈا میں اپنی کوچنگ لے رہا تھا، وہ واپس نہتور آکر دوسرے طلباء کو پڑھاتا تھا، وہ بہترین بیٹا تھا ۔اس کی گواہی کوئی بھی دے سکتا ہے۔
سلیمان کے بڑے بھائی سلمان ہمیں سلیمان کے بیڈ روم میں لے گئے – جو اب گیسٹ روم میں تبدیل ہو چکا ہے – اس نے ہمیں اپنے بھائی کا ٹائم ٹیبل دکھایا – جس پر سلیمان سختی سے عمل کرتے تھے۔میرا بھائی محنتی تھا، وہ صبح 5 بجے اٹھتا، نماز پڑھتا، اور پھر پڑھنا شروع کرتا، وہ دن میں 19 گھنٹے پڑھتا، وہ صرف ملک کی خدمت کرنا چاہتا تھا – یہ اس کا خواب تھا، لیکن یوپی پولس نے اسے چھین لیا۔
سلیمان کے والد کا دعویٰ ہے کہ ان کے بیٹے کو پولیس نے جان بوجھ کر قتل کیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ سرکاری ملازم بننا چاہتا ہے۔
زاہدحسین نے کہاکہ جب پولس نے میرے بیٹے کو مسجد کے باہر سے اٹھایا، وہ جانتے تھے کہ وہ یو پی ایس سی کا امیدوار تھا، انہوں نے اسے گولی مار دی کیونکہ وہ ایک پڑھے لکھے مسلمان کو نہیں دیکھ سکتے، وہ یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ مسلمان اپنا حق مانگ رہے ہیں۔
سلیمان کے چچا انور لال عثمانی اور دہلی میں مقیم ایڈوکیٹ محمود پراچہ نے درخواست دائر کی، لیکن خاندان کے عدلیہ پر اعتماد کے باوجود عدالت نے ان کی

سماعت کو بار بار ملتوی کیا۔زاہد حسین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے اپنی شکایت واپس لینے سے انکار کیا تو انہیں مقامی پولیس نے دھمکیاں دیں۔جب ہم سلیمان کو دفن کر کے واپس آئے تو پولیس نے ہمیں دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ ایک دن وہ ہمارے گھر آئے، ہماری چھت پر چھلانگ لگا دی، اور پورے گھر کی تلاشی لینے لگے، ہمیں ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی، انہوں نے ہمیں بہت پریشان کیا ہے، وہ نہیں چاہتے کہ ہمیں انصاف ملے، انہیں پولیس نہ بلاؤ، وہ ظالم ہیں، انہوں نے میرے بیٹے کو مار ڈالا۔
بجنور کے اس وقت کے ایس پی سنجیو تیاگی نے دی وائر کو ایک بیان میں کہا تھاکہ لوگوں کے ایک گروپ نے سب انسپکٹر آشیش تومر کی پستول چھین لی تھی اور ان میں سلیمان بھی شامل تھا۔ تیاگی نے کہا کہ سلیمان کا جب پولیس نے تعاقب کیا تو اس نے سوات افسر موہت کمار پر دیسی پستول سے فائرنگ کرنی شروع کردی۔موہت نےاپنے دفاع میں جوابی گولی چلائی۔تاہم رپورٹ بتاتی ہے کہ سلیمان نے جس بندوق سے سوات آفیسر موہت کمار پر گولی چلائی تھی وہ بندوق نہیں ملی۔
سلیمان کے اہل خانہ تیاگی کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’وہ خود کو بچانا چاہتے ہیں، وہ اقتدار میں ہیں – وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں‘‘۔’’انتظامیہ مجھ سے ڈرتی ہے‘‘
سلیمان کی موت کو دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، نہتور کے منگو چرخی علاقے کی رہنے والی اکبری خاتون کو بجنور سے کانگریس امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔
کانگریس نے اکتوبر 2021 میں اعلان کیا تھا کہ اتر پردیش کے انتخابات میں 40 فیصد امیدوار خواتین کو بنائیں گی۔اکبری کہتی ہیںکہ انہوں نے پرینکا گاندھی واڈرا کے ٹکٹ کی پیشکش کو قبول اس لئے کرلیا تھا وہ اس کے ذریعہ وہ انصاف حاصل کرنا چاہتی تھی۔سلیمان کی موت کے فوراً بعد – کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا نے ان کے خاندان سے ملاقات کی تھی۔

“میرا بیٹا شہید ہے – میں ایک قابل فخر باپ ہوں، اس کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی،” سلیمان کے والد زاہد حسین نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔ تصویر: میر فیصل

اکبری خاتون نے کہاکہ ’’ہمیں پرینکا جی پر پورا بھروسہ ہے، جب مجھے نامزد کیا گیا تو انھوں نے مجھ سے فون پر بات کی، میں مقابلہ نہیں کرنا چاہتی تھی،
لیکن انھوں نے مجھے یقین دلایا کہ ہم جیتیں گے، وہ بہت اچھی انسان ہیں،‘‘ تاہم، خاتون کی امیدواری 28 جنوری، 2022 کو رد کردی گئی۔ انتخابی افسران کے مطابق، خاتون کی درخواست مسترد کر دی گئی کیونکہ اس کے فارم بی پر پارٹی کے ریاستی صدر کے دستخط نہیں تھے۔
اکبری خاتون کہتی ہیں کہ ان کے تمام دستاویز پر دستخط ہیں، لیکن انہیں بتایا گیا کہ ان کی امیدواروں کو رد کردیا گیا ہے۔خاندان کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلہ انتظامیہ نے کیا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ الیکشن میں حصہ لے۔
اکبری کہتی ہیں کہ انتظامیہ نہیں چاہتی کہ میں الیکشن لڑوں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ میرے پاس جیتنے کی صلاحیت ہے، بجنور کے لوگوں نے میرا ساتھ دیا – انتظامیہ جانتی ہے کہ اگر میں جیت گئی تو میں اپنے مردہ بیٹے کے لیے انصاف کا مطالبہ کروں گی، اور پرینکا گاندھی نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ کہ وہ مجھے انصاف دلانے میں مدد کرے گی۔

بجنور کے کانگریس ضلع صدر شیرباز پٹھان نے بتایاکہ ’’فارم B پر دستخط کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ فارم اےزیادہ اہم ہے – انتظامیہ نے صرف اسی بنیاد پر نامزدگی منسوخ کر دی ۔ انتظامیہ نہیں چاہتی تھی کہ کسی ماں کو کسی طاقتور عہدے پر نامزد کیا جائے، فارم B پر کسی اور امیدوار کے دستخط نہیں تھے، لیکن ان کی نامزدگی منسوخ نہیں کی گئی۔ اگر یہ کوئی سرکاری یا تکنیکی خرابی تھی تو باقی تمام امیدواروں کی امیدواری منسوخ کر دی جانی چاہیے تھی۔
پٹھان نے مزید کہاکہ اکبری خاتون نے اپنے فارم B پر جس دن ان سے درخواست کی تھی اس پر دستخط کرائے تھے – لیکن انتظامیہ نے اسے قبول نہیں کیا۔
بجنور اسمبلی سیٹ کے ریٹرننگ آفیسر وکرمادتیہ سنگھ نے TwoCircles.net کو بتایاکہ اکبری خاتون کی امیدواری اس لیے واپس لے لی گئی ہے کیونکہ ان کے نشان فارم B پر پارٹی کے دستخط نہیں تھے۔ اس کمی کی وجہ سے اس کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
بجنور میں مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی ہے، اکبری بجنور میں خاتون واحد مسلم امیدوار تھیں۔ ایک اندازے کے مطابق بجنور اسمبلی سیٹ پر تقریباً 1.5لاکھ مسلمان، 62,ہزارجاٹ، تقریباً95 ہزاردرج فہرست ذات، اور20ہزاراو بی سی (بنیادی طور پر سینی) اور برہمن ہیں۔