سات سالوں تک جیل کی ذلت کی زندگی گزاری ۔بے گناہی کا پروانہ ملنے کے باوجود سکون نہیں مل رہا ہے:فخرالدین

0
71

ٍفرحانہ فردوس

7 سالہ زینب کو یقین نہیں آرہا ہے کہ اس کے گھر آنے والے ایک نیا مہمان کا اس کا باپ ہے، زینب کو یقین بھی کیسے آئے؟
زینب جس دن 23فروری 2014کو اس دنیا میں آنکھ کھولی اسی دن اس کے والد فخرالدین کو بہار کے سون بھدرا ضلع سے 27اکتوبر 2013کو بہار کی راجدھانی پٹنہ کے گاندھی میدان جہاں وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار اور اس وقت کے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی ریلی سے خطاب کررہے کےپاس ہوئے دھماکے کے معاملے میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔سات سالوں تک بغیر کسی جرم کے جیل کی سزا کاٹنے والے فخرالدین گزشتہ ہفتے ہی اترپردیش کے مرزا پور ضلع کے کٹرا کوتوالی گائوں پہنچے ہیں۔
زینب کی ماں اسے یقین دلارہی ہے کہ گھرآنے والا شخص کوئی مہمان نہیں ہے بلکہ اس کے والد ہے۔زینب جو اس وقت پہلی جماعت کی طالبہ کو یقین کرنے میں وقت لگے گا۔
23فروری 2014کوپک اب ڈرائیور فخرالدین سون بھدر ضلع میںمرغیا ں اتار کر واپس آرہا تھا ۔ اسی دن اسے ایک ‘کلائنٹ کا فون آیاکہ ایک شادی کی تقریب کےلئے مرغیوں کا بڑاآرڈر ہے ۔سون بھدر ضلع کے بڑیا ٹولہ میں وہ کلائنٹ سے ملنے پہنچا۔مگر وہاں کلائنٹ نہیں بلکہ این آئی اے (نیشنل انوسٹی گیشن ) کے اہلکار انتظار کررہے تھے اور اس کو وہاں دھوکہ دے کر بلایا گیا ہے۔
27سالہ فخرالدین کو ابتدا میں کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ معاملہ کیا ہے۔وہ اس سے قبل تک این آئی اے کا نام تک نہیں سنا تھا۔فخرالدین اپنے خاندان کا واحد سہارا تھا۔این آئی اے نے اسے بتایا کہ 27اکتوبر 2013میں پٹنہ کے گاندھی میدان اور آس پاس ہوئے سلسلہ وار دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام میں اسے گرفتار کیا گیا ہے ۔یہ سن کر اس کا چودہ طبق روشن ہوگیا۔

27اکتوبر 2021کو این آئی اے کی خصوصی عدالت نے 8سالوں بعد اس معاملے میں گرفتار دس افراد میں سے 9افراد کو مجرم قرار دیا جب کہ ثبوت نہیں ہونے کی وجہ سے فخرالدین کو رہا کردیا ۔ گورویندر سنگھ ملہوترا کی خصوصی عدالت نے حیدر علی، نعمان انصاری، محمد مجیب اللہ اور امتیاز انصاری کو پھانسی کی سزا سنائی ہے، دو ملزمان عمر صدیقی اور اظہر الدین قریشی کو عمر قید کی سزا سنائی دو دیگر ملزمان احمد حسین اور فیروز عالم کو دس دس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ایک ملزم محمد استخار عالم کو سات سال قید کی سزا سنائی۔محمد استخار عالم پہلے ہی سات سال کی سزا کاٹ چکے ہیں ۔
این آئی اے کی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعدخاندان کے افراد اور ایک ہندو دوست کی مدد سے فخرالدین اب اپنے گھر پہنچ چکے ہیں۔بے گناہی کا سرٹیفکٹ اور اپنے گھر پہنچنے کی خوشی یقین فخرالدین کو ہے۔سب سے زیادہ جذباتی لمحہ اس کےلئے اس وقت تھا جب اسے بتایا گیا کہ پاس میں کھڑی لڑکی زینب ہے جو اس کی بیٹی ہے۔وہ زینب کو اپنے بازوں میں لینا چاہتا تھا مگر زینب حیران اور پریشان ہے اور اسے یقین نہیں آرہا ہے کہ یہ اس کا والد ہے۔
فخرالدین کے والد غلام مرتضی چائے کی ایک چھوٹی دوکان چلاتے ہیں ۔جو گزشتہ سات سالوں میں اس خاندان کا واحد سہارا تھا۔
فخرالدین نے فون پر بتایاکہ اس کےلئے وہ دن اور جیل میں بتائے گئے ہر لمحے بھیانک ہے۔بہت ہی مشکل سے اپنے جذبات پر قابو رکھ کر فخرالدین این آئی اے کے تحویل والی پہلی رات سے متعلق بتاتے ہیں کہ جب میں گھر پر وقت نہیں پہنچا تو گھر والوں کا فون آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا مگر این آئی اے کے افسران نے میرا فون چھین لیا اور بند کردیا۔اگلی صبح مقامی تھانے نے میرے گھروالوں کو فون کیا کہ اس کے بیٹے کو بم دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔افسران نے بتایا کہ تمہارے دوست نے تمہار ا نام بتایا ہے۔میں نے پوچھا کہ وہ کون ہہے؟جس کا نام بتایا گیا تھا کہ میں اس کو کبھی جانتا بھی نہیں تھا۔مقامی عدالت میں پیش کرنے کے بعد مجھے پٹنہ جیل میں منتقل کردیا گیا۔

فخرالدین کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 302، 120 بی، 121، 121 اے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کی 16، 18 اور 20 کے علاوہ دھماکہ خیز مواد ایکٹ کی دفعہ 345 کے تحت الزام لگایا گیا تھا۔فخرالدین نے بتایاکہ گرفتاری کے بعد میرے گھر والوں پر دوہرا ستم ٹوٹا ۔ایک طرف میری بے گناہی ثابت کرنی تھی دوسری طرف قریبی لوگوں نے ساتھ چھوڑدیا۔پڑوسیوں نے دوری بنالی ۔انہیں خوف تھا کہ کہیں اسے انجام بھگتنا پڑا ہے۔
جیل میں گزارے ہوئے ایام کو یاد کرتے ہوئے آواز رندھ جاتی ہے اور فخرالدین بتاتے ہیں وہ کئی بیماریوں کے شکار ہوگئے۔خطرناک مجرم جا سلوک کیا جاتا تھا۔دھوپ میں نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔کھانا انتہائی گھٹیا۔
ایک ایسے وقت میں جب سبھوں نے ساتھ چھوڑدیا تھا تو جمعیۃ علما سامنے آئی اور اس نے تمام ملزمان کی قانونی مدد فرمائی۔سید عمران غنی پیروی کررہے تھے۔غنی کہتے ہیں کہ ابھی تفصیلی فیصلہ جاری نہیں ہوا ہے۔دیکھتے ہیں کہ اس میں معاوضہ کی ہدایت ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کل 190گواہ ، 4000دستاویز تھے اور عدالت کی طویل سماعت اور ججوں کا تبادلہ یہ سب وہ عوامل تھے جس کی وجہ سے انصاف ملنے میں تاخیر ہوئی۔وہ کہتے ہیں کہ اس معاملے میں دیگرملزمان بھی بڑی عدالتوں سے بری ہوں گے۔انہیں یقین ہے۔