نوجوان عالم دین و صاحبِ قلم ڈاکٹر مفتی اعجاز ارشد قاسمی کا انتقال

0
61

نئی دہلی: نوجوان عالم دین،دانشور اور صاحب قلم ڈاکٹر مفتی اعجاز ارشد کا انتقال ہوگیا۔ چند دنوں قبل اچانک طبیعت بگڑی اور ٹیسٹ کروانے پر کورونا پازیٹیو پائے گئے جس کے بعد انھیں فرید آباد کے ایک ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔ مگر علاج و نگہداشت کے باوجود وہ جانبر نہ ہوسکے اور آج تقریبا دوبجے ان کا انتقال ہوگیا۔ موصوف نئی نسل کے اہلِ علم و دانش میں نہایت متحرک و فعال تھے اور قوم و ملت کی خدمت کے کئی پلیٹ فارموں سے وابستہ تھے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن تھے،دہلی وقف بورڈ کے بھی رکن رہ چکے تھے۔ دوسری متعدد تنظیموں سے جڑے ہوئے تھے۔ 45-46سال عمر تھی،دارالعلوم دیوبند،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ صحافتی اصول و مبادیات پر ان کی کتاب’’من شاہ جہانم‘‘کو ملک گیر سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی تھی،اسی طرح ان کی کتاب’’جہاد اور دہشت گردی‘‘بھی اپنے موضوع پر اہم سمجھی جاتی ہے۔ مفتی اعجاز ارشد بطور مسلم اسکالر پبلک پلیٹ فارموں،ٹی وی چینلوں اور عوامی ڈبیٹس میں بھی حصہ لیتے تھے ۔ الغرض موصوف کی شخصیت نہایت متحرک و فعال تھی،ان کی وفات سے اہل علم و دانش کے حلقے میں سخت غم و اندوہ کا ماحول برپا ہوگیا ہے۔