مسلم انسی ٹیوٹ میں فلمی اداکارہ کا استقبال تو ہوسکتا ہے مگر مسلم بچیوں کونہ مطالعہ کی اجازت ہے اورنہ ہی مسلم خواتین کی نمائندگی ہے

0
72

کلکتہ(انصاف نیوز آن لائن)

مسلم انسی ٹیوٹ کی انتظامیہ کےچند ممبران سوشل میڈیا فیس بک ، ٹوئٹر اور واٹس اپ گروپ پر بہت ہی فخریہ انداز میں سابق اداکارہ سلمیٰ آغا کے ساتھ سیلفی اور تصویریں شیئر کررہے ہیں۔دراصل مسلم انسٹی ٹیوٹ کی انتظامیہ نے ایک دن قبل ہی 14اکتوبر بروز جمعرات کو سابق اداکارہ سلمیٰ آغا کے کلکتہ آمد کے موقع پر مسلم انسی ٹیوٹ میں استقبالیہ دیا ہے۔کورونا وائرس کی وجہ سے اس استقبالیہ تقریب میں عا م لوگوں کو سلمیٰ آغاسے شرف ملاقات سے دور رکھا گیا ۔صرف مسلم انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبران کو سلمی ٰ آغا کے ساتھ تصویر کھینچوانے کا شرف حاصل ہوسکا۔

اس کو بھی پڑھیں
مسلم انسی ٹیوٹ کی لائبریری کا دروازہ لڑکیوں کیلئے بند

استقبالیہ تقریب میں چوں کہ عام لوگوں کو دعوت نہیں دی گئی اس لئے پروگرام کی تفصیل سامنے نہیں آسکی ہے اور نہ تصویر شیئر کرنے والوں نے تفصیل پیش کیا ہے کہ پروگرام میں کن امور پر بات چیت ہوئی ۔تاہم کچھ ممبروں نے اپنے نام ظاہر نہیں کرنے کی شرط پر کہا کہ سلمیٰ آغا کو مسلم انسی ٹیوٹ کی کارکردگی اور تاریخ سے آگاہ کیا گیا اور انہیں مختلف شعبوں کا دورہ کرایا گیا اور وہ انسی ٹیوٹ کی کارکردگی بہت ہی زیادہ متاثر ہوئیں۔یہ الگ بات ہے کہ انسی ٹیوٹ کی کارکردگی کیا ہے ؟ اس کا علم عام لوگوں کو نہیں ہے۔

سابق اداکارہ سلمی آغا کو استقبالیہ دینے پر کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔نکاح فلم میں ان کی لازوال اداکاری کی یادیں اب بھی لوگوں کے ذہن و دماغ پر نقش ہے ۔مگر جس طریقے سے سلمیٰ آغاکے ساتھ مسکراہٹ اور فخریہ انداز میں تصویریں اور سیلفی لی گئیں اس پر عام لوگ حیران ہیں کہ انسی ٹیوٹ کی انتظامیہ کے لئے سلمی آغا جو خود ایک خاتون ہیں کو استقبالیہ دینے میں کوئی مضائقہ ہے مگر مسلم بچیوں اور خواتین کو انسی ٹیوٹ میں نمائندگی دینے میں انہیں خطرات محسوس ہوتاہے۔

انسی ٹیوٹ کی لائبریری میں استفادہ کرچکی ایک طالبہ (ذمہ داران کے ذریعہ تنک کئے جانے کے خوف سے اس بچی کا نام ظاہر نہیں کیا جارہاہے)نے کہاکہ لائبریری میں طالبات کو پڑھنے کی اجازت حاصل کرنے کے لئے سخت مشقت کا سامنا کرنا پڑا. لایبریری کمیٹی کے سیکریٹری محمد نورالدین اور انصاف نیوز آن لائن کی بروقت رپورٹنگ کی وجہ سے اب لایبریری میں پڑھنے کی اجازت مل گئی مگر جب اجازت منسوخ کی گئی تھی اس وقت بچیوں سے متعلق افسوس ناک طریقے سے الزامات لگائے گئے تھے- جب کہ انسی ٹیوٹ کے سامنے ہی چرچ ہیں جہاں بچی بے خوف آکر مطالعہ کرتی ہیں-
انسی ٹیوٹ کی لایبریری کے سکریٹری کہتے ہیں کہ اب بچیوں کو اجازت دیدی گئی ہے …اب 6بچیاں لائبریری میں مطالعہ کرنے آتی ہیں….

یہ اعداد وشمار اپنے آپ میں شرمناک ہے-سوال یہ کہ مسلم بچیاں چرچ کی لائبریری میں پڑھنے میں زیادہ خود کو محفوظ تصور کیوں کرتی ہیں ؟-حلیم لین میں رہنے والی ایک طالبہ نے بتایا کہ وہ گزشتہ کئی سالوں چرچ کی لایبریری میں پڑھنے آتی ہیں -ویاں کبھی بھی بچیوں پر عیب نہیں لگائے گئے. مسلم ادارے ہونے کی حیثیت سے لایبریری انتظامیہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ بچیوں مییں خود اعتمادی اور خود کو محفوظ تصور کرنے کے لئے اقدامات کرتی مگر دعوت. استقبالیہ اور دوستوں کو انعامات سے نوازنے میں مصروف ممبران کو بچیوں کی فکر کہاں ہوسکتی ہے-

اس کو بھی پڑھیں

امیرالدین بابی اینڈ کمپنی بنام ثنا احمد اینڈ کمپنی – مسلم انسٹی ٹیوٹ پرامیرالدین اینڈ گروپ کا دبدبہ قائم

مسلم انسی ٹیوٹ اپنے تاسیس کو ایک صدی مکمل کرچکا ہے۔ایک صدی کے بعد بھی انسی ٹیوٹ میں مسلم خواتین کی نمائندگی صفر ہے۔مصلحت کے نام پر انسی ٹیوٹ کے ذمہ داران نہ خواتین کو ممبر شپ دینے کو تیار ہیں اور نہ ہی لائبریری اور دیگر سرگرمیوں میں مسلم بچیوں کوانسی ٹیوٹ کے پروگرام میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔ایسے میں یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ جب انسی ٹیوٹ میں سلمیٰ آغا کو استقبالیہ دیا جاسکتا ہے تو مسلم بچیوں اور مسلم خواتین کو نمائندگی کیوں نہیں دی جاسکتی ہے۔؟