Wednesday, May 29, 2024
homeاہم خبریںعالیہ یونیورسٹی میں بڑے پیمانے پر بدانتظامی اور مالی بدعنوانی کا انکشاف------------...

عالیہ یونیورسٹی میں بڑے پیمانے پر بدانتظامی اور مالی بدعنوانی کا انکشاف———— وزارت اقلیتی امور کے ذریعہ قائم کردہ جانچ کمیٹی کی رپورٹ مکمل——–رپورٹ کے عام نہ ہونے پر سوالیہ نشان.

(ایکسکلوزیو رپورٹ)——
—-کلکتہ (انصاف نیوز آن لائن)—-
مغربی بنگال کے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کیلئے قائم عالیہ یونیورسٹی گزشتہ کئی مہینوں سے سرخیوں میں ہے، یونیورسٹی انتظامیہ اور ریاستی وزارت اقلیتی امور کے درمیان چپقلش کے سلسلے نے یونیورسٹی میں تعلیمی ماحول کومکمل طور پر ختم کردیا ہے۔ ریاستی وزارت اقلیتی امور نے یونیورسٹی میں مالی بد انتظامی و بدعنوانی کی جانچ کیلئے اسی سال جولائی میں ایک کمیٹی (Investigation Cum Enquiry Committee)قائم کی تھی جس میں ڈائریکٹر مدرسہ ایجوکیشن عابد حسین، وینمے بسواس ڈائریکٹر مائناریٹی ڈیولپمنٹ وفائننس کارپوریشن اور وزارت خزانہ سے وابستہ سینئر افسران شامل تھے۔ کمیٹی کو ایک مہینے میں رپورٹ جمع کرنی تھی مگر بعد میں کمیٹی کی مدت میں ایک مہینے کی توسیع کی گئی تھی۔


انصاف نیوز آن لائن کے ذرائع کو کمیٹی کی رپورٹ کے کئی اہم نکات ہاتھ لگے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عالیہ یونیورسٹی میں بڑے پیمانے پر بدانتظامی اور مالی بدعنوانی کو انجام دیا گیا ہے اور یہ سب وائس چانسلر اور دیگر سینئر عہدیداران کے علم میں لاکر انجام دیا گیا ہے۔ چوں کہ یہ رپورٹ ابھی منظر عام پر نہیں آئی ہے اور یہ سوال بھی اہم ہے کہ وزارت اقلیتی امور اس رپورٹ کے مطابق کارروائی کرے گی یا نہیں کیوں کہ اس سے قبل 2016میں بھی ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے یونیورسٹی میں بدانتظامی اور مالی بدعنوانی سے متعلق انکشاف کئے تھے لیکن وزارت اقلیتی امور جو اس وقت ممتا بنرجی کے ماتحت تھی نے کوئی کارروائی نہیں کی اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔


واضح ہو کہ مرکزی حکومت نے وزارت خزانہ کے معاملات و حساب کتاب کے اصول و ضوابط میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ہے۔اس پر عمل کرنا ریاستی حکومت کیلئے ضروری ہے۔ عالیہ یونیورسٹی گرچہ ریاستی وزارت اقلیتی امور کے ماتحت ہے تاہم فنڈ کا اجرا اور اس کا حساب وزارت اقلیتی امور سے وزارت خزانہ لیتی ہے۔ محکمہ اقلیتی امور کے سیکریٹری غلام انصاری نے عالیہ یونیورسٹی انتظامیہ کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ یونیورسٹی کیلئے جو فنڈ جاری ہوتے ہیں اس کو مالی ضابطے کے مطابق حساب و کتاب پیش کرنا ہوگا۔ فنڈ کے حصول سے قبل پورا پروجیکٹ پیش کرنا ہوگا اور فنڈ ملنے کے بعد اگر فنڈ کا استعمال نہیں ہوسکا تو اس کے وجہ کی بھی وضاحت کرنی ہوگی، علاوہ ازیں جس مد کیلئے فنڈ جاری کیا جارہا ہے اس فنڈ کو اسی مد میں خرچ کرنا ہوگا لیکن عالیہ یونیورسٹی کی انتظامیہ وزارت اقلیتی امورکے سیکریٹری کی ہدایت کومسلسل نظر انداز کررہی تھی۔
مئی میں ممتا بنرجی کی قیادت میں تیسری مرتبہ حکومت قائم ہونے کے بعد پہلی مرتبہ وزارت اقلیتی امور کا چارج آزادانہ طور پر کسی مسلم وزیر کو دیا گیا۔ بدھا دیب بھٹا چاریہ کے دور اقتدار میں بھی وزارت اقلیتی امور ان کے ماتحت تھا مگر وزیر مملکت عبد الستار کو اختیارات تھے اس کی وجہ سے انہوں نے اپنے پانچ سالہ وزارت میں محکمہ اقلیتی امور کی ترقی کیلئے کئی اہم اقدامات کئے جس میں عالیہ یونیورسٹی کا قیام بھی شامل ہے۔ ممتا بنرجی کے پہلی دومدت میں بھی وزارت اقلیتی امور ان کے پاس تھا اوروزیر مملکت کے طور پر غیاث الدین ملا تھے جو مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے اور انہیں وزارتی امور سے کوئی سرو کار نہیں تھا۔ مئی میں وزارت اقلیتی امور کا چارج سنبھالنے کے بعد غلام ربانی کے سامنے یہ معاملات پہنچے، انہوں نے وائس چانسلر اور محکمہ اقلیتی امور کے سیکریٹری کو آمنے سامنے بیٹھاکر معاملات کو سمجھنے کی کوشش مگر وہ ناکام رہے۔ اس کے بعد ہی انہوں نے ایک اعلی سطحی کمیٹی قائم کی۔ اس کمیٹی کے قیام کے بعد عالیہ یونیورسٹی کے اساتذہ کے گروپ نے جانچ کمیٹی پر اعتراض کرتے ہوئے کمیٹی میں اساتذہ کی نمائندگی نہیں ہونے پر اعتراض کیا تھا۔ اس کے علاوہ جانچ کمیٹی کے ذریعہ پوچھے جارہے سوالات پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ اساتذہ کے ایک گروپ نے وزیر اقلیتی امور محمد غلام ربانی کے نام ایک کھلا خط بھی لکھا تھا۔ جسے انصاف نیوز آن لائن نے بھی جاری کیا تھا۔
انصاف نیوز آن لائن کے ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے عالیہ یونیورسٹی انتظامیہ سے مالی و انتظامی معاملات سے متعلق 100سوالات پوچھے تھے۔مگر یونیورسٹی انتظامیہ نے محض چالیس سوالوں کے جوابات دئیے ہیں اور باقی 60 سوالوں کے جوابات دینے سے گریز کیا ہے۔ جن چالیس سوالوں کے جواب دئیے ہیں اس کی بنیاد پر کمیٹی نے رپورٹ تیار کی ہے۔ اس کمیٹی کی رپورٹ میں کئی اہم گھوٹالے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ انصاف نیوز لائن کو حاصل ہوئے مواد کے کچھ اقتباسات پیش کئے جارہے ہیں۔

اس کو بھی پڑٔھیں

عالیہ یونیورسٹی کا بحران تشویش ناک:وزارت اقلیتی امور، یونیورسٹی انتظامیہ اور مسلم سول سوسائٹی کی سہ فریقی میٹنگ کا انعقاد کیا جائے


(1)
یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اساتذہ کی ترقی اور پرموشن میں آسانی اور زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کیلئے سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کے دور اقتدار 2012 میں ”کیس“(CAS)(کیئرئیر ایڈوانس اسکیم) میں ترمیم کی گئی تھی۔ مرکزی حکومت کے ذِریعہ دئے گئے اسکیم کو نافذ کرنے کا اختیار ریاستی حکومت کوہوتا ہے۔2016 میں وزارت اعلیٰ تعلیم نے بنگال کی تمام یونیورسٹیوں میں اس اسکیم کو نافذ کردیا، چوں کہ عالیہ یونیورسٹی وزارت اقلیتی امور کے ماتحت ہے اس لئے اس اسکیم کے نفاذ میں تاخیر ہوئی۔ اس درمیان عالیہ یونیورسٹی کے مختلف فیکلٹیوں میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر کے عہدہ کی ویکنسی آئی۔ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر یا پھر ایسوسی ایٹ پروفیسر نے ان دونوں کے عہدوں کیلئے انٹرویو دے کر ترقی حاصل کرلی(گرچہ یہ اخلاقی طور پر درست نہیں ہے مگر ان دنوں عالیہ ہی نہیں بلکہ مختلف یونیورسٹیوں میں اس کا چلن عام ہے)۔ چند مہینوں بعد عالیہ یونیورسٹی میں بھی ”کیس” اسکیم کو نافذ CAS)اسکیم کو نافذ کیا گیا تو انٹرویو کے ذریعہ ترقی حاصل کرچکے اساتذہ نے دیکھا کہ اگر وہ”کیس“کے ِذریعہ پرموشن حاصل کرتے توانہیں زیادہ مالی فواید حاصل ہوتا، کچھ اساتذہ نے ”کیس“ اسکیم کا فائدہ حاصل کرنے کیلئے گزشتہ تاریخ-بیک ڈیٹ (کیس اسکیم کے نفاذ سے قبل والی تاریخ سے قبل)میں اپنے نئے عہدوں سے استعفیٰ دے کر پرانی پوزیشن پر واپس آگئے اور چند ہفتوں بعد پھر وہ ”کیس“ اسکیم کے تحت ترقی حاصل کرلی۔
ظاہر ہے کہ یہ نہ صرف اخلاقی گناہ ہی نہیں بلکہ مالی بدعنوانی بھی ہے۔
اس اسکیم کے تحت فائدہ حاصل کرنے والوں میں شعبہ عربک،بنگلہ، تاریخ سمیت کئی شعبہ کے اساتذہ ہیں۔چوں کہ اس وقت رپورٹ منظرعام پر نہیں آئی ہے اس لئے ان اساتذہ کے نام کی نشان دہی نہیں کی جارہی ہے۔


پارک سرکس کیمپس


(2)
20مئی 2020کو امفان طوفان کے بعد وائس چانسلر نے اپنے خصوصی اختیارات کے تحت اسٹوڈننس یونین کو ریلیف ورک کیلئے اچھی خاصی رقم جاری کردی۔ ایک طرف یونیورسٹی انتظامیہ نے مالی بحران کا حوالہ دے کر ترقیاتی کام کاج کو ٹھپ کردیا ہے۔ یونیورسٹی کے دو کیمپس پارک سرکس اور تالتلہ میں گزشتہ 17مہینے سے انٹر نیٹ کنکشن نہیں ہے۔ پارٹ ٹائم عملے کو تنخوا ہ نہیں دی جارہی ہے تو دوسری یونیورسٹی کے ترقیاتی فنڈ میں کٹوتی کر کے اسٹوڈننس یونین کو ریلیف کیلئے فنڈ جاری کیا گیا۔جب کہ یونیورسٹی میں کئی سالوں سے اسٹوڈننس یونین کا انتخاب نہیں ہوا ہے۔ چند طلبا کی اجارہ داری ہے۔ ان میں بیشتر وہ طلبا ہیں جنہوں نے ہاسٹل پر قبضہ کرنے کیلئے طرح طرح کے حربے آزمائے ہیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ اسپورٹس ٹیم کو کلکتہ سے باہر اس لئے نہیں بھیج پا رہی ہے کہ فنڈ کی قلت ہے۔ یونیورسٹی میں دو طرح کے فنڈ ہوتے ہیں،ایک یونیورسٹی کا اپنا فنڈ ہوتا ہے جو اسے طلبا کی فیس اور داخلہ امتحانات اور امتحانات کی فیس سے حاصل ہوتے ہیں اگر اس فنڈ سے طلبا یونین کو فنڈ دیا جاتا تو اس ککچھ گنجائش تھی مگر وزارت اقلیتی امور کے ذریعہ جاری ہونے والے ترقیاتی فنڈ میں کٹوتی کرکے اسٹوڈننس یونین کو ریلیف ورک کیلئے فنڈ دینے کا وائس چانسلر کو کوئی اختیار ہے نہ کوئی قانونی گنجائش ہے۔
یونیورسٹی کے ایک سینئر پروفیسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عالیہ یونیورسٹی کے تینوں وائس چانسلروں نے ہمیشہ طلبا کا استعمال کیا ہے۔ یہ فنڈ بھی در اصل طلبا کی حمایت حاصل کرنے کیلئے ہی جاری کیا گیا تھا شائد اسی کا نتیجہ ہے کہ چند طلبا اس وقت محکمہ اقلیتی امور کے سیکریٹری غلام انصاری کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔
(3)
عالیہ یونیورسٹی میں پنشن اسکیم اور ریٹائرمنٹ کے بعد حاصل ہونے والے فواید اسکیم 2016کے بعد نافذ ہوا۔جبکہ سابق رجسٹرار انور حسین (اب مرحوم ہوچکے ہیں)2016میں ہی ریٹائرڈ ہوگئے تھے۔ گو یا پنشن اسکیم کے نفاذ سے قبل ان کا ریٹائرڈ منٹ ہوچکا تھا، قانونی طور پر وہ پنشن اور ریٹائرڈ منٹ کے بعد حاصل ہونے والے فواید کے مستحق نہیں تھیاس کے باوجود موجودہ وائس چانسلر نے انسانی ہمدردی کا حوالہ دیتے ہوئے انور حسین کو ریٹائرڈ منٹ فوائد کے تحت 98لاکھ روپے دو قسطوں میں ادا کیا۔ جانچ کمیٹی نے سوال کھڑا کیا ہے کہ پنشن اسکیم کے نفاذ سے قبل ریٹائرڈ ہونے والے شخص کو فائدہ کیوں پہنچایا گیا۔اگر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پنشن دینا بھی تھا تو اس کیلئے وزارت اقلیتی امور سے رابطہ کیوں نہیں کیا گیا۔ اجازت کیوں نہیں حاصل کی گئی۔

https://www.youtube.com/watch?v=2uDjQoUYvWk&t=1462s

جانچ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں دیگر مالی بے ضابطگی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یونیورسٹی کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر نے بتایا کہ دراصل عالیہ یونیورسٹی کی انتظامیہ، وزارت اقلیتی امور اور طلبا تنظیم نے یونیورسٹی کو ڈربی میچ کا گیند بنادیا ہے۔ ہرکوئی اپنے مفادات کے لئے یونیورسٹی سے کھلواڑ کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالیہ یونیورسٹی کے چند سینئر اساتذ ہ ہیں جو ہر ایک وائس چانسلر کو یرغمال بنالیتے ہیں جب وائس چانسلر ان کے مفادات کے تحت کام کرتے ہیں تو وہ وائس چانسلر کی حمایت میں رہتے ہیں اور جب وائس چانسلر ان کے خلاف ہوجاتے ہیں تو پھر طلبا کا استعمال کرتے ہیں۔ وزارت اقلیتی امور کے بیورو کریٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بیورو کریٹ کا رویہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ ریاستی یونیورسٹی میں نافذ ہونے والی ہر ایک اسکیموں کو بنگال میں نافذ ہونے میں تاخیر کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے صحت اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دیگر یونیورسٹیوں میں نافذ ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں مگراب تک عالیہ یونیورسٹی میں صحیح سے نافذ نہیں ہوا ہے۔

پروفیسر مزید کہتے ہیں کہ عالیہ یونیورسٹی جن مقاصد کے تحت قائم کیا گیا تھا وہ مقاصد سے دور ہوتا جارہا ہے۔ یونیورسٹی میں قابل اساتذہ کی قدر نہیں ہے۔ چاپلوسوں کا بول بالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی اور بالخصوص مسلم لیڈران کا اس پورے مسئلے پر خاموشی افسوسناک ہے۔

رپورٹ کے طویل ہونے کی وجہ سے دیگر نکات کو بعد میں شائع کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین