مرشدآباد کے ایک گاؤں کا 9سالہ عارف شیخ نے یونان میں منعقد 24ویں اولمپیا انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بہترین چائلڈ اداکارکا ایوارڈ حاصل کیا

0
180

مرشدآباد(فرحانہ فردوس)
مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے نو سالہ عارف شیخ نے یونان میں منعقد 24ویں اولمپیا انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بہترین چائلڈ اداکارکا ایوارڈ حاصل کیاہے۔
پرسون چٹرجی کی تحریر کردہ اور ہدایت کاری میں بنی ”بنگالی فیچر فلم دوستوجی“(دو دوست) میں عارف نے اداکاری کی ہے۔
فلم کی ٹیم نے ٹیوٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’ہمارے ننھے ستاروں نے دل جیت لیے ہیں – عارف شیخ، دوستوجی (دو دوست) کے مرکزی کرداروں میں سے ایک ہیں۔نے 24ویں اولمپیا انٹرنیشنل فلم فیسٹیول یونان میں بہترین چائلڈ ایکٹر کا ایوارڈ جیتاہے۔
پرسون نے اپنی پہلی فیچر فلم میں مغربی بنگال کے ایک سرحدی گاؤں میں دوستی، نقصانات اور اس کی بھرپائی کو بیان کیا ہے۔اس فلم میں مرشد آباد ضلع کے ڈومکل گاؤں جو بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب اور پدماندی اس گاؤں کو بنگلہ دیش سے الگ کرتی ہے۔

111 منٹ کی یہ فلم بابری مسجد کے انہدام اور اس کے بعد ہونے والے بمبئی دھماکوں کے واقعات کو بھی دیکھا ہیؤ۔
نو سالہ بچے کا کوئی فلمی پس منظر نہیں ہے۔ عارف کے والد اینٹوں کے بھٹے پر کام کرتے ہیں اور اس کی والدہ گھریلو خاتون ہیں اور وہ اپنے خاندان میں اسکول جانے والے پہلے فرد ہیں۔

فلم ڈایریکٹر پرسون
انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے پرسون کہتے ہیں کہ”فلم دو معصوم لڑکوں کے درمیان حقیقی دوستی کو دکھاتی ہے جو بابری مسجد کے انہدام اور اس کے بعد کے بمبئی دھماکوں کے واقعات سے متاثر ہوتے ہیں۔ آٹھ سالہ پلاش (عاشق شیخ) اور صفیکل (عارف شیخ) کے درمیان دوستی ہے۔یہ دونوں بچے مذہب کے پابند ہیں اور حالات سے متاثر ہوتے ہیں۔
پرسون چٹرجی فلم کاسٹ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عاشق کو پلاش کے کردار کیلئے کاسٹ کرنے کے بعد صفیکل کے کردار کیلئے اداکار کی تلاش کررہے تھے۔ ہم نے علاقے کے ہر پرائمری اسکول کا دورہ کیا لیکن وہ نہیں مل سکا جس کی ہم تلاش کر رہے تھے۔ ایک دوپہر، جب میں کلکتہ واپس جانے کے لیے سامان باندھ رہا تھا، ایک نو سالہ بچہ غصے سے میرے دروازے پر ٹکراتا ہوا آیا۔ لڑکا عارف تھا جس کے دوست عاشق کو پلاش کے طور پر کاسٹ کیا گیا تھا۔ جس دن ہم صفیکل کے کردار کیلئے بچہ اداکار کو ڈھونڈ رہے تھے اس دن عارف سکول سے غائب تھا۔ جب عارف نے سنا کہ عاشق کو فیچر فلم کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔تو اس نے خود ہی مجھ سے ملنے کیلئے آگیا ہے۔


”جیسے ہی میں نے دروازہ کھولا، اس نے فوراً پوچھا، ‘کیا یہاں بچوں کو فلموں میں کاسٹ کیا جا رہا ہے؟’ میں نے کہا، ہاں۔ پھر اس نے کہا، ‘میں بچہ ہوں اور اداکاری کرنا چاہتا ہوں، بس اپنے ڈائریکٹر کو بلاؤ۔’ میں نے شائستگی سے اسے اندر آنے کو کہا۔ وہ بہت غصے میں تھا اور بولا، ‘میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ مجھے اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے جانا ہے، براہ کرم اپنے ڈائریکٹر کو کال کریں۔“ جب میں نے ان سے کہا کہ میں ڈائریکٹر ہوں تو اس نے کہا کہ آپ ایسے نہیں لگتے۔
ڈائریکٹر بتاتے ہیں کہ عارف کا یہ انداز مجھے پسند آگیا اور اس نے میرا دل جیت لیا اور میں نے اس کو فیچر فلم کیلئے کاسٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔