ہیروشیما پر ایٹمی حملہ : کیا دنیا میں اب بھی جوہری حملے کا خطرہ موجود ہے؟

0
112

جاپان کے شہر ناگا ساکی پر امریکہ کی طرف سے ایٹم بم گرائے جانے کی 78 ویں برسی بدھ کے روز منائی گئی ۔ اس موقعے پر شہر کے میئر شیرو سو زوکی نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ جوہری ہتھیار بنانا بند کریں ۔

ناگا ساکی کےمیئر کا کہنا تھا کہ جوہری دفاعی صلاحیت جوہری جنگ کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔ میئر سوزوکی کے اس بیان سے پہلے مئی میں ترقی یافتہ ملکوں کے گروپ نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے بارے میں ایک دستاویز کی منظوری دی تھی جس میں دفاع کے طور پر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی بات کی گئی تھی۔

ناگا ساکی کے میئر شیرو سو زوکی نے بدھ کے روز اپنے امن اعلامیے میں کہا کہ ’’اب وقت آ گیا ہے جب جوہری دفاع پر انحصار ختم کرنےکا فیصلہ کرنے کی جرات کا مظاہرہ کیا جائے ۔میئر کا کہنا ہے کہ ’’ جب تک ملک جوہری دفاع پر انحصار کرتے رہیں گے اس وقت تک دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔‘‘

مئیر سوزوکی کہتے ہیں کہ روس کے جوہری خطرے سے جوہری طاقت کے حامل دوسرے ممالک کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں پر اپنا انحصار بڑھائیں اور اپنی جوہری صلاحیتوں میں اضافہ کریں ۔تاہم روس واحد ملک نہیں ہے جو جوہری دفاع کے خطرے کی نمائندگی کرتا ہے۔

ہیرو شیما کے میئر ایٹم بم گرائے جانے کی78 ویں برسی کے موقع پر جوہری دفاع کو ’’حماقت‘‘ قرار دیتے ہیں ۔ امریکہ نے 6 اگست 1945کو پہلا ایٹم بم جاپان کے شہر ہیرو شیما پر گرایا تھا۔ اس کے نتیجے میں شہر تباہ ہو گیا اور ایک لاکھ چالیس ہزار اموات ہوئیں ۔تین روز کے بعد ناگا ساکی پر دوسرا ایٹم بم گرا یا گیا جس میں ہلاکتوں کی تعداد ستر ہزار رہی ۔ جاپان نے 15اگست کو ہتھیار ڈال دیے اور دوسری عالمی جنگ ختم ہو گئی اور اس کے ساتھ ساتھ ایشیا میں اس کی تقریبا ً نصف صدی کی جارحیت کا بھی خاتمہ ہو گیا۔


ہیرو شیما ناگاساکی پر ایٹمی دھماکے میں زندہ بچ جانےوالی ایک خاتون جون 2003 میں دھماکےکا اآنکھوں دیکھا احوال سناتے ہوئے، فائل فوٹو

9 اگست 1945کے اس روز مقامی وقت کے مطابق دن کے گیارہ بجکر دو منٹ ہوئے تھے جب جاپان کے اس جنوبی شہر پر ایٹم بم کا حملہ ہوا ۔ یہی وقت تھا جب تقریب کے شرکا نے ایک لمحے کی خاموشی اختیار کی اور امن کی گھنٹی کی آواز سنائی دی۔

میئر سوزوکی نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس المیے کو فراموش کیا جا رہا ہے اور اس کی یاد دھندلا رہی ہے۔ اس حملے سے بچ جانے والوں نے تخفیف اسلحہ کے عمل کی سست رفتاری پر پریشانی کا اظہار کیاجبکہ دنیا ایٹمی بمباری کی حقیقت اور ان پر بیتنے والی اذیت ابھی بھی پوری طرح محسوس نہیں کر پائی ۔

اس تشویش کا اظہار ’باربن ھائیمر‘ اور ’اوپنہائیمر‘ فلموں سے متعلق سوشل میڈیا کی پوسٹس پر سامنے آنے والے ردعمل کے بعد کیا گیا۔ سوشل میڈیا کی پوسٹس پر اس ردعمل سے جاپان میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔جے۔رابرٹ ہائیمر نے ایٹم بم کی تیاری میں مدد دی تھی ۔ اوپن ہائیمر کی سوانح عمری اور ’باربی‘ کے امتزاج کے بعد متعدد میمز بنیں۔ان میں ’مشروم کلاؤڈز‘ بھی شامل تھے ۔ اس جنون کو ناگا ساکی اور ہیروشیما پر بمباری کے اذیت ناک اثرات کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔

میئر سوزوکی کے والدین ناگا ساکی پر کیے گئے ایٹمی حملے سے بچ جانے والوں میں سے ہیں اور میئر کا کہنا ہے کہ ایٹمی بمباری کی حقیقت جاننا ہی جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے حصول کا نکتہ آغاز ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بچ جانے والوں کی شہادتیں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف درست دفاع ہے۔

جاپان کے وزیر اعظم فومیو کیشیدا نے ذاتی طور پر اس تقریب میں شرکت نہیں کی لیکن اپنے وڈیو پیغام میں یہ تسلیم کیا کہ بڑھتی کشیدگیوں اور تنازعات کی وجہ سے دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی راہ دشوار ہو چکی ہے۔ اس میں یوکرین کے خلاف روس کی جنگ بھی شامل ہے۔ پھربین الاقوامی برادری بھی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی تحریک کے بارے میں اختلاف رائے کا شکار ہے۔

وزیر اعظم کیشیدا جاپان کی پارلیمان میں ہیروشیما کی نمائندگی کرتے ہیں ۔انہوں نے جوہری تخفیف اسلحہ کے لیے جی سیون ملکوں کے عزم کی جانب توجہ دلائی لیکن انہوں نے اس وقت ایٹمی بمباری کے متاثرین کو ناراض کر دیا جب انہوں نےدفاعی مقاصد کیلئے جوہری ہتھیاروں کی ملکیت کا ذکر کیا اور جوہری ہتھیاروں کی ممانعت کرنے والے معاہدے پر دستخط سے انکار ہے۔

مئیر سوزوکی نےکیشیدا حکومت اور قانون سازوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس معاہدے پر دستخط کریں اور اس کی تصدیق کریں اور آئندہ ہونے والی ملاقات میں ایک مبصر کے طور پر شرکت کریں تاکہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے جاپان کے عزم کو واضح طور پر سامنے لایا جائے۔

واشنگٹن کا حلیف ہونے کی وجہ سے جاپان امریکہ کے جوہری دفاع کے دائرے میں ہے اور چین اور شمالی کوریا کی جانب سے لاحق خطروں سے نمٹنے کے لیے مزید تحفظ کا خواہاں ہے۔ کیشیدا کی حکومت قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی کے تحت فوجی قوت میں اضافے پر زور دے رہی ہے اور حملہ کرنے کی صلاحیت کے حصول پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

جاپان کی صحت اور بہبود کی وزارت نے ایٹمی حملوں سے بچ جانے والوں کی تعداد اس سال مارچ تک ایک لاکھ تیرا ہزار چھ سو انچاس 113,649بتائی ہے۔ ان کی اوسط عمریں پچاسی برس ہیں اور انہیں ’ہیباکشا‘ کہا جاتا ہے اور وہ سرکاری طبی امداد کے حقداربھی ہیں ۔ان میں سے متعدد افراد جو نامزدعلاقوں سے باہر کےسمجھے جاتے ہیں وہ اب تک اس امداد سے محروم ہیں ۔