جادو پور یونیورسٹی کے طالب علم کی مشتبہ موت۔

یونیورسٹی انتظامیہ سوالوں کی زد میں۔اہل خانہ نے خودکشی کے دعوئوں کو خارج کیا۔ریکنگ کا خدشہ۔۔

0
144

جادو پور یونیورسٹی میں بنگلہ شعبہ میں زیر تعلیم ایک طالب علم سوپندیپ کی ہاسٹل میں مشتبہ حالت میں موت ہوگئی ہے۔اس کے بعد سے ہی یونیورسٹی انتظامیہ سوالوں کی زد میں ہے۔اہل خانہ جہاں الزامات لگارہے ہیں وہیں طلبا تنظیم اور کئی اساتذہ نے بھی یونیورسٹی انتظامیہ کی لاپرواہی پرالزامات لگائے ہیں ۔

پولس نے جانچ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی کے مرکزی ہاسٹل کےاےبلاک کی تیسری منزل کی بالکونی سے گرنے کے بعد طالب علم کی موت ہوگئی ہے۔ متوفی کا نام سوپندیپ کنڈو (18) ہے۔ وہ شعبہ بنگل کے سال اول کے طالب علم تھے۔ سوپن دیپ یا ضلع کے ہنس کھالی کے بوگولا علاقے کا رہنے والا ہے

شعبہ بنگلہ کی سال اول کی کلاسز بدھ سے شروع ہوگئی ہی۔ سوپن دیپ نے کلاس میں شرکت کی۔ اس نے اپنے والد اور چچا کو بتایا کہ اسے ڈیپارٹمنٹ میں کلاسیں لینے میں مزہ آرہا ہے۔
مہلوک طالب علم کے چچا اروپ کنڈونے بتایا ہے کاس نے بدھ کی رات بھی اپنی ماں کو فون کیا۔ کہا، طبیعت ٹھیک نہیں۔ بہت ڈرلگ رہا ہے ۔اس نے اپنی ماں سے کہا کہ جلد سے جلد آکر لے جائیں ۔چچا نے کہا کہ ریکنگ کی وجہ سے ان کے بھتیجے کی موت ہوئی ہے۔ اروپ نے جادو پور پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی۔ انہوں نے یونیورسٹی میں بھی شکایت درج کرائی ہے شکایت کی بنیاد پر یونیورسٹی انتظامیہ نے جادو پور پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے اس نے اپنی کمیٹی بنائی۔ بائیں بازو کی طلبہ تنظیم ایس ایف آئی نے انتظامیہ پر سوالات کھڑے کئے ہیں۔

پولس نے شک ظاہر کیا ہے کہ سوپندیپ نے خودکشی کی ہوگی۔تاہم چچا نے خودکشی کی قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نے کل رات بھی اپنی والدہ سے بات کی ہے۔ اس نے خودکشی نہیں کی۔ ایک اچھا لڑکا اچانک کیسے مر جاتا ہے۔ وہ پاگل نہیں ہے۔تو کیا سوپندیپ کے گھر والوں کو پراسرار موت کے پیچھے کوی ئشک ہے؟ اروپ نے کہاکہ ’’شبہات ہیں۔ ڈاکٹر نے ایک کاغذ پر دستخط کر دیئے۔ اس میں کہا گیا ہے، سوپندیپ کے جسم پر چوٹ کے نشانات ہیں۔ رگنگ ضرور ہوئی ہوگی۔ اروپ نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف کوئی شکایت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوپندیپ کو جادھو پور یونیورسٹی میں بنگالی میں گریجویشن کلاس کرنا پسند تھا۔ وہ پیر کو بھی کلاس میں گیا۔ اس نے اپنے والد کو فون کیا اور کہا کہ اسے کلاس بہت پسند ہے۔ پھر گھر والوں کو ہاسٹل میں کسی پر شک ہے؟ اروپ نے کہا کہ سوپندیپ کو ہاسٹل میں اپنا کمرہ نہیں ملا۔ ایک اور دوست کے گھر ٹھہرا ہوا تھا۔
ہاسٹل کے دیگر طلباء نے دعویٰ کیا کہ بدھ کی رات تقریباً11.45بجے انہوں نے کچھ بھاری آواز سنی۔ وہ کمرے سے باہر آئے اور دیکھا کہ سوپندیپ خون آلود حالت میں ہے۔ اسے فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ جمعرات کی صبح تقریباً 4.30بجے ان کا انتقال ہوگیا۔ یہ خبر پولیس ذرائع نے دی ہے۔ اس کے بعد اروپ نے جمعرات کو یونیورسٹی انتظامیہ کو خط لکھ کر اس واقعہ کی تحقیقات کی مانگ کی۔
اروپ کی شکایت کے بعد جادوپور یونیورسٹی کی انتظامیہ نے جادوپور پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ موت کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ اس میں یونیورسٹی کے اساتذہ بھی شامل ہیں۔ ڈیموکریٹک ادھیکار رکھشا سمیتی (اے پی ڈی آر) نے موت کے لیے اچاریہ کے ساتھ ساتھ گورنر اور ریاستی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
یونیورسٹی کے اساتذہ کا ایک طبقہ بھی اسے قدرتی موت کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتا۔ بنگلہ ڈپارٹمنٹ کے استاد راجیشور سنہا نے کہاکہ’یہ موت چونکا دینے والی ہے۔ یونیورسٹی کو اس معاملے کو ریگنگ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنی چاہیے۔ سوپندیپ خود محبت سے بنگالی پڑھنے آئے تھے۔ اسے پڑھنا پسند تھا۔ اس نے اپنے والد کو خود بتایا۔ اس کے بعد یہ کیسے ہوا؟
جادوپور یونیورسٹی کے تقابلی ادب کے پروفیسر کنال چٹوپادھیائے کے بیان نے بھی تنازعہ کو ہوا دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سوپندیپ کی موت ریگنگ کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ایک فیس بک پوسٹ میں، انہوں نے لکھا، “تھوڑی دیر پہلے ریگنگ کی وجہ سے فرسٹ ایئر کی ایک طالب علم کی موت ہوگئی ہے۔

جمعرات کی صبح سٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے جاری پریس بیان میں کہا گیا کہ رات کو جادو پور یونیورسٹی کے بنگالی شعبہ کے سال اول کے طالب علم نے خودکشی کر لی۔ ہمیں اس واقعہ سے شدید دکھ ہوا ہے۔ جادوپور یونیورسٹی کیمپس میں اس سے پہلے بھی کئی بار ریگنگ جیسے واقعات ہوچکے ہیں، اس کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ روک تھام سے گریز کرتی رہی ہے۔انہیں جواب دینا ہوگا کہ طلبہ کی حفاظت کے لیے پہل کیوں نہیں کی گئی۔ ہاسٹل سپر نڈنٹ کی موجودگی کے باوجود یہ کیسے ہوا، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی شفاف اور تیز تر تحقیقات کی جائیں اور تمام طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ جب تک لڑکے کی موت کے ذمہ داروں کو سزا دینے کے لیے مناسب کارروائی نہیں کی جاتی، ہماری تحریک جاری رہے گی۔