ملک کی محض 38فیصد آبادی میڈیا پر بھروسہ کرتی ہے۔لیپ ڈاگ میڈیا صحافت اور جمہوریت کا گلا گھونٹ رہی ہے۔

0
139

نور اللہ جاوید

اگر یہ سوال کیا جائے کہ مہذب معاشرے میں شادی شدہ چار بچوں کی ماں کا اپنے سے کم عمر لڑکے کے دام محبت میں گرفتار ہو کر شوہر کو چھوڑ کر گھر سے فرار ہو جانا کیسا ہے؟ تو ہر شخص کا یہی جواب ہو گا کہ یہ بیہودگی بے وفائی ہے اور ہوس ہے لہٰذا یہ برداشت کے قابل نہیں۔ پہلے شوہر سے طلاق لیے بغیر اپنے محبوب کے ساتھ زندگی گزارنے کی خواہش محبت نہیں بلکہ آوارگی ہے۔ اگر اس طرح کے فعل کی پذیرائی کی گئی تو سماجی تانے بانے بکھر کر رہ جائیں گے۔ مگر اپنے سے کئی سال کم عمر لڑکا جس سے رابطہ آن لائن کھیل کے ذریعہ سے ہوا تھا اس کی محبت میں پاکستان سے آنے والی ایک مشکوک خاتون کی میڈیا پر جس طریقے سے پذیرائی ہو رہی ہے وہ نہ صرف بھارتی میڈیا کی گرتی ہوئی ساکھ اور اس کے وقار پر سوالیہ نشان ہے بلکہ یہاں کی تہذیب و تمدن اور معاشرتی اقدار بھی زد میں ہیں۔ چونکہ خاتون کا تعلق اسلام اور پاکستان سے ہے اس لیے اس کے حیا باختہ عمل پر تحسین کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں۔ اگر خاتون کا تعلق کسی اور مذہب سے ہوتا اور لڑکا مسلم ہوتا تو کیا ایسی صورت میں بھی ملک کے نام نہاد قومی میڈیا کا کردار یہی ہوتا؟ مذہبی تعصب میں کئی ایسے بنیادی سوالات کو جن کا تعلق قومی سلامتی سے ہے، نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک خاتون بغیر کسی سفری دستاویز کے ملک میں کیسے آگئی؟ اسے یہاں پہنچانے والے کون ہیں؟ کہیں وہ کسی خفیہ ایجنسی کی کارکن تو نہیں ہے؟

اسی طرح لا کمیشن کے ذریعہ یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ پر ملک کے شہریوں سے رائے طلب کیے جانے کے بعد مسلمانوں کے خلاف میڈیا پر مورچہ کھول کر یہ تاثر دیا جا رہا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔عوام کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ صرف مسلمان ہی یکساں سول کوڈ کے خلاف ہیں۔ ”ایک ملک ایک قانون“ جیسے پر فریب نعرے کو ملک کے تمام مسائل کے لیے تریاق بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ یکساں سول کوڈ ایک اہم اور حساس موضوع ہے، اس کا تعلق ملک میں یکجہتی، تنوع اور اتحاد سے ہے۔ یہ اس قدر حساس ہے کہ ملک کے آئین سازوں نے اس کا بوجھ طویل بحث و مباحثہ کے بعد خود اپنے اوپر نہ لے کر آنے والی نسلوں کے کندھوں پر ڈال دیا۔ جس ایشو کو گزشتہ ستر سالوں میں حل نہیں کیا جا سکا کیا وہ ٹی وی نیوز چینلوں کے اشتعال انگیز، غیر سنجیدہ اور نیم خواندہ دانشوروں کے جاہلانہ مباحثوں کے ذریعہ حل ہو سکتا ہے؟ظاہر ہے کہ ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے، پھر سوال یہ ہے کہ آخر میڈیا کے اس رویے کو سماجی پذیرائی کیوں حاصل ہو رہی ہے؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ میڈیا میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہ عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر ان دعوؤں کا ”رائٹرز انسٹیٹیوٹ ڈیجیٹل نیوز“ کی ہر سال آنے والی رپورٹ کے تناظر میں تجزیہ کیا جائے تو جو حقائق ہمارے سامنے آتے ہیں وہ ان دعوؤں کی قلعی کھولتے ہیں۔رائٹرز انسٹیٹیوٹ ڈیجیٹل نیوز کی رپورٹ 2023 کے مطابق بھارتی میڈیا اعتماد اور بھروسے کے بحران سے گزر رہا ہے۔ ”انڈین ایکسپریس“ کے ادارتی صفحہ پر رائٹرز انسٹیٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف جرنلزم کے ڈائریکٹر اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے پولیٹیکل کمیونیکیشن کے پروفیسر راسمس کلیس نیلسن نے اس پوری رپورٹ پر اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارت کے نیوز چینلس اور ویب سائٹس اس قدر بحران کا شکار ہیں کہ صرف اٹھارہ فیصد لوگ ہی براہ راست نیوز پبلشرز کی ویب سائٹس یا ایپس پر آن لائن خبریں دیکھتے ہیں۔ بھارتی میڈیا کو صرف اپنے قارئین اور ناظرین کی طرف سے اعتماد اور بھروسے کا بحران نہیں ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ بھارت کے عوام میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔

رائٹرز انسٹیٹیوٹ ڈیجیٹل نیوز کی رپورٹ 2023
جون 2023 میں جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے عوام کی خبروں میں دلچسپی کم ہونے کے ساتھ ساتھ اعتماد میں بھی کمی آتی جارہی ہے، اسی کے ساتھ میڈیا مالی بحران سے بھی گز رہا ہے۔ اس لحاط سے بھارتی میڈیا اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ صحافیوں کی سلامتی کے چیلنجز کے علاوہ اسے غیر ضروری سیاسی اثر و رسوخ کا بھی سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف اڑتیس فیصد بھارتی ہی زیادہ تر خبروں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں فن لینڈ میں پینسٹھ فیصد، تھائی لینڈ میں پچاس فیصد، برازیل میں چوون فیصد اور کینیا میں اکسٹھ فیصد عوام خبروں پر اعتماد کرتے ہیں۔ بھارت میں میڈیا کو ستر فیصد اشتہارات اور تیس فیصد قارئین کے سبسکرپشنز سے آمدنی ہوتی ہے۔ اعتماد میں کمی کی وجہ میڈیا میں شہری اور دیہی علاقوں سے متعلق کوریج میں تفاوت اور تعصب کو قرار دیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آزادانہ صحافت اور حکومتوں پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو دھمکیوں، آن لائن ہراسانی اور قانونی الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وزیر اعظم مودی پر دستاویزی فلم کی ریلیز کے بعد فروری میں دہلی اور ممبئی میں بی سی سی کے دفاتر پر چھاپوں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں غیر ملکی میڈیا بھی متاثر ہے۔ آن لائن خبروں تک رسائی میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی ہے، گزشتہ سال کے مقابلے بارہ فیصد پوائنٹس کی کمی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف اڑتیس فیصد عوام میڈیا پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ روایتی نیوز چینلوں کے مقابلے میں عوام سرکاری نیوز چینل ڈی ڈی اے، آل انڈیا ریڈیو اور بی بی سی کی خبروں پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔اگرچہ روایتی اور قومی میڈیا کی طرح ڈیجیٹل میڈیا مقبول نہیں ہے مگر وہ تیزی سے قارئین کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا میں قابل بھروسہ ویب سائٹس ”دی وائر“ میٹا پر رپورٹٹنگ تنازع کے بعد اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ سالانہ برانڈ ٹرسٹ ریٹنگ کے مطابق دی وائر نے سامعین کا اعتماد کھو دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ٹی قوانین میں ترمیم اور سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے حکومت کے عزائم نے آزادی اظہار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ رپورٹ میں جہاں این ڈی ٹی وی پر اڈانی کے کنٹرول پر تفصیل سے بات کی گئی ہے وہیں اس خوش کن نوٹ کے ساتھ رپورٹ کا اختتام ہوتا ہے کہ ملیالم چینل ”میڈیا ون“ جسے حکومت نے پر قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے پابندی عائد کر دی تھی، سپریم کورٹ نے قومی سلامتی کے آڑ میں پریس کی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش قرار دے کر رد کر دیا اور چینل کو اپنی نشریات جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔
ماہرین تعلیم باب فرینکلن، مارٹن ہیمر، میری کنسی اور ان کے ساتھیوں نے دنیا بھر کے میڈیا کا تجزیہ کرتے ہوئے ”لیپ ڈاگ“ کا نظریہ وضع کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ صحافی کا اصل کردار واچ ڈاگ ہے۔ عوام کی ضروریات اور تقاضوں کا تجزیہ اور حکومت کی کارکردگی کو غیر جانب دارانہ طریقے سے پیش کرنا صحافی کا بنیادی کام ہوتا ہے، مگر آج کی صحافت ’لیپ ڈاگ‘ بن گئی ہے یعنی سماجی، سیاسی اشرافیہ کے ایجنڈے کی حمایت اور استحصالی اور سماجی عدم مساوات کی طرف داری ہی اس صحافت کی پہچان ہوگئی ہے۔ ماہرین نے لکھا ہے ”لیپ ڈاگ صحافت کے تین بنیادی طریقے کار ہیں۔ پہلا: خبروں اور معلومات کے لیے حکومت، کارپوریٹ اور طاقتور اشرافیہ کے ذریعہ فراہم کی جانے والی معلومات پر انحصار کرنا۔ دوسرا: ’لیپ ڈاگ صحافی‘ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے طبقات کے نقطہ نظر کو نہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور نہ ان کو اہمیت دیتا ہے۔ تیسرا، میڈیا رپورٹنگ پر مبنی ہونے کے بجائے زیادہ تر استدلال پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے سیاسی تعصب اور کارپوریٹ اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کارفرما ہوتی ہے۔ اگر لیپ ڈاگ کے اصطلاح کو بھارت کے تناظر میں دیکھا جائے تو آج بھارت کی قومی صحافت اسی طریقہ کار پر رواں دواں ہے۔ ’لیپ ڈاگ میڈیا‘ کا دیسی ترجمہ ’گودی میڈیا‘ ہے جیسا کہ ان دنوں ’گودی میڈیا‘ کی اصطلاح اب زبان زد خاص وعام ہو چکی ہے۔ اسے تھوڑا مہذب پیرایہ دیں تو ’درباری میڈیا‘ کا نام دیا جاسکتا ہے۔ غرض گودی میڈیا کہیں یا درباری میڈیا اس میڈیا نے اپنی خبروں اور نشریات کے وہی طریقے اپنائے ہیں جو ’لیپ ڈاگ میڈیا‘ کے طریقے ہوتے ہیں۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کے نقطہ نظر کو سمجھنے اور انہیں اپنی بات کہنے کا موقع دینے کے بجائے ’گودی میڈیا‘ زرعی بلز کا پر زور حامی بن گیا تھا۔ اسی طرح شہریت ترمیمی بل اور این آر سی کے تعلق سے بھی حکومت کے ذریعہ فراہم کردہ دلائل کو ہی میڈیا نے حقیقت کے طور پر پیش کیا اور ان بلز کی مخالفت کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ اسی طرح 2019 میں پلوامہ میں بی ایس ایف جوانوں پر دہشت گردوں پر حملے کے بعد میڈیا کا انحصار مکمل طور پر حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات پر ہی موقوف ہو گیا تھا۔

’لیپ ڈاگ میڈیا‘ اور جمہوریت
میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمہوریت کے استحکام کو بخشنے میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ جمہوریت مخالف قوتوں اور آمروں کے سامنے سینہ سپر ہو کر میڈیا نے جمہوریت کو قوت عطا کی ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں میڈیا کا جو نیا روپ سامنے آیا ہے کیا اس روپ میں بھی بھارتی میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون کہلانے کے لائق ہے اور میڈیا کے بدلتے ہوئے اس کردار کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا میڈیا کی آزادی کی راہ میں کارپوریٹائزیشن رکاوٹ ہے؟ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف محب الحق کہتے ہیں کہ بھارت کا یہ میڈیا کسی بھی صورت میں جمہوریت کا چوتھا ستون نہیں کہلایا جا سکتا بلکہ الٹا یہ جمہوریت کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ شہریوں کے درمیان ہم آہنگی پید کرنے بجائے اقلیت اور اکثریت کے درمیان دوری اور نفرت پھیلانے میں بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ہمارا ملک ہر روز مختلف برادریوں کے درمیان ایک دوسرے کے ساتھ محبت، ہمدردی اور حسن سلوک کا مظاہرہ دیکھتا ہے۔ اسی کے ساتھ یہاں فرقہ وارانہ اور مختلف ذاتوں کے درمیان جھگڑے بھی ہوتے ہیں۔ نفرت انگیز کہانیوں کے بل پر پروان چڑھنے والے ٹی وی چینلز مسلمانوں کے تنازعات اور جرائم کے واقعات کو اٹھاتے ہیں اور پوری مسلم کمیونٹی کو شیطان بنا کر پیش کرتے ہیں۔ پرائم ٹائم ٹی وی مباحثوں کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ دائیں بازو کی نظر میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے ٹی وی اینکرز نے نفرت اور غصہ پیدا کرنے کے فن میں مہارت حاصل کرلی ہے۔ پرائم ٹائم مباحثوں میں قدرتی انصاف کے عالمی طور پر تسلیم شدہ اصول کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ عالمی انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو اس وقت تک بے گناہ سمجھا جائے گا جب تک اس کے خلاف جرم ثابت نہ ہو جائے۔ ہمارے ملک میں چیخنے چلانے والے ٹی وی اینکرز نے استغاثہ اور منصف دونوں کا منصب سنبھال لیا ہے۔ وہ مقدمات کی اطلاع نہیں دیتے لیکن کسی ملزم یا مشتبہ شخص کے خلاف فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ وہ ایک کمیونٹی کے خلاف نفرت پر مبنی قومی ضمیر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جس کے تحت انکاؤنٹر اور ماورائے عدالت قتل کو جائز اور بے قصور مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلانے والے لیڈر کو بہادر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ محب الحق کہتے ہیں کہ دراصل بھارتی میڈیا سماجی ساخت کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔ درج فہرست ذاتیں، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کی نمائندگی آبادی کے اعتبار سے انتہائی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام سے متعلق حقیقی مسائل جیسے غربت، بے روزگاری، نجکاری، بدعنوانی اور اجتماعی تشدد جیسے مسائل پرائم ٹائم مباحثوں میں جگہ نہیں پاتے ہیں۔ میڈیا میں فرقہ وارانہ اور ذات پات کا تعصب ایک کھلا ہوا راز ہے۔ میڈیا معاشرے کی حقیقتوں کی عکاسی نہیں کرتا لیکن یہ جو بیانیہ بناتا ہے اور جس طریقے سے یہ لوگوں کے ذہنوں کو آلودہ کر رہا ہے اس سے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ اس قسم کا متعصب، فرقہ وارانہ، ذات پرستی اور ’کارپوریٹائزڈ میڈیا‘ جمہوریت کا چوتھا ستون نہیں ہو سکتا بلکہ اس کو ”سپاری میڈیا“ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔

میڈیا کا ملکیت ارتکاز خطرناک کیوں ہے؟
میڈیا پر کارپوریٹس کی اجارہ داری اور آزادی صحافت کے متعلق اس وقت دنیا بھر میں گفتگوئیں ہو رہی ہے کہ ملکیت کا ارتکاز پیشہ وارانہ صحافت کے لیے کس قدر مفید ہے یا پھر یہ آزاد، غیر جانب دار اور معروضیت پر مبنی صحافت کی راہ میں رکاوٹ ہے؟ امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار کا انتخاب لڑنے والے، بائیں بازو کے خیالات کے حامل مشہور سیاسی لیڈر برنی سینڈرز نے 2017 میں امریکی میڈیا کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ملک کی صرف چھ کمپنیاں امریکہ کی نوے فیصد میڈیا کو کنٹرول کر رہی ہیں۔ برطانیہ میں ”میڈیا ریفارم کولیشن“ نے متنبہ کیا کہ میڈیا کے شعبے میں ”مرتکز ملکیت“ کسی بھی جمہوریت کے لیے خطرات پیدا کرسکتی ہے۔ اس وقت برطانیہ کے قومی اخبار کی مارکیٹ کے نوے فیصد پر تین کمپنیوں کا غلبہ ہے۔ اٹلی میں ہولڈنگ کمپنی Fininvest جو سابق وزیر اعظم سلویو برلسکونی کے خاندان کے زیر کنٹرول ہے، ملک کے تینوں اہم ٹی وی چینلوں کے ساتھ ساتھ اخبارات اور کتابوں کے لیے ملک کے سب سے بڑے پبلشر کے مالک ہیں۔ میڈیا میں ملکیت کے ارتکاز کو روکنے کے لیے کئی ترقی یافتہ ممالک ریگولیٹری اقدامات کر رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ جرمن میں کوئی بھی کمپنی نیوز چینل کے تیس فیصد سے زائد حصص کی مالک نہیں ہوسکتی ہے۔ 1990 کی دہائی میں ملک کے معاشی عروج کے ساتھ ہی میڈیا تیزی سے ترقی کرنے والی صنعت بن گئی۔ اس وقت امید لگائی جا رہی ہے کہ 2021 میں میڈیا کی مارکیٹ کا حجم 21.5 امریکی ڈالر تھا اور اگلے تین سالوں میں چوون امریکی بلین ڈالر ہوجائے گی۔ یہ دیکھنا کافی اہم ہے کہ اس میں نیوز چینلوں اور قومی اخبارات کا مارکیٹ حجم کتنا ہے، کیونکہ جب میڈیا کی بات آتی ہے تو اس میں نیوز چینلوں کے ساتھ ساتھ انٹرٹینمنٹ چینلوں کو بھی شمار کیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں سے بھارت میں نیوز چینلوں پر چند مخصوص کارپوریٹس کی حصہ داری یا کنٹرول بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک دہائی قبل ریلائنس انڈسٹریز جو آمدنی کے لحاظ سے ہندوستان کی سب سے بڑی کمپنی ہے، میڈیا کے شعبے میں داخل ہو کر اس کا آغاز کیا تھا اور اب این ڈی ٹی وی پر اڈانی گروپ کے کنٹرول کے ساتھ ہی میڈیا کا کارپوریٹائزیشن شباب پر پہنچ گیا ہے۔ اوڈیشہ ٹی وی بیجیانت پانڈا کے خاندان کی ملکیت ہے، جو بی جے پی کے قومی نائب صدر اور ترجمان ہیں۔ نیوز لائیو، بھارت کے شمال مشرق میں سب سے زیادہ مقبول ٹی وی چینلز میں سے ایک، رینیکی بھویان سرما کی ملکیت ہے، جو شمال مشرقی ریاست آسام کے بی جے پی کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی پتنی ہیں۔ دراصل 2011 میں پارلیمنٹ نے کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس (ریگولیشن) ترمیمی بل منظور کیا جس کے تحت تین سالوں میں ملک بھر میں کیبل ٹیلی ویژن کے ڈیجیٹلائزیشن کو لازمی قرار دیا گیا۔ نیویارک یونیورسٹی میں میڈیا اسٹڈیز کے پروفیسر اروند راج گوپال کہتے ہیں کہ اس بل نے موثر طریقے سے میڈیا پر کارپوریٹ کنٹرول کی راہ ہموار کی ہے۔

غیر منافع بخش تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی سالانہ رپورٹ جو دنیا بھر میں پریس کی آزادی کا تجزیہ کرنے کے ساتھ درجہ بندی کرتی ہے، 2023 میں پریس فریڈم انڈیکس نے ہندوستان کو 180 ممالک میں سے 150ویں نمبر پر رکھا ہے۔ یہ بات ذہن نشیں رہے کہ 2002 میں پہلی مرتبہ جب فریڈم انڈیکس کی رپورٹ جاری ہوئی تو اس وقت بھارت، پریس کی آزادی کے معاملے میں 180 ممالک میں 80ویں پوزیشن پر تھا اور گزشتہ دو دہائی میں 150ویں پوزیشن پر پہنچ گیا ہے۔ انڈیکس نے بھارت میں آزادی صحافت میں مسلسل گراوٹ کے اسباب کا تجزیہ کرتے ہوئے تین اہم عوامل کی نشان دہی کی ہے۔ پہلی یہ کہ بھارت میں میڈیا، سیاست کے کنٹرول میں ہے۔ دوسری، صحافیوں کی حفاظت کے لیے قانون کی خامیاں اور تیسری، میڈیا کی ملکیت کا ارتکاز ہے۔ اس وقت بھارت کے کئی میڈیا ہاؤسیس میں کول مائنس کمپنیوں کی بڑی حصہ داری ہے۔ کیا اس صورت میں میڈیا سے امید کی جاسکتی ہے وہ کول مائنس میں ہونے والی بدعنوانی کی نشان دہی کر سکتے ہیں؟ چند سال قبل ممبئی میں ہونے والے ایک سڑک حادثے میں امبانی کے بیٹے کا نام آیا مگر یہ خبر تھوڑی دیر میں ہی میڈیا سے غائب ہوگئی۔ اڈانی گروپ کے مالی لین دین اور سالانہ ٹرن آؤٹ پر ہنڈنبرگ کی رپورٹ قومی میڈیا سے غائب رہی۔ اگر مضبوط سوشل میڈیا نہیں ہوتا تو شاید یہ پورا گھوٹالہ منظر نامے سے ہی غائب ہو جاتا۔ کورونا وبا کے بعد بھارت کی معیشت ابھی تک سنبھل نہیں پائی ہے، چونکہ میڈیا کی آمدنی کا انحصار مصنوعات کے اشتہارات پر ہے، اور اس وقت کمپنیوں نے اپنی مصنوعات کے اشتہارات کی تعداد میں کمی کر دی ہے۔ ایسے میں میڈیا کا معاشی بحران سے گزرنا لازمی بات ہے۔ انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے سابق ایڈیٹر شیکھر گپتا نے اپنے ایک مضمون میں میڈیا کی آمدنی کے ماڈل پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ اس وقت بیشتر انگریزی نیوز چینلس خسارے میں ہیں۔ ان کے ناظرین کی تعداد بھی انتہائی کم ہے۔ اس کے باوجود انگریزی صحافت سب سے زیادہ با اثر ہے۔ کارپوریٹ کمپنیوں کے اشتہارات کم ہو رہے ہیں تو نیوز چینلوں اور اخبارات کا انحصار سرکاری اشتہارات پر بڑھتا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ حکومت اس صورت حال کا فائدہ اٹھائے گی۔ کارپوریٹ کمپنیوں کے اپنے مالی مفادات اور تحفظات ہوتے ہیں۔ مشہور انگریزی میگزین ”کاروان“ کے ایڈیٹر نے این ڈی وی کے اڈانی کی زیر ملکیت آنے پر ایک تفصیلی رپورٹ Private Interest Journalism کے عنوان سے لکھا جس میں انہوں نے میڈیا کی بدعنوانیوں کو اجاگر کیا ہے۔ چونکہ اس مضمون کے کسی بھی حصے کو شائع کرنے کی ممانعت ہے اس لیے صرف حوالے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی کنٹرول کرنے کے حکومت کے عزائم
”رائٹرز انسٹیٹیوٹ ڈیجیٹل نیوز“ کی رپورٹ میں نشان دہی کی گئی ہے کہ میڈیا کے بجائے نوجوانوں کا رجحان یوٹیوب، انسٹا گرام اور دیگر سوشل میڈیا کی طرف ہوا ہے۔ آج معلومات کا سب سے اہم ذریعہ سوشل میڈیا ہوگیا ہے بلکہ سوشل میڈیا پر چلنے والے ٹرینڈز کی وجہ سے ہی نیوز چینل اپنی نشریات اور مباحثے کے عنوانات طے کرتے ہیں۔ چونکہ نیوز روم میں ایڈیٹر کی آزادی سلب ہوگئی ہے اور مالک ہی طے کرتا ہے کہ کس نیوز کو شائع کرنا ہے اور کس خبر کو غیر اہم بنا کر پیش کرنا ہے، اس کی وجہ سے ملک کے کئی نامور صحافی جو آزاد صحافت کے علم بردار ہیں وہ سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنی صحافت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں ساکشی جوشی، اجیت انجم، رویش کمار ابھیسار شرما، پرسون واجپائی جیسے صحافی شامل ہیں۔ڈیجیٹل میڈیا دی وائر کی کئی رپورٹس حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بن چکی ہیں اس لیے مودی حکومت نے سوشل میڈیا پر کنٹرول کرنے کے لیے سخت قوانین متعارف کروانا شروع کر دیا ہے۔ یوٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، ٹیلی گرام اور وہاٹس ایپ کمپنیوں کے لیے بھارت ایک بڑی مارکیٹ ہے اور ان کمپنیوں کا انحصار پر بھی اشتہارات پر ہے۔ گزشتہ سال ان تمام کمپنیوں نے حکومت کی شرائط کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ ٹوئٹر نے معمولی مزاحمت کا مظاہرہ کیا تھا مگر آخر کار وہ بھی ہتھیار ڈال گیا۔ ایسے میں یہ سوال لازمی ہے کہ سوشل میڈیا پر آزاد صحافت کرنے والے کب تک آزادی کے ساتھ صحافت کو جاری رکھ سکتے ہیں؟ کیونکہ ڈیجیٹل میڈیا کو قومی سلامتی کے نام پر اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے یا پھر مخصوص ویڈیوز کو روکنے کا پابند بنا دیا گیا ہے، ایسے میں کافی محنت سے اپنے سبکرائشین بڑھانے والے صحافی کے اکاؤنٹ کو کسی بھی وقت ڈیلیٹ کیا جا سکتا ہے۔ قومی میڈیا کو کنٹرول کرنے کے بعد حکومت ایک طرف سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کر رہی ہے جس کا نظارہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے دوران دیکھنے میں آیا جہاں کئی دائیں بازو کے حامی صحافیوں کو یوگی اور دیگر سینئر لیڈروں نے انٹرویو دیا جبکہ قومی میڈیا کے صحافیوں کو دس منٹ کے لیے انٹرویو کے لیے ہفتوں محنت کرنی پڑی، اور دوسری طرف آٹی ٹی ایکٹ میں تبدیلی کر کے مخالف آوازوں کو انجام تک پہنچانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس پورے منظر نامے میں سول ادارے پوری طرح خاموش ہیں۔