فلسطینی صحافی معتز عزیزہ ’ٹائم میگزین‘ کی 100 بااثر شخصیات میں شامل

0
58

معروف امریکی جریدے ’ٹائم میگزین‘ نے 25 سالہ نامور فلسطینی صحافی معتز عزیزہ کو 2024 کے 100 سب سے بااثر شخصیات کی فہرست میں شامل کرلیا جو غزہ میں جنگ کے دوران فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے اسرائیلی مظالم کے خلاف بھرپور آواز اٹھا رہے ہیں۔

ٹائم میگزین ہر سال بااثر شخصیات کی فہرست شائع کرتا ہے، جس میں دنیا بھر کی سیاسی، سماجی، شوبز، اسپورٹس، ٹیکنالوجی اور بزنس سے متعلق شخصیات سمیت دیگر شعبہ ہائے جات سے منسلک افراد کو ان کی نمایاں خدمات کی بدولت شامل کیا جاتا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 33 ہزار 899 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں اور 76 ہزار 664 زخمی ہوچکے ہیں، خیال کیا جارہا ہے کہ شہید اور زخمیوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہوسکتی ہے۔

غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ اس وقت شروع ہوئی جب 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل کے قصبے پر اچانک حملہ کردیا تھا جس میں ایک ہزار 170 اسرائیلی شہریوں سمیت فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

6 ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے دوران کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی رپورٹ کے مطابق 100 صحافی اور میڈیا ورکرز، جن میں اکثریت فلسطینیوں کی ہے، مارے جاچکے ہیں۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کا کہنا ہے کہ غزہ میں صحافیوں کو خاص طور پر شدید خطرات کا سامنا ہے کیونکہ وہ اسرائیلی زمینی حملے کے دوران غزہ میں ہونے والی تباہی کو دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔

ان سب کے درمیان معتز عزیزہ نے 100 دنوں سے زائد عرصے تک غزہ کی تباہ کاری، زخمی بچوں، خواتین، انسانی بحرانوں اور شہر کی اصل کہانی ویڈیو اور تصاویر کے ذریعے دنیا تک پہنچائی تھیں، جس کےبعد انہیں غزہ کا ہیرو بھی کہا جانے لگا۔

تاہم غزہ میں بڑھتی کشیدگی اور حفاظتی خدشات کی وجہ سے وہ انخلاء پر مجبور ہوگئے تھے، انخلا کے بعد انہوں نے غزہ کی آواز دنیا تک پہنچانے کے لیے نامور جریدوں کو انٹرویو دیا جن میں نیویارک ٹائمز، الجزیرہ وغیرہ شامل ہیں۔

ٹائم میگزین پر 2024 کی جانب سے 2024 کے 100 سب سے بااثر شخصیات کی فہرست میں شامل ہونے کے بعد معتز عزیزہ نے کہا کہ ’غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کے لیے صرف کانٹینٹ نہیں ہے، آپ کے لائکس یا ویوز یا شیئرز ہم آپ کو یہ نہیں بتا رہے ہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے، ہم آپ کے فیصلوں کا انتظار کررہے ہیں، غزہ جنگ رکنے کا انتظار کررہے ہیں۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’جو لوگ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم نہیں کرتے یا جو کہتے ہیں کہ یہ ان کی سرزمین ہے، فلسطین ایک دن صہیونیوں سے آزاد ہو جائے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں ہمیشہ فلسطین اور اپنے لوگوں کے لیے کھڑا رہوں گا اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاؤں گا۔‘

معتز عزیزہ مختصر تعارف
غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد انسٹاگرام پر معتز عزیزہ کے فالوورز میں کئی گنا اضافہ دیکھا گیا، الجزیرہ کے مطابق 7 اکتوبر سے 100 دنوں میں ان کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد تقریباً 27 ہزار 500 سے بڑھ کر 18.25 ملین ہو گئی۔

اسی طرح ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر فالوورز کی تعداد 27 ہزار سے بڑھ کر تقریباً 5 لاکھ تک ہوگئی جبکہ ایکس پر 10 لاکھ سے زائد فالوورز میں اضافہ ہوا۔

معتز عزیزی نے غزہ کے دیر البلاح پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے اور پرورش پائی، انہوں نے الازہر یونیورسٹی میں انگلش اینڈ لیٹریچر میں اپنی تعلیم مکمل کی۔

گریجویشن کے بعد مختصر عرصے کے لیے انہیں بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑا،جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی زمین اور اس کے لوگوں کا مثبت پہلو دکھانے کے لیے اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ بنایا۔

تاہم انہوں نے 2014 اور 2021 میں بھی اسرائیی جارحیت کو رپورٹ کیا۔