Friday, July 19, 2024
homeاہم خبریںمنزل کے حصول کیلئے بہت سی چیزوں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔میں...

منزل کے حصول کیلئے بہت سی چیزوں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔میں نے سوشل میڈیا اورسماجی سرگرمیوں سے خود کو الگ کرلیا تھا: یوپی ایس سی امتحان میں حاصل کرنے والی کلکتہ کی پہلی مسلم خاتون صائمہ خان

کلکتہ :شمیم حسین

اس سال یو پی ایس سی کے سول سروسز امتحان 2023 کی میرٹ لسٹ میں 50 مسلم امیدواروں نےکامیابی حاصل کی ہے۔جن میں کلکتہ کی صائمہ سراج احمد خان بھی شامل ہیں ۔
اس سال یوپی ایس سی امتحان 2023 میں مسلم امیدواروں کی کامیابی کے فیصد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ کل 1016 امیدوار وں نے اس سال یوپی ایس سی امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے جن میں 50مسلم نوجوان شامل ہیں ۔اس طرح مجموعی طور پر مسلمانوں کی کامیابی کی شرح 5فیصد ہے۔ظاہر ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے کافی بہتر ہے۔اس سے قبل 2019 میں 5.3 فیصد مسلم امیدوار سول سروسیز امتحان میں کامیاب حاصل کی تھی۔
اس سا ل کل 251 سیٹیں محفوظ تھیں۔ 765 (جنرل + او بی سی) نشستیں تھیں۔ بعض ذرائع کے مطابق مسلمانوں کی تعداد 50 ہے765 (جنرل اور او بی سی سیٹوں) میں سے 50 کوالیفائیڈ،6.53فیصد پر آتے ہیں۔یہ بات خوش آئند ہے کہ اس سال یو پی ایس سی کے نتائج میں ایک کمیونٹی کے طور پر مسلم نے3.5کی حد کو عبور کیا ہے۔تاہم آبادی کے اعتبار مسلمانوں کی کارکردگی کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔

یو پی ایس سی امتحان2023 میں یو پی کے آدتیہ سریواستو نے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر بالترتیب انیمیش پردھان اور اننیا ریڈی ہیں۔ ٹاپ 10 میں نوشین (9 واں رینک) بھی ہیں۔ ٹاپ 100 میں 5مسلم امیدوار ہیں۔ نوشین نے جنہوں نے نویں پوزیشن حاصل کی ہے، گورکھپور کی رہنے والی ہیں۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا ہے۔ اس کے بعد نوشین نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے سوشل ورک میں پوسٹ گریجویشن کیا۔ پوسٹ گریجویشن کے بعد انہوں نے سول سروسیز کی تیاری کا فیصلہ کیا اور اس کے لئے جامعہ اکیڈمی میں داخلہ لیا۔

انصاف نیوز آن لائن سے بات چیت کرتے ہوئے صائمہ خان نے کہا کہ یہ لمحہ ان کی زندگی کا بہت بڑا ہے۔ایک بڑی کامیابی کے حصول پر پورا شہر شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سفر کافی طویل تھا۔اس کےلئے انہوں نے سماجی سرگرمیوں سے خود کو الگ کرلیا اور صرف ایک چیز پر اپنا فوکس رکھا۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا سے بھی دوری بنائی۔صائمہ خان نے کہا کہ کسی بڑے مقصد کے حصول کیلئے چھوٹی چھوٹی خواہشوں اور ضروریات کو ترک کرنی پڑتی ہے۔

صائمہ خان جنہوں نے سینٹ زیورس کالج سے گریجویش کی ہے نے بتایا کہ شروع میں اس نے معمولی تیاری کے ذریعہ دومرتبہ یوپی ایس سی کے امتحان میں شرکت کی مگر اس کو جلد ہی اس کا ادارک ہوگیا کہ یہ عام امتحان نہیں ہےبلکہ اس کیلئے بڑی تیاری کرنی پڑتی ہے۔چناں چہ کلکتہ کے ایک کوچنگ کلاس میں شرکت کی اور پھر اس کے بعد خود کو اس امتحان کیلئے وقف کردیا اور ماشااللہ کامیابی مل گئی ۔

اس کے علاوہ وردہ خان کو 18 واں رینک، ضوفشاں حق کو 34 واں رینک، فابی رشید کو 71 واں رینک اور منان بھٹ کو 88 واں رینک حاصل ہوا ہے۔ اس کے علاوہ عارفہ عثمانی، سید عدیل محسن، خان صائمہ سراج احمد، صائم رضا، جمعدار فرحان عرفان، فرحین زاہد، اریبہ صغیر، اہتدیٰ مفسر، نازیہ عمر انصاری، سید محمد مصطفی ہاشمی، حامد نوید، اریبہ نعمان، محمد حارث میر، محمد فرحان، محمد آفتاب عالم اور سیرت باجی وغیرہ نے بھی کامیابی حاصل کی ہے۔

ڈائمنڈ ہار بر کی رہنے والی خان صائمہ سراج احمد نے UPSC میں 165 رینک حاصل کر کے ایک تاریخ مرتب کی ہیں ۔ کولکاتا کی وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے مسلم خاتون کی حیثیت سے IAS میں 51 مسلم امیدوار وں میں6ویںپوزیشن حاصل کرکے بنگال کا نام روشن کیا ہے۔
گزشتہ سال 2022 میں کولکاتا کے راجہ بازار کا رہنے والا محمد برہان الدین نے IAS میں کامیابی حاصل کی تھحی ۔ جو ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔صائمہ بھی ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں انکے والد سراج خان ایک بزنس مین ہیں ۔
انکا بچپن کولکاتا میں گزرا جبکہ انکا آبائی وطن غازی پور( یوپی) سے ہے ۔یقیناً صائمہ نے اپنے والدین دادا دادی اور نانا نانی کا نام راشن کر دیا۔ صائمہ کا شاندار مستقبل اسکا انتظار کر رہا ہے۔ واقعی مس صائمہ مبارک باد کی مستحق ہیں ۔ انکے اور انکے فیملی ممبرس کے لئے عید کی خوشیاں دو بالا ہو گئی۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین