پرائیوٹ سرسید احمد انگلش میڈیم اسکول کا مجوزہ سرکاری اردو میڈیم اسکول کی زمین پرقبضہ!

2010میں عوامی تحریک کے نتیجے میںاردو میڈیم بوائز اسکول کیلئے وزارت تعلیم نے 38نمبرسرسید احمد روڈ پر ’’کے آئی ٹی ‘‘سے زمین خریدی تھی مگر چودہ سال گزر جانے کے باوجود اردو اسکول کی تعمیر نہیں ہوسکی۔سرسید احمد انگلش میڈیم پرائیوٹ اسکول کے ذریعہ سرکاری اسکول کی زمین پر قبضہ کرنے کا معاملہ عدالت میں زیر غور۔

0
291

انصاف نیوز آن لائن خصوصی رپورٹ

کلکتہ شہر کے وارڈ نمبر 54 میں90فیصد اردو بولنے والوں کی آبادی ہے۔ اس علاقے میں اردو میڈیم گرلس اسکول ہے مگر لڑکوں کیلئے کوئی اردو میڈیم اسکول نہیں ہے۔ 2009میں مقامی لوگوں نے اردو میڈیم اسکول کے قیام کیلئے تحریک چلائی۔ اسی زمانے میں 38 نمبر سرسید احمد روڈ پر واقع کے آئی ٹی کی زمین خالی ہوئی تو وزارت تعلیم اس زمین کو خریدنے کیلئے رضا مند ہوگئی۔ تاہم وزارت تعلیم نے88لاکھ روپے کا فنڈ نہیں ہونے کا عذر پیش کرتے ہوئے زمین کی خریداری میں تاخیر کی تومقامی لیڈروں نے وزارت اقلیتی امور کے وزیر مملکت عبد الستار سے رابطہ کیا۔ انہوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے وزارت اقلیتی امور کی جانب سے یہ رقم ادا کرکے اقلیتی برادری کے اس علاقے میں اردو میڈیم اسکول کیلئے زمین کی خریداری کا معاملہ حل کردیا۔

2011 میں حکومت تبدیل ہوگئی۔گزشتہ 13سالوں میںوزارت تعلیم اور پرائمری کونسل کی جانب سے اسکول کے قیام کےلئے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور نہ ہی یہاں کے عوامی نمائندے ممبر پارلیمنٹ سدیپ بندو پادھیائے، ممبر اسمبلی سورن کمل ساہا اور کونسلر امیرالدین بابی نے کھی اس موضوع پر کوئی بات کی ۔

اس درمیان مقامی کونسلر امیرالدین بابی نے اس زمین سے متصل 1/39 سرسید احمد روڈ پر پرائیوٹ اسکول کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔اب یہ اسکول کا اتوار کو افتتاح ہورہا ہے۔اسکول کے قیام کے بعد امیر الدین بابی کے حامی انہیں ’’سرسید احمد خان‘‘ جیسی بلند پایہ کے مفکر، عظیم رہنمااور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سے مشابہت دینے لگے ہیں ۔تاہم ’’انصاف نیوز آن لائن ‘‘ نے اس پورے معاملے کی تحقیق کی تو حیرت انگیز اور چوں کادینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں ۔

اس سوال پر بعد میں بات کی کی جائے سرسید احمد اسکول کی تعمیر قانونی ضابطے میں ہوئی ہے یا نہیں اور کن کن ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

سرسیداحمد اسکول جس زمین 39/1نمبر تعمیر ہورہی ہے وہ 6کٹھہ زمین پر مشتمل ہے۔کارپوریشن سے پاس نقشے کے برخلاف اسکول کی تعمیر کیلئے اس زمین سے متصل38نمبر سرسید جو اردو میڈیم پرائمری اسکول کی زمین کا ایک کٹھہ قبضہ کرکے بائونڈری بنادیا گیا ۔اس بائونڈری کے درمیان میں ایک دروازہ بھی کھول دیا جو اردو میڈیم اسکول کی طرف کھلتا تھا۔

اس درمیان مقامی سماجی کارکن حسین رضوی نے جو اردو میڈیم اسکول کے قیام کی تحریک میں شامل تھے کلکتہ ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے عدالت کی توجہ مبذول کرائی کہ نوتعمیر شدہ پرائیوٹ اسکول کیلئے سرکاری اسکول کیلئے خریدی گئی زمین پر قبضہ کیا گیا ہے اور اس زمین کے درمیان راستہ بھی نکالا گیا ہے۔ رضوی نے اس کے ساتھ اپنی عرضی میں یہ سوال بھی کیا کہ وزارت تعلیم اسکول کی تعمیر کیلئے پیش قدمی کیوں نہیں کررہی ہے؟۔

عدالت نے اس معاملے میں کلکتہ کارپوریشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پورے معاملے میں حلف نامہ طلب کیا۔چوں کہ امیر الدین بابی کائونسلر اور ایم آئی سی ہیں انہیں جب اس کی خبر ملی تو انہوں نے فوری بائونڈری میں جوراستہ نکالا گیا تھا اس دروازے کو ہٹاکر مکمل دیوار کھڑی کردی ۔اس کے بعد کارپوریشن نے جواب داخل کیا کہ کوئی دروازہ نہیں نکالا گیا ہے اور عمارت کی تعمیر کیلئے جو بلندی پاس کیا گیا ہے اس کے مطابق تین فلور کی تعمیر ہوئی ہے۔تاہم کارپوریشن اپنے جواب میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں دائیں ، بائیں اور آگے و پیچھے جو نقشہ پاس کیا گیا اس کے مطابق تعمیر ہوئی ہے یا نہیں ۔چوںکہ اس کی تفصیل دینے سے حقیقت کھل جاتی ۔ عرضی گزار نے اس جانب عدالت کی توجہ مبذول کرائی ہے اور اس وقت یہ معاملہ عدالت میں زیر غور ہے۔

سرسید احمد انگلش میڈیم اسکول کے افتتاح کے دعوت نامے کے ساتھ ایک اور دعوت نامہ منسلک کیا گیا ہے کہ38نمبر سرسید احمد روڈ پر اردو میڈیم پرائمری اسکول کا سنگ بنیاد رکھا جارہا ہے۔اس کے افتتاحی تقریب میں وہ تمام افراد شامل ہیں جو پرائیوٹ انگلش میڈیم کے افتتاح کے مہمان ہیں اور وقت بھی یکساں ہے۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ اس سرکاری اسکول کا سنگ بنیاد 2010میں رکھا جاچکا ہے تو دوبارہ کیوں سنگ بنیاد رکھا جارہا ہے۔13 سالوں میں اسکول کی عمارت کی تعمیر کرنے کے بجائے جب یہ معاملہ عدالت میں ہے تو پھر کس حیثیت سے اسکول کا سنگ بنیاد دوبارہ رکھا جارہا ہے۔

اسکول کی تعمیر کیلئے زمین کا میوٹیشن کرانا لازمی ہے اور یہ بھی نہیں کرایا گیا ہے۔کارپوریشن کے ریکارڈ میں اب بھی یہ زمین کے آئی ٹی کے نام پر ہے۔

چوں کہ اردو میڈیم اسکول کی تعمیر حکومت کے زیر انتظام ہونا تھا ۔مگر دعوت نامہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سرکاری پروگرام نہیں ہے بلکہ جن عناصر نے اسکول کی زمین پر غاصبانہ قبضہ کیا ہے وہی اسکول کا افتتاح کررہے ہیں اور دعوت نامہ وزارت تعلیم یا پھر پرائمری کونسل کے ذریعہ جاری ہونے کے بجائے مقامی کونسلر نے جاری کیا اور اس پر ترنمول کانگریس کا انتخابی نشان بھی شائع کیا گیا ہے۔


اخبارات میں جو اشتہار شائع کیا گیا ہے اس میں دیکھا جاسکتا ہے اس میں کہیں بھی مغربی بنگال حکومت یا پھر پرائمری کونسل کا نام نہیں ہے بلکہ اوپر سے میں ترنمول کانگریس کا انتخابی نشان ہے۔جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سرکاری تقریب نہیں ہے۔بلکہ پرائیوٹ پروگرام ہے۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ سرکاری اسکول کا افتتاح پرائیوٹ پروگرام میں کیسے ہوسکتا ہے؟

اردو میڈیم اسکول کیلئے جو زمین کے آئی ٹی سے خرید ی گئی تھی وہ تقریباً 9 کٹھہ زمین ہے۔ خیال رہے کہ اسکول کی منظوری کیلئے 13کٹھہ زمین لازمی ہے۔ ایسے میں جب ایک کٹھ سے زائد زمین پر قبضہ کرلیا گیا ہے تو پھر اس سرکاری اردو میڈیم اسکول کی منظوری مشکل ہوجائے گی۔
ایسے میں چند سوالات ہیں ۔
(1) جب مقدمہ کلکتہ ہائی کورٹ میں ہے تو پھر عدالت کو نظرانداز کرکے ایک پرائیوٹ اسکول کی تقریب میں ہی سرکاری اردو میڈیم کے سنگ بنیاد رکھنے کا اچانک فیصلہ کیوں کیاگیا؟

(2) سرکاری اردو میڈیم اسکول کی تعمیر کیلئے کیا وزارت تعلیم نے فنڈ جاری کردیا ۔دعوت نامہ ایک کائونسلر کے ذریعہ کیوں جاری کیا جارہا ہے۔ وزارت تعلیم بذات خود اس کی طرف پیش قدمی کیوں نہیں کررہی ہے۔

(3) مندرجہ بالا سوال اس لئے ضروری ہے کہ کہیں سنگ بنیاد کے نام پر سرکاری اردو میڈیم اسکول کی تعمیر کے معاملے کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنے کی کوشش تو نہیںہے۔ یہ سوال بھی لازمی ہے کہ گزشتہ 13سالوں میں اردو میڈیم اسکول کے قیام کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟

(4) سوال یہ ہے کہ جب یہ معاملہ عدالت میں زیر غور ہے تو پھر پرائمری کونسل کے چیرمین کارتک منا شریک کیوں ہورہے ہیں ۔جب کہ زمین پر قبضے کے سوال پر پرائمری کونسل کو بار بار توجہ دلانے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔


کلکتہ کارپوریشن سے پاس نقشہ سے صاف کہا گیا ہے کہ یہ عمارت رہائشی ہے۔ایسے میں رہائشی عمارت میں اسکول قائم کیوں کیا جارہا ہے؟

جہاں تک سوال سر سید احمد انگلش میڈیم کی تعمیر کا سوال ہے تو اس سے متعلق بھی حیرت انگیزمعلومات سامنے آئی ہیں۔اس زمین کے مالک محمد قمرالدین ہیں ۔ان سے امیرالدین بابی نے معاہدہ کیا ۔معاہدہ میں لکھا گیا ہے کہ تین فلور پر اسکول ہوگا اور دو فلور زمین کے مالک قمرالدین کو دی جائے گی۔تاہم کارپوریشن جو نقشہ پاس کرایا گیا اس میں رہائشی عمارت کے نام پر نقشہ پاس کرایا گیا۔اس میں اسکول کا کوئی ذکر نہیں ہے۔جی پلس 3فلور پاس ہوا۔چوں کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر غور ہے۔اس لئے نقشہ کے مطابق تین فلور ہی تعمیر ہوسکی ہے اور کارپوریشن نے اپنے حلف نامہ میں کہہ دیا ہے کہ تین فلورہی تعمیر ہوئی ہے۔چوں کہ دو فلور زمین کے مالک کو ملنی تھی اس لئے اب مالک سے کہا جارہا ہے کہ آپ زمین کا روپیہ لے لیں ۔عمارت کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے اب تک زمین کے مالک کو زمین کا معاوضہ نہیں ملا ہے۔کسی طاقوت ور کے ذریعہ فون کرانے کے بعد زمین کی قیمت کا دس فیصد روپے دئیے گئے ہیں ۔موجودہ مارکیٹ کے اعتبار سے اس زمین کی قیمت دو کروڑ روپے ہوتے ہیں۔



امیرالدین بابی اور زمین مالک کے درمیان ہوا معاہدہ

چوں کہ سوال یہ ہے کہ جب زمین مالک سے اسکول کی تعمیر کا معاہدہ کیا گیا تو پھر کارپوریشن میں رہائشی عمارت کا نقشہ کیوں پاس کیا گیا؟ دراصل کسی بھی تعلیمی ادارے کیلئے جب نقشہ پاس کرایا جاتا ہے تو کل جگہ کے صرف 40فیصد پر ہی تعمیر ہوسکتی ہے ۔اور 60فیصد جگہ خالی رکھنا ضروری ہے۔یہاں کل زمین پر تعمیر کردیا گیا ہے۔


اس میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ اسکول کی عمارت کیلئے نقشہ پاس کرانے کے کیا قوانین ہیں

دوسرے یہ کہ اسکول کے قیام کیلئے سی سی سرٹیفیکٹ ہونا لازمی ہے۔اسکول کی تعمیر اس کے بغیر کیا گیا ہے۔ایسے میں اس اسکول کا منظور ہونا تقریبا ناممکن ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ سرسید احمد انگلش میڈیم اسکول ایک پرائیوٹ تعلیمی ادارہ ہے اور اس کیلئے بچوں سے فیس لی جائے گی اور کونسلر صاحب اور انکی اہلیہ اس کی ذمہ دار ہیں۔چوں کہ یہ عمارت رہائشی عمارت کے نام پر بنایا گیا ہے اگر مستقبل میں غیر قانونی اسکولوں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے اور یہ اسکول بھی اس کی زد میں آتا ہے تو پھر سرکاری زمین کا کیا ہوگا؟

سب سے اہم بات یہ ہے کہ وارڈ 54اور 60اور آس پاس کے علاقے میں بڑی تعداد میں ایسی آبادی ہے جنہیں فیس دینے کی رقم نہیں ہے ۔ایسے میں پرائمری اسکول تعلیم کے فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرسکتا تھا۔ایسے میں سرکاری اسکول کی تعمیر کے بجائے ذاتی اور پرائیوٹ اسکول کی تعمیر کو ترجیح کیوں دی گئی۔ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ مفادات کا ٹکرائو نہیں ہے۔کیا پرائیوٹ اسکول کے مالک کبھی اپنے اسکول کے پہلو میں قائم سرکاری اسکول کو پنپنے دیں گے۔