Friday, July 19, 2024
homeادب و ثقافتسلمیٰ اعوان اور کہانیاں دنیا کی

سلمیٰ اعوان اور کہانیاں دنیا کی

حنا جمشید

دنیا جہان کے قصے کہانیاں سننے کا شوق کسے نہیں؟ اور پھر جب آپ کے ہاتھ ایک ایسی کتاب لگ جائے جس میں دیس دیس کے قصے ہوں اور نگر نگر کی کہانیاں ہوں، وہ کہانیاں جن میں آپ کو وہ دیس ایک دم جیتا جاگتا نظر آئے، یہی نہیں بلکہ مصنف وہاں کے ماضی کو بھی حال کے لبادے میں لپیٹ کر آپ کے سامنے رکھ دے، تو اس سے بڑھ کر آپ کو اور کیا چاہیے ہو گا؟

سلمیٰ اعوان صاحبہ سے ہمارا پہلا تعارف بک کارنر جہلم سے چھپنے والے ان کے سفر نامے ’حیرت بھری آنکھ میں چین‘ سے ہوا تھا۔ ایسی رواں، شستہ اور نکھری ہوئی نثر، تس پہ مستزاد ان کا دلچسپ و بے تکلف اسلوب کہ قاری پڑھتے ہوئے خود کو ان کا ہم سفر محسوس کرے، ہم نے کتاب پڑھی اور اس کی دل سے تعریف کی۔

سچ پوچھیے تو سلمیٰ اعوان صاحبہ سر تا پا محبت سے گندھی خاتون ہیں۔ چند دن قبل ان کی ایک کتاب فیس بک پر نظر سے گزری، جس کے پبلشر کے بارے میں استفسار پر انھوں نے دوست پبلی کیشنز کا قضیہ بتاتے ہوئے، بڑی شفقت سے کتاب کی عدم دستیابی سے آگاہ کیا اور کہا کہ ان کے پاس اس کتاب کی چند محدود اعزازی کاپیاں موجود ہیں، جو وہ خلوص دل سے ہمیں بھیجنا چاہتی ہیں۔ ہم نے شرما شرمی انکار بھی کیا، جسے اپنائیت سے رد کرتے ہوئے انھوں نے بڑی شفقت اور محبت سے اپنی چند کتب ہمیں ارسال کر دیں۔ ایسی اہم کتب کا ملنا ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھا۔

سلمیٰ اعوان صاحبہ کی کتاب ’کہانیاں دنیا کی‘ پڑھ کر ہمیں اندازہ ہوا کہ دنیا بھر کی سیاحت اور ان ممالک کی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کے غائر مطالعے نے ان کے ذہنی افق کو جو وسعت اور تابندگی دی ہے، وہ ان کی تحریروں میں کیسی صاف اور روشن نظر آتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک سے جڑی یہ کہانیاں آپ کو ایسی دنیاؤں میں لے جاتی ہیں، جہاں آپ انگشت بدنداں تاریخ، تہذیب، ثقافت، مذہب اور جغرافیے کی معتوب قوموں کا احوال کسی مانوس درد بھری داستان کی صورت پڑھتے چلے جاتے ہیں۔

سوویت یونین کے ٹوٹنے کے مناظر، دیوار برلن کا گرنا، سہمی ہوئی عوام کی بے چینی اور ان کا اضطراب، چیچنیا، کاکیشیا اور افغانستان جیسی کئی مسلم ریاستوں پر روسی استبداد، مقتدر گروہوں کا لینن کے مجسمے کو گرانا، روسی جمہوریتوں کا بتدریج آزاد ہو جانا، روس کا سرمایہ داری نظام کی طرف بڑھنا اور اپنے ناقد و معترض صحافیوں کو معتوب کرنے کا درد ناک کا احوال ان کے ناولٹ ’وہ اک تارا‘ میں جس گہرائی سے رقم کیا گیا ہے، اس کے پیچھے ان کا غائر مطالعہ، اصولی موقف اور روسی تہذیب و معاشرت کا قریب سے گہرا مشاہدہ صاف چھلکتا ہے۔ ذرا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے :

”ریاستیں اگر آزاد ہونا چاہتی ہیں تو یہ ان کا حق ہے، مسئلہ اگر ہے تو دنیا میں روسی عظمت، وقار اور مقام کا۔ اب کوئی پوچھے۔ کہ افغانستان میں پنگوں کی کیا ضرورت تھی بھلا؟ کیوبا پر ضرورت سے زیادہ مہربانیاں کیوں؟ اور مشرقی یورپ پر اتنی عنایتیں کیوں؟ ریپبلکوں کے جتھے کیوں؟ ہتھیاروں اور میزائلوں میں سبقت کا جنون کیوں؟

عام روسی تو بے چارہ لائن میں کھڑا ہے، جس کا آدھا دن ایک ڈبل روٹی کے حصول کی تگ و دو میں گزرتا ہے، وہ کیوں نہ چلائے کہ دنیا کے آدھے رقبے پر جو قابض ہو، اب ان کی جان چھوڑ دو اور اپنی نبیڑو۔ ”

روسی مقتدر حلقوں کی منافقت پر ان کا یہ کاٹ دار اقتباس ملاحظہ کیجیے :

”پہلے بم بناتے ہیں، پھر امن کا پرچار کرتے ہیں۔ دیکھو یہ ظلم کی انتہا ہے۔ پہلے دنیا کو مروا دیا۔ پھر دکھ اور تاسف کا اظہار شروع کر دیا۔ خیر سے مغربی میڈیا کو تو موقع ملے روس کو لتاڑنے کا، لیکن یہ خود بھی تو جب ایسے تباہ کن کام کرتے ہیں تب انھیں احساس نہیں ہوتا۔ حکومتوں کو تباہی کے سامان بنا کر سونپتے ہوئے، انھیں دنیا پر چھا جانے کا مشورہ دینے والے لوگ بھی تو برابر کے مجرم ہیں۔“

اس سب پہ مستزاد اس کتاب میں موقع و محل کی مناسبت سے معروف روسی شاعر پشکن، مشہور داغستانی شاعر رسول حمزہ توف، بیباک فلسطینی شاعر محمود درویش اور باغی شاعر نزار قبانی کی شاعری کے بر محل اردو ترجمہ شدہ اقتباسات، ان کی تحریر کی تاثیر کو دو آتشہ کیے دیتے ہیں۔

دنیا کے تہذیبی و جغرافیائی تصادم میں ان کی فلسطینی کہانی ’او غزہ کے بچو‘ کی نڈر فلسطینی لڑکی جس کی سنائی گئی کہانی کا حاصل یہی کہ ’فلسطینیوں کو اپنی لڑائی خود لڑنی ہے، کوئی عرب ملک ان کی امید نہیں، کوئی ان کی مدد کو نہ آئے گا، کہ سب اپنے مفادات کے لیے بکے ہوئے ہیں۔ ”

بنگلہ دیش کی خاص تہذیبی و ثقافتی فضا میں گندھی ان کی کہانی ’سومیتا اور اروما‘ ، جو اپنے اندر مشرقی پاکستان کے دکھ اور المیوں کا ماتم سمیٹے ہوئے ہے۔ اس سانحے کا کرب ان کی تحریر میں ملاحظہ کیجیے :

”اسی دوران ملٹری آپریشن شروع ہو گیا۔ ظلم و ستم کے نئے باب رقم ہونے لگے، ملک دو ٹکڑے ہو گیا، دکھوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، وہ وقت پیغمبری پڑا کہ جس نے انسانیت کے پرخچے اڑا دیے، زمین انسانی خون سے اسوک کے پھولوں کی طرح سرخ ہو گئی۔“

امریکی توپوں کے سامنے جلتے ہوئے بغداد کی درد ناک کہانی ’آسمان چپ رہا‘ عراق کے ان دلدوز سانحات پر مبنی ہے، جب ظلم و بربریت کے انبار تلے، انسانیت کہیں دور سسکتی رہی۔ عبیر اور مسعود بار زنجی کی محبت بھری داستان جسے کا انجام انسانیت سوز ہے، صدام حسین کے تعیشات اور امریکی جبر و استبداد کے عبرت آمیز مناظر جنھیں پڑھتے ہوئے قاری خود رنج و صدمے سے گزرتا ہے۔

سری لنکا میں تامل اور سنہالیوں کے باہمی تصادم اور خانہ جنگی کے احوال پر مشتمل ان کی بصیرت آمیز کہانی ’بتان رنگ و خون‘ اس دہشت گرد ذہنیت کی عکاس ہے جو اپنے مفادات کی خاطر دانستہ لوگوں میں باہمی انتشار پیدا کرتی ہے۔ لاطف اور زہرت کے بے لوث کردار اس استحصال یافتہ بستی کے لیے امن کے پیغامبر ہیں۔

ترکی کے شہر استنبول کی خوبصورتیوں کے پس منظر میں رقم کی گئی سرگزشت نما کہانی ’لٹنا میرا استنبول کے کیپلی کارسی میں‘ ایک لطیف اور شگفتہ تحریر ہے، جس میں وہ استنبول جانے والی ایک سادہ لوح خاتون کا احوال درج کرتی ہیں، جسے منی چینج آفس میں ایک متروک شدہ نوٹ عیاری سے دے کر ٹھگ لیا جاتا ہے۔ اختتام میں معاملے کو رفع دفع کرتی اور دھوکہ دینے والے نوجوان کو نرمی سے سرزنش کرتی خاتون خود سلمی اعوان صاحبہ کا عکس معلوم ہوتی ہے۔

اسرار بھری سرزمین مصر کے شہر قاہرہ کے ایک دلچسپ سفر پر مبنی کہانی ’بھید بھری زمین پر بھید بھری کہانی‘ مصر کے تاریخی مقامات کی سیاحت کے ساتھ ساتھ پاکستانی تہذیب و معاشرت کے المیہ پہلوؤں کو بھی بڑی مہارت سے آشکار کرتی ہے۔

دنیا بھر کی ایسے دلچسپ کہانیوں کے سفر میں یہ کتاب کب ختم ہوئی ہمیں احساس ہی نہ ہوا۔ سلمیٰ اعوان صاحبہ کی محبت نے ہمیں یوں دیس دیس کی سیر کرائی کہ کہیں تو دل دکھ سے اور کہیں خوشی سے تھامنا پڑا۔ ہماری خواہش ہے کہ سلمیٰ اعوان صاحبہ کی یہ حیرت انگیز ’کہانیاں دنیا کی‘ جلد نئی طباعت و اشاعت کے مراحل سے گزر کر اپنے قارئین تک پہنچیں اور اپنی اثر آفرینی کو مزید وسعت دیں۔ ہماری طرف سے بہت پیاری سلمیٰ آپا کے لیے ڈھیروں خلوص، محبت اور احترام۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین