Wednesday, June 12, 2024
homeاہم خبریںبنگال میں رام نومی کے موقع پر تشدد کے واقعات بی جے...

بنگال میں رام نومی کے موقع پر تشدد کے واقعات بی جے پی اور ترنمو ل کانگریس کے درمیان جلوس کے انعقاد کو لے کر جارےی مقابلہ آرائی کا نتیجہ

مشہور سماجی کارکن ہرش مندر کی قیادت والی تنظیم کی رپورٹ میں انکشاف۔رام نومی جلوس میں ہنگامہ آرائی میں ترنمول کانگریس کے ورکر اور لیڈران بھی ملو ث۔رپورٹ میں جلوسوں میں بچوں کی شرکت پر تشویش کا اظہار ۔بعض مقامات پر اسلحہ بھی بچوں کے حوالے کیا گیا ہے۔

کلکتہ (انصاف نیوز آن لائن )

مشہور سماجی کارکن ہرش مندر کی قیادت والی ایک تحقیقاتی تنظیم نے 2016سے 2023کے درمیان رام نومی کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رام نومی جلوس کو انعقاد کرنے اور اشتعال انگیزی میں ترنمول کانگریس اور بی جے پی دونوں شامل تھی۔

West Benga :Post Ramanavmi Communal Riotکے عنوان سے ایک رپورٹ مرتب کی گئی ہے کہ رام نومی کے جلوس کے انعقاد کو لے کر بی جے پی اور ہندتو جماعتوں اور ترنمول کانگریس کے درمیان مقابلہ آرائی تھی ۔رپورٹ میں آسنسول، ہوڑہ اور رشڑا میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

مغربی بنگال میں ایک زمانے میں رام نومی کے جلوس کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی مگر حالیہ برسوں میں اس جلوس میں اضافے کا تجزیہ کرتے ہوئے اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2016 سے پہلے، رام نومی مغربی بنگال میں زیادہ تر ہندی بولنے والے علاقوں تک محدود تھی۔ مرکز میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد، بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے ان جلوسوں کو منظم کرنا شروع کر دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابتدا میں رام نومی کے جلوس جارحانہ اختیار نہیں کرتے تھے ۔آہستہ آہستہ یہ جلوس بڑے جلسوں میں تبدیل ہو گئے۔ چند سال بعد رام نومی کے جلوسوں میں ہتھیار نکلنے لگے۔ ان جلوسوں میں پہلے کمان اور تیر پھر تلواریں اور طرح طرح کے تیز دھار ہتھیار نظر آئے۔ حالیہ دنوں میں، رام نومی کے جلوس میں آتشیں اسلحے کے ساتھ چلتے ہوئے لوگوں کو دیکھا گیا ہے،‘‘۔

جن محققین نے ان جلوسوں کے بعد فیلڈ سروے اور حقائق کی تلاش کی، انھوں نے ایسے جلوسوں میں بچوں کی شرکت پر تشویش کا اظہار کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’بعض جگہوں پر ہتھیار بھی بچوں کے حوالے کیے گئے ہیں‘‘۔
رپورٹ کے شریک ایڈیٹر، سبھا پروتم رائے چودھری نے کہا کہ 2014 کے بعد، بی جے پی اور اس کے اتحادی مغربی بنگال کو اپنے فرقہ وارانہ منصوبے کی تجربہ گاہ کے طور پراستعمال کر رہے تھے اور رام نومی کے جلوس اور بھارت ماتا کی پوجا اور گنگا آرتی جیسی کچھ دوسری سرگرمیاں بن گئیں۔

رائے چودھری نے کہا کہ کئی جگہوں پر فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز نعرے لگائے جا رہے ہیں، ساتھ ہی اشتعال انگیز گانے بھی چلائے جا رہے ہیں۔ رام نومی کے ان جلوسوں کا راستہ مخلوط آبادی والے علاقوں اور اقلیتی اکثریتی بستیوں سے گزرتا ہے۔

ایک اور شریک ایڈیٹر موہت رانادیپ نے کہا کہ کئی مقامات پر ترنمول کانگریس کے لیڈر ان رام نومی کے جلوسوں کے انعقادمیں آگے آگے تھے اور بی جے پی سے مقابلہ آرائی تھی ۔

رانا دیب نے کہا ’’ہم نے ایسے واقعات دیکھے ہیں کہ دن میں ترنمول کے جھنڈے اٹھائے ہوئے لوگ رات کو فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ یہ 2018 کے آسنسول رام نومی فسادات میں سب سے زیادہ واضح تھا۔

رپورٹ میں ضلع انتظامیہ کے کردار پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں کہ رام نومی کے لیے نہ صرف ایک دن بلکہ کئی دنوں کے لیے ایسے جلوسوں کو اجازت کیسے دی جاتی ہے۔

142 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کو جاری کرتے ہوئے، ہرش مندر، جو کاروان محبت نامی تنظیم کی قیادت کرتے ہیں، نے کہا کہ یہ رپورٹ سچائی کو سامنے لاتی ہے اور موجودہ دور میں سچ بولنے کے لیے بہت ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک سرکاری کالج میں بشریات کے پروفیسر سمن ناتھ نے کہا کہ ماضی میں AMRA نے کئی تنازعات پر رپورٹیں جاری کی ہیں جن میں فرقہ وارانہ فسادات جیسے کہ ہگلی میں تلنی پاڑا فسادات اور شمالی 24 پرگنہ کے بھاٹ پارہ اور بشیرہاٹ فسادات شامل ہیں۔

رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ رام نومی کے جلوسوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ریاست میں اسلامی جلسوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

AMRA کی اشاعت، جس میں محققین کی کثیر الضابطہ ٹیم شامل ہے، نے کچھ ایسے سلور لائننگز کو بھی اجاگر کیا ہے جہاں فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین نے امن اور بھائی چارے پر زور دیا ہے۔

رپورٹ میں آسنسول کے امام رشیدی کا ذکر کیا گیا ہے، جنہوں نے فرقہ وارانہ فسادات میں اپنے بیٹے کو کھونے کے باوجود، امن کے قیام کی بھر پور کوشش کی ۔اور 2018 میں آسنسول میں مزید بھڑک اٹھنے سے روکنے کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔امام رشیدی نے بیٹے کی موت کے خلاف مسلمانوں کو جلوس نکالنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

تاہم المیہ یہ ہے کہ آسنسول فرقہ وارانہ فسادات میں اشتعال انگیز بیانات اور مسلمانوں کو دھمکی دینے والے بابل سپریہ بعد میں ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئے اور پھر انہیں کلکتہ کے بالی گنج اسمبلی حلقے سے منتخب کراکر کابینہ میں شامل کرلیا گیا۔

اسی طرح بھاٹ پارہ میں فرقہ وارانہ فسادات میں کلیدی کردارا ادا کرنے والے ارجن سنگھ بھی ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئے ۔

اگر ہرش مندر کی قیادت والی رپورٹ اور میں اپنے تجربے کے تناظر میں دیکھتا ہوں کہ تو اس میں یہ بات سچ سامنے آتی ہے کہ فرقہ وارانہ فسادت اور ہنگامہ آرائی کو کنٹرول کرنے میں ممتا حکومت میں عزائم کی کمی رہی ہے۔ترنمول کانگریس کے کارکنان اور لیڈران براہ راست فرقہ وارانہ فسادت میں ملوث رہے ہیں ۔

مذہبی سیاست کو فروغ دینے میں ترنمول کانگریس کا اہم کردار رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین