Wednesday, June 12, 2024
homeاہم خبریںعالمی عدالت کا اسرائیل کو رفح میں فوجی کارروائی نہیں کرنے کی...

عالمی عدالت کا اسرائیل کو رفح میں فوجی کارروائی نہیں کرنے کی ہدایت

ناروے (ایجنسیاں)
عالمی عدالت برائے انصاف نے آج جمعہ کو سہ پہر دی ہیگ میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہاکہ اسرائیل کو فوری طور پر اپنا فوجی حملہ اور رفح گورنری میں کوئی بھی دوسری ایسی کارروائی روکنا چاہیے، جس سے غزہ میں فلسطینی آبادی کے لیے ایسے حالات پیدا ہوں، جو اس آبادی کی مکمل یا جزوی طور پر انسانی ہلاکت کا باعث بن سکتے ہیں۔‘‘

عالمی عدالت نے اسرائیل کو تفتیش کاروں کی غزہ پٹی تک رسائی کو یقینی بنانے کا حکم بھی دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے لیے رفح بارڈر کراسنگ کھولنے کا حکم بھی دیا ہے۔ آئی سی جے کے اس فیصلے کا دنیا بھر میں انتظار کیا جا رہا تھا۔ ایک بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو فوری طور پر درکار بنیادی خدمات اور ضروری انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی کے لیے رفح کراسنگ کو کھولنا ہو گا۔‘‘

فلسطینی اتھارٹی نے عالمی عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عدالتی حکم غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک بین الاقوامی اتفاق رائے‘‘ کی نمائندگی کرتا ہے۔عالمی عدالت نے غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی‘‘ پر بھی زور دیا ہے۔

فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے تاہم حماس نے اس فیصلے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ بھر میں جنگ بندی کا حکم دیا جانا چاہیے تھا۔

جنوبی افریقہ نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی‘‘ کا الزام بھی عائد کیا تھا۔بین الاقوامی عدالت انصاف کا یہ حکم تنہائی کا شکار ہوتے جا رہے اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ کو مزید بڑھا دے گا۔ اسرائیل کا اصرار ہے کہ اسے حماس کے عسکریت پسندوں کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور بظاہر ایسا نظر نہیں آتا کہ نتین یاہو حکومت اس عدالتی حکم کی تعمیل کرے گی۔

اسرائیل کے وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ نے اس عدالتی فیصلے کے فوری بعد کہاکہ عالمی عدالت کے فیصلے کے بعد، جو لوگ اسرائیل سے جنگ بند کرنے کا مطالبہ کریں گے، وہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسے اپنے وجود کو ختم کرنے کا فیصلہ کرنا چاہیے لیکن اسرائیل اس سے اتفاق نہیں کرے گا۔‘‘

دوسری جانب اس فیصلے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کے وزراء کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ صورت حال کا جائزہ لیا جا سکے۔

اس فیصلے سے قبل دی ہیگ میں فلسطین اور فلسطینیوں کے حامیوں کا ایک چھوٹا سا گروپ اس عدالت کے باہر پہنچ چکا تھا، جہاں اس گروپ نے فلسطینی پرچموں کو لہراتے ہوئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا۔

آج جمعے کو بین الاقوامی عدالت انصاف کے اس فیصلے سے کچھ دیر قبل اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے کہا تھاکہ زمین کی کوئی طاقت اسرائیل کو اپنے شہریوں کی حفاظت اور غزہ میں حماس کا پیچھا کرنے سے نہیں روک سکتی۔‘‘

قبل ازیں جنوبی افریقہ نے بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) سے ہنگامی اقدامات کرنے کی درخواست کی تھی تا کہ اسرائیل کو ”غزہ پٹی میں اپنی فوجی کارروائیاں بند کرنے‘‘ کا حکم دیا جائے۔ اس میں رفح شہر بھی شامل ہے، جہاں اسرائیلی فورسز اپنی مسلح کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آئی سی جے کے جج ریاستوں کے درمیان تنازعات پر فیصلے کرتے ہیں اور رکن ریاستیں ان پر عمل درآمد کرنے کی پابند ہوتی ہیں۔ تاہم اس بین الاقوامی عدالت کے پاس اپنے فیصلوں کو نافذ کروانے کی کوئی طاقت نہیں۔ مثال کے طور پر اس نے روس کو بھی حکم دیا تھا کہ وہ یوکرین پر اپنے حملے روک دے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف میں گزشتہ ہفتے ہونے والی سماعتوں کے دوران جنوبی افریقہ نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی‘‘ کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ جنوبی افریقہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے نسل کشی‘‘ غزہ کے آخری حصے رفح پر حملے کے ساتھ ایک نئے اور خوفناک مرحلے‘‘ میں داخل ہو چکی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے وکلاء نے جنوبی افریقہ کے کیس کو عدالت میں حقیقت سے مکمل طور پر نابلد‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا تھا کہ جنوبی افریقہ نے 1948 کے اقوام متحدہ کے نسل کشی کے خلاف کنونشن کا مذاق‘‘ بنا رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین