لا کمیشن نے غداری قانو ن کوملک کی خود مختاری، اتحاد و سالمیت کیلئےضروری قرار دیا

کانگریس کی سخت تنقید - لاء کمیشن کی رپورٹ افسوسناک اور فکر انگیز:ابھشیک منو سنگھوی-بی جے پی غداری کے قانون کا استعمال توڑ پھوڑ اور عدم اتفاق کو دبانے کی شکل میں کرتی ہے۔‘‘

0
87

نئی دہلی(ایجنسیاں)

غداری قانون پر لاء کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ملک کی خود مختاری، اتحاد و سالمیت کے تحفظ کے لیے اس قانون کا رہنا ضروری اور لازمی ہے۔ لاء کمیشن نے وطن سے غداری کے جرم کو لے کر اپنی سفارش میں یہ بھی کہا ہے کہ غداری جیسے ملک مخالف جرم کے لیے سزا بڑھائی جائے۔ کمیشن نے اس قانون کے تحت کم از کم تین اور زائد از زائد سات سال قید کے ساتھ ہی جرمانہ لگانے کا التزام کیے جانے کی بھی تجویز پیش کی۔ لاء کمیشن کی اس رپورٹ پر کانگریس نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے اور مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سینئر وکیل اور کانگریس لیڈر ابھشیک منو سنگھوی نے ملک سے غداری قانون کو لے کر لاء کمیشن کی رپورٹ کو افسوسناک اور فکر انگیز ٹھہرایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی غداری کے قانون کا استعمال توڑ پھوڑ اور عدم اتفاق کو دبانے کی شکل میں کرتی ہے۔ اب بی جے پی حکومت نو آبادیاتی حکومت کے مقابلے میں زیادہ سخت اور خطرناک بننے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ ملک سے غداری قانون کو لے کر حکومت نے لاء کمیشن سے رپورٹ مانگی تھی۔ اس پر لاء کمیشن نے اپنی رپورٹ حکومت کے حوالے کر دی ہے۔ رپورٹ میں موجود کئی نکات پر کانگریس لیڈر ابھشیک منو سنگھوی نے اعتراض ظاہر کیا ہے اور اسے سخت، جارح اور تفریق آمیز بھی بتایا ہے۔ نیچے پیش ہیں ابھشیک منو سنگھوی کے کچھ اعتراضات:

اس قانون کے تحت سزا کو کم از کم تین اور زائد از زائد سات سال بڑھا کر موجودہ غداری قانون کو کہیں زیادہ سخت جارحانہ اور تفریق آمیز بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ رپورٹ گزشتہ سال مئی اور اکتوبر میں سپریم کورٹ کی کارروائی کے جذبہ کو نظر انداز کرتی ہے، جس نے ملک میں غداری کے پورے جرم کو غیر فعال کر دیا تھا۔

2014 سے ملک میں اس قانون کے جاری رہنے اور استعمال/غلط استعمال کو روکنے کے لیے کوئی موافق تنبیہ، سیکورٹی یا حد فراہم نہیں کی گئی ہے۔

اس رپورٹ کے ذریعہ ایک واضح اشارہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نوآبادیاتی ذہنیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، تاکہ تقریر، نظریات اور کارروائی کی آزادی پر ایک خطرہ منڈلاتا رہے۔

سیاسی عدم اتفاق کے خلاف اس قانون کے تفریق آمیز اور غلط استعمال کو جاری رکھنے کے اپنے واضح ارادے کا غیر واضح طور پر اعلان کر دیا ہے۔

کانگریس نے لاء کمیشن کی رپورٹ کے بعد کچھ سوالات بھی اٹھائے ہیں جو اس طرح ہیں:

بی جے پی حکومت کے دوران غداری کے معاملے کیوں بڑھے ہیں؟ کیا حکومت تنقید کو روکنے کے لیے اس کا استعمال ایک ہتھیار کے طور پر کر رہی ہے؟

کیا یہ آئندہ عام انتخابات سے پہلے عدم اتفاق کو مزید سختی سے روکنے کی سمت میں ایک ابتدائی قدم ہے؟

غداری کے مقدمات صرف اپوزیشن لیڈران پر ہی کیوں لگائے گئے ہیں؟ کتنے بی جے پی لیڈروں پر اس قانون کے تحت الزام عائد کیے گئے ہیں؟

کیا حکومت ہند کے ذریعہ لاء کمیشن کا حوالہ سپریم کورٹ کے تبصروں کے سچے جذبہ کو دھوکہ دینا محض تھا؟ اس کا مقصد غداری کے قانون کی تباہناک سوچ کو جائز بنانا اور اضافی قانونی بچاؤ فراہم کرنا تھا؟

اس حکومت نے اپنا کنٹرول فریک حکومتی انداز کیوں نہیں بدلا؟ نوآبادیات کے خلاف پاکھنڈی حلف لیتے ہوئے یہ حکومت اپنی نوآبادیاتی ذہنیت کو کیوں نہیں چھوڑ پائی ہے؟