Thursday, May 30, 2024
homeخصوصی کالمتوہین رسالت پر سپریم کورٹ کا تازیانہ"خوشی سے مرنہ جاتے اگر اعتبار...

توہین رسالت پر سپریم کورٹ کا تازیانہ”خوشی سے مرنہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

نور اللہ جاوید
توہین رسالت ؐکی ملزم و معطل بی جے پی لیڈر نوپور شرما کی عرضی پرسپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے جو تبصرے کئے ہیں ۔اس سے ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے کہ مذہبی جذبات کو بھڑکانے اور نفرت انگیز بیانات کے خلاف قانون سازی ہوگی؟ یا پھر ملک اسی طرح انارگی کا شکار رہے گی؟۔سپریم کورٹ کا یہ تبصرہ واضح کرتا ہے کہ عدالت عظمی توہین رسالت کی سنگینی کو سمجھنے کے ساتھ یہ بھی محسوس کرتی ہے کہ چوں کہ نفرت انگیز بیانات دینے والی خاتون کا تعلق حکمراں جماعت سے تھا اس لئے و ہ اب تک آزاد ہے اور اس کے خلاف پولس کارروائی کرنے کی جرأت نہیں کرپارہی ہے۔

توہین رسالت کا مسئلہ ہمیشہ سے سنگین رہا ہے۔یہ صرف مسلمانوں کی نفسیات کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ مسلمانوں کے وجود سے وابستہ ہے۔گزشتہ 14صدیوں میںنبیؐ کی توہین و تذلیل کوامت مسلمہ نے کبھی بھی برداشت نہیں کیا ہے۔یہ ایک سرخ لکیر رہی ہے جس کو عبور کرنے کی کسی نے بھی اجازت نہیں دی ہے۔ نوپور شرما نے ٹی وی چینل پر جس نخوت اورتکبرانہ لہجہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تذلیل و رتضحیک کی کوشش کی، ظاہر ہے کہ اس کے خلاف مسلمانوں کا غم و غصہ ہونا لازمی تھا۔چناں چہ ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا میں اس پر سخت رد عمل سامنے آیا اوراس کے بعد بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کو پشیمانی کا سامنا کرنا پڑا ۔نوپور شرما کے غیر ذمہ دارانہ بیان کے نتیجے میں ہی پورے ملک میں احتجاج ہوئے اور اس درمیان بعض مقامات پر ہنگامہ آرائیاں بھی ہوئیں اور اس بہانے بے قصوروں کے مکانات پر بلڈوزر چلادئیے گئے اور اب راجستھان کے اودے پور میں ایک غیر مسلم درزی کا قتل کا سانحہ پیش آیا۔اس کی کسی بھی مہذب سماج میں اجازت نہیں دی جاسکتی ہے اور نہ اسلام مسلمانوں کو قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت دیتا ہے۔جرم و سزا دینے کی ذمہ داری اتھارٹی کی ہے اور کوئی ایک فرد کو اتھارٹی بننے کی اجازت نہیں ہے۔تاہم اودے پور سانحہ کے ملزم کا جو سیاسی تعلق سامنے آرہا ہے وہ اس پورے واقعے کے پس منظر پر ہی سوال کھڑا کرتے ہیں کہ کہیں اودے پور میں کنہیالال کا قتل کسی سیاسی سازش کا تو حصہ نہیں ہے؟۔
سپریم کورٹ نے نوپور شرماکے خلاف کارروائی میں تاخیر کی جو وجوہات بیان کی ہے وہ مرکزی حکومت ،نوپورشرما، میڈیا اور پولس چاروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے والے ہیں ۔یقینااس معاملے کی اصل گناہ گار بذات خود نوپور شرما ہے مگر نیوز چینل جس نے اس مباحثہ کا انعقاد کیا تھا وہ کم گناہ گار نہیں ہے۔اسی طرح دہلی پولس کی لاپرواہی نے بھی اس معاملے کو طول دیدیا اور اب تک یہ موضوع بحث ہے۔خود سپریم کورٹ نے بھی اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ رویے پر ناراضگی ظاہر کی ہے کہ جب یہ معاملے عدالت میں زیر غور ہے تو پھر اس نے اس پر مباحثہ کا انعقاد کیو ں کیا؟ کیا یہ مخصوص ایجنڈے کو چلانے کی کوشش تھی۔عالمی دبائو کے نتیجے میں گرچہ مودی حکومت نے نوپور شرما سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے۔مگر بی جے پی کے نچلے سطح کے لیڈران اب بھی نوپور شرما کی حمایت کررہے ہیں ۔صرف پارٹی سے معطل کرنے اور انہیں غیر ضروری قرار دینا کافی نہیں تھا۔حکومت ہونے کی حیثیت سے حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس معاملے کے گناہ گاروں کے خلاف کاررائی ۔

ایسے میں یہ سوال لازمی ہے کہ جب سپریم کورٹ نے 2014میں پرواسی بھلائی سنگھٹن بمقابلہ حکومت ہند کیس میں ’’نفرت انگیز بیانات ‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ نفرت انگیز بیانات سے ابتدا ہوتی ہے اور اس کے بعد یہ معاملہ’’ قتل عام پر‘‘ منتج ہوتا ہے۔اس وقت سپریم کورٹ نےنفرت انگیز بیانات کی تشریح کرنے کے ساتھ قانون سازی کی ہدایت دی تھی۔مگر گزشتہ 8سالوں میں اس پرکوئی قانون سازی نہیں ہوئی۔کیا ا س صورت میں سپریم کورٹ کو مرکز ی حکومت سے قانون سازی نہیں کرنے پر سوال نہیں پوچھنا چاہیےکہ ان 8سالوں میںقانون سازی کیوں نہیںکی گئی؟۔اگروقت پر قانون سازی اور کارروائی ہوجاتی تو شاید ملک کے حالات اس سطح تک نہیں پہنچ پاتے۔ اس نکتے پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ تبصرہ تحریری فیصلے کا حصہ نہیں ہے ۔ایسے میں اس تبصرے کی قانونی حیثیت اور اہمیت بھی قابل غور ہے۔جب کہ سپریم کورٹ نے محض چند دن قبل گجرات فسادات پر ذکیہ جعفری کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں ان لوگوں پر تنقید کی جو انصاف کے حصول کےلئے مسلسل جدو جہد کررہے تھے۔بلکہ اپنے فیصلے میں ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کردی جو انصاف کےحصول کےلئے جدو جہد کررہے تھے۔چناں چہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے محض چند گھنٹے بعد ہی گجرات پولس نے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سماجی کارکن تیستا سیتلوارڈ اور سابق آئی پی ایس آفیسر سری کمار کو گرفتار کرلیا ۔جب کہ یہ تبصرہ حیران کن ہے۔ انصاف کے تقاضوں کے یکسر خلاف ہے۔انصاف کی گہا ر آحر کہاں لگائی جائے گی۔عرضی گزاروں کوکٹہرے میں کھڑا کرنے کی یہ نظیر مستقبل میںعدالت پر عوام کے ایمان و ایقان کو نقصان پہنچائے گا۔
حال ہی میں مشہور انگریزی میگزین ’’دی کارروان ‘‘ نے مئی 2022کے شمار ے میں The Bloody Record of the Delhi Police کے عنوان سے گزشتہ 70سالوں میں دہلی پولس کے غیر انسانی چہرے اور اس کے جانبدارانہ کردار کو بے نقاب کیا ہے۔نوپور شرما کے معاملے میں بھی دہلی پولس کا کردار انتہائی شرمناک رہا ۔نوپور شرما اور الٹ نیوز کے شریک بانی ایڈیٹر محمد زبیرکے خلاف شکایت پر ایک ہی جیسے دفعات لگائے گئے مگر نوپور شرما آزاد ہے اور محمد زبیر کو گرفتار کرلیا ۔ دہلی بنگلور جاکر اس کے لیپ ٹاپ کو ضبط کیا اور اب تو محمد زبیر کا غیر ملکی تعلقات بھی نکالا جارہا ہے۔ای ڈی بھی سرگرم ہوگئی ہے اور کوئی بعید نہیں ہے کہ این آئی اے بھی سامنے سے آکر اس معاملے میں اپنے کرتب دکھانے لگے ۔عدالت سے محمد زبیر کی گرفتاری پر روک کے باوجود 4سال پرانے ٹوئیٹ کی بنیاد پر گرفتاری یہ سوال کھڑا کرتی ہے کیا اس ملک میں دو قوانین ہیں۔حکومت حامیوں کیلئے الگ قانون ہے اور حکومت کے ناپسندیدہ افراد کیلئے الگ قوانین ۔

نوپور شرما کی عرضی پر سپریم کورٹ کا تبصرہ

توہین رسالت کے معاملے میں نوپور شرما کے خلاف ملک بھر میں ایف آئی آر درج ہے۔مختلف ریاستوں کی پولس اسٹیشن سے شرما کی طلبی ہورہی ہے، کل کلکتہ پولس نے نوپور شرما کے خلاف لک آئوٹ کا نوٹس جاری کیا ہے۔شرما نے عدالت میں عرضی دائر کی تھی ملک بھر میں دائر تمام ایف آئی آر کوایک جگہ کردی جائے۔صحافی ارنب گوسوامی کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی نظیر موجود ہےکہ جس میں عدالت نے کہا تھا کہ ایک ہی جرم کے معاملے میں مختلف سزائیں نہیں ہوسکتی ہے۔تاہم سپریم کورٹ نے اس معاملے میں نوپور شرما کو کسی قسم کی رعایت دینے سے انکار کرتے ہوئے شرما پر سخت تبصرے کئےاور مذہبی جذبات کو بھڑکانے اور نفرت انگیزی کے خلاف عدالت کے رخ کو پیش کرنے کی کوشش کی۔جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جے پی پردی والا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ ’’نوپور شرما کے بیانات کی وجہ سے ملک میں افسوسناک واقعات رونما ہوئے ہیں۔یہ ریمارکس یا تو سستی تشہیر، سیاسی ایجنڈے یا کچھ مذموم سرگرمیوں کے لیے دیا گیا ہے۔ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اسکی ذمہ دار یہ خاتون اکیلی ہے۔ ہم نے اس ٹی وی بحث کو دیکھا کہ اسے کس طرح اکسایا گیا۔ لیکن جس طرح اس نے یہ سب کہا اور بعد میں بھی کہتی رہی وہ شرمناک ہے۔دررحقیقت نوپور شرما نے ایک ڈھیلی زبان کا استعمال کیا اور اس نے ٹی وی پر غیر ذمہ دارانہ بیانات دیے ہیں اور پورے ملک میں آگ لگا دی ہے۔ اس کے باوجودوہ دعویٰ کررہی ہیں کہ وہ گزشتہ دس سالوں سے وکالت کررہی ہیں ۔انہیں پورے ملک سے اپنے تبصروں کے لیے فوری طور پر معافی مانگنی چاہیے ۔‘‘شرما کی معافی بہت دیر سے آئی اور وہ بھی مشروط۔پٹیشن سے تکبر کا احساس ہوتا ہے اور وہ سمجھتی ہیں کہ مجسٹریٹ ان کے سامنے بہت چھوٹا ہے۔جب ایف آئی آر درج کی جاتی ہے اور آپ کو گرفتار نہیں کیا جاتا ہے، تو یہ آپ کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ سوچتی ہیں کہ اس کے پاس بیک اپ کرنے کی طاقت ہے اور اس لئے وہ غیر ذمہ دارانہ بیانات دیتی ہیں۔ اگر آپ کسی پارٹی کے ترجمان ہیںتوآپ کو مذہبی توہین اور لوگوں کی دل آزاری کی کھلی چھوٹ نہیں ہے۔اگر بحث کا غلط استعمال ہورہا ہے تو سب سے پہلے نوپور شرما کو ان اینکروں کے خلاف ایف آئی آردرج کرانی چاہیے تھا۔ٹی وی بحث کس لیے تھی؟ زیر سماعت موضوع کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ جو معاملہ زیر سماعت ہے اس پر بحث کرنا ٹی وی چینل کا کیا کام ہے؟ صرف ایک ایجنڈے کو فروغ دینے کے لئے یہ مباحثہ رکھا گیا ہے۔‘

عدالت کے اس تبصرے کے بعد نوپور شرما کے وکیل نے عرضی واپس لے لی ، مگر سپریم کورٹ نے عرضی واپس لینے کی جو تحریری اجازت دی اس میں ان کا یہ تبصرہ اس فیصلے کا حصہ نہیں تھا۔ظاہر ہے کہ ایسے میں یہ سوال لازمی ہے کہ تحریری شکل میں نہیں ہونے کی صورت میں اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟کیا یہ فیصلہ مستقبل میں نظیر بن سکتا ہے۔ناگپور میں ممبئی ہائی کورٹ بنچ میں سینئر وکیل فردو س مرزا کہتے ہیں کہ ’’
توہین مذہب اور نفرت انگیزی بہت ہی سنگین مسئلہ ہے۔اس سے قبل سپریم کورٹ نے نفرت انگیز بیانات کو بہت ہی سنجیدگی سے لیتے ہوئے نہ صرف نفرت انگیز بیانات کی تشریح کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کاسلسلہ نفرت انگیز بیانات سے شروع ہوتا ہے اور قتل عام پر جاکر منتج ہوتا ہے۔اسی طرح تحسین پونے والے کیس میں عدالت نے ایک بار پھر نفرت انگیز بیانات پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے موب لنچنگ کے خلاف قانون سازی کی ہدایت دی تھی ۔اس لئے مجھے لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کو اپنے اس تبصرے کو فیصلے کا حصہ بنانا چاہیے تھا۔یہ بہتر ین موقع تھاکہ سپریم کورٹ حکومت سے پوچھتی کہ اس نے اب تک نفرت انگیز بیانات کے خلاف قانون سازی کیوں نہیں کی؟ کیوں کہ ملک میں اس وقت نفرت انگیز بیانات کے خلاف مستقل کوئی قانون نہیں ہے۔دو فرقوں کے درمیان نفرت پھیلانے اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے دفعات کے تحت کارروائی کی جاتی ہے جب کہ نفرت انگیز بیانات کا معاملہ اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔مجھے سپریم کورٹ کا فیصلہ کچھ ادھوراسا معلوم ہوتا ہے۔سپریم کورٹ نے ایک اچھا موقع ضائع کیا ہے۔ وہ حکومت سے کہتی کہ اگر آپ قانون صحیح وقت میں بناتے تو شاید اتنی جگہ فسادات نہیں ہوتے۔مگرچوں کہ ہم سب سسٹم سے اتنے مایوس ہوچکے ہیں کہ تھوڑی سی امید کی کرن نظرآتی ہے تو ہم خوش ہوجاتے ہیں ۔

کیا نیوز چینلوں کی فرقہ واریت پر لگام لگایا جائے گا
سپریم کورٹ نے اپنے تبصرے میں نیوزچینل پر ہونے والی ڈبیٹ پر بھی سخت تبصرے کئے ہیں ۔یہ سوال کیا کہ’’ عدالت میں زیر غور معاملات کو ٹی وی چینلس کس طرح اپنی بحثوں کا حصہ بناسکتے ہیں ؟۔اس کا مقصد کیا ہے؟۔کیا اس کا مقصد ایجنڈا چلانا ہے‘‘۔سپریم کورٹ کے تبصرے کا یہ حصہ اس لئے بھی اہم ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے یہ ٹی وی نیوز چینلس ایک خاص ایجنڈے کے تحت ملک کے حقیقی مسائل پر بحث و مباحثہ کے لئے موضوع کا انتخاب کرنے کے بجائے ایسے ایسے موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں جس میں ملک میں فرقہ واریت اور نفرت انگیز کا پھیلنا لازمی ہے۔حال ہی انگریزی نیوز پورٹل ’’نیوز لونڈری ‘‘نے مارچ 2022سے 19جون 2022تک کے درمیان ملک کے مشہور نیوز چینلوں پر ہونے والے ٹی وی مباحثہ کا تجزیہ پیش کیا ہے ۔جس میں بتایا ہے کہ گزشتہ تین مہینوں میں ان نیوز چینلوں کن کن موضوعات پر ڈبیٹ کیا ہے۔زیادہ تر نیوز چینلوں پر ان تین مہینوں میں مہنگائی ،بے روزگاری ، تعلیم کے پرائیوٹائزیشن اور دیگر حقیقی مسائل پر نہ بہترین رپورٹنگ ہوئی ہے اور نہ ہی اس پر ماہرین کے ساتھ بحث ڈبیٹ کیا ہے۔بلکہ بیشتر نیوز چینلوں نے ہندو مسلمان کے موضوع پر زیادہ ڈبیٹ کئے ہیں ۔نیوز لونڈری کے مطابق ’’زی نیوز ‘‘ پر ان تین مہینوں میں کل 73بحثیں ہوئیں جس میں 28بحثیں ہندو مسلمان کے عنوان سے ہوئی ہیں ۔ٹائمس نائو (نوبھارت )پر کل68بحثیں ہوئی جس میں 29بحثیں ہندو مسلمان سے متعلق تھیں۔ری پبلک بھارت پر کل 90بحثیں ہوئیں جس میں 45بحثیں ہندو مسلمان کے نام پر ہوئی ۔نیوز 18انڈیا کل 68بحثیں ہوئی جس میں 45ہندو مسلم کے نام پر تھی۔مشہور ہندی نیوزچینل آج تک پر کل 88بحثیں ہوئی جس میں 45اسی موضوع پر تھا۔انگریزی نیوز چینل ری پبلک پر 182بحثیں ہوئی جس میں 60اس موضوع پر تھا۔اے بی پی نیوز چینل میں 68میں سے 39بحثیں ہندو مسلم کے نام پر کیا گیا۔این ڈی ٹی وی نے 77بحثوں میں سے 23بحثیں فرقہ واریت کے خلاف کیا ہے۔یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں ملک کے قومی نیوز چینلس کس ایجنڈے پر کام کررہیں ہے۔الہ آباد میں جے این یو کی سابق طالبہ آفرین فاطمہ کے گھر پر بلڈزور چلانے کی خبر کوجس طریقے سے نیوز چینلوں نے پیش کیا وہ ہندوستانی صحافت کیلئے شرمنا ک ہے۔مگرایسے میں یہ سوال لازمی ہے کہ اس پر لگام کون کسے گا۔کیا ملک میں ایسا کوئی ادارہ ہے جو نیوز چینلوں کے رویے پر لگام لگاسکے۔وہ بھی اس وقت جب نیوز چینلوں کے درمیان ہندتو اور حکومت کے طرفدار ہونے کو ثابت کرنے کی ہوڑ لگی ہو۔
عدالت کے فیصلے کے بعد نیوز چینلوں اور ڈی جیٹل میڈیا پر جس طریقے سے عدالت اور اس کے ججوں کی کردار کشی کی گئی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔اس کا احساس خود بنچ کے جج جسٹس جے بی پردی والاکو ہے انہوں نے آج ایک تقریب میں اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوا ل کیا کہ کیا ملک کی عدالتوں کو میڈیا کے مزاج کو دیکھ کر فیصلے کرنے ہوں گے ۔چاہے قانون کے تقاضے کچھ بھی ہو۔جسٹس جے بی پردی والا کہتے ہیں کہ عدالتوں کے فیصلے کا تجزیہ کرنے کے اختیارات کو نہیں چھین سکتا ہے مگر میڈیا ٹرائل عدالت کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت ہے اور یہ لکشمن ریکھا ہے جسے عبور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے‘‘۔
محمد زبیر کی گرفتاری :کیا ملک میں دو طرح کے قوانین ہیں؟
الٹ نیوز کے بانی ایڈیٹر محمد زبیر کی گرفتار ی ملک کے نظام عدل پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں ۔نوپور شرما کے معاملے کو پورے ملک کے سامنے لانے والوں میںا ہم کردار ادا کرنے والے محمدزبیر دائیں بازو کے نشانے پر کافی عرصے سے تھے۔ان کے خلاف ہندو یوا واہنی گجرات کے ٹوئیٹر ہینڈل سے مسلسل مہم چلائی جارہی تھی اور ہندو واہنی کی شکایت کی بنیاد پر ہی چار سال پرانے ایک ٹوئیٹ جس میں کوئی بھی مذہبی تبصرہ نہیں کیا گیا تھا بلکہ ایک فلم کی کلپ شیئر کیا گیا کو بنیاد بناکر دہلی پولس نے گرفتار کرلیا۔دہلی پولس کے کردار پر زیادہ بات کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔اس معاملے میں ذیلی عدالت کا رویہ تشویش ناک ہے۔سنیچر کو محمد زبیر کی پولس تحویل کی مدت مکمل ہورہی تھی ۔انہیں عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔عدالت نے شام 7بجے اس پر اپنا فیصلہ سنا یا مگر ٹی وی نیوز چینلوں اور دیگر میڈیا پلیٹ فارم پر سہ پہر تین بجے کے بعد سے ہی محمد زبیر کو جیل بھیجنے کی خبر چلنے لگی تھی۔یہ صورت حال ملک کے نظام عدل پر کئی اہم سوالات کھڑے کرتے ہیں؟ ملک کی عدالتوں کو کون چلارہا ہے۔عدالت کے فیصلوں کوقبل از وقت کون عام کررہا ہے؟ ملک کے مشہور وکیل وراجیہ سبھا کے ممبر پارلیمنٹ کپل سبل کہتے ہیں کہ عدلیہ نے جس طریقے سے قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی کے معاملات پر آنکھیں بند کرلی ہیں ۔اس کی وجہ سے میں نے شرم سے سر جھکالیاہوں۔میں بھی گزشتہ 50سالوں سے عدلیہ کا حصہ رہا ہوں۔محمد زبیر کو قید میں رکھنے کیلئے دہلی پولس کے پاس کوئی جواز نہیں تھا۔اس لئے زبیر کے خلاف دوسرے ثبوت تلاش کئے جارہے ہیں ۔ان دنوں جانچ ایجنسی پہلے ایک شخص کو گرفتار کرتی ہے اور پھر اس شخص کے خلاف ثبوت تلاش کرتی ہیں۔یہ رجحان انتہائی خطرناک ہے۔

اودے پور قتل ۔کیا یہ کسی سازش کا حصہ ہے؟

راجستھان کے ادوے پور میں محمد ریاض عطاری اور محمد غوث کے ہاتھو کنہیالال کا قتل ،پھر اس کی ویڈیو گرافی اور اس کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا جانا انتہائی افسوس ناک ہے، کوئی بھی مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا ہے۔مگراس واقعے کے رونماہونے کے بعد ریاض عطاری جس کا تعلق بریلوی مکتبہ فکر کے دعوت اسلامی گروپ سے ہے کے بہانے جس طریقے سے’’د عوت اسلامی گروپ‘‘ کا میڈیا ٹرائل شروع کیا گیا ہے اس سے یہ شک ہوتا ہے کہ کہیں یہ واقعہ کسی سازش کا حصہ تو نہیں ہے۔دعوت اسلامی گروپ کی گرچہ شروعات پاکستان میں مولانا الیاس قادری عطاری نے کی مگر ہندوستان کی دعوت اسلامی گروپ کااب اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔دوسرے یہ کہ یہ گروپ تبلیغی جماعت کی ہی طرح سیاسی معاملات سے خود کو دور رکھتی ہے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق الیاس قادری عطاری اور ان کی جماعت مکمل طور پر غیر سیاسی ہے اور آج تک کسی بھی سیاسی معاملات یا پھر کسی بھی طرح کے احتجاج کا حصہ نہیں رہی ہے۔ دو سال قبل اسی راجستھان کے راجسمندمیں بنگالی مزدور افرازل اسلام کا ایک ہندو نوجوان شمبھو ناتھ نے بہیمانہ انداز میں قتل کیا اور ایک 8سالہ لڑکے سے اس کی ویڈیو گرافی کرکے ویڈیو کو وائرل کیا۔بعد میں شمبھو کو ہیرو بناکر پیش کیا گیا۔درگا پوجا کے موقع اس کی مورتی کی جھانسی نکالی گئی۔ اس وقت کسی نے بھی شمبھو ناتھ کے حوالے سے کسی بھی ادارے کا میڈیا ٹرائل نہیں کیا تھاجب کہ دونوں واقعہ ایک ہی نوعیت کا ہے۔

اس معاملے میں دو ایسے حقائق سامنے آئے ہیں جو اس واقعے کے سازش کا حصہ ہونے کے شبہ کو یقین میں تبدیل کرتے ہیں۔ ریاض عطاری کا سیاسی تعلق اور کنہیا لال کے بیٹوں کا یہ دعویٰ کہ پڑوس کے لڑکے نے بابا کا موبائل لے کر نوپور شرما کی حمایت والے پوسٹ کو شیئر کیاتھا ۔ریاض عطاری بی جے پی کا ورکر رہا ہے اور وہ بی جے پی کے پروگراموں میں شریک ہوتا رہا ہے۔بی جے پی اقلیتی مورچہ کے مقامی صدر کے ذریعہ بی جے پی کے ممبر اسمبلی اور سابق ریاستی وزیر داخلہ کے ساتھ تصاویر اس کی سیاسی پہنچ کو واضح کرتے ہیں ۔ایسے میں یہ شبہ ہونا یقینی ہے کہیں محمد ریاض عطاری کا استعمال تو نہیں کیا گیا ہے؟ کہیں تیسرے کردار نے اس کے مذہبی جذبات کو بھڑکاکر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش تو نہیں کی ہے؟چوں کہ اگلے چند مہینے بعد راجستھان میں اسمبلی انتخاب ہونے والے ہیں۔

اودے پور قتل کے بعد لبرل دانشوروںنے جس طریقے سے ہندوستان کے اسلامائزیشن کے حوالے سے سوالات کھڑے کئے ہیں وہ تعجب خیز ہیں ۔انڈین ایکسپریس میںاودے پور سانحہ کے بہانے بھانوپرتاب مہتااور تلوینی سنگھ جیسے معتدل مزاج کالم نویسوں نے اپنے کالم میں توہین رسالت کے خلاف قوانین، مدارس کے نصاب تعلیم اور مسلم نوجوانوں کے درمیان مذہبی شدت پسندی کے حوالے سے گفتگو کی ہے وہ یہ ثابت کرتے ہیں ملک کا لبرل طبقہ بھی اسلامو فوپیا کا شکار ہے۔ان دونوں نے بین السطور کے ذریعہ اس پورے واقعے کیلئے مدارس کے نصاب کو ذمہ دار ٹھہراتے علما سے خود تبدیل کرنے یا پھر حکومت سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ساتھ ہی ان دونوں نے توہین مذہب کے خلاف کسی بھی قسم کی قانون سازی کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی پرروک نہیں لگائی جاسکتی ہے ۔تلوینی سنگھ تو ایک قدم آگے بڑھ کر ہری دوار ، دہلی اور دیگر مقامات پر دھرم سنسد کے ذریعہ مسلمانوں کے قتل عام کی اپیل کو سادھو اور سنتوں کا ذاتی فعل قرار دیتی ہیں مگر محمد ریاض اور محمد غوت کے عمل کو اسلامی تعلیمات کا نتیجہ قرار دیتی ہیں۔ان دونوں کا بہترین جواب دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروا آنند نے دیا ہے انہوں نے لکھا ہے کہ مسئلہ قانون سازی سے کہیں زیادہ مساوات کا ہے۔اسی ملک میں بین المذاہب شادی، تبدیلی مذہب کے خلاف قانون ہے تو پھر کیا توہین رسالت کے خلاف کیوں نہیں ؟علاوہ ازیں اظہار رائے کی آزادی کے نام پر مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کی کھلی چھوٹ نہیں دی جاسکتی ہے۔دوسری سب سے اہم بات مساوات کا بھی مسئلہ ہے ۔ایک ہی طرح کے جرم میں صرف مذہبی بنیاد پر پولس کا کردار الگ الگ ہوتے ہیں۔محمد زبیر قید میں ہیں جب کہ نوپور شرما آزاد ہے۔اودے پور قتل کے ملزمین کو مذہب سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔مگر موب لنچنگ ، گائے گشی کے نام پر مسلمانوں کوبرسرعام مارنے والوں کے خلاف پولس ، میڈیا اور عوام کا رویہ نرم ہوتا ہے۔کنہیا لال کے قتل نکلنے والے جلوس دراصل اس قتل کے خلاف نہیں بلکہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا اظہار ہے ۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین