یونیفارم سول کوڈ ہمارے لئے قابل قبول نہیں– مسلم پرسنل لا بورڈ کے وفدکی لا کمیشن سے ملاقات

0
332

نئی دہلی،24 اگست،2023
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے گذشتہ کل لا کمیشن کے چیئر مین، دیگر ممبران اور افسران سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور یونیفارم سول کوڈ پر بورڈ کے موقف کو پیش کیا نیز ایک یاد داشت بھی چیئر مین کو پیش کی۔بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے پریس کو بتایا کہ وفد کی قیادت بورڈ کے صدر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کی اور وفد میں پروفیسر ڈاکٹر سید علی محمد نقوی (شیعہ طبقہ) اور انجینئر سید سعادت اللہ حسینی ( امیر جماعت اسلامی ہند)، نائب صدور، بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی، سینئر ایڈوکیٹ جناب یوسف حاتم مچھالا، مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی( امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند)، ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد (شاہی امام مسجد فتح پوری)، ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد (چیف ایڈیٹر لا جرنل)، ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس (ترجمان بورڈ)، پروفیسر مو نسہ بشری عابدی (ممبر ورکنگ کمیٹی) اور ایڈوکیٹ نبیلہ جمیل (ممبر بورڈ) شامل تھے۔ یہ ملاقات لا کمیشن کے چیئرمین کی دعوت پر ہوئی تھی۔

سب سے پہلے لا کمیشن کے چیئرمین نے اپنا اور لا کمیشن کے دیگر ذمہ داران کا تعارف پیش کیا۔ بورڈ کی جانب سے ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے سب سے پہلے مسلم پرسنل لا بورڈ کا اجمالی تعارف پیش کیا بعدازاں صدر ، دیگر ذمہ داران اور ارکان بورڈ کا تعارف پیش کیا۔جب لا کمیشن کے چیئرمین نے یونیفارم سول کوڈ پر بورڈ کا موقف جاننا چاہا تو صدر بورڈ نے تفصیل سے اس پر اظہار خیال کر تے ہو ئے بتایا کہ ایک ایسے ملک میں جس میں مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے لوگ رہتے ہوں، سب کے لئے یونیفارم سول کوڈ بنانا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔ اس لئے بھی کہ ہر طبقہ اور مذہبی گروہ کو اپنے رواج اور کسٹم سے لگائو ہو تا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ان کا پرسنل لا قرآن و سنت پر مبنی ہو نے کی بناء پر ان کے لئے کو ئی بھی ایسا قانون جو قرآن و سنت سے متصادم ہو ہر گز بھی قابل قبول نہیں ہو سکتا۔آپ نے بتایا کہ قانون شریعت کے دو بنیادی ماخذ ہیں۔ ایک قرآن و سنت اور دوسرا قرآن و سنت کی روشنی میں کیا گیا اجتہاد۔ جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے وہ مسلمانوں کے لئے حکم کا درجہ رکھتا ہے، البتہ وقت اور حالات کی مناسبت سے علماء کے اجتہادات میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔

مولانا نے آگے فرمایا کہ21 ویں لا کمیشن نے ہمارے سامنے متعین سوالات رکھے تھے اور دوبار لا کمیشن کے ساتھ ملاقات میں ہم نے ہر سوال کا قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دیا تھا، جسے بعد میں تحریری شکل میں بھی داخل کر دیا گیا۔ توقع تھی کہ 22 واں لا کمیشن بھی اسی طرح مسلم پرسنل لا کے تعلق سے ان کے جو سوالات ہیں، اسے پیش کرے گا اور اس پر ہم سے جواب طلب کر ے گا۔ تاہم اس بار لا کمیشن نے اہل ملک سے یو سی سی پر ان کا موقف جاننا چاہا ہے۔ جو کہ ہم نے تفصیل سے اور ہماری درخواست پر لاکھوں مسلمانوں نے لا کمیشن کو فراہم کر دیا ہے۔

لیگل کمیٹی کے کنوینر جناب ایڈوکیٹ یوسف حاتم مچھالا نے کہا کہ حکومت نے یونیفارم سول کوڈ پر جو تین رکنی کمیٹی بنائی ہے اس کے کنوینر جناب سشیل مودی نے پریس میں کہا ہے کہ یوسی سی سے قبائلی طبقات اور شمال مشرقی ریاستوں کے عیسائی مستثنیٰ ہو ں گے۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ پھر مسلمان کو اس سے کیوں استثناء نہیں دیا جا رہا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ صرف مسلمانوں کو ہی یوسی سی کا ہدف بنایا جائے گا۔ حکومت کے پاس کون سے اعداد شمار ہیں جس کو سامنے رکھ کر وہ پرسنل لاز میں تبدیلی کر نا چاہتی ہے۔ اس موقعہ پر مداخلت کر تے ہوئے لا کمشن کے چیئرمین نے کہا کہ متعین طور پر بتائیے کہ بچیوں کی کم عمری میں شادی پر آپ حضرات کی کیا رائے ہے۔ اس پر صدر بورڈ نے اظہار خیال کر تے ہو ئے کہا کہ اسلام نے شادی کی کوئی عمر متعین نہیں کی ہے۔ یہ بتایا گیا ہے کہ جب عورت اور مرد شادی کے تقاضے پورے کر نے کے قابل ہو جائیں تو وہ شادی کر سکتے ہیں۔ اس موقعہ پر قاسم رسول الیاس نے کہا کہ شادی کے لئے بلوغت کو معیار بنایا گیا ہے تاہم اگر آپ مسلم معاشرہ کا جائزہ لیں گے تو پائیں گے کہ عام طور پر جب لڑکیاں تعلیم سے فارغ ہو تی ہیں تو ان کی شادی بالعموم 18 سال کے بعد ہو تی ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ یوسف حاتم مچھالانے کہا کہ جہاں تک کم عمری کی شادی کی بات ہے اس کا انحصار سماجی و اقتصادی صورت حال پر ہے۔ جن لوگوں کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر ہے وہاں اس کا رواج نہیں ہے۔ لہذا اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت لوگوں کی سماجی و اقتصادی حالت بدلنے کی طرف توجہ دے گی۔ ہمارے نزدیک یو سی سی دراصل مسلمانوں کی دینی شناخت کو متأثر کر نے کا ایک بہانہ ہے۔ مچھالا صاحب نے کہا کہ ہندو کوڈ بل میں ہندوئوں کو HUF (Hindu Individed Family) کے تحت جو رعایت دی جاتی ہے اس سے ملک کا ٹیکس(Revenue) بہت متأثر ہو تا ہے۔

اس پر چیئرمین لا کمیشن نے کہا کہ آپ کے پاس کو ئی ڈاٹا ہے۔ اس پر جناب یوسف حاتم مچھالا نے جسٹس و انچو کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیا۔ پھر یہ دریافت کیا کہ اگر حکومت یونیفارم سول کوڈ لا نے پر مصر ہے تو کیا وہ HUF کو ختم کر ے گی یا اس کا فائدہ سب کو پہنچائے گی۔ اس پر چیئرمین نے کہا کہ یہ ہمارا کام نہیں ہے اس کا تعلق انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ سے ہے۔ کمیشن نے جب متعہ شادی پر سوال اٹھایا تو اس کا جواب دیتے ہو ئے پروفیسر سید علی محمد نقوی نے کہا کہ یہ اجازت استثنائی صورت کے لئے ہے اور اب یہ تقریباََ ختم ہو چکا ہے۔ نہ ہندوستان میں اور نہ ہی ایران میں اس کا چلن ہے۔ ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد نے کہا کہ متعہ شادی کا اب کوئی چلن نہیں ہے تاہم میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ جب سپریم کورٹ لیون ریلیشن شپ(Live in Relationship) جائز مانتا ہے اور بغیر شادی کے چند ماہ، چند مہینہ، چند سال یا تمام عمر ساتھ رہنے کی اجازت دیتا ہے تو اس صورت میں متعدد شادی پر اعتراض کیوں؟
ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد نے کہاکہ خود ہمارا دستور بھی یونیفارم نہیں ہے اور تنوع کو پسند کر تا اور اس کو تحفظ دیتا ہے۔

چیئرمین اوستھی نے کہا کہ ہم شریعت کے کسی مسلم قانو ن کو متأثر نہیں کر نا چاہیں گے لیکن جو غلط باتیں در آئی ہیں ان کو ایڈریس کر نا چاہتے ہیں مثلاََ جنسی تفریق یا صنفی مساوات، قانون کی نگاہ میں مرد و عورت کی برابری کا مسئلہ، بچے کو گود لینے کا مسئلہ وغیرہ، اسلام گود لینے کے تصور کے مخالف ہے تاہم کو ئی گود لینا چاہے تو اس کو منع بھی کر تا ہے۔ اس پر اگر کو ئی چیز لائی جاتی ہے تو آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہو نا چاہیے۔ صدر بورڈ نے کہا کہ یتیم و نادار بچوں کی پرورش و کفالت پر اسلام نے بہت زور دیا ہے تاہم وہ گود لینے کے ایسے تصور کے مخالف ہے جس میں گود لئے ہوئے بچے کی حیثیت حقیقی اولاد کی ہوجائے۔ اس سے شریعت کے بہت سے احکام متأثر ہو جاتے ہیں بالخصوص جائیداد کی تقسیم کا معاملہ، یا محرم و نامحرم کے مسائل وغیرہ۔

پروفیسر مونسہ بشری عابدی نے کہا کہ اسلام صنفی مساوات کے بجائے انصاف کی بات کر تا ہے۔ اسلام میں عورت پر کوئی خانگی ذمہ داری نہیں ہے۔ بیوی بچوں کی کفالت، اپنے ماں باپ کی کفالت اور گھر چلانے کی پوری ذمہ داری مرد پر ہے۔ عورت اگر کو ئی ملازمت کر تی ہو یا اس کی کو ئی جائیداد ہو تب بھی مرد اسے مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ گھر چلانے میں اس کا ہاتھ بٹائے۔ عورت پوری طرح اپنے مال میں تصرف کا بھی اختیار رکھتی ہے۔ دوسری طرف نہ صرف باپ کی جائیداد میں سے حصہ ملتا ہے بلکہ اپنے شوہر، اولاد اور بھائی کی جائیداد میں بھی اس کا حصہ متعین ہے۔ اس طرح اسلام میں جہیز کا کو ئی تصور نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس شادی کے وقت مرد اپنی منکوحہ کو مہر دیتا ہے۔

گفتگو میں مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، محترمہ نبیلہ جمیل نے بھی حصہ لیا۔
آخر میں ایک بار پھر صدر بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحما نی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ قرآن و سنت کے جو احکامات ہیں وہ ہمارے ایمان کا حصہ ہیں ہم اس میں کسی بھی ردوبدل کے نہ خود مجاز ہیں اور نہ ہم کسی اور کو اس کی اجازت دے سکتے ہیں، نکاح و طلاق، وراثت وغیرہ کے احکامات(Shariat Application Act 1937 ) کے تحت ملک میں تسلیم شدہ ہیں۔ قانون شریعت، رواجی قانون نہیں ہے بلکہ اللہ اور رسول کی طرف سے ودیعت کردہ ہے، ملک کے دستور کے بنیادی حقوق کے باب میں بھی اسے تسلیم کیا گیا ہے۔

آخر میں بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے بورڈ کی طرف سے تیار کردہ جواب تحریری طور پر چیئرمین لا کمیشن کو پیش کیا۔ چیئرمین لا کمیشن نے صدر بورڈ و دیگر ارکان وفد کا شکریہ ادا کیا۔ صدر بورڈ نے بھی