للک سے دریافت کی طرف بڑھتا تازہ کار: اقبال احمد قمر

0
59

عالیہ خان، پٹنہ، بہار

زندگی کی للک،بھیڑ میں بھی تنہائی کا احساس، بدلتے ھوئے انسانی رویے، خوف اور بے خوفی کا تصادم،امان کی جستجو، انسانی مزاج میں رچی بسی ضابطہ شکنی،وقت کا بہاؤ اور تسلسل اور داخل میں اتھل پتھل مچاتی بے چینی کے ساتھ ذات ، حیات اور کائنات کو اپنی بساط بھر سمجھنے، برتنے اور بیان کرنے کی کاوش اقبال احمد قمر کی غزلوں کی قرات کے دوران انکے حاوی موضوعات کے طور پر شناخت میں آتے هیں۔
لیکن یہی سب ُیا ان سے مشابہ بہت کچھ یعنی زندگی کا پھیلاؤ اور مار اور اسی کے ساتھ اپنے عہد کے جبر اور اُسے جھیل جانے کی جستجو یھی تو ادب کے موضوعات ھوتے ھیں ۔ پھر ایسا کیا ھے جو اقبال احمد قمر کے قاری کو زیادہ دلکش لگے۔ شاید اُن کا زندگی کیلئے مثبت رویہ۔ اُن کی مہذب للک۔ کچھ چیزوں کو کل کے طور پر سمجھ لینے کے قریب پہنچی ہوئی دانش ۔ ان سب کی تحریک دینے والی ایک ہی چیز ھے للک۔
للک ویسے بھی شاعری کرنے سے زیادہ زندہ رہنے کیلئے لازمی قدر ہے۔ للک, آسودگی اور بے نیازی اردو شاعری میں عمر کے مدارج کے ساتھ یہ تین مراحل سامنے آتے رہے ھیں۔ اقبال احمد قمر کا للک کا مرحلہ اپنے ہونے کا اعلان کرنے میں بھی یقین رکھتا ھے۔

کہ دل چسپی رہے دنیا میں باقی
کوئی ان دیکھا منظر دیکھنا ھے

کسی ان دیکھے منظر کے دیدار کی یہ آرزو بھی تب تک کوئی انوکھی چیز نہیں جب تک کہ کچھ دریافت نہ ہو جائے۔ البتہ اس کا کھلا اظہار دائمی دلچسپی کا احاطہ کرتا ھے۔ جبکہ عملی تجربہ اُس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے۔ کسی نئے منظر کی دریافت کی بجائے دیکھے ھوئے کی تکرار۔ ان دیکھے کی تلاش میں دیکھے بھالے کے درمیان اور گرد و پیش سے گزرنے کا مسلسل تجربہ دربپش ھو تو للک تب اور بڑھ جاتی ھے۔ دریافت کی ضد اور بڑھا دیتی ھے۔

ایک سے منظر ایک سا نقشِہ دیس کہو پر دیس کہو
ایسا لگتا ھے یہ ساری دنیا دیکھی بھالی ھے

ہر چہرے میں ایک ہی چہرہ کب تک دیکھوں
ہر منظر میں ایک ہی منظر ٹھہر گیا ھے

اقبال احمد قمر پاکستان سے جاکر بہ سلسلہ معاش سعودیہ میں آباد ہوئے ھیں۔ وہ کسی فرم میں ايكزی کیو ٹیو ھیں اور گروپ لیڈ کے طور پر اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ھیں ۔ عملی زندگی میں للک سے آسودگی یا ودریافت کی طرف بڑھنے کے مرحلے میں۔
چونکہ اقبال احمد قمر کو شاعری وراثت میں ملی ھے اس لئے وہ لفظ اور معنیٰ
کا احترام خوب کرتے ھیں۔ لفظ کو اُس کی صوتی اور صوری پاکیزگی اور معنوی اور متنی طہارت کے ساتھ برتنے پر اصرار اور ترجیح اُن کو لسانی توڑ پھوڑ کی طرف مائل نہیں کرتی اس لئے اظہار کی سطح پر ایک خوش انداز ہمواری اور افکار کی سطح پر ایک مہذب نرم گفتاری اُن کی پہچان کے حوالے بننے آ جاتی ھیں۔وہ شعر عموماً سادہ، سلیس، اور سہج ڈھنگ سے نکالتے ھیں۔ لفظ کو اُس کے طے شدہ معنی میں استعمال کرنے اور اس کو زیادہ گہری معنویت دینے پر زور صرف کرتے ھیں جس سے چستی اور برجستگی دونوں خوبیاں از خود شعر میں در آتی ھیں۔ وہ بعض اوقات بہت مشترک یا آفاقی تجربہ بھی بڑی سادگی سے نظم کر لیتے ھیں۔

ترے مل کر بچھڑ نے سے بھی پہلے
میں تنہا تھا مگر ایسا نہیں تھا

اقبال احمد قمر کی غزلیہ شاعری میں شائستگی اور شرافت کا رنگ نمایاں نظر آتا ھے۔وہ زندگی کو اُس کی نزاکتوں اور نفاستوں کے ساتھ برتتے ھوئے خوب صورت شعری اظہار کی راہیں نکالتے اور قاری ُُیاسامع کے دل تک پہنچتے ھیں۔ انکے پاس تجربے منفی بھی ہیں اور مثبت بھی مگر اُن پر رد_عمل میں جھلاھٹ یا جلاپا کا احساس نہیں۔ چیزوں کو انکے منطقی روپ میں دیکھنا اور اسی جذبہ کے ساتھ قبول کرنا اُن کا مزاج بنا ھوا ھے جس کی بنا پر عشق اور انسان کی سمجھ میں وہ ایک دریافت کے قریب ھیں اور سخت مراحل سے بھی آسانی کے ساتھ گزر جاتے ھیں اور آسانی تو خیر مسرت کے ساتھ ہی اپنا سفر طے کرتی ھے۔

اس لئے لڑنا پڑے گا آخری دم تک مجھے
زندگی سے بھاگنے کا راستہ کوئی نہیں

امان کی جستجو میں اتنا ڈرا ھوا تھا
کہ لڑکھڑاتی چٹان کی زد میں آ گیا ھوں

ھمارے خوف نے ھم کو ڈبویا
سمندر میں بھنور ایسا نہیں تھا

میں بچّوں کی طرح سب جاننا چاھوں اور آنکھوں میں
تجسس کی وہی جھلمل ھے اس کے بعد کیا ھوگا

اُداس شاخوں میں چھپ چھپ کے رو رہی ھے ھوا
شجر سے پھر کوئی پتّہ بچھڑنے والا ھے

رشتوں کے انبار لگا کر بیٹھا ھے
انساں اپنی ذات میں کتنا تنہا ھے

اقبال احمد قمر کی شاعری میں عہد _ حاضر کی زندگی یا ماڈرن لائف کے رویوں کی جھلک بھی عمدگی کے ساتھ نظر آتی ھے۔ کچھ روش رفتار_ زمانے سے قدم ملائے رکھنے کی مجبوری سے اپنائی ھوئی ھے اور کچھ زندہ رہنے کیلئے انحراف پر آمادگی کی مصلحت کے ساتھ آئی ھوئی ۔

مزاج اپنا ہی آوارہ تھا ورنہ
ہماری کم نگہبانی نہیں تھی

گھٹن بڑھنے لگی ھے اپنے اندر
چلو آؤ چلیں باہر ھوا میں

میں نے تو بس اندھیرے میں پھینکا تھا ایک تیر
اور سادگی سے بات وہ ساری اگل گیا

اتنا مشکل بھی نہیں ھوں کہ کبھی ہاتھ نہ آؤں
اتنا آسا ں بھی نہیں ھوں کہ اٹھا لے کوئی

کسی کی راہ میں بے رہ روی بھی ایک نعمت ھے
کہ سیدھے راستے کا ہر سفر اچّھا نہیں لگتا

اقبال احمد قمر کو شاعری میں کچھ انوکھا اور نیا بھی پیش ھوا ھے۔ وہی للک جو اُن کے بیان کا لازمی جز ھے صورت بدل کر نئے شعری پیکر میں ڈھلنے سے پہلے ایک بڑے انسانی تجربہ میں بھی آشکارا ھوتی ھے۔

نہ جانے کون سی منزل نظر میں تھی اُس کی
سفر کو چل دیا پھر، گو سفر سے آیا تھا

وہ کہیں کہیں بہت نرم اور لطیف جذبوں سےبھی گزرتے اور اپنے قاری کو اُس کے تجربہ میں شریک کرتے ھیں۔

میں اس گماں پہ گزرتا ھو ں اُس کے کوچے سے
وہ میرے قدموں کی آہٹ سے آشنا ھوگا

اب تو اس نہج پہ آ پہنچی ھے تنہائی قمر
آئینہ بھی ھو مقابل تو گوارا کر لوں

اس سلسلہ میں غزلوں اور اشعار کے درمیان سے گزرتے ھوئے ایک مرحلہ آتا ھے جب اقبال احمد قمر کو زندگی کی مکمل سمجھ یعنی اپنے آپ میں ایک چھوٹی سی دریافت کے قریب بھی دیکھا جا سکتا ھے۔ بیدار ذھن بہت دیر تک کنفیوزن میں نہیں رہتا اُسے صراحت کی تلاش ہوتی ھے اور کسی مرحلہ میں صراحت ایک تیز جھماکے کی طرح آ کر پورا منظر ایک ساعت کو روشن کر جاتی ھے۔ یہ شعر اسی روشن ساعت_ دریافت کو لفظوں میں دوام دے رہا ھے۔

ایک انجا م _ محبت ھے ہمیشہ سے قمر
بس کہیں رانجھا کہیں ہیر بدل جاتی ھے

اقبال قمر کے زندہ اشعار میں ایک اور نمایاں شعر اُن کے مجلسی رویے کا نمائندہ ھے۔ اس صورتحال يا اس سے ملتے جلتے حالات سے سب گزرتے ہیں مگر اسے موضوع سخن بنا نے کی طرف کسی تازہ کار غزل گو کا ہی دھیان جاتا ھے۔

ھمیں بھی اپنی خموشی پہ کوئی ناز نہیں
پہ مشترک کوئی موضوع_ گفتگو بھی تو ھو

ظاہر ھے وہ اپنے مخصوص شائستہ شریفانہ طرز کلام سے اپنے عہد کا نغمہ اور نوحہ کسی نہ کسی لے میں مسلسل لکھتے ہوئے بھی کچھ ” ان کہا” محفوظ رکھے ہوئے ھیں اور یہ “ان کہا” بھی انکے بیان میں” آئے ھوئے” کے جیسا ہی ہو سکتا ھے ۔ یہاں عالم_ صغیر کی بات ھو رہی ھے انکا ایک شعر اس کی وضاحت کرتا ھے۔

ھم نے اس دل میں جو اک شہر بسا رکھا ھے
ایک عالم ھے جو عالم سے چھپا رکھا ھے

تاہم جیسا کہ اُوپر ہیر اور رانجھا کے حوالے سے عشق کی سمجھ میں اُن کی تکمیليت کا ایک حوالہ آیا ھے انسان کی سمجھ کی طرف بھی انکے ایک بڑھتے ہوئے قدم کا ذکر ضروری ھے کیونکہ بڑی شاعری کی
جھلکیاں ایسے ہی شعرو ں میں ملتی ھیں۔

اسی لئے تو اُتارا گیا زمیں پہ مجھے
کہ مجھ سا کوئی وہاں لا مکان میں بھی نہ تھا