’’پسماندہ مسلمانوں‘‘ کا مسیحا کون ہے؟؍نور اللہ جاوید

پسماندہ مسلمانوں سے ہمدردی یا مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی کوشش بی جے پی کی ’پسماندہ سنیہ سمواد یاترا‘ قول وعمل کا بدترین تضاد وزیراعظم مسلم مخالف پالیسیوں اور اقدامات کے ریکارڈ کے ساتھ مسلمانوں کے دل جیتنے کے خواہاں! کچھ موقع پرست عناصر کمزورمسلم ووٹرس کو بھگواپارٹی کے دام فریب میں پھنسانے کے لیے کوشاں!

0
191

نوراللہ جاوید
وزیر اعظم مودی کے نو سالہ دور اقتدار کا ایک پہلو یہ ہے کہ ان برسوں کے دوران علامتوں پر سب سے زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ علامات کا بہتر استعمال اس ملک میں ان سے بہتر کوئی نہیں کرتا ہے۔ وزیر اعظم مودی اپنی حکومت کی اسکیموں اور پروگراموں کے افتتاح کے لیے کسی خاص دن اور موقع کا انتخاب کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ وہ مخصوص پیغام پہنچاتے ہیں، چنانچہ امریکہ اور مصر کے دورے سے واپسی پر انہوں نے ملک میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی وکالت شروع کر دی۔ اس کے چند ہفتے بعد وزیر اعظم نے عرب متحدہ عرب امارت سے واپسی پر ’’پسماندہ مسلمانوں‘‘ تک پہنچنے کی وکالت کی۔ ایسے میں یہ سوال لازمی ہے کہ آخر دو مسلم ممالک سے واپسی کے بعد ہی مسلمانوں سے متعلق دو اہم ایشوز پر انہوں نے بات کیوں کی؟ کیا انہوں نے ان دونوں مسلم ممالک کے دورے کو علامت کے طور پر استعمال کیا تھا؟ ’’پسماندہ مسلمانوں‘‘ کا ایشو انہوں نے گزشتہ سال جولائی میں حیدرآباد میں منعقدہ بی جے پی کی ایگزیکٹیو کمیٹی کی میٹنگ میں پہلی مرتبہ اٹھایا تھا۔ اس کے بعد سے ہی وزیر اعظم بی جے پی کے بیشتر اجلاسوں میں ’’پسماندہ مسلمانوں‘‘ کا مسئلہ اٹھاتے رہے ہیں اور اب جب کہ لوک سبھا انتخابات کی تیاریاں سیاسی جماعتوں نے شروع کر دی ہیں تو بی جے پی نے بھی ’’پسماندہ مسلمانوں‘‘ تک پہنچنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ اس پروگرام کے تحت بی جے پی کے اقلیتی مورچہ نے ’’پسماندہ سنیہ سمواد یاترا‘‘(محبت اور مکالمے کا سفر) کی شروعات کی ہے۔ یہ یاترا اکتوبر تک چلے گی جو دلی سے شروع ہوکر اتراکھنڈ، اترپردیش، بہار، مہاراشٹر، اڑیسہ، راجستھان، ہریانہ، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ اور دیگر ریاستوں سے ہوتی ہوئی گزرے گی۔

جب سے وزیر اعظم مودی نے ’’پسماندہ مسلمانوں‘‘ کو گلے لگانے کی بات کی ہے اس وقت سے یہ موضوع زیر بحث ہے۔ اس کی حمایت اور مخالفت میں دلیلیں دی جا رہی ہیں۔ یہ سوال بھی کیے جا رہے ہیں کہ کیا بی جے پی کے اقلیتی مورچہ کی ’’پسماندہ سنیہ سمواد یاترا‘‘ مسلمانوں کے بڑے طبقات کو متاثر کرے گی؟ کیا بی جے پی کی باتوں پر یقین کیا جائے گا؟ کیونکہ بی جے پی نے یہ مہم ایک ایسے وقت میں شروع کی ہے کہ جب منی پور میں اقلیتی طبقہ کوکی جو قبائلی ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی اعتبار سے عیسائی ہے ظلم و تشدد کا شکار ہے، درجنوں گرجا گھروں کو مسمار کر دیا گیا ہے۔ گیان واپی مسجد کا ایشو سر اٹھا رہا ہے۔ یونیفارم سول کوڈ پر لا کمیشن ملک کے شہریوں سے رائے طلب کر رہا ہے۔ادھر بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش، اترپردیش اور گجرات میں اپنے اپنے طور پر یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی تیاری چل رہی ہے۔ بی جے پی کے قریبی ذرائع کے مطابق اس وقت بی جے پی کی حکمت عملی یہ ہے کہ 2024ء سے قبل یونیفارم سول کوڈ پر قانون سازی نہ کی جائے کیونکہ اس کے خلاف قبائلی اور ملک کی دیگر اقلیتیں ناراض ہو جائیں گی، لیکن اس ایشو کو زندہ رکھا جائے گا اور اس کے نام پر پولرائزیشن کیا جائے گا۔ بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کے تجربات کیے جائیں گے۔ ایک طرف مسلمانوں کے مذہبی شناخت اور پرسنل لا کو داو پر لگایا جا رہا ہے تو دوسری طرف ان کے دلوں کو جیتنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اسی بمقابلہ بیس فیصد کی بات کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ جیسے باوقار عہدہ پر فائز شخص کھلے عام یہ کہہ رہا ہے اس کے ساتھ اسی فیصد ہندو ہیں۔ بیس فیصد دوسروں کے ساتھ ہے۔ دوسری طرف اسی اترپردیش میں پسماندہ مسلمانوں کی بات کی جا رہی ہے۔ایک طرف امیت شاہ اعلان کرتے ہیں کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو پسماندہ مسلمانوں کے لیے مختص ریزرویشن کو ختم کر دیں گے۔ کرناٹک کی سابقہ بی جے پی کی حکومت نے کرناٹک میں پسماندگی کے شکار مسلمانوں کے لیے مختص ریزرویشن کو ختم کردیا اور یہ معاملہ اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے۔ ایک طرف مسلمانوں سے وابستہ صنعتوں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ چرم کی صنعت اس وقت زوال کا شکار ہے۔گوشت کی انڈسٹری کو تباہ وبرباد کر دیا گیا ہے۔ اقلیتی طلبا کے اسکالرشپ کے فنڈ میں کٹوتی کردی گئی ہے۔ مولانا آزاد اسکالرشپ کو بند کر دیا گیا ہے تو دوسری طرف مرکزی حکومت کی دو ایک فلاحی اسکیموں کے نام پر دلوں کو جیتنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک طرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر طارق منصور ہیں جنہیں حال ہی میں بی جے پی کا نائب صدر بنایا گیا ہے، وہ حکومت کی اس پہل کو مسلمانوں کے لیے موقع سے تعبیر کرتے ہیںاور پر زور طریقے سے وکالت کرتے ہیں کہ بی جے پی کا ’یہ آوٹ ریچ پروگرام‘ پسماندہ مسلمانوں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ وزیر اعظم کے ’’سب کا ساتھ ،سب کا وکاس‘‘ کے ساتھ جڑ جائیں اور سیاسی تنہائیوں کا خاتمہ کریں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ طارق منصور جیسا اعلیٰ عہدہ پر فائز شخص خود کو پسماندہ مسلمانوں کے نمائندہ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق قریشی برادری سے ہے جبکہ اسی یوگی کے دور میں قریشی براداری کے کاروبار کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ایسے میں اگر مودی حکومت اور بی جے پی کی نیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں تو یہ غلط نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ اس ملک کے مسلمان بالخصوص وہ جنہیں پسماندہ قرار دیا جا رہا ہے، انہیں یہ طے کرنا ہے کہ ان کی سمت کیا ہوگی اور انہیں کن کی باتوں پر یقین کرنا ہے اور کن کی باتوں پر نہیں۔

پسماندہ طبقات کی طرف ’محبت کا ہاتھ‘ بڑھانے کے مقاصد کیا ہیں؟
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بی جے پی نے اپنے رابطہ کے دائرہ کو وسیع کیا ہے۔ ایک دور وہ بھی تھا جب بی جے پی کو برہمن اور بنیا کی سیاسی جماعت کہا جاتا تھا۔ ہندوتوا کے ایجنڈے کے ساتھ ساتھ بی جے پی نے ہندوؤں کے پسماندہ طبقات اور دلتوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ آج بی جے پی کا ووٹ بینک ہندوؤں کے تمام طبقات میں ہے۔ چنانچہ ذات کے نام پر سیاسی جماعتوں کو اپنی برادری کو متحد رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اب بی جے پی کی پسماندہ مسلمانوں کے ووٹوں پر نظر ہے۔ ویسے تو مجموعی طور پر مسلمانوں کی اکثریت پسماندگی کا شکار ہے، جیسا کہ سچر کمیٹی اور اس کے بعد رنگا ناتھ مشرا کمیشن نے بھی مسلمانوں کو مجموعی طور پر پسماندہ کمیونیٹی قرار دیا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود ستر کی دہائی بعد سے ہی ملک میں پسماندہ مسلمانوں کی سیاست عروج پر ہے۔ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بھارت میں اسلام آنے کے بہت دنوں بعد ذات پات کی تفریق سے تنگ آکر ہندوؤں کے پسماندہ اور دلت طبقات نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ مسلمانوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: اشرافیہ، جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مہاجر مسلمانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اجلاف، پسماندہ ذاتیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ارجل، دلت جنہوں نے بہت بعد میں اسلام قبول کیا۔ یہ طبقہ ہندوستان کی مسلم آبادی کا پچاسی فیصد ہے مگر اسلام قبول کرنے کے باوجود انہیں سماجی ناہمواری اور عدم مساوات کا سامنا ہے۔ اسلام میں نسل اور ذات پات کی کوئی تفریق نہیں ہے کیونکہ اسلام دین فطرت ہے، یہاں ہر شخص کے حقوق مساوی ہیں، مگر اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہاں کے مسلمان برادران وطن کے کلچر و رسم روج سے متاثر ہوئے ہیں اور ان کی طرح مسلمانوں میں بھی ذات پات کی تفریق آگئی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہندوؤں کی طرح مسلمانوں میں بھی چھوت چھات، نسلی تفریق پائی جاتی ہے؟ کیا ہندوؤں کی طرح مسلمانوں کے مذہبی ادارے چند مخصوص طبقات کے ہاتھوں میں ہیں؟ شادی بیاہ اور سماجی مقام و مرتبہ کے اعتبار سے اگر تفریق رہی بھی تو مذہبی اعتبار سے کوئی تفریق نہیں تھی۔مسجد کی امامت اور خطابت کوئی بھی کرسکتا ہے، صرف ایک شرط علم و تقویٰ کی ہے۔ جس طرح ہندوؤں میں شادی بیاہ اور رسم و رواج کے لیے صرف پنڈت سے ہی رجوع کیا جا سکتا ہے، اسلام میں نکاح کے لیے ایسی کوئی شرط نہیں ہے بلکہ کوئی بھی مسلمان یہ کام کر سکتا ہے۔ اگر کسی حد تک مسلم سماج میں ذات پات کی تفریق موجود ہے تو اس کے لیے مذہب ذمہ دار نہیں ہے بلکہ اس کے خاتمے کی ذمہ داری مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقہ بالخصوص علمائے کرام کی تھی۔

تحریک آزادی کے دوران گاندھی جی نے وطن واپس ہونے کے بعد برطانوی سامراج کے استحصالی نظام کے خلاف 1917ء میں چمپارن سے اور 1918ء میں گجرات کے کھیڑا سے کسانوں کی تحریکیں شروع کی۔انہوں نے انگریزی سامراج کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارتی عوام سے اپیل کی کہ دیسی سامان کا استعمال کریں۔ لباس میں کھدر کا استعمال کریں۔ اس کے لیے انہوں نے خود چرخہ چلایا۔ گاندھی جی کا مقصد صرف برطانوی سامراج کو نقصان پہنچانا اور سودیشی ثقافت کو فروغ دینا نہیں تھا بلکہ سماج کے ایک خاص طبقے کی جدوجہد کے ساتھ خود کو جوڑنا تھا۔ 1857ء کی بغاوت کے بعد انگریزوں نے مسلم بنکروں کو نقصان پہنچایا تھا کیوں کہ ان کی موجودگی میں ہندوستان کی مارکیٹ پر غلبہ حاصل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ چنانچہ اس طبقے نے گاندھی جی کی آواز پر لبیک کہا۔ انگریزوں نے اپنے معاشی مفادات کے حصول کے لیے ہندوستانی کاشتکاری کے ساتھ ساتھ ملک کے صنعتی طبقے کو بھی تباہ کر دیا تھا۔ تحریک آزادی کی آخری دہائی میں جب مذہبی بنیاد پر ملک کی تقسیم کی بات شروع ہوئی تو مسلم لیگ کو امیر کسانوں، زمینداروں، تاجروں اور صنعت کاروں کی حمایت حاصل تھی۔ مزدور اور چھوٹی چھوٹی صنعتوں سے وابستہ برادریاں کانگریس اور گاندھی کے ساتھ کھڑی تھیں۔انصاریوں کی جماعت ’’مومن کانفرنس‘‘ نےپوری قوت کے ساتھ تقسیم ہند کے خلاف آواز اٹھائی اور اللہ بخش سومرو کی قیادت میں منعقد ہونے والی ’’مسلم کانفرنس‘‘ میں شرکت کے ذریعہ تقسیم ہند کی مخالفت کی۔

تقسیم ہند کے بعد مسلمانوں کا یہ طبقہ کانگریس کے ساتھ کھڑا رہا مگر جب مسلمانوں میں اپنے حقوق کے تئیں شعور و آگہی پیدا ہونی لگی اور وہ متحد ہونے لگے تو ستر کی دہائی کے اواخر میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے اشاروں پر مسلمانوں کے مختلف طبقات کی اپنی اپنی تنظیمیں بننے لگیں اور اس طرح مسلمانوں کے اتحاد کا شیرازہ بکھر گیا۔ بہار سے تعلق رکھنے والے آزاد صحافی بتاتے ہیں کہ اسی کی دہائی کے اواخر اور 1990ء کی دہائی کے اوائل میں بابری مسجد کی شہادت اور رام جنم بھومی تحریک کے بعد ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات رونما ہوئے۔ مسلمانوں کا رجحان علاقائی سیاسی جماعتوں کی طرف ہو گیا اور ان جماعتوں نے بھی مسلمانوں کے کمزور طبقات کو راغب کرنے کے لیے پسماندہ مسلمانوں کی سیاست کو ہوا دی۔ بدنام زمانہ بھاگلپور فرقہ وارانہ فسادات کے بعد 1989ء کے لوک سبھا انتخابات میں وی پی سنگھ نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ بہار میں لالو پرساد یادو کے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد کئی او بی سی مسلم رہنما بہار کی سیاست میں ابھر کر سامنے آئے جن میں غلام سرور اور الیاس انصاری شامل ہیں۔ غلام سرور کے انتقال کے بعد ان کی سیاست کو ان کے داماد ڈاکٹر اعجاز علی جو برادری کے اعتبار سے راعین اور پیشے سے سرجن تھے سنبھالا۔ لالو پرساد یادو کے زوال کے بعد نتیش کمار نے بہار کی سیاست میں الگ قسم کی سوشل انجینئرنگ کی۔ انہوں نے علی انور انصاری کو آگے بڑھایا، انہیں دو دو مرتبہ راجیہ سبھا بھیجا۔ علی انور انصاری صحافت سے سماجی کارکن اور بعد میں سیاست داں بنے۔اس درمیان انہوں نے پسماندہ مسلمانوں کی سیاست کے حوالے سے شہرت حاصل کی۔سیاسی تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ بی جے پی سے اتحاد کے باوجود مسلمانوں کا اچھا خاصا ووٹ نتیش کمار اپنے حق میں لانے میں کامیاب رہے۔ دراصل بی جے پی آج یہی سوچ رہی ہے کہ جب نتیش کمار سوشل انجینئرنگ کے ذریعہ پسماندہ مسلم ووٹ حاصل کر سکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں؟ مگر بی جے پی اور نتیش کمار میں ایک فرق ہے۔نتیش کمار بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے باوجود فرقہ واریت کے معاملے میں ہمیشہ اپنے موقف پر قائم رہے۔ انہوں نے کبھی بھی بی جے پی کے ان عناصر کو آگے بڑھنے نہیں دیا جو مسلم نفرت انگیزی میں شہرت رکھتے ہیں۔ لالو پرساد یادو پندرہ سالوں تک بہار میں برسر اقتدار رہے مگر انہوں نے کانگریسی دور میں ہونے والے بھاگلپور فسادات کے خلاف کارروائی کرنے کی جرأت نہیں کی جبکہ نتیش کمار نے ان فسادات کے متاثرین کے ساتھ بیان بازی کی حد تک ہی سہی ہمدردی جتائی اور ان کو انصاف دلانے کی کوشش کی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہینڈلوم اور پاورلوم کی صنعتوں سے وابستگان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ بھاگلپور ہو یا بھیونڈی، مالیگاؤں ہو یا بنارس، مئو اور اعظم گڑھ میں ہو یا گجرات میں، ہر جگہ مسلم مخالف فسادات میں انصاریوں اور گھانچی مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح 2014ء کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کے جتنے بھی واقعات ہوئے ان میں زیادہ تر متاثر یہی پسماندہ طبقات رہے ہیں۔ آج اگر یو پی میں جانوروں کی تجارت، گوشت انڈسٹری اور چرم انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچی ہے تو اس سے متاثر ہونے والے سب سے زیادہ یہی پسماندہ مسلمان ہیں۔ جھار کھنڈ، ہریانہ، گجرات اور ملک کی دیگر ریاستوں میں لگاتار جانوروں کے تاجرین پر حملے ہو رہے ہیں۔ گائے کے نام پر موب لنچنگ کا شکار یہی پسماندہ مسلمان ہیں۔

2006ئ سے 2017ء تک جنتا دل یو کے ٹکٹ پر راجیہ سبھا میں رہنے والے علی انور انصاری جنہوں نے 1998ء میں آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ کی تشکیل کی تھی، بی جے پی کی اس پہل کو سیاسی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ بی جے پی آج مسلمانوں کو محبت سے گلے لگانے کی بات کر رہی ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ پسماندہ مسلمانوں کو حقیقت میں کس چیز کی ضرورت ہے؟ وہ وزیر اعظم مودی کو لکھے گئے اپنے خط کے حوالے سے کہتے ہیں کہ کیا وزیرا عظم مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کو روک سکیں گے؟ کیا وہ کورونا وبا کے دوران بے روزگار ہو جانے والے پسماندہ مسلمانوں کے لیے کوئی پروگرام یا منصوبہ پیش کریں گے؟ چھوٹے تاجروں کے لیے سستی بجلی، ٹیکس میں چھوٹ اور مارکیٹنگ سپورٹ فراہم کریں گے؟ کیا وہ دلتوں اور او بی سی کے لیے ریزرویشن کا اعلان کریں گے؟ کیا پرائیویٹ سیکٹر میں پسماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن کا اعلان کریں گے؟ کیا پسماندہ مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی پسماندگی کی حد کا پتہ لگانے کے لیے ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کروائی جائے گی؟ اگر یہ سب نہیں کیا جاتا ہے تو اس ’’سنیہ یاترا‘ کا کیا فائدہ؟ کسی بھی صورت میں ہم سنیہ نہیں چاہتے جس میں سرپرستی کی کمی ہو، ہم سمان (احترام) کے خواہاں ہیں۔ علی انور انصاری کہتے ہیں کہ یہ بی جے پی کی مسلم ووٹروں کو تقسیم کرنے اور کمزور لوگوں کے ووٹوں پر قبضہ کرنے کی ایک چال ہے۔ گئو رکشا یا نام نہاد لو جہاد یا تبلیغی جہاد کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام ابھی بھی جاری ہے اور وزیر اعظم اس پر ایک لفظ بھی نہیں کہتے۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ مسلمانوں کو انتہائی گھٹیا جرائم میں جیلوں میں بند کیا گیا ہے۔مسلمانوں کو ان کے لباس یا کھانے پینے کی عادات کی وجہ سے سر عام ذلیل کیے جانے کے واقعات عام ہیں۔ وزیر اعظم نے ہمیشہ ان معاملات میں خاموشی اختیار کی ہے۔ بی جے پی اپنے ان اقدامات سے کچھ موقع پرست پسماندہ مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکتی ہے مگر عام مسلمانوں کی حمایت حاصل نہیں کرسکتی۔

مشہور صحافی اور ’’ہندو راشٹر‘‘ نامی کتاب کے مصنف آشوتوش نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں بی جے پی کی سوچ میں تکنیکی تبدیلی کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یو پی میں گزشتہ دو اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات میں ایک بھی مسلم امیدوار کھڑا نہیں کیا گیا ہے البتہ بلدیاتی انتخابات میں کچھ مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ بی جے پی کے موقف میں تبدیلی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آر ایس ایس کی اعلیٰ صفوں میں ایک مکالمہ ابھرا ہے، جس میں ان خدشات کا اظہار کیا گیا ہے کہ بی جے پی کی مسلم مخالف بیان بازی اور نفرت انگیزی سے صرف قلیل مدتی انتخابی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں لیکن ہندوتوا کی شبیہ داغ دار ہو جائے گی اور ہندوؤں کو متحد کرنے اور ہندوتوا کو فروغ دینے کے آر ایس ایس کے مقاصد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ دنیا بھر میں ہندوتوا اور آر ایس ایس کے نظریات پر بات ہونے لگی ہے جس کا نقصان آر ایس ایس کو ہی ہوگا۔ آشوتوش نے جن سنگھ (آر ایس ایس کے سیاسی ونگ) کے پہلے انتخابی منشور کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس منشور میں مسلمانوں کو معاشرے کا لازمی جزو تسلیم کیا گیا تھا لیکن ساتھ ہی یہ بات کہی گئی تھی وہ غیر ملکی طرز زندگی کو ترک کرکے ہندوستانی طرز زندگی کو اپنائیں گے۔ آشوتوش کے علاوہ دیگر تجزیہ نگار بی جے جے پی کے’’آؤٹ ریچ اقدامات‘‘ کو اس تناظر میں بھی دیکھتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں یہ بیانہ مرتب کرنے میں کامیاب ہو رہی ہیں کہ اگر اگلے انتخاب میں بی جے پی اقتدار میں آگئی تو وہ مسلمانوں کے آئینی حقوق چھین لے گی۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بی جے پی نے یہ حکمت عملی بنائی ہے کہ مسلمان جو بی جے پی کی حمایت کرنے سے گریزاں ہیں وہ کم از کم ’’مودی متر‘‘ یا مودی کے دوست بننے پر راضی ہوجائیں۔ رامپور اور اعظم گڑھ لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی جیت کو ’’آؤٹ ریچ اقدامات‘‘ کا ہی نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

پی ایم آواس یوجنا، سوچھ بھارت مشن، اور اجولا یوجنا، جو رہائش، صفائی کی سہولت اور مفت گیس سلنڈر فراہم کرتی ہے، اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان اسکیموں سے بڑی تعداد میں مسلمانوں نے فائدہ حاصل کیا ہے۔ ساڑھے پانچ کروڑ مسلمان ان اسکیموں سے فیضیاب ہوئے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان اسکیموں کی وجہ سے ملک کے پسماندہ مسلمان بی جے پی یا مودی متر ہو سکتے ہیں؟ سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر سلیم خان کہتے ہیں کہ بی جے پی کی یہ ساری مہم ان کی منافقت اور دہرے کردار کو بے نقاب کرتی ہے۔ قول و عمل کا یہ تضاد سامنے ہو تو ظاہر ہے کون اس پر یقین کرے گا؟ ایک طرف مسلمانوں کی شناخت پر حملہ کیا جا رہا ہے، ریزرویشن ختم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں تو دوسری طرف دوست بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں؟

طارق منصور جیسے مسلم دانشوروں کے دلائل کے جواب میں ڈاکٹر سلیم خان کہتے ہیں کہ یہ لوگ خود کو پسماندہ بتارہے ہیں جو کہ حیرت انگیز بات ہے۔ اگر یہ پسماندہ تھے تو پھر وائس چانسلر کے عہدہ پر کیسے فائز ہو گئے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں میں ذات پات کی تفریق ظلم کی حد تک نہیں ہے۔ تاہم حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بی جے پی کے ’’آؤٹ ریچ اقدامات‘‘ کے جواب میں جہاں کانگریس خاموش ہے وہیں راشٹریہ جنتا دل، سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج وادی اور جنتا دل یو جیسی سیاسی جماعتیں خاموش ہیں۔ مایاوتی نے ایک بیان ضرور دیا ہے کہ اگر بی جے پی پسماندہ مسلمانوں کے لیے مخلص ہے تو انہیں ریزرویشن دے کر دکھائے۔ ظاہر ہے کہ بی جے پی مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کے معاملے میں فراخ دلانہ رویے کا مظاہرہ نہیں کر سکتی۔ دلتوں کی طرح مسلم دلت کو ریزرویشن کی بی جے پی مخالفت کر چکی ہے۔ اگرچہ سابق چیف جسٹس کی قیادت میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے مگر اس کمیٹی کی رپورٹ آنے سے قبل سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت مسلم دلت کو ریزرویشن کی شدید مخالفت کر چکی ہے کیوں کہ اسے خوف ہے کہ اگر انہیں ریزرویشن دیا گیا تو تبدیلی مذہب کے واقعات میں اضافہ ہوگا اور ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

آخری بات
مسلمان کب تک پسماندہ اور اشرافیہ کی سیاست کا شکار ہوں گے؟ ایک طرف یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کو مجموعی طور مظالم کا سامنا ہے، مسلمانوں کو حاشیہ پر دھکیلا جا رہا ہے تو دوسری طرف پسماندہ اور غیر پسماندہ کے نام پر مسلمان تقسیم ہو رہے ہیں۔ دراصل اس سوال پر کبھی کبھی مسلمانوں کے حلقوں میں غور نہیں کیا گیا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے، پھر بھی اگر تفریق پائی جاتی ہے تو اس کا خاتمہ کرنے کی ذمہ داری مسلم علما اور دانشوروں کی تھی۔ ان طبقات کے دلوں سے اس احساس کو مٹانے کی ضرورت ہے جنہیں یہ لگتا ہے کہ ہندوؤں کی طرح مسلمانوں کے اعلیٰ طبقات نے ان کا سماجی استحصال کیا ہے۔ مسلم سماج میں در آنی والی سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے تمام مسلم جماعتوں اور تنظیموں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سوالات اور حقائق کا سامنا کرنا ہی وقت کی ضرورت ہے۔اگر فوری اقدامات نہیں کیے گئے تو مسلم ووٹوں کا شیرازہ اس طرح بکھر جائے گا کہ انہیں دوبارہ ایک لڑی میں پرونا مشکل ہو جائے گا۔