Friday, July 19, 2024
homeاہم خبریںایران کا شہر اصفہان ہی اسرائیل کے نشانے پر کیوں ہے؟

ایران کا شہر اصفہان ہی اسرائیل کے نشانے پر کیوں ہے؟

اصفہان کے بارے میں کہا جاتا ہے ’اصفہان نصف جہان،‘ اسرائیل نے اس شہر کو نشانہ کیوں بنایا؟

ایجنسی :

اسرائیل نے جمعے کو علی الصبح ایران کے اندر حملہ کیا ہے، جو بظاہر ایران کے 13 اپریل کو اسرائیل پر کیے جانے والے ڈرون اور میزائل حملے کا براہ راست جواب ہے۔

اس حملے کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھاوا مل سکتا ہے۔

ابھی تک اسرائیلی حملے سے ہونے والے نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، البتہ ایران نے کہا ہے کہ اس کی ایٹمی تنصیبات محفوظ ہیں۔

اسرائیل نے اصفہان پر حملہ کیوں کیا؟

اصفہان ایرانی کا تاریخی شہر اور ثقافتی گڑھ ہے اور سلجوق دور میں ایران کا دارالحکومت رہا ہے۔ یہاں متعدد تاریخی آثار موجود ہیں۔ اصفہان کے بارے میں مثل مشہور ہے، ’اصفہان نصف جہان،‘ یعنی اصفہان کی اہمیت آدھی دنیا کے برابر ہے۔

اسرائیل نے اس شہر کو کیوں نشانہ بنایا؟ اس سوال کے جواب میں سی این این کے دفاعی تجزیہ کار کرنل سیڈرک لیٹن نے سی این این کے ایک پروگرام میں کہا ہے کہ اسرائیل نے اصفہان میں ایران کے آرمی ریڈار نظام کو نشانہ بنایا ہے، لیکن اس حملے کی نوعیت بڑی حد تک علامتی ہے اور اسرائیل نے دراصل ایران کو ایک پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا، ’ریڈار سائٹ ایک زبردست نشانہ ہے کیوں کہ اس پر حملے سے فوجی طاقت اندھی ہو جاتی ہے اور انہیں کارروائیاں کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایران میں ہوائی اڈے سویلین اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے ایک ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ اصفہان میں ایئربیس اور بین الاقوامی ہوائی اڈہ اکٹھے ہیں۔ یہی ایران کے ایف 14 لڑاکا طیاروں کا مرکز بھی ہے، جو انہوں نے شاہ کے زمانے میں حاصل کیے تھے۔ اس لیے وہ خاصے پرانے اور دقیانوسی ہیں۔ اگرچہ انہیں اس کے بعد سے ایرانی استعداد کو استعمال کرتے ہوئے کئی طرح سے اپ گریڈ کیا گیا ہے، لیکن اسرائیل کے لیے بڑے محدود خطرے کا باعث ہیں۔‘

اصفہان کے آس پاس ایٹمی تنصیبات ہیں۔ نطنز اصفہان سے 120 کلومیٹر دور ہے۔ دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر محمد علی نے بتایا کہ ’اصفہان کے شہر کا چناو سیاسی، نفسیاتی اور تزویراتی اعتبار سے اس لیے اہم ہے کہ یہ ایک پیغام ہے ایرانی قوم کو کہ اگر ہم چاہیں تو ایران کی حساس ترین تنصیبات پر بھی پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن ہم نے ان پر حملہ نہیں کیا احتیاط برتی ہے۔ ہم نے کسی ایٹمی یا سویلین کو اس لیے نشانہ نہیں بنایا کہ ہمیں احساس ہے کہ آپ کے اوپر سیاسی اور نفسیاتی دباؤ پڑے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ نطنز سے قریب ہونے کے علاوہ خود اصفہان میں یورینیم کی افزدودگی کے مراکز موجود ہیں۔

اسرائیل نے امریکی دباؤ کے باوجود حملہ کیوں کیا؟

اسرائیل پر ایرانی حملے کے بعد وائٹ ہاؤس نے یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کسی جوابی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ لیکن اسرائیل نے اس کی پروا نہیں کی۔ اس حملے کے جو سفارت کاری ہوئی اس میں کوشش کی گئی کہ اسرائیل کو باز رکھا جائے، لیکن اسرائیل نے امریکہ اور برطانیہ کو کو بتا دیا تھا کہ اس نے حملہ کرنا ہے۔

دفاعی تجزیہ کار محمد علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو اس بارے میں بتایا کہ اسرائیل نے یہ حملہ اس لیے کیا کیوں کہ ’ایران کا حملہ ان کے وقار اور عزتِ نفس پر ایک بہت بڑا طمانچہ تھا۔ اس حملے میں کوئی فزیکل نقصان تو نہیں ہوا تھا لیکن نفسیاتی نقصان ضرور ہوا۔ تو اس کا مقصد فوجی نہیں بلکہ سیاسی تھا۔

’اس کے علاوہ اسرائیل اپنی فوج کے مورال کو بھی بلند کرنا چاہتا تھا۔‘

Picture shows general view of Isfahan (UCF) nuclear power plant (UCF) 295 km from Tehran 30 March 2005. AFP PHOTO/HENGHAMEH FAHIMI (Photo by HENGHAMEH FAHIMI / AFP)

30 مارچ، 2005 کی اس تصویر میں تہران سے 295 کلومیٹر دور اصفہان میں واقع نیوکلیئر پاور پلانٹ کا ایک منظر(اے ایف پی)

ڈاکٹر محمد علی کے مطابق اس کے علاوہ ایک اور بات یہ بھی ہے کہ ’بن یامین نتن یاہو کے سیاسی مستقبل کو بھی اس حملے سے قدامت پرست حلقوں کی جانب سے تقویت ملے گی، چاہے وہ علامتی ہی کیوں نہ ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ ’امریکہ نے اسرائیل کو بتا دیا تھا کہ ایران کو بہت بڑا نقصان نہیں ہونا چاہیے نہ فوجی اور نہ ہی سویلین نقصان زیادہ ہونا چاہیے، کیوں کہ اگر ان پر حملہ ہوا تو عوامی اور نفسیاتی اور سفارتی دباؤ اتنا بڑھ جائے گا کہ اس کی مجبوری بن جائے گی کہ وہ جواب دے۔ امریکی ذرائع یہ کہہ رہے ہیں کہ میزائل اٹیک ہوا ہے لیکن ایرانی ذرائع اسے ناکام ڈرون اٹیک کہہ کر اسے معمولی قرار دے رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’استعمال ہونے والے ہتھیاروں سے قطع نظر ایران کا ردِ عمل اور ان کے میڈیا کا موڈ اور ٹون تشویش اور غم و غصے کا نہیں ہے۔ وہ اس کا تمسخر اڑا رہے ہیں کہ ہم نے تو اتنے بڑے پیمانے پر حملہ کیا مگر اس کے مقابلے پر اسرائیلی حملہ تو کچھ بھی نہیں تھا، یہ تو بچوں کا کھیل ہے اور اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ ’اپنے عوام کے سامنے اس کا تمسخر اڑانے کا مقصد یہ ہے کہ معاملے کو سلجھانے کی طرف جانا چاہتے ہیں۔ اور وہ عوام کی رائے کو اس انداز میں ہموار نہیں کرنا چاہتے کہ معاملہ آگے بڑھے۔‘

کیا ایران کے پاس آئرن ڈوم جیسی کوئی صلاحیت ہے؟

ایران کے پاس اپنا فضائی دفاع کا نظام ہے لیکن وہ اسرائیل جیسا جدید اور ترقی یافتہ نہیں ہے۔ اسرائیل کے پاس دنیا کے بہترین نظاموں میں سے ایک نظام ہے۔ اسرائیل کے حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی دفاعی نظام میں رخنے موجود ہیں اور اسرائیلی اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین