وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ہر حال میں اس قانون کو ماننا ہی پڑے گا۔ انھوں نے لوک سبھا میں کہا کہ ’’یہاں ایک رکن نے کہہ دیا کہ اقلیتی طبقہ اس قانون کو منظور نہیں کرے گا۔ یہ پارلیمنٹ کا قانون ہے، سب کو قبول کرنا پڑے گا۔ کیسے کوئی بول سکتا ہے کہ اسے قبول نہیں کریں گے۔ یہ قانون حکومت ہند کا ہے، اور اسے قبول کرنا ہی پڑے گا۔‘‘
کانگریس صدر سے متعلق بیان پر وینوگوپال نے انوراگ ٹھاکر کو پیش کیا چیلنج
وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران لوک سبھا میں آج بی جے پی رکن پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر انتہائی زہریلے انداز میں اپوزیشن پر حملہ کرتے نظر آئے۔ انھوں نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے پر سنگین الزام بھی عائد کیا، لیکن کانگریس رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے انھیں چیلنج پیش کر دیا ہے۔ وینوگوپال نے انوراگ ٹھاکر کی طرف سے کانگریس صدر کھڑگے پر لگائے گئے الزام کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ انھوں نے انوراگ ٹھاکر کے سامنے کھڑگے کے خلاف ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
’یہ قانونی معاملوں میں مسلمانوں کو الجھائیں گے‘، عمران مسعود کا مودی حکومت پر حملہ
وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے الزام عائد کیا کہ وقف سے متعلق وہ لوگ بھی بڑی بڑی باتیں کر رہے ہیں، جو وقف کا مطلب بھی نہیں سمجھتے۔ انھوں نے لوک سبھا میں کہا کہ ’’آج وہ لوگ بول رہے ہیں، جو وقف کا مطلب بھی نہیں سمجھتے ہیں۔ وقف کو مسلمان ہی سمجھتا ہے اور جانتا ہے۔ اتر پردیش میں 78 فیصد زمین کو سرکاری ملکیت بتا دیا گیا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’مسلمانوں پر شرطیں نافذ کی جا رہی ہیں۔ کئی جگہ وقف کی ملکیت کو سرکاری بتایا گیا ہے۔ یہ قانونی معاملوں میں مسلمانوں کو الجھائیں گے۔‘‘
’آپ کو زمین پر قبضہ کرنا ہے، حکومت کی کتھنی اور کرنی میں فرق ہے‘، اروند ساونت
وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران شیوسینا یو بی ٹی رکن پارلیمنٹ اروند ساونت نے مودی حکومت پر تلخ انداز میں حملہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آپ کے من میں کچھ اور ہی ہے، آپ کو زمین پر قبضہ کرنا ہے۔ حکومت کی کتھنی اور کرنی میں فرق ہے۔ بل کے ذریعہ انصاف دینے کی منشا نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’بی جے پی ہمیں ہندوتوا نہ سکھائے۔ ملک کی آزادی میں بی جے پی کا کوئی تعاون نہیں ہے۔‘‘
بھی قف ترمیمی بل کہیں سے بھی مسلمانوں کے خلاف نہیں: جے ڈی یو
جے ڈی یو کے رکن پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر برائے پنچایتی راج راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے کہا کہ یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وقف بل مسلمانوں کے خلاف ہے، جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کوئی مذہبی ادارہ نہیں بلکہ ایک ٹرسٹ ہے جو مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتا ہے اور اسے تمام طبقات کے ساتھ انصاف کرنا چاہیے۔ للن سنگھ نے مزید کہا کہ 2013 میں جو غلطی کی گئی تھی، اسے ختم کر کے شفافیت لانے کا کام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہر طبقے کے لیے کام کر رہے ہیں اور مسلم خواتین کو بھی حقوق دے رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بل میں وقف کے معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہے بلکہ اس کی آمدنی کو درست جگہ خرچ کرنے کے لیے اصلاحات کی جا رہی ہیں۔
ٹی ڈی پی نے کی وقف بل کی حمایت، مسلم فلاح و بہبود پر دیا زور
تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے رکن پارلیمنٹ کرشنا پرساد تناٹی نے وقف بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وقف کے پاس 1.2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی جائیداد ہے لیکن اس کا درست استعمال نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی چاہتی ہے کہ یہ جائیداد مسلمانوں اور خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہو۔ کرشنا پرساد نے مزید کہا کہ ٹی ڈی پی پہلی سیاسی جماعت تھی جس نے جے پی سی کی تشکیل کا مطالبہ کیا تھا اور ترمیم شدہ بل میں 14 ترامیم شامل کی گئی ہیں، جن میں سے تین ان کی پارٹی کی تجویز کردہ تھیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ ریاستی حکومتوں کو وقف بورڈ کی تشکیل اور قواعد طے کرنے کا اختیار دیا جائے۔
وزیر کی تقریر اگر جے پی سی رپورٹ سے میچ کر جائے تو پارلیمنٹ کی رکنیت چھوڑ دوں گا، اے راجا
ڈی ایم کے کے رکن پارلیمنٹ اے راجا نے کہا کہ وزیر نے ابھی کچھ دیر پہلے ایک ’بہادری سے بھری تقریر‘ دی ہے۔ میں ہمت کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ کل آپ اپنی تقریر کے ٹیکسٹ کو جے پی سی کی رپورٹ سے ملا کر دیکھ لیجیے، اگر دونوں میچ کر گئے تو میں پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دوں گا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ایک “کہانی” گڑھی جا رہی ہے کہ پارلیمنٹ کو وقف بورڈ کے حوالے کر دیا گیا ہوتا۔ آج کا دن اس پارلیمنٹ کے لیے بھی اہم ہے کہ ایک سیکولر ملک کس سمت جا رہا ہے۔ اے راجا نے وقف بل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے تمل ناڈو اسمبلی سے منظور شدہ قرارداد کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایک سیاسی بل کو پارلیمنٹ کے ذریعے پورے ملک پر تھوپا جا رہا ہے۔
اگر اپوزیشن اس بل کو پڑھتا تو اسے اس کی اہمیت سمجھ آتی: جگدمبیکا پال
وقف بل پر جے پی سی کے چیئرمین رہے جگدمبیکا پال نے کہا کہ اگر اپوزیشن اس بل کو پڑھتا تو اسے اس کی اہمیت سمجھ آتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن تو اپنا ہی پیش کردہ بل پھاڑ دیتا تھا۔ جگدمبیکا پال کے مطابق کانگریس حکومتوں نے بھی وقف بل میں ترامیم کی تھیں اور اب موجودہ حکومت انہی غلطیوں کو درست کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وقف کی جائیدادوں کا فائدہ اب غریب مسلمانوں کو ملے گا، جبکہ اپوزیشن صرف مسلمانوں کو ووٹ بینک سمجھ کر احتجاج کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔
وقف ترمیمی بل آئین کے خلاف اور جمہوری ڈھانچے پر حملہ، کلیان بنرجی کا بیان
ترنمول کانگریس کے رہنما کلیان بنرجی نے وقف ترمیمی بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کے خلاف اور جمہوری ڈھانچے پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی وقف املاک پر سیاست کر رہی ہے، جبکہ یہ مسلم کمیونٹی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔
کلیان بنرجی نے 1995 کے وقف ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون اسلامی اصولوں کے مطابق بنایا گیا تھا اور اس میں مجوزہ ترمیم اسلامی روایات اور ثقافت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام مسلمانوں کے حقوق سلب کرنے کی کوشش ہے، جو سراسر غیر آئینی ہے۔
“وقف بل پر اکھلیش یادو کا حملہ، عید پر پابندیاں، 1000 ہندو لاپتہ، کیا یہی ہے حکومت کی پالیسی؟
لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پر جاری بحث کے دوران سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا، “یہ لوگ نوٹ بندی لے کر آئے، کیا ہوا؟ گنگا-جمنا صاف ہوئیں؟ گود لیے گئے گاؤں کا کیا ہوا؟” انہوں نے مزید کہا کہ “عید پر تمام مذاہب کے رہنما جاتے ہیں، لیکن اس بار پابندی تھی۔ کیا یہی آئین سکھاتا ہے؟”
اکھلیش یادو نے مہاکمبھ میں ناقص انتظامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، “بی جے پی نے 100 کروڑ لوگوں کو بلایا، لیکن تیاری نہیں کی۔ 1000 ہندو لاپتہ ہیں، کہاں گئے وہ؟” ان کے اس بیان پر ایوان میں شور مچ گیا۔
بحث کے دوران جب اکھلیش یادو نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بی جے پی ابھی تک اپنا قومی صدر نہیں چن پائی، تو وزیر داخلہ امت شاہ اپنی نشست سے کھڑے ہو گئے اور جواب دیتے ہوئے کہا، “ہم پانچ افراد کے خاندان میں صدر نہیں چنتے۔” ایوان میں اس پر مزید گرما گرم بحث ہوئی۔
وقف ترمیمی بل کہیں سے بھی غیر آئینی نہیں: روی شنکر پرساد
بی جے پی رہنما روی شنکر پرساد نے وقف ترمیمی بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ایک ساتھ دو متضاد مؤقف اختیار کر رہی ہے، ایک طرف ترمیم کی بات ہو رہی ہے اور دوسری طرف اس کی مخالفت بھی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 15 میں واضح ہے کہ خواتین کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جائے گا اور حکومت اس حوالے سے قانون بنا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں بہت سے پسماندہ مسلمان ہیں، جنہیں وقف کے انتظام میں مواقع نہیں ملتے۔ اگر یہ بل انہیں موقع فراہم کرنے کا راستہ کھولتا ہے تو اپوزیشن کو اس پر اعتراض کیوں ہے؟ روی شنکر پرساد نے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وقف کی زمینوں پر قبضہ ہو رہا ہے یا انہیں ضائع کیا جا رہا ہے تو آرٹیکل 25 کے تحت قانون سازی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل مکمل طور پر آئینی ہے اور اسے غیر آئینی قرار دینا غلط ہوگا۔
گورو گگوئی کا اعتراض، ’اقلیتوں کے تئیں ہمدردی محض دکھاوا‘
لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران کانگریس رہنما گورو گگوئی نے بی جے پی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے وقف ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی مسلمانوں کے مفاد کی بات کر رہی ہے، لیکن چند روز قبل عید پر سڑکوں پر نماز کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے بل کو ’گمراہ کن‘ قرار دیا۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ لوک سبھا میں ان کے کتنے ارکان پارلیمنٹ اقلیتی طبقہ کے ہیں؟
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ایک مخصوص طبقے کی زمینوں کو ہدف بنا رہی ہے اور مستقبل میں دوسرے کمیونٹیز کی زمینوں پر بھی نظر ڈالے گی۔ گگوئی نے مزید کہا کہ یہ بل قانونی مسائل میں اضافہ کرے گا اور بھائی چارے کے ماحول کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے۔ ان کے مطابق، حکومت کا مقصد اقلیتوں کو تقسیم کرنا اور ان کے حقوق کو محدود کرنا ہے۔
اگر ترمیم نہ لاتے تو پارلیمنٹ کی عمارت بھی وقف املاک ہوتی: کرن ریجیجو
کرن رجیجو نے لوک سبھا میں بحث کے دوران کہا کہ 2013 میں دہلی وقف بورڈ نے پارلیمنٹ کی عمارت کو بھی وقف املاک قرار دے دیا تھا، لیکن یو پی اے حکومت نے اسے ڈینوٹفائی کر دیا تھا۔ اگر موجودہ حکومت ترمیم نہ لاتی تو پارلیمنٹ کی عمارت بھی وقف املاک ہوتی۔
وقف ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش، بحث کا آغاز
نئی دہلی: حکومت نے منگل کو لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پیش کر دیا، جس پر بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس بل پر تفصیلی غور و خوض کے لیے حکومت نے 8 گھنٹے کا وقت مختص کیا ہے۔
بل پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ یہ ایک اہم قانون سازی ہے، جس پر عوام کی بڑی تعداد نے اپنی رائے دی ہے۔ ان کے مطابق، اب تک کسی بھی بل پر اتنی زیادہ درخواستیں موصول نہیں ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ 284 وفود نے مختلف کمیٹیوں کے سامنے اپنی بات رکھی، جبکہ 25 ریاستوں کے وقف بورڈز نے بھی اپنی رائے پیش کی ہے۔
رجیجو نے مزید کہا کہ پالیسی سازوں، ماہرین اور دانشوروں نے بھی کمیٹی کے سامنے اپنی سفارشات رکھی ہیں۔ ان کے مطابق، بل کا مقصد وقف املاک سے متعلق بہتر انتظام و انصرام اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مثبت سوچ کے ساتھ اختلاف کرنے والے بھی اس بل کی حمایت کریں گے۔
حزب اختلاف کے کچھ رہنماؤں نے اس بل کو غیر ضروری اور متنازع قرار دیتے ہوئے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔ تاہم، حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ بل وقف املاک کے تحفظ اور ان کے مؤثر استعمال کے لیے ضروری ہے۔