منفرد فرانسیسی مؤرخ جیولز مشلے

جیولز مشلے نے نہ صرف انقلاب کی تاریخ لکھی بلکہ فرانس کی تاریخ پر تفصیلی تحقیق کرتے ہوئے تاریخ نویسی میں اہم اضافے کیے۔

0
130

ڈاکٹر مبارک علی

فرانسیسی انقلاب نے ناصرف فرانس کے مورخوں کو نئے موضوعات دیے بلکہ انہوں نے موضوعات کی تشریح کرتے ہوئے معاشرے پر ان کے اثرات کا جائزہ بھی لیا۔

انگریز مورخ تھامس کورلائل نے فرانسیسی انقلاب پر تفصیل سے لکھا ہے۔ ایڈمنڈ برک جس نے انقلاب کا ناقدانہ جائزہ لیا، اس سے انقلاب کے منفی اثرات ثابت ہوتے ہیں۔

اس تاریخی اور ذہنی پس منظر میں جیولز مشلے نے ناصرف انقلاب کی تاریخ لکھی بلکہ فرانس کی تاریخ پر تفصیلی تحقیق کی اور تاریخ نویسی میں اہم اضافے کیے۔

مشلے کا باپ پیرس میں چھاپہ خانہ چلاتا تھا جہاں انقلابی لٹریچر چھاپا جاتا تھا۔ مشلے نے ہوش سنبھالنے کے بعد چھاپے خانے میں کام کیا۔

نیپولین کے زمانے میں چھاپے خانے کے بارے میں خفیہ اداروں نے رپورٹ دی کہ یہاں ریاست کے خلاف مواد چھاپا جاتا ہے۔ اس پر حکومت نے پریس کو بند کر دیا۔

مشلے نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد تاریخ پر تحقیقی کام شروع کیا۔ 1830 کے انقلاب کے بعد جب لوئی فلیپ فرانس کا بادشاہ ہوا تو مشلے کو شاہی محل میں ریکارڈ کیپر کا انچارج بنایا گیا۔

یہاں اسے موقع ملا کہ پرانی تاریخی دستاویزات کو تحقیقی کام میں استعمال کرے۔

یہ پہلا مورخ تھا کہ جس نے ان دستاویزات سے فائدہ اُٹھایا کیونکہ بعد میں ہنگاموں کی وجہ سے ان دستاویزات کا بڑا حصہ ضائع ہو گیا۔

پیرس کمیون کا ریکارڈ بھی باقی نہ رہا۔ مشلے کا دوسرا اہم کام یہ ہے کہ 1831 میں جب وہ اٹلی میں تھا تو اس نے اطالوی مورخ گیام بتیستا ویکو کو جو کہ نیپلز یونیورسٹی میں تاریخ کا پروفیسر تھا اور جس نے نیو سائنس کے عنوان سے فلسفہ تاریخ پر کتاب لکھی، اسے مورخوں نے بھلا دیا تھا۔

ویکو پر میری کتاب (تاریخ اور فلسفہ تاریخ) میں اس کے تاریخ کے بارے میں نقطہ نظر کو دیکھیے۔

مشلے نے ویکو کو دریافت کر کے اسے گم نامی سے نکالا، کیونکہ فرانس میں 1830 اور 1848 میں انقلابات آئے تو وہ دانش ور جو ریاست کے خلاف تھے، انہوں نے جلاوطنی اختیار کر کے اٹلی، بیلجیئم، ہالینڈ اور انگلینڈ میں پناہ لی۔

مشلے نے جلاوطنی کا زیادہ وقت اٹلی میں گزارا۔ 1848 کے بعد وہ واپس فرانس آیا اور تصنیف و تالیف میں ساری زندگی گزاری۔

مشلے نے رینے ساں کی اصلاح کو سب سے پہلے استعمال کیا اور اس کے مطابق فرانس میں بارہویں صدی میں رینے ساں کی تحریک اُٹھی تھی جو پندرہویں صدی میں اٹلی میں شروع ہوئی۔

اس نے جب فرانس کی تاریخ لکھنی شروع کی تو اسے لکھتے ہوئے وہ بڑا افسردہ ہوا۔

جب اس نے سینٹ بارتھولومیو کے موقعے پر پروٹیسٹنٹ فرقے کے بارے قتل عام کے متعلق پڑھا جو 1572 میں پیش آیا تو اسے انسانی فطرت کے بارے جس میں تعصب اور نفرت کے جذبات ہیں تو وہ اس انسانی فطرت کی وجہ سے بے انتہا دُکھی ہوا۔

اسی طرح سے جب اس نے لوئی دی فورٹین کے بارے میں پڑھا کہ اس نے 1685 میں ایڈکٹ نانٹیز کے قانون کو واپس لیا، جس کے نتیجے میں پروٹیسٹنٹ فرقے کے لوگوں کا ایک بار پھر قتل عام ہوا۔ جس کی وجہ سے ان کی ایک بڑی تعداد نے فرانس کو چھوڑ دیا۔

مشلے کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں اس کو گہرا صدمہ پہنچایا کہ تاریخ میں فسادات اور خوں ریزی سے کتنے لوگوں کی جانیں گئیں۔

اس کا کہنا ہے کہ اسے تاریخ سے اس وقت تقویت ملی جس فرانسیسی انقلاب میں تھرڈ سٹیج یا عوام کے نمائندوں نے بغاوت کرتے ہوئے ٹینس کورٹ میں جاکر حلف اُٹھائے۔

یہ وہ بنیاد تھی کہ جس نے فرانسیسی انقلاب کو عوام کے ہاتھوں میں دے دیا۔

مشلے کی دونوں کتابیں تاریخ فرانس اور فرانسیسی انقلاب دونوں تاریخ نویسی میں ایک نئے نقطہ نظر کو پیش کرتی ہیں۔

مشلے کی ایک اہم کتاب دی پیپل یا عوام ہے۔ اس میں اس نے سوسائٹی کے مختلف طبقوں کا جائزہ لیا جن میں مزدور، کسان، سرکاری عہدے دار، کاریگر، ہنرمند، دستکار یہ سب شامل ہیں۔

اس کے نقطہ نظر کے مطابق معاشرے کے یہ طبقات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ ان میں دوری اور فاصلہ ہے۔

وہ معاشرے میں امن کے لیے یہ ضروری سمجھتا ہے کہ ان طبقات میں دوری ختم ہو اور یہ آپس میں مل جل کر رہیں، تاکہ نفرت اور تعصب کے جذبات پیدا نہ ہوں۔

مشلے تارخ کو وسیع تناظر میں دیکھتا ہے۔ صنعتی انقلاب میں جو بنیادیں سیاسی اور سماجی تبدیلیاں کی اس نے سوسائٹی کی بناوٹ کو بدل کر رکھ دیا، جب عوام نے ریاست کے خلاف بغاوتیں کیں تو انہیں فوجی طاقت کے ذریعے کچل دیا گیا۔

ان حالات میں سوشلزم کا نظریہ اُبھرا جس نے لوگوں میں تبدیلی کی امید پیدا کی، لہٰذا تاریخ مسلسل نشیب و فراز سے گزرتی ہے۔

یہ امید اور ناامیدی دونوں کو پیدا کرتی ہے، لیکن ظلم اور بربریت کے باوجود انسان اپنے حقوق کو برابر حاصل کر رہا ہے۔