Friday, April 24, 2026
homeبنگالبنگال کے مسلمان: پندرہ سالہ سیاسی پسماندگی، شناخت کا بحران اور فکری...

بنگال کے مسلمان: پندرہ سالہ سیاسی پسماندگی، شناخت کا بحران اور فکری خود سپردگی کا المیہ

انصاف نیوز آن لائن کی خصوصی انتخابی سیریز: ’’بنگال کی سیاست میں مسلمان کہاں ہے؟؟‘‘جادو پور یونیورسٹی کے شعبہ پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر عبدالمتین کے ساتھ ایک تفصیلی اور فکر انگیز گفتگو

انصاف نیوز آن لائن کے ایڈیٹر نور اللہ جاوید کے ساتھ بنگال کے مسلمانوں کی پندرہ سالہ سیاسی، سماجی اور فکری تاریخ پر گفتگو کرتے ہوئے جادو پور یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالمتین نے انتہائی تلخ حقائق کا پردہ چاک کیا ہے۔ پروفیسر متین کا ماننا ہے کہ بنگال کا مسلمان آج سیاسی طور پر ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں سے اس کا ‘فکری حاشیہ’ پر ہونا، اس کی اپنی غلطیوں اور سیاسی قیادت کی خود سپردگی کا نتیجہ ہے۔

سچر کمیٹی سے ‘شناختی سیاست’ کے جال تک
پروفیسر متین کے مطابق، 2006 میں سچر کمیٹی کی رپورٹ کا منظرِ عام پر آنا بنگال کی مسلم سیاست کے لیے ایک نقطۂ آغاز تھا۔ اس وقت کے بعد سے مسلمانوں میں ایک مثبت شعوری بیداری آئی، وہ ‘سوشل جسٹس’ (سماجی انصاف) کے ایشوز پر یکجا ہوئے اور 2009 کے پارلیمانی، پنچایت، میونسپل اور 2011 کے اسمبلی انتخابات تک، بنگال کی سیاست کے ایوانوں میں مسلمانوں کے حقوق، شمولیت اور انصاف کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔
تاہم، 2011 کے بعد بنگال کی سیاست نے ایک خطرناک اور تباہ کن کروٹ لی۔ ترقی اور انصاف کے اجتماعی ایجنڈے کو پسِ پشت ڈال کر ‘شناختی سیاست’ (Identity Politics) کو مرکزی دھارے میں لا کھڑا کیا گیا۔ پروفیسر متین کا کہنا ہے کہ مذہبی شناخت کی سیاست نے مسلمانوں کو دوہرے نقصان میں مبتلا کر دیا:

وہ ‘سوشل جسٹس’ کے بنیادی ایشوز سے مکمل طور پر بھٹک گئے۔ آج اس پر بات کرنے والا کوئی نہیں۔
اس سیاست نے نہ صرف مسلمانوں میں عدم تحفظ کے احساس کو ہوا دی، بلکہ بی جے پی اور فرقہ پرست جماعتوں کے لیے بھی بنگال کی سرزمین پر قدم جمانے کے مواقع پیدا کر دیے۔
ممتا بنرجی نے جہاں ‘خوف کی سیاست’ کا کارڈ کھیلا، وہیں بی جے پی نے اسی لائن پر چل کر اکثریتی طبقے کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف خوف پیدا کیا، جس کا نتیجہ ‘پولرائزیشن’ کی صورت میں نکلا۔ امام و مؤذن کو تنخواہ دینے کی سیاست نے مسلمانوں کو کسی بااختیار طبقے کے بجائے محض ایک ‘ووٹ بینک’ تک محدود کر کے رکھ دیا۔

ترقی کے ایجنڈے کا زوال اور بیانیہ کا بحران
2017 کے بعد سے بنگال کی سیاست مجموعی طور پر ترقیاتی ایشوز سے کٹ چکی ہے۔ اب یہاں صرف ‘شناختی بیانیہ’ چلتا ہے۔ سچر کمیٹی کی سفارشات آج بنگال کی سیاست میں غیر معتبر ہو چکی ہیں، اور یہ صورتحال ممتا بنرجی اور بی جے پی، دونوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔ کیونکہ دونوں ہی نہیں چاہتے کہ بنگال میں مسلم مسائل پر کوئی حقیقی گفتگو ہو۔

مسلم اکثریتی اضلاع: پسماندگی اور سیاسی یتیمی
پروفیسر متین نے مالدہ، مرشد آباد، شمالی و جنوبی دیناج پور، ندیا اور بیر بھوم جیسے اضلاع کی دردناک تصویر کشی کی۔ یہ علاقے تاریخی طور پر انتہائی پسماندہ ہیں۔ مالدہ اور مرشد آباد کے مزدور ملک بھر میں غیر منظم سیکٹر میں ذلت آمیز مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ بی جے پی ان مسلم اکثریتی علاقوں کو اپنے نشانے پر رکھتی ہے، مگر دوسری طرف سیکولر جماعتوں نے بھی یہاں کسی بھی توانا اور خود مختار مسلم قیادت کو ابھرنے نہیں دیا۔
غنی خان چودھری کے بعد یہاں کوئی ایسا مسلم سیاست داں پیدا نہیں ہوا جو عوام کی نمائندگی کر سکے۔ تعلیم اور صحت کے میدان میں یہ علاقے ویران ہو چکے ہیں۔ مرکز کی جانب سے بیڑی مزدوروں کے لیے جو ہسپتال مختص تھے، وہ بند ہو چکے ہیں، جبکہ مقامی سیاسی ٹھیکیداروں کے نجی ہسپتال خوب پھل پھول رہے ہیں۔

‘خوف کا بیانیہ’ اور استحصال کا کھیل
اس خطے میں خود مختار مسلم سیاست کے ابھرنے کے تمام امکانات کو منظم طریقے سے ختم کیا گیا ہے۔ ایک طرف بی جے پی یہ جھوٹا بیانیہ بناتی ہے کہ یہاں انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اور مسلمان ملک کے لیے خطرہ ہیں، تو دوسری طرف ممتا بنرجی نے بھی غیر ذمہ دارانہ بیانات دے کر اس آگ میں تیل ڈالنے کا کام کیا۔ طاقتور اور نظریاتی مسلم قیادت کو ابھرنے نہیں دیا گیا، بلکہ اس کی جگہ استحصالی عناصر (جیسے بیڑی کے ٹھیکیدار) کو آگے لایا گیا۔ سرکاری اسکول اور اسپتال بند پڑے ہیں، جس کی وجہ سے یہ علاقے غربت کی نچلی ترین سطح پر ہیں۔ مرشد آباد میں آج بھی بیڑی مزدوروں کی بدحالی پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔

بابری مسجد کا سوال اور ہمایوں کبیر
مرشد آباد میں بابری مسجد کے نام پر دوبارہ مسجد کی تعمیر کے سوال پر پروفیسر متین کا موقف بہت سخت ہے۔ وہ اسے مسلمانوں کے لیے ایک سیاسی نقصان اور ‘غیر معتبر سیاست’ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، ہمایوں کبیر جیسے رہنماؤں کو اس لیے آگے لایا گیا تاکہ آئی ایس ایف (ISF) جیسی سوشل جسٹس پر مبنی سیاست کو کمزور کیا جا سکے۔ یہ خالصتاً ایک سیاسی چال ہے جس کا خمیازہ آنے والے وقت میں مسلمانوں کو بھگتنا پڑے گا۔

آئی ایس ایف اور ریاستی جبر
انڈین سیکولر فرنٹ (ISF) پر بات کرتے ہوئے پروفیسر متین نے کہا کہ اس پارٹی نے مصالحہ دار سیاست کے بجائے مسلمانوں کے سماجی مسائل اٹھائے، جو ممتا بنرجی کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھا۔ اسی لیے بھانگر کو ایک ‘پولیس اسٹیٹ’ میں تبدیل کر دیا گیا۔ امریکی طرز پر، جہاں سیاہ فاموں کی آواز دبانے کے لیے پولیس اسٹیٹ بنائی جاتی ہے، ویسا ہی سلوک یہاں آئی ایس ایف کے ساتھ کیا گیا؛ آٹھ نئے تھانے بنائے گئے اور بھانگر کو کلکتہ پولیس کے ماتحت کر کے ایک سیاسی تحریک کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔

مسلم معاشرہ: کرپٹ مڈل کلاس اور مذہبی طبقات کی ناکامی
پروفیسر متین نے مسلمانوں کی سیاسی بے شعوری کے اسباب پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ:

مسلم مڈل کلاس: یہ طبقہ شعوری طور پر کرپٹ ہو چکا ہے۔ انہوں نے اپنی تنظیموں کو بھی آزادی سے محروم کر دیا ہے اور یہ مکمل طور پر کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔
اردو بمقابلہ بنگالی: اردو بولنے والے مسلمانوں کی سوچ کلکتہ سے باہر نہیں نکل پائی۔ بنگالی اور اردو بولنے والے مسلمانوں کو قریب لانے کے لیے کوئی مخلصانہ کوشش نہیں کی گئی۔
مذہبی طبقہ: مذہبی پیشواؤں نے انتہائی مایوس کیا ہے۔ منبرِ رسول جیسی مقدس جگہوں کو سیاسی سودے بازی کے لیے استعمال کیا گیا، جس سے مذہبی ہم آہنگی کے بجائے سماجی دوری میں اضافہ ہوا۔
سیاسی خود سپردگی: مسلمان آج مکمل طور پر ترنمول کانگریس کے سامنے سرنڈر کر چکے ہیں۔ پروفیسر متین کے نزدیک یہ انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ اس سے یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ ‘مسلمان یعنی ترنمول’۔ سیاسی تنوع (Political Diversity) کے بغیر معاشرے کا سماجی تانے بانا برقرار نہیں رہ سکتا۔
نتیجہ:
پروفیسر متین کا حتمی تجزیہ یہ ہے کہ ممتا بنرجی نے مسلمانوں کو علامتی طور پر خوش کرنے کے سوا کچھ نہیں دیا، جبکہ سرکاری خزانے سے مندروں کی تعمیر جیسے اقدامات کیے گئے۔ بنگال کے مسلمان آج ایک ایسے بحران میں ہیں جہاں وہ اپنے مسائل پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ اگر وہ خوف کے اس بیانیے سے باہر نہیں نکلے اور اپنی خود مختار قیادت نہیں تراشی، تو ان کی سیاسی و فکری پسماندگی مزید گہری ہوتی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین