فلسطین کی حمایت میں بائیں محاذ کی جماعتوں کی ریلی میں عوام کا ہجوم۔

0
119

کلکتہ : انصاف نیوز آن لائن
استعماریت کے خلاف احتجاج کلکتہ شہر کی خصوصی پہنچان ہے ۔مگر حالیہ برسوں میں کلکتہ اپنی اس شناخت سے محروم ہوتا جارہا ہے۔حالیہ برسوں میں اس طرح کے احتجاج و مظاہرے شہر میں نظر نہیں آرہےتھے ۔اسرائیل کی جارحیت کے خلاف گرچہ کلکتہ شہر میں مختلف مسلم تنظیموں نے احتجاج کیا ہے ۔اس میں کچھ مشہور غیر مسلم چہروں نے بھی شرکت کی ۔تاہم سیاسی جماعتوںکی جانب سے اس معاملے میں کوئی احتجاج اب تک دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔۔۔گرچہ سی پی آئی اور دیگر بائیں محاذ کی جماعتوں نے بیان جاری کرتے ہوئے اسرائلی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔تاہم حیرت انگیز طور پر اس پورے معاملے میں ترنمول کانگریس خاموش ہے؟پارٹی کی جانب سے اب تک کوئی بیان اس معاملے میں جاری نہیں کیا گیا ہے۔گرچہ ترنمول کانگریس کےایک دو مسلم وزرا اور چند ممبران اسمبلی اسرائیل مخالف ریلی میں نظر آئے مگر ان کے پاس بھی اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ پارٹی اس معاملے میں خاموش کیوں ہے۔

اسرائیلی جارحیت کے خلاف بائیں محاذ سے تعلق رکھنے والوں نے فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی ایک عظیم الشان ریلی کا اہتمام کیا ۔اس ریلی میں بڑی تعداد میں سیاسی ورکر شریک تھے۔اس طرح کے مناظر ایک دہائی قبل کلکتہ شہر میں نظر آتے تھے ۔اس ریلی میں بائیں محاذ سے باہر کی کئی کمیونسٹ جماعتوں نے بھی شرکت کی ۔

جلوس مہاتما گاندھی روڈ سے ہوتے ہوئے سیالدہ اڈل پول کی طرف جاتے ہوئے کالج اسٹریٹ جنکشن کو عبور کرنے میں 34 منٹ کا وقت لیا۔ جب جلوس کالج اسٹریٹ چوراہے پر پہنچا تو دوپہر کے 2.38بج رہے تھے۔ جب جلوس کا آخری حصہ اس علاقے سے گزرا تو سہ پہر کے 3.12بج رہے تھے۔

یہ جلوس مہاجتی سدن سے شروع ہوا اور مہاتما گاندھی روڈ، سیالدہ اڈل پول، مولاعلی موڑ سے ہوتا ہوا مولاعلی کے قریب رام لیلا پارک پر اختتام پذیر ہوا۔ محاذ سے باہر کی جماعتوں میں سی پی آئی ایم ایل لبریشن اور ایس یو سی کا اجتماع بھی قابل دید تھا۔

ایک عرصے کے بعد بائیں بازو کی جماعتوں نے ایک بین الاقوامی مسئلہ پر کلکتہ میں مارچ کیا۔ اس سے پہلے، ہر سال یکم ستمبر کو بائیں بازو کی جماعتیں کلکتہ میں جنگ مخالف امن مارچ نکالتی تھیں۔ اس دن 1939 میں دوسری جنگ عظیم کا آغاز پولینڈ پر حملے سے ہواتھا۔ اس سے پہلے بھی ویتنام جنگ کے دوران کلکتہ میں ہو چی منہ کی بائیں بازو کی تحریک ملک کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتی تھی۔ حال ہی میں، بائیں بازو نے مرکز اور ریاست میں حکمراں پارٹی کے خلاف تحریک چلانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ بدھ کو کئی دنوں کے بعد وہ بین الاقوامی مسائل کو لے کر سڑکوں پر نکلے۔ سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری محمد سلیم نے جلوس کے آغاز سے پہلے مہاجتی سدن کے سامنے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ کولکاتا دوبارہ کلکتہ بن گیا ہے۔

فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے علاوہ بائیں بازو کی قیادت بھی مرکز کی نریندر مودی حکومت کی اسرائیل کے تئیںجھکائو پر سخت سرزنش کی ہے ۔دہلی نے بھارت کی دیرینہ خارجہ پالیسی کو ترک کردیاہے۔ فلسطینی کاز کی حمایت بھارت کی دیرینہ پالیسی کا حصہ رہا ہے۔مگر اب مودی کی قیادت والی بھارتی حکومت مکمل طور پر اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوا نظرآرہا ہے۔
بائیں محاذ اپنے اتحاد میں سی پی آئی ایم لبریشن اور ایس یو سی آئی جیسی کمیونسٹ جماعتوں کو شامل کرنا چاہتی ہے۔آج کی ریلی ان دونوں جماعتوں کی شرکت سے ایک راہ ہموار ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔لوک سبھا انتخابات کے پیش نظرتمام کمیونسٹ جماعتوںکو متحد کرنے کیلئے سی پی آئی جلد ہی میٹنگ اور مذاکرات کا عمل شروع کرنے والی تھی ۔اس سے پہلے تمام بائیں بازو کی جماعتیں فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک ساتھ مارچ میںشرکت کو بہت ہی اہم سمجھا جارہا ہے۔