Thursday, May 30, 2024
homeدنیادفعہ 341کے تحت مسلمانو ں کو محرو م کیا جانا آئین...

دفعہ 341کے تحت مسلمانو ں کو محرو م کیا جانا آئین کے خلاف—صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی کی طرف سے سینئر وکیل سی یو سنگھ نے استدلال کیا کہ سرکار کی طرف سے نئے کمیشن کا قیام بے معنی او ر وقت کا ضیاع

نئی دہلی، 12 اپریل : دلت سے مسلمان ہونے والوں کو دفعہ341 کے تحت ملنے والے فوائد سے محروم کیے جانے کے 37سال بعد سپریم کورٹ میں ایک بار پھر انصاف دلانے کی کوشش ہورہی ہے۔ اس سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی طرف سے ایک عرضی سپریم کورٹ میں داخل کی گئی جس پر آج سماعت ہوئی۔ جمعیۃعلماء ہند کی طرف سے سینئر وکیل سی یو سنگھ اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈایم آر شمشاد پیش ہوئے۔
اس سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند نے اپنی عرضی میں جسٹس رنگا ناتھ مشرا کمیشن کا حوالہ دیاتھا، جس میں مسلمانوں اور دلت عیسائیوں کو درج فہرست ذاتوں (ایس سی) کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ حالاں کہ حکومت ہند نے رنگاناتھ مشرا کمیشن کی مخالفت کی ہیڈ، سرکار نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا کہ رنگاناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ میں خامی ہے، اس لیے حکومت نے اسے تسلیم نہیں کیا ہے۔ جہاں تک ریزویشن دینے کا مسئلہ ہے تو اس سلسلے میں سرکار نے کے جی بالا کرشنن کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو دوسال میں رپورٹ پیش کرے گی، سپریم کورٹ کو اس رپورٹ کا انتظار کرناچاہیے۔
اس پر سپریم کورٹ نے بدھ کو ایک زبانی تبصرے میں کہا کہ رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ، جسے سرکار تسلیم نہیں کررہی ہے، اس سے متعلق ایک آئینی سوال ہے جس کا فیصلہ ہونا ہے کہ کیا اس رپورٹ میں دی گئی اعداد و شمار پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟
عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں قانونی سوال یہ بھی ہے کہ کیا کہ سپریم کورٹ مداخلت کرکے کسی اور طبقہ کو اس دفعہ میں شامل کرنے کا حکم دے سکتا ہے؟ پورے معاملے کو تفصیل سے سننے کا ذہن بناتے ہوئے عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 11 جولائی کو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بدھ کے روز، جسٹس ایس کے کول کی سربراہی میں تین ججوں کی بنچ نے دلت عیسائیوں اور دلت مسلمانوں کے لیے ایس سی زمرے کے لیے ریزرویشن سے متعلق طویل عرصے سے زیر التوا درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ مسئلہ اٹھایا۔ بنچ کے ارکان میں جسٹس اے امان اللہ اور جسٹس اروند کمار بھی شامل ہیں۔
ایک درخواست گزار کے وکیل پرشانت بھوشن نے 2011 میں پاس کیے گئے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں آئینی سوالات کا فیصلہ کیا گیا تھا۔جس میں یہ سوال بھی شامل تھا کہ کیا ہندو، سکھ اور بدھ مت کے علاوہ کسی اور مذہب کی پیروی کرنے والوں کو درج فہرست ذات کے لیے آئین کے پیرا 3 میں دیے گئے شیڈول کاسٹ آرڈر 1950 کے فوائد سے محروم کیا جاسکتا ہے، نیز کیا یہ آرٹیکل 14کی خلاف ورزی ہے۔ اس لیے حکومت کے ذریعہ ٹال مٹول کے مقصد سے قائم کردہ نئے کمیشن کا ہمیں انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ سینئر وکیل سی یو سنگھ نے دلیل دی کہ محض حکومت کا یہ کہنا کہ اس نے ایک اور کمیشن تشکیل دیا ہے بے معنی بات ہے۔ ایسی باتوں سے حکومت کا منفی رویہ ظاہر ہوتا ہے اور حکومت آئینی حقائق پر بات کرنے سے گریز کرنے کا ایک بہانہ تلاش رہی ہے۔
اس سلسلے میں آج نئی دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کے قانونی معاملات کے نگراں نیاز احمد فاروقی ایڈوکیٹ سپریم کورٹ نے کہا کہ آئین کی بنیادوں کا تحفظ ہر شہری کا فرض بنتا ہے، اس لیے جمعیۃ علماء ہند نے مذکورہ معاملے میں عدالت کا رخ کیا ہے۔ یہ تفریق پر مبنی حکم نا مہ ہے، اس لیے عدالت سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اس تفریق کو جلد ختم کردے گی۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین