Wednesday, May 29, 2024
homeخصوصی کالمبھارت میں تعلیمی آزادی کا خاتمہ

بھارت میں تعلیمی آزادی کا خاتمہ

مظفرنگراسکول کے واقعہ سے لے کر اشوکا یونیورسٹی کے تنازع تک ملک کے تعلیمی ادارے پسپائی کی کہانی بیان کرررہے ہیں اکیڈمک فریڈم انڈیکس کی رپورٹ اور’’فری ٹو تھنک رپورٹ 2022‘‘میں بھارت کی درجہ بندی میںمسلسل گراوٹ

نوراللہ جاوید
کرّہ ارض سے ہزاروں کلومیٹر دور چاند پر چندریان-3 کی کامیاب لینڈنگ نے ملک و بیرون ملک میں آباد کروڑوں بھارتیوں کو فخر کا احساس عطا کیا ہے۔ بھارت کے سائنس دانوں نے جو کارنامے انجام دیے وہ اس لحاظ سے کافی اہم ہیں کہ اب تک دنیا کا کوئی بھی ملک چاند کے جنوبی حصے میں اپنے خلائی جہاز کی لینڈنگ کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ چندریان-3 کی کامیاب لینڈنگ سے محض چند دن قبل ہی روس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس جشن و طرب کے دوران اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر کے ایک ایسا شرم ناک واقعہ پیش آیا جس نے ہم ہندوستانیوں کا سر دنیا کے سامنے ایک بار پھر نیچا کر دیا۔ واقعہ یہ ہے کہ ضلع کے ایک قصبے کے ایک اسکول میں ایک اسکول کی خاتون ٹیچر نے کلاس کے ہندو بچوں کو ہدایت کی کہ وہ سب مل کر اپنی ہی کلاس کے ایک مسلم ساتھی طالب علم کے چہرے پر تھپڑ ماریں۔ اس دوران وہ ٹیچر مذہبی تعصب پر مبنی اور نفرت بھرے فقرے بھی کستی رہی۔ اس پورے واقعہ کا ویڈیو اس تیزی سے وائرل ہوا کہ محض چند ہی گھنٹوں میں پوری دنیا میں پھیل گیا۔ وہ بھی ایک ایسے وقت جبکہ دنیا چاند پر جھنڈا گاڑنے پر بھارت کی تعریف کر رہی تھی۔ ایسے میں اس واقعہ نے دنیا کے ہر ایک حساس دل کو بے چین کر دیا اور دنیا میں یہ تاثر چھوڑا کہ خلائی سائنس کے میدان میں آگے بڑھنے والا ملک تعلیمی و اخلاقی میدان میں کس حد تک گر گیا ہے۔ سائنس داں چاند کے تاریک حصے کو روشن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر حال یہ ہے کہ دلوں میں اس قدر اندھیرا چھایا ہوا ہے کہ ’زمین کے تارے‘ ڈوب رہے ہیں۔ تھپڑ اور نفرت انگیز طعنوں سے دل برداشتہ ایک سات سالہ بچے کے روتے اور بلکتے چہرے نے چندریان-3 کی کامیابی کو دھندلا کر رکھ دیا ہے۔

ضلع مظفر نگر کے گاؤں خباپور میں واقع نیہا پبلک اسکول میں پیش آنے والے بے رحمانہ واقعہ کا یہ ویڈیو نہ صرف بھارت کے نظام تعلیم میں نفرت انگیزی اور سماجی تفریق کے گمبھیر مسئلے کی نشان دہی کرتا ہے بلکہ اس تلخ حقیقت کو بھی آشکار کرتا ہے ارباب اقتدار نے محض حقیر سیاسی فائدے کی خاطر برسوں سے جس طرح فرقہ وارانہ تعصب ذہن کی آبیاری کی ہے وہ اب اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ کلاس روم وہ جگہ ہوتی ہے جہاں سے علم و دانش کے سوتے پھوٹتے ہیں، فکر و نظر میں وسعت پیدا ہوتی ہے، تحمل و برداشت کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور ذہن تخلیق و اختراع کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ لیکن اگر کمرہ جماعت کی ان خصوصیات کو نفرت و تعصب کا گہن لگ جائے تو پھر نتائج اس کے برعکس ہوجاتے ہیں۔ پراگندہ ذہنوں کو اگر کامیابی کی منزل پر پہنچا بھی دیں تو انسانیت کے نظریہ سے ایسی کامیابی ہیچ ہو کر رہ جاتی ہے۔ چنانچہ اس ویڈیو نے چاند تک کے ہمارے شان دار سفر کو گرہن لگا دیا ہے کیوں کہ جب ستارے ہی بے نور ہو جائیں تو محض چاند کی روشنی سے تو تاریکی دور نہیں ہو سکتی۔

مظفرنگر اسکول کا یہ واقعہ کوئی معمولی نہیں ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں تعلیمی اداروں میں نفرت و تعصب کے واقعات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں مگر ہماری توجہ اس جانب نہیں جاتی اور ہم آگے بڑھ جاتے ہیں۔ مسلمان، دلت اور دیگر اقلیتی طلبا کو محض مذہبی بنیادوں پر آئے دن نفرت انگیزی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ مظفرنگر کا یہ واقعہ منافرت کے نقطہ عروج کی علامت ہے اس لیے اس پر خوب تبصرے ہو رہے ہیں۔ اب دیکھنا ہوگا یہ واقعہ کب تک خبروں کی دنیا میں موضوع بحث بنا رہتا ہے، کیا حکومت اس واقعے کو خطرے کے طور پر لے کر آیا آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی اقدام کرتی ہے؟ اسرو کے سائنس دانوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’چندریان کا نام ملک کے تمام بچوں کے ذہن و دماغ میں گونج رہا ہے۔ ہر بچہ اب اپنا مستقبل دیکھ رہا ہے۔ یہی ہماری کامیابی ہے‘‘۔ وزیر اعظم کی یہ بات ملک کے ان کروڑوں بچوں کے لیے تو درست ہو سکتی ہے جنہوں نے تعصب کے ماحول سے پرے ٹی وی پر پورے جوش وخروش سے اس منظر کا مشاہدہ کیا ہوگا لیکن مظفرنگر کے اس طالب علم کے لیے نہیں جس کی آنکھوں میں درخشاں مستقبل کی چمک کی جگہ ذلت کے آنسووں نے لے لی ہے۔

19ویں صدی کے ایک امریکی تاریخ داں اور ماہر تعلیم ہنری ایڈمز کا یہ مشہور جملہ اکثر حوالے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے کہ ’’استاذ ابدیت کو متاثر کرتے ہیں اور کوئی اس کی پیش گوئی نہیں کرسکتا کہ ایک استاذ کا اثر کہاں جا کر رکے گا‘‘۔ مظفر نگر کے نیہا پبلک اسکول میں خاتون ٹیچر کے حکم پر ہم جماعتوں کے ذریعہ سات سالہ مسلم بچے کے چہرے پر لگائے گئے تھپڑ، ذلت و رسوائی اور مذہب کی بنیادپر نفرت انگیزی کے اثرات نہ صرف اس لڑکے کے دل و دماغ پر رہیں گے بلکہ اپنے کلاس روم میں تنہائی کا شکار ہر ایک بچے کو متاثر کریں گے اور خاتون ٹیچر کے شیطانی الفاظ کی بازگشت معصوموں کے اعتماد کو مجروح کرتی رہے گی۔

بھارت کے تعلیمی ادارے ’’تنوع میں اتحاد کے بنیادی قدروں کی تعلیم کے پیامبر رہے ہیں۔ 2000ء کی دہائی میں مرکزی حکومت نے جب ’’سروا شکشا ابھیان‘‘ (تعلیم سب کے لیے) مہم کے تحت ’’چلو اسکول چلتے ہیں‘‘ کے نعرے درد و یوار پر لکھوائے تھے، تب اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر اشتہارات چلائے جا رہے تھے۔ ان اشتہارات سے ملک کے خوبصورت تنوع کی عکاسی ہوتی تھی۔ مختلف ریاستیں جداگانہ تہذیب و تمدن اور لباس کا مظہر ہیں۔ راجستھان کے صحراؤں سے لے کر شمال مشرق کی سرسبز و شاداب پہاڑیوں تک، جموں و کشمیر کی برفیلی چوٹیوں سے لے کر پنجاب اور اتر پردیش کے میدانوں تک سوٹ، اسکرٹ، شلوار قمیض، حتیٰ کہ حجاب میں ملبوس مسکراتے ہوئے بچوں کو اسکول جاتے ہوئے دیکھا جاتا تھا مگر آج لباس کے نام پر اسکولوں میں داخلے روکے جا رہے ہیں۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پابندیاں عائد کی جارہی ہے ہیں۔ تنوع کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ بھارت کے تنوع کو بھگوا رنگ میں رنگنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چنانچہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہمارے تعلیمی ادارے جس طریقے سے شکست و ریخت، ہنگامہ آرائی اور پابندیوں کی شکار رہے ہیں اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ہے۔ اکیڈمک فریڈم انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق 2022ء میں ہندوستان کا اکیڈمک فریڈم انڈیکس 179 ممالک میں 30 فیصد نیچے ہے۔ اس میں 2013ء کے بعد سے تیزی سے گراوٹ آئی ہے۔ تعلیمی آزادی کے دفاع کے لیے سرگرم بین الاقوامی نیٹ ورک اسکالرس ایڈ رسکت نے بھارت کو ’’فری ٹو تھنک رپورٹ 2022‘‘ میں دنیا کے ان ممالک میں شامل کیا ہے کہ جہاں اسکالروں اور تحقیقی اداروں کے خلاف سب سے زیادہ کریک ڈاون کیا جاتا ہے۔

2013ء کے بعد ملک بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں پر ایک خاص فکر کو مسلط کرنے کی جو کوششیں شروع ہوئی ہیں وہ ان دو بین الاقوامی اداروں کی ریٹنگ سے واضح ہوتا ہے۔ ملک کو بڑے بڑے اسکالر، دانش ور، بیوروکریٹ اور سینئر سیاست داں دینے والی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں گزشتہ دس سالوں میں طلبا پر حملے، آزادانہ بحث و مباحثہ کی آزادی پر قدغن، فیس میں اضافہ، اسکالرشپ کے فنڈ میں کٹوتی جیسے اقدامات سے اقلیت اور پس ماندہ طبقات کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو ناممکن بنایا جا رہا ہے۔ حکومت کے زیر کنٹرول تعلیمی ادارے شکست و ریخت کے شکار تھے ہی اب پرائیوٹ یونیورسٹیوں پر بھی حکومت اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔لبرل اور آزاد فکر و نظر کے فروغ کی دعویدار اشوکا یونیورسٹی کا حالیہ تنازع اس کا بین ثبوت ہے۔ اشوکا یونیورسٹی کی انتظامیہ نے حالیہ برسوں میں جس طریقے سے حکومت کے سامنے اپنے بنیادی اصول و اقدار سے رضاکارانہ دستبرداری اور خود سپردگی اختیار کی ہے اس نے ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی آزادی، تحقیق و ریسرچ کے ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

مشہور امریکی مصنف، علم بشریات اور تاریخ کے علوم کے ماہر جیرڈ ڈائمنڈ نے اپنی مشہور زمانہ کتاب میں ’’گنز، جرمز اینڈ سیٹل‘‘ کی تصنیف کی وجہ بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک دن ایک امریکی سیاہ فام نے سوال کیا کہ گورے ذہین اور عقل مند کیوں ہوتے ہیں اور ہم کالے کند ذہن اور کم عقل کیوں ہوتے ہیں؟ اس سادہ سوال کا جواب جیرڈ ڈائمنڈ کے پاس نہیں تھا۔ وہ سوچتا رہا کہ قوموں اور ملکوں کے حالات میں اتنا فرق کیوں ہوتا ہے، ایک قوم انتہائی ترقی یافتہ تو دوسری قوم انتہائی زوال پذیر کیوں ہوتی ہے۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں اپنی زندگی کے 25 سال صرف کرنے کے بعد انہوں نے یہ کتاب ’’Gun,Germsa and Steel‘‘ لکھی۔ اس کتاب میں انہوں نے لکھا کہ ’’دنیا کے ہر خطے اور ہر علاقے میں ماحول مختلف ہوتے ہیں، لہٰذا جن قوموں اور علاقوں کا ماحول اچھا ہوتا ہے یا جن قوموں نے اپنے ماحول کو بہتر بنایا ہے وہ قومیں آگے نکل گئیں اور جن قوموں نے ماحول کی پروا نہیں کی ماحول نے بھی ان کی پروا نہیں کی اور آج وہ قومیں ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئیں‘‘۔ اگرچہ جیرڈ ڈائمنڈ کے اس جملے میں کوئی گہرائی نظر نہیں آتی ہے مگر اسی فکر و نظریہ کی تائید مشہور فلسفی اور مورخ ابن خلدون نے بھی قوموں کے عروج و زوال میں ماحول کو اہم عنصر کے طور پر شمار کیا ہے۔ دراصل کسی قوم کی ترقی اور تنزلی کا معیار اس کی تخلیقی صلاحیت پر منحصر ہوتی ہے اور تخلیق کے لیے ماحول کا سازگار ہونا انتہائی اہم ہوتا ہے۔ سازگار ماحول، معاشرتی استحکام، باہمی تعاون، خوش اخلاقی، قوانین کی پابندی، باہمی احترام، امن و امان، عدل و انصاف، میرٹ، منصوبہ بندی، خوش گوار فضا، تعلیمی اداروں کی کثرت، اظہار رائے، صبر و ضبط، تحمل و بردباری، وسعت ظرفی اور بلند حوصلگی یہ وہ ماحول ہے جس میں تخلیق کاری ممکن ہوتی ہے اور انہی ماحول میں تخلیق کار جنم لیتا ہے۔مشہورمورخ ٹائن بی نے بھی اپنے شہرہ آفاق کتاب ’’اے اسٹڈی آف ہسٹری‘‘ میں اس کی تائید کی ہے کہ ’’افراد اور اقوام کی زندگی میں چیلنج اور ماحول اہم ہوتا ہے۔ یہ چیلنج اور ماحول ہی ہوتا ہے جو افراد اور اقوام کو زندہ رکھتا اور انہیں سخت محنت اور جستجو کا عادی بناتا ہے۔ چیلنج اور مقصدیت و اہداف سے خالی افراد سماج کے سب سے بڑے بوجھ ہوتے ہیں۔ مشہور مورخین اور دانشوروں کی اس آرا کی روشی میں اگر سوال کیا جائے کہ کیا آج ہمارے کیمپس اساتذہ اور اسکالرز کو وہ ماحول حاصل ہے جہاں تخلیق کاری ممکن اور تخلیق کار جنم لے سکتے ہیں؟ جس ملک میں تعلیمی اداروں کو بین الاقوامی سیمینار کے انعقاد کے لیے وزارت تعلیم کی اجازت لینی پڑے، جہاں تحقیقی مقالے کے عناوین کے موضوعات حکومت کے اہلکار طے کرنے لگیں وہاں خدمت گار تو پیدا ہو سکتے ہیں تخلیق کار نہیں۔ بلکہ وہاں بابو بجرنگی یا بٹو بجرنگی جیسے افراد ہی پیدا ہوں گے۔وہاں علم و دانش اور حقائق پر مبنی تحقیقی مقالے کبھی نہیں لکھے جا سکیں گے بلکہ بد عنوان سیاست دانوں کی “کامیابیوں” پر تحقیقی مقالے لکھے جائیں گے۔

اشوکا یونیورسٹی کاتنازع
گزشتہ مہینے جولائی کے اواخر میں اشوکا یونیورسٹی میں شعبہ معاشیات میں اسسٹنٹ پروفیسر سبیاساچی داس کا ایک تحقیقی مقالہ Democratic Backsliding in the World’s Largest Democracy کے عنوان سے سامنے آیا۔اس اس مقاملے میں انہوں نے 2019ء کے پارلیمانی انتخابات میں چند حلقوں کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ کچھ حلقوں میں بی جے پی نے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ انہوں نے کئی حلقوں میں ووٹرس پر دباو بنانے کے لئے غیر جمہوری اور غیر اخلاقی طریقہ استعمال کیا۔ ملک کی دوسری بڑی اکثریت مسلمانوں کو ہدف بنایا گیا مگر انتخابی مبصرین ان واقعات پر خاموش رہے۔ اس صورت حال کو انہوں نے جمہوری پسپائی سے تعبیر کیا۔ 50 صفحات پر مشتمل اس مقالے میں کسی حتمی نتائج تک پہنچنے کے لیے دلائل دیے گئے اور کئی حلقوں کا تجزیہ کیا گیا۔ یہ مقالہ سامنے آنے کے بعد بی جے پی کی آئی ٹی سیل نے اس مقالے کے خلاف مہم شروع کر دی اور اس کو ملک دشمنی سے تعبیر کیا جانے لگا۔ اس صورت حال میں اشوکا یونیورسٹی نے جو آزاد سوچ و فکر کا حامل ادارہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، پروفیسر سبیاساچی داس کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے نہ صرف داس کے اسی تحقیقی مقالے سے کنارہ کشی اختیار کر لی بلکہ اپنے پروفیسر کی تحقیق پر بغیر کسی ثبوت کے سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ اشوکا یونیورسٹی کے فیکلٹی، طلباء یا عملہ اپنی ’’انفرادی صلاحیت‘‘ کے مطابق سوشل میڈیا یا پھر دیگر عوامی پلیٹ فارمس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں مگر سرگرمیاں یونیورسٹی کے موقف کی عکاسی نہیں کرتیں۔ اس کے بعد پروفیسر داس کے استعفیٰ کی خبر سامنے آئی۔ یہ سوال اٹھنے لگا کہ کیا پروفیسر داس نے اشوکا مینجمنٹ کے دباو میں یہ استعفیٰ دیا ہے یا انہیں استعفی دینے پر مجبور کیا گیا ہے؟ پروفیسر داس نے اس عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اس دوران 14 اگست کو یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے پروفیسر داس کے استعفیٰ کو منظور کرنے کی خبر دے دی۔ ابتدائی دنوں میں اشوکا یونیورسٹی کے دیگر فیکلٹیز نے اس پورے معاملے میں خاموشی اختیار کی مگر پروفیسر شعبہ معاشیات کے ایک اور پروفیسر پلاپرے بالاکرشنن کے استعفیٰ کی خبر نے اشوکا یونیورسٹی کے طلبا اور دیگر شعبوں کے فیکلٹیز کو سامنے آنے پر مجبور کر دیا۔ اشوکا یونیورسٹی کے کئی شعبوں نے مشترکہ بیانات جاری کرتے ہوئے غیر مشروط طریقے سے پروفیسر داس کو واپس بلانے اور تحقیقی مقالے میں انتظامیہ کی عدم مداخلت کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔مشترکہ بیانات میں انتظامیہ کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہوگئی مگر ابھی پروفیسر داس کی واپسی سے متعلق کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔ اس تنازع نے ایک بار پھر اس بحث کا آغاز کر دیا کہ کیا بھارت میں اعلیٰ تعلیمی ادارے آزادی اور خود مختاری سے محروم ہو رہے ہیں؟ کیا انتظامیہ اور حکومت کے ابروئے چشم کے اشارے پر تحقیق و ریسرچ کی بنیاد رکھے جائے گی؟ اشوکا یونیورسٹی اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کی یہ پہلی کوشش نہیں ہے بلکہ اکیڈمک فریڈم انڈیکس کی رپورٹ اور’’فری ٹو تھنک‘‘ کی رپورٹوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی خود مختاری چھیننے اور اسکالروں پر حملے تسلسل کے ساتھ نہ صرف جاری ہیں بلکہ ادارہ جاتی شکل میں یہ حقوق چھینے جا رہے ہیں۔

ملک کے دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں کی خود مختاری پر حملہ لکھنو یونیورسٹی میں ہندی کے ایک دلت پروفیسر روی کانت چندن کو مئی 2022ء میں اے بی وی پی کے اراکین کے ہاتھوں مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور ان پر حملہ کیا گیا۔ پرائیوٹ یونیورسٹی شاردا یونیورسٹی نے مبینہ طور پر پولیٹیکل سائنس کے اسسٹنٹ پروفیسر وقاص فاروق کٹے کو صرف اس لیے معطل کر دیا گیا کیونکہ انہوں نے امتحان میں سوال کیا تھا کہ آیا آپ فاشزم/نازیزم اور ہندو دائیں بازو (ہندوتوا) میں کوئی مماثلت پاتے ہیں؟ دلائل کے ساتھ وضاحت کریں۔دہلی یونیورسٹی کے ہندو کالج میں پروفیسر رتن لال کو صرف اس لیے گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے گیان واپی مسجد میں شیولنگ کے پائے جانے کی خبریں آنے کے بعد اپنے فیس بک پر ایک کارٹون بنایا تھا۔ اسی طرح جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبا نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر میں مزاحمت اور اختلاف کا اندازہ لگانے کے لیے ’’صنفی مزاحمت اور 2019ء کے بعد کے کشمیر میں تازہ چیلنجز‘‘ کے عنوان سے 2021ء میں ایک ویبنار کا انعقاد کیا تھا مگر یونیورسٹی انتظامیہ نے اس کو منسوخ کر دیا۔ 2016ء میں اشوکا یونیورسٹی میں ہی کشمیر کی صورت حال پر تحقیقی مقالہ لکھنے کی وجہ سے اپنے تین فیکلٹی ممبروں کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا۔ اسی طرح دو سال قبل 2021ء میں اشوکا یونیورسٹی کی انتظامیہ نے حکومت کے سامنے خود سپردگی کرتے ہوئے اپنے سابق وائس چانسلر پرتاپ بھانو مہتا کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا، کیونکہ مہتا انڈین ایکسپریس اخبار کے اپنے کالم میںمسلسل مودی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ جنوری 2015ء میں وزارت تعلیم نے آن لائن ورچوئل کانفرنسوں اور سیمیناروں سے متعلق ہدایات جاری کرتے ہوئے رہنما خطوط میں کہا کہ کسی بھی بین الاقوامی آن لائن پروگرام کے لیے ابتدائی طور پر حکومت سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ تقریب کا موضوع ریاست کی سلامتی، جموں و کشمیر یا ہندوستان کے اندرونی معاملات سے متعلق نہ ہو۔ ایک زمانے تک دائیں بازوں کے قریبی رہنے والے دانشور سدھیر کلکرنی نے اپنے ایک مضمون میں وزرات تعلیم کی اس ہدایت کو آزاد بھارت کے اکیڈمک تاریخ میں بدترین تعلیمی پسپائی قرار دیا تھا۔ مہاراشٹر کے ضلع کولہاپور میں واقع کولہاپور انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی، کالج آف انجینئرنگ میں فزکس کی ایسوسی ایٹ پروفیسر تیجسوانی دیسائی کے خلاف کارروائی کا واقعہ ابھی تازہ ہے۔ انسانی اقدار سے متعلق کلاس کے دوران کچھ طالب علموں نے پروفیسر دیسائی سے کہا کہ مسلم سماج میں عصمت دری کا رجحان سب سے زیادہ ہے بلکہ انہیں اس کے لیے ترغیب دی جاتی ہے۔ پروفیسر دیسائی طلبا کے ان باتوں سے چونک گئیں اور ان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مجرمانہ ذہنیت کے حامل ہر سماج میں ہوتے ہیں۔ مہاراشٹر کے دو بڑے طبقات پٹیل اور دیشمکھ میں کئی عصمت دری کے ملزم مل جائیں گے۔ اس کا تعلق کسی خاص مذہب سے نہیں ہے۔ پروفیسر دیسائی جب کلاس لے رہی تھیں تو چند شر پسند طلبا نے خاموشی سے اس کی ویڈیو بنا لی، بعد میں اس ویڈیو میں پروفیسر دیسائی کی تقاریر میں چھیڑ خانی کرکے پولیس سے شکایت کردی اور پولیس ان سے پوچھ تاچھ کرنے کے لیے کالج پہنچ گئی۔ بعد میں کالج انتظامیہ نے انہیں رپورٹ آنے تک برطرف کر دیا۔ المیہ یہ کہ پروفیسر دیسائی کی حمایت میں کالج کے دیگر اساتذہ بھی سامنے نہیں آئے۔

ابھی حال ہی میں آن لائن تعلیمی پلیٹ فارم UnAcademy میں قانون کے استاذ کرن سنگوان کو صرف اس لیے برطرف کر دیا گیا کہ انہوں نے انسٹی ٹیوٹ کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے تحت ایک استاد کو اپنی ذاتی رائے کو کلاس میں پیش کرکے طلبا کو پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ سنگوان قانون کے استاد ہیں۔ انہوں نے ایک کلاس میں انڈین پینل کوڈ اور کریمنل پروسیجر کوڈ کی اصلاح کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بلوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے طلباء سے کہا تھا کہ وہ پڑھے لکھے لیڈروں کو ووٹ دیں اور ایسے لیڈر منتخب کریں جو نتائج کے بارے میں سوچے بغیر فیصلہ نہ کریں۔
اعلیٰ تعلیمی اداروں کی پسپائی اور حکومت کے جبر و استبداد کے سامنے ڈٹ جانے کی مثالیں اگرچہ معدوم ہیں مگر آئی آئی ایم احمد آباد کے ڈائریکٹر ایرول ڈی سوزا کی تعریف کی جانی چاہیے کہ اس ماحول میں بھی انہوں نے وزارت تعلیم کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا اور اپنے ایک طالب علم کے پی ایچ ڈی مقالہ جس میں انہوں نے ’’بی جے پی کو ہندو نواز اور اعلیٰ ذات کی جماعت‘‘ قرار دیا تھا۔ ڈی سوزا نے کہا کہ وہ اس مقالے کو منسوخ نہیں کریں گے۔ مقالے کے موضوعات کو طے کرنے کا کام وزارت تعلیم کا نہیں ہے بلکہ یہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کا استحقاق ہے اور ہم اپنے حق سے دست بردار نہیں ہوں گے ۔

اعلیٰ تعلیمی اداروں کی آزادی سے متعلق بین الاقوامی اداروں کی رپورٹیں دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں سے متعلق دو رپورٹیں ’’فری ٹو تھنک‘‘ اور اکیڈمک فریڈم انڈیکس کی تازہ رپورٹیں ہیں۔ ان دونوں رپورٹوں میں دنیا بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے زوال کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اسکالرز ایٹ رسک (SAR) کے ذریعہ دنیا بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پر تشدد جھڑپیں، قتل و غارت گری، اداروں پر پولیس کے چھاپے، پر امن احتجاج کے دوران طلباء کے خلاف طاقت کے استعمال، اسکالروں کو غلط طریقے سے قید کرنے اور ان پر مقدمات قائم کرنے کی درجہ بندی کر کے فہرست بناتی ہے۔’’فری ٹو تھنک‘‘ رپورٹ پہلی مرتبہ 2015ء میں آئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت کے اعلیٰ تعلیمی ادارے جمود کا شکار ہیں۔ تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’2014ء میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے ہی ہندو قوم پرست جماعتیں اعلیٰ تعلیمی اداروں پر اپنا تسلط قائم کر رہی ہے۔تنقیدی آوازوں کو خاموش کرنے، تاریخ اور معاشرے سے متعلق متعصبانہ نقطہ نظر تھوپنے کی مسلسل کوشش ہو رہی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ملک کے طور پر بھارت میں اسکالروں کی زندگی مسلسل خطرے سے دوچار ہو رہی ہے۔ آزادانہ طریقے سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور جو حکم راں جماعت اور ان کی پالیسیوں کی تنقید کرنے والے اسکالروں کے خلاف انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے۔ عام طور پر ہتک عزت، جاسوسی، توہین مذہب، قومی سلامتی، بغاوت اور دہشت گردی کے قوانین جیسے سنگین دفعات کے تحت مقدمے قائم کیے جاتے ہیں۔

گلوبل پبلک پالیسی انسٹی ٹیوٹ نے فریڈرک-الیگزینڈر یونیورسٹی ایرلانجن-نرنبرگ، اسکالرز آف رسک اور وی ڈیم انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے گلوبل ٹائم سیریز ڈیٹاسیٹ (1900-2019) کے ایک حصے کے طور پر شائع کیا ہے۔ رپورٹ پانچ اشاریوں کا اندازہ لگا کر 179 ممالک میں تعلیمی آزادی کا جائزہ ’’اکیڈمک فریڈم انڈیکس‘‘ کے نام سے پیش کرتی ہے۔ اس انڈیکس میں دنیا بھر کے 2,197 سے زائد ماہرین کے تجزیے شامل ہیں۔’’اکیڈمک فریڈم انڈیکس‘‘ کو مرتب کرتے وقت اعلیٰ تعلیمی اداروں، تحقیق اور پڑھانے کی آزادی، علمی مباحثے اور اپنے موقف کے اظہار کی آزادی، یونیورسٹیوں کی ادارہ جاتی خود مختاری، کیمپس کی سلامتی اور علمی اور ثقافتی اظہار کی آزادی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔اکیڈمک فریڈم انڈیکس کی 2023ء کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت دنیا کے 179 میں سے ان 22 ممالک اور خطوں میں شامل ہے جہاں گزشتہ دس سالوں کے مقابلے میں اعلیٰ تعلیمی اداروں اور اسکالروں کو کم آزادی حاصل ہے۔ اکیڈمک فریڈم انڈیکس میں بھارت نے صفر سے ایک کے ٹیبل میں 0.38 کا اسکور حاصل کیا ہے۔ بھارت ریٹنگ کے معاملے میں اپنے پڑوسی ممالک نیپال (0.86) پاکستان (0.45) اور بھوٹان (0.46) سے پیچھے ہے جبکہ بنگلہ دیش جہاں ہائبرڈ جمہوریت قائم ہے اس کا اسکور 0.25 اور میانمار جہاں جنتا فوجی حکومت قائم ہے 0.1 سے آگے ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں، 2009ء سے ہی یونیورسٹی کی خود مختاری اور تعلیمی آزادی میں کمی کی شروعات ہوئی تھی اور 2013ء کے بعد خود مختاری اور تعلیمی آزادی کے تمام معیارات میں گراوٹ آئی ہے۔
کیمپس کی سالمیت، ادارہ جاتی خود مختاری اور تعلیمی اور ثقافتی اظہار کی آزادی میں سال بہ سال گراوٹ درج کی جارہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ بھارت کے آئین میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی خود مختاری اور آزادی سے متعلق کوئی قانون نہیں ہے اس لیے ’مودی کی ہندو قوم پرست حکومت آسانی سے اعلیٰ تعلیمی اداروں پر شپ خون مارنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ ریٹنگ میں کمی کے عوامل پر روشنی ڈالتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2013ء کے بعد سے ہی تعلیمی آزادی کے تمام پہلوؤں میں سختی سے کمی آنی شروع ہوئی، جسے 2014ء کے انتخابات سے مزید تقویت ملی ہے۔ تعلیمی آزادی کے تحفظ کے لیے قانونی فریم ورک کی کمی نے حکم راں جماعت کو تعلیمی آزادی پر حملے کرنے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور چین کی صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ اس صورت حال سے باہر نکلنے کے لیے اعلیٰ تعلیمی پالیسی سازوں اور یونیورسٹیوں کے سربراہوں کو صورت حال کا ادراک کرنے اور اپنی خود مختاری بحال کر نے کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اشوکا یونیورسٹی کا حالیہ تنازع اور دو بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں نے بھارت میں جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اس صورت حال میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت حال سے نکلنے کا کوئی اور راستہ بھی ہے؟

تعلیمی اداروں کی آزادی اور خود مختاری کے لیے بلند ہونے والی آوازوں میں سے ایک دہلی یونیورسٹی کے ہندی شعبے کے پروفیسر اپوروا آنند کہتے ہیں کہ ایمان دارانہ تقریر کی آزادی کے بعد کلاس روم سیکھنے کی جگہ نہیں رہے گی بلکہ یہ پروپیگنڈہ کی جگہ بن جائے جائے گی۔ پروپیگنڈہ سے علم کا نہیں بلکہ جہالت کا فروغ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف مطالعات میں بھی کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں حکومتی مداخلت کی وجہ سے سیکھنے سکھانے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ اس وقت یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کے علاوہ کئی مرکزی ریگولیٹریز ہیں جن کے ذریعہ تعلیمی اداروں میں مداخلت کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ریگولیٹریز کے درمیان تال میل اور ان کے دائرہ کار کو از سرنو متعین کیا جائے۔ یہ سوال کوئی نیا نہیں ہے کہ استاذ کو کلاس رومز میں اپنے تاثرات اور رائے پیش کرنے کی آزادی ہونی چاہیے یا نہیں؟ اس پر دنیا بھر میں بحثیں ہوئی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایک استاذ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اپنے طلبا کی صحیح رہنمائی کرے؟ انہیں یہ بتانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ ماضی کے کون سے اقدامات سے ملک کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی فائدے اور نقصان سے اوپر اٹھ کر ملک میں اعلیٰ ذہن و دماغ کے حامل تخلیق کاروں کی نسل تیار کرنے کے سوال پر بھی غور کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین