ناخدا مسجد کے امامت کا تنازع اب سڑکوں پر!مسلمانان کلکتہ کیلئے باعث شرم ۔۔

کلکتہ شہر کے تاریخی ناخدامسجد سیاسی ہاتھوں کھلواڑ۔مسلمانان کلکتہ خاموش تماشائی

0
446

ناہید اختر
کلکتہ 7ستمبر (انصاف نیوز آن لائن )

قاری احمر فائونڈیشن نے آج ناخدامسجدمیں مستقل امام کی بحالی کے مطالبے پر مرکزی کلکتہ میں ایک جلوس نکالا ۔اس کے بعد مسجد کے متولی حضرات کو ایک میمورنڈم سونپ کر مطالبہ کیا کہ جلد سے جلد ناخدا مسجد میں مستقل امام کی بحال کی جائے۔میمورنڈم میں مولانا صابر مرحوم کے انتقال کے دو دہائی گزرجانے کے باوجود مستقل جید عالم دین ، متقی شخصیت کو بحیثیت امام بحال نہیں کئے جانے پر سوال کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ جلد سے جلد مسجد کے شایان شان امام کو بحال کیا جائے ۔حیرت انگیز طور پر اس میمورنڈم کے جواب میں قاری شفیق کے چند حامی جو اکثر ان کے آس پاس رہتے ہیں نے بھی متولی کے دفتر میں پہنچ کر دو نوں نائب امام میں سے کسی ایک کو مستقل امام کے عہدے پر بحال کرنے کے مطالبے پر میمورنڈم پیش کیا۔

سوال یہ ہے کہ ناخدا مسجد کا تنازع گزشتہ ایک سالوں سے جاری ہے۔مسجد کے حوالے سے مختلف فیہ خبریں اکثر سرخیاں بنتی رہتی ہیں ۔انصاف نیوز آن لائن نے اس معاملے میں مسجد کے تقدس کو مد نظر رکھ کر بے مثالی رپورٹنگ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کا مظاہرہ کیا ہے۔مگر افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ کلکتہ کے سرکردہ مسلمان خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔

یہ سوال بہت ہی اہم ہے کہ کیا اس مسئلے کو سڑک لانا مناسب ہے؟ آج جس طرز سے سنٹرل ایونیو کی مصروف اہم شاہراہ پر ناخدا مسجد میںمستقل امامت کی بحالی کے مطالبے کی حمایت میں تقاریر کی گئی اس سے یہ تصوربرداران وطن میں ضرور گیا ہے کہ مسلمان اپنے مسجدوں کے مسئلے بھی سڑکوں پر حل کرنا چاہتے ہیں۔کیا مسجدوں کے مسائل سیاسی لوگوں کے ہاتھوں حل ہوں گے۔

مگر سوال یہ ہے کہ اس کیلئے ذمہ دار کون ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ جب دو دہائیوں سے دو نائب امام سے کام چل رہا تھا تو پھر مستقل امام کے بحالی کا مطالبہ کیوں کیا جارہا ہے ؟یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر قاری شفیق اس قدر متنازع کیوں بنتے جارہے ہیں؟ ۔وہ مسلسل یوٹیوبروں کو انٹرویو دے رہے ہیں جس میں بے سروپا دعوے کررہے ہیں اور الزامات میں بھی لگارہے ہیں ۔ان کے بیانات کبرو نخوت کے مظہر بھی ہوتے ہیں ۔

جہاں تک سوال اس کےلئے ذمہ دار کون ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کےلئے سب سے زیادہ مسجد کے متولیان ذمہ دار ہیں ۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مسجد کے متولی حضرات کی باتوں میں تضادات ہے۔عزم و حوصلہ سے خالی ہیں ۔انصاف نیوز نے اس سے قبل بھی سوال کھڑاکیا تھا کہ نائب امام ہی سہی اتنی کم تنخواہ کیوں دی جارہی ہے۔کم تنخواہ کی وجہ سے نکاح کرنے کے نام غریبوں سے ہزاروں میں روپے لوٹے جارہے ہیں۔وہ تمام رقم مسجد کے دونوں نائب امام اکیلے ہڑپنے کی کوشش کررہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ مسجد کےنائب امام مسجد کے تنازعات کو لے کر جب پولس اسٹینش لے کر گئے اور پولس اسٹیشن میں مسجد کے موذنین کو گھنٹوں ہراساں کیا گیا اس وقت متولی حضرات کیا کررہے تھے۔جب فجر کی نماز میں نائب امام قاری شفیق موذن کے ساتھ گالی گلوج کررہے تھے اس وقت کیوں نہیں کارروائی کیوں نہیں کی۔آخر ان متولی حضرات خو ف زدہ کیوں ہے؟ ان میں جرٖأت کا فقدان ہے۔یہ وہ سوالات جس کا جواب جانے بغیر مسئلہ حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔

حال ہی میں ایک یوٹیو ب چینل کو بیان دیتے ہوئے قاری شفیق نے جو دعوے کئے وہ حیران کن ہیں ۔ان کے بیانات سے دو باتیں صاف جھلکتی ہیں کہ یا تو وہ خود فریبی میں مبتلا ہیں یا پھر جان بوجھ کر مسجد میں بیٹھ کر سراسر جھوٹ بول رہے ہیں ۔وہ دعوے کررہے ہیں کہ ان کی محنت کی وجہ سے مدرسہ عالیہ یونیورسٹی میں تبدیل ہوا۔وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی محنت کی وجہ سے مسلمانوں کو سرکاری ملازمت میں ریزرویشن ملے ہیں ۔وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ سب ممتا بنرجی کے دور میں ہوا ہے۔

ایک طرف وہ خو د کو مذہبی لیڈر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ان کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ترنمول کانگریس کے لیڈر کی طرح بات کرتے ہیں ۔دعوے کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے یہ کام یہ کام ان کی وجہ سے ہوئے۔۔یہ وہی امام جنہوں نے امام عیدین اور ایک چانکیہ شخصیت کے ساتھ ممتا بنرجی کے ساتھ ملاقات کی اور دعویٰ کیا کہ ممتا بنرجی نے ان کی اپیل پربنگال سروس کمیشن کے امتحانات میں بنگالہ کی شرط ہٹادی ہے اور اردو کو اس کا مقام دیدیا ہے۔مگر چند دنوں بعد بنگلہ کو لازمی کرنے کا نوٹی فیکشن جاری کردیا جاتا ہے۔

یہ وہ صورت حال ہے جس کی وجہ سے قاری شفیق سے مسجد کے عوام کا اعتماد اٹھ رہا ہے۔مگر المیہ یہ ہے کہ وہ احساس زیاں سے عاری ہیں ۔فرد اور قوم کے زوال کی سب سے بڑی وجہ احساس زیاں سے عاری ہوجانا ہے۔اس کے کبر و نخوت بھی زوال کی ایک بڑی وجہ ہوتی ہے۔

ناخدا مسجد کا تنازع جو شکل و صورت اختیار کرتا جارہا ہے وہ بھیانک ہے۔سیاسی افراد اس کے نام پر روٹی توڑرہے ہیں۔پہلے ترنمول کانگریس والو ں نے اپنے شکنجے میں مسجد ناخدا کو کیااب دوسری سیاسی جماعت کے لوگوں کی نگاہیں ہیں۔ظاہر ہے کہ اس سے نقصان صرف اور صرف مسجد اور مسلمانوں کو ہونا ہے۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ جلد سے جلد اس مسئلے کو حل کیا جائے۔ایسے عناصر سے مسجد کو پاک کیا جائے جو مسجد کے نام پر سیاست کرتے ہیں ۔حکومت کی دلالی کو دین کی خدمت سے تعبیر کرتے ہیں۔