نوح میں اب بھی سُلگ رہی ہے نفرت کی آگ، خاص طبقہ کے معاشی بائیکاٹ کی اپیل، سپریم کورٹ میں عرضی داخل

کپل سبل نے چیف جسٹس چندرچوڑ کو بتایا کہ گڑگاؤں میں بے حد سنگین عمل کے لیے اپیل کی گئی ہے کہ اگر آپ ان لوگوں کو دکانوں میں کام پر رکھیں گے تو آپ سبھی غدار ہوں گے۔

0
81

انصاف نیوز بیورو
ہریانہ کے نوح میں ہوئے زبردست فرقہ وارانہ تشدد کے بعد ایک بار پھر نفرت کی آگ کو ہوا دیتے ہوئے ایک خاص طبقہ کے معاشی بائیکاٹ کی اپیل کرنے کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک عرضی بھی داخل کی گئی جس پر فوری سماعت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سینئر وکیل کپل سبل نے منگل کے روز آرٹیکل 370 پر سماعت کے دوران لنچ بریک میں چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کو بتایا کہ گڑگاؤں میں ایک بہت سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک اپیل کی گئی ہے کہ اگر آپ ان لوگوں کو دکانوں میں کام پر رکھیں گے تو آپ سبھی غدار ہوں گے۔ ہم نے ایک عرضی داخل کی ہے۔ سبل نے چیف جسٹس سے عرضی کو فوری فہرست بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کی ایک خصوصی بنچ نے دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کے پولیس افسران کو یہ یقینی کرنے کا حکم دیا تھا کہ وی ایچ پی کے ذریعہ منعقد احتجاجی ریلیوں کے دوران کسی بھی طبقہ کے خلاف کوئی نفرت بھری تقریر نہیں دی جائے اور نہ ہی کوئی تشدد ہو یا ملکیت کو نقصان پہنچایا جائے۔

ہریانہ کے میوات واقع نوح میں 31 جولائی کو ایک پوجا والی جگہ کی طرف جا رہے ایک مذہبی جلوس (شوبھا یاترا) پر مبینہ طور پر حملہ کے بعد دو طبقات کے درمیان زبردست فرقہ وارانہ تصادم ہوا تھا، جس میں 2 ہوم گارڈ اور ایک مسجد کے امام سمیت 6 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور کئی افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ اس کے بعد تشدد گروگرام اور دہلی سے ملحق ہریانہ کے کچھ اضلاع اور اتر پردیش تک پھیل گئی تھی۔ اس دوران بڑے پیمانے پر خاص طبقہ کی دکانوں اور مکانوں میں لوٹ پاٹ و آگ زنی بھی ہوئی تھی۔