Thursday, May 30, 2024
homeبنگالدوہفتہ گزرجانے کے باوجود آئی آئی ٹی کھڑکپور کےطالب علم فیضان احمد...

دوہفتہ گزرجانے کے باوجود آئی آئی ٹی کھڑکپور کےطالب علم فیضان احمد کی مشتبہ موت کا معاملہ حل نہیں ہوسکا۔ممتا بنرجی کے راج میں انیس کے بعد فیضان کی موت۔۔طلبا میں خوف و ہراس کا ماحول

کلکتہ28مئی (انصاف نیوز آئن لائن)
ممتا بنرجی کے راج میں طلبا لیڈرانیس الرحمن کی موت کے بعد ایک بار پھر آئی آئی ٹی کھڑکپور کے طالب علم فیضان احمد کی موت نے کئی سوالا ت کھڑا کردیا ہے۔فیضان احمد کی موت کو دو ہفتے گزرجانے کے باوجود پولس کے ہاتھ خالی ہیں اور ابھی تک پوسٹ مارٹم رپورٹ تک نہیں آئی ہے۔
23سالہ فیضان احمد ملک کے مشہور انڈین انسی ٹیوٹ آف ٹکنا لوجی کھڑکپور میں’’ایریل روبوٹکس ریسرچ ٹیم ‘‘کا حصہ تھے کی مشتبہ حالت میںموت کو دوہفتہ گزر جانے کے بعد بھی نہ مغربی بنگال کی پولس اور نہ ہی آئی آئی ٹی کھڑکپورکی انتظامیہ کوئی واضح موقف پیش کرسکی ہےکہ آخر فیضان احمد کی موت کن حالات میں ہوئی اور اس کےلئے ذمہ دار کون کون لوگ ہیں ۔
14اکتوبر کومکینیکل انجینئرنگ کے تیسرے سال کے طالب علم فیضان احمد کی جزوی طور پر بوسیدہ لاش ایل ایل آر ہاسٹل سے برآمد ہوئی۔کھڑکپو ر آئی آئی ٹی انتظامیہ نے اس کو خودکشی سے جوڑ کر معاملہ کو رفع دفع کرنے کی کوشش کررہی ہے۔آسام کے رہنے والے فیضان احمد اپنے والدین کے اکلوتے اولاد ہیں ۔بیٹے کی ناگہانی موت سے والدین صدمے میںہیں۔اس کے علاوہ آئی آئی ٹی کھڑکپور کے کیمپس میں بھی حالات خراب ہیں ، طلبا تنظیمیں اس کو خودکشی ماننے کو تیار نہیں ہیں ، کیوں کہ فیضان احمد اپنے کلاس میں ہونہار طالب علم کے طور پرجانے جاتے تھے اس کے علاوہ وہ کیمپس میں سماجی سرگرمیوں میں بھی وابستہ تھے۔ اسٹوڈنٹس ویلفیئر گروپ اور یو جی اسٹوڈنٹس کونسل کے بھی سرگرم رکن تھے۔
گزشتہ رات کیمپس میں طلبا نے اپنے ساتھی کی ناگہانی اور حادثاتی موت پر کینڈل مارچ نکال کراظہار یکجہتی کرتے ہوئے اس واقعے کی منصفانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔طلبا نے ڈائریکٹرسے بھی ملاقات کرکے اپنے تحفظات کا اظہار کیا کہ فیضان احمد کی خودکشی کی تھیوری ناقابل فہم ہے۔
فیضان کی والدہ ریحانہ نے بتایاکہ 11اکتوبر کو اس نے دوپہر میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ کھانا بہت ہی لذیز تھا، پھر لائبریری جلد سے جلد پہنچنے کا کہہ کر اس نے بات ختم کردی۔رات کو 7.30بجے جب وہ رات کا کھانا کھانے کےلئے ہاسٹل سے میس جارہا تھا تو اس نے اپنی خالہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کہ شاید کڑی وغیر بناہوگا۔جو کچھ رہے گا کھالوں گا۔طویل بات کرنے کے بعد اس نے فون رکھ دیا ۔ریحانہ کہتی ہیں کہ وہ مجھے اور خالہ سے بات کرتے وقت بہت ہی خوشگوار موڈ میں تھا ۔کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ وہ ذہنی طور پر پریشان ہے۔مگر یہ اچانک کیسے ہو گیا؟ اس کے ساتھ یہ سب کس نے کیا۔میرا بیٹا بنگال کا مہمان تھا ۔یہاں وہ تعلیم حاصل کرنے کےلئے آیا تھا۔میں ممتا بنرجی جو خود خاتون ہیں وہ ایک ماں کا درد سمجھ سکتی ہیں سے انصاف کی امید کرتی ہوں، میرے بیٹے کے گناہ گاروںکو انجام تک پہنچایا جائے گا۔
فیضان کے والدین ریحانہ اور سلیم احمد آسام کے تین سوکھیا کہ رہنے والے ہیں ۔ والدین نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسواس شرما اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کوخط لکھ کر اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ کیاہے۔ ہیمانت بسواس شرما نے اس واقعہ پرٹویٹ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے بنگال کے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
فیضان کے اہل خانہ اور دوستوں کے مطابق وہ بہت ہت محنتی اور ذہین طالب علم تھا۔ ریاستی سطح کےریاضی اور کیمسٹری اولمپیاڈ میں تین طلائی تمغے حاصل کرچکا ہے۔ دو بار ریاضی میں، اور ایک بار کیمسٹری میں۔وہ بچپن سے ہی تعلیمی مقابلے میں حصہ لیتا تھا اور کامیاب ہوتاتھا۔ماں کہتی تھی کہ میں اس سے کہتی تھی کہ کامیابی اورناکامی کی فکر کرنے کے بجائے ان مقابلوں میں حصہ لو اور اس کا لطف اٹھائو۔ماں نے بتایا کہ فیضان ہمارے گھر کےلئے برکت کا ذریعہ تھا ۔آئی آئی ٹی کھڑکپور میں فیضان کے ہم جماعت طالب علموں نے بتایا تھا کہ فیضان ایک پراعتماد طالب علم تھے، وہ ہرایک سے مسکراکر ملاقات کرتے تھے۔کوئٹہ میں ساتھ میں رہ کرکوچنگ کرچکے اس طالب علم نے بتایا کہ تعلیم پر اس کی ترجیحات میں شامل تھی ۔اس کی گفتگو بھی تعلیم کے موضوع پر ہی ہوتی تھی۔
’’ایریل روبوٹکس، کھڑگپور ‘‘کے فیس بک پیج کے مطابق فیضان نے ایک ٹسٹ پاس کرکے اس ریسرچ ٹیم کا حصہ2021میں بنا تھا۔ریسرچ گروپ کو SRIC (سپانسرڈ ریسرچ اینڈ انڈسٹریل کنسلٹنسی) سنٹر فار ایکسیلنس ان روبوٹکس کے حصے کے طور پر سپانسر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ کھڑگپور روبو ساکر اسٹوڈنٹس گروپ (KRSSG) کا بھی ٹیم ممبر تھا۔اس کے علاوہ آن لائن کلاسیس بھی لیتا تھا۔
آسام میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اہل خانہ نے بتایا کہ آئی آئی ٹی کھڑکپور کی انتظامیہ نے سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں دکھائی ہے۔ خاندان نے پراسرار موت کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔فیضان کی خالہ سلمی احمد نے پریس کانفرنس میں کہاکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنے بڑے ادارے کے ہاسٹلز میں سی سی ٹی وی کیمرہ نہ ہو،‘‘ یہ پہلے سے منصوبہ بند قتل ہے۔انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کے دعوئوں میں تضاد ہے پہلے انہوں نے ہمیں بتایا کہ اس کی موت پھانسی سے ہوئی، پھربتایا کہ وہ ذہنی طور پر غیر مستحکم تھا، اوربعد میںبتایا کہ دل کا دورہ پڑنے سے اس کی موت ہوئی ہے۔جب کہ ان میں سے ہرایک بات سچ ہے۔ماں ریحانہ احمد نے بتایا کہ فیضان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی تھی کیوں کہ لاش سے ناک نہیں دیکھائی جارہی تھی۔

اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ جب وہ کیمپس پہنچے تو انہیں نہ تو انتظامیہ کی طرف سے کوئی کال موصول ہوئی اور نہ ہی انہیں واقعے کے بارے میں صحیح طور پر آگاہ کیا گیا۔ ریحانہ نے کہا کہ جب وہ کیمپس پہنچی اور آئی آئی ٹی کے ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر سے بات کی تو ان کے پاس ان کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔ ہمیں آئی آئی ٹی کھڑکپورانتظامیہ کی طرف سے مطلع نہیں کیا گیا۔ پولس نے ہمیں اطلاع دی۔ وارڈن نے بتایا کہ ان کی طبیعت ناساز ہے اس لیے وہ تین دن سے ہاسٹل میں نہیں تھا۔
ریحانہ نے کہا کہ جب وہ بیٹے کی موت سے متعلق جب ڈائریکٹر اور ان کی ٹیم سے بات کررہی تھی اس وقت میٹنگ میں موجود ایک شخص (جس کی کنیت مبینہ طور پر داس تھی) میٹنگ کے دوران مسکراتا رہا۔ جب ہم غمزدہ تھے، انہوں نے کوئی سنجیدگی ظاہر نہیں کی۔
فیضان کی خالہ نے بتایا کہ داس کا رویہ شرمناک تھا وہ اس ماں کے سامنے مسکرارہا تھا جس نے اپنا سب کھودیا ہے۔ انتظامیہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ ایک ہی کمرے میں رہ رہا تھا، لیکن اس کے کپڑے اور دیگر اشیاء ہاسٹل کے دیگر کمروں سے برآمد ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطابق فیضان جس ہاسٹل میں تھا اس میں کچھ مسائل پیدا ہوئے ہیں اس لئے وہ حال ہی میں دوسرے ہاسٹل میں منتقل ہوا ہے۔
طلبا کے مسلسل احتجاج اور ڈائریکٹررویندر کمار تیواری کے استعفیٰ کے مطالبے کے پیش نظر22اکتوبر کو ڈپٹی ڈائریکٹرنے اوپن ہائوس میں طلبا سے خطاب کیا اور ان کی باتوں کو سنا۔یہ میٹنگ رات بھر چلی ۔میٹنگ میں ڈپٹی ڈائریکٹرنے قبول کیا کہ کہیں نہ کہیں کوتاہیاں ہوئی ہیں کہ ہمیں معلوم ہی نہیں ہوسکا کہ فیضان کی موت کن حالات میں کس طرح سے ہوئی ہے۔ایک طالب علم نے بتایا کہ اوپن ہاؤس رات 8.30بجے شروع ہوا اور اگلی صبح 7 بجے تک چلتا رہا۔ رات بھر اوپن ہائوس چلنے کی وجہ سے ڈائریکٹربیمار ہوگئے اس لئے میٹنگ کو ملتوی کرنا پڑا۔20اکتوبر کو فیضان کی والدہ نے کیمپس میں طلبا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’انتظامیہ نے ہم سے معذرت کی ہے لیکن میں ان کی معذرت کا کیا کروں؟ یہ نہ فیضان کو واپس لاسکیں گے اور نہ انہیں انصاف دلاسکیں گے۔
کھڑگپور ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے تفتیشی افسر ثمر لائیک نے بتایاکہ اس معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ کسی نتیجے پر پہنچنے میں کچھ وقت لگے گا۔ ہم نے طلبا سمیت 10 سے زائد لوگوں سے پوچھ گچھ کی ہے۔پوسٹ مارٹم کی رپورٹ اب تک ہمیں برآمد نہیں ہوا ہے۔یواین آئی۔نور

متعلقہ خبریں

تازہ ترین