حفظ القرآن پلس کا مقصد قوم کے عظیم سرمایہ کی حفاظت ہے: ڈاکٹر عبد القدیر

0
96

کلکتہ ( تابش تیمی)

بلا شبہ نئی نسل کو دینی وعصری تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنا وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے، خاص طور سے مدارس کے طلبا اور ان میں بھی حفاظ کرام تو عصری علوم سے دور رہنے کی وجہ سے بہت ساری مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، مدارس کے طلبا کو عصری علوم سے جوڑنے کے لیے شاہین گروپ نے پورے ہندستان میں مدرسہ پلس کے نام سے ایک نیٹ ورک بچھایا ہے، جس میں ایک خاص نصاب کے تحت عصری علوم سے نابلد طلبا کو صرف اٹھارہ مہینے میں اس لائق بنایا جاتا ہے کہ وہ میٹرک کا امتحان دے سکیں-

سینٹرس کا معا ئنہ اور ذمہ داران سے باہمی صلاح و مشورہ کی غرض سے شاہین گروپ کے چیئر مین ڈاکٹر عبدالقدیر مغربی بنگال کے دورے پر ہیں- اس مناسبت سے ڈاکٹر صاحب پٹنہ زون٣ کے اعلی ذمہ دار مولانا مرغوب الرحمن صاحب قاسمی کے ہمراہ جامعہ الہدی الاسلامیہ میں قائم حفظ القرآن پلس جس میں پچاس حفاظ بغیر فیس کے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، کا آج معا ینہ کیا-


اس موقع پر ایک مختصر پروگرام منعقد کیا گیا جس کا آغاز حفظ القرآن پلس کےایک طالب علم کی تلاوت سے ہوا-الہدی ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے سکریٹری مولانا ذکی احمد مدنی نے ڈاکٹر عبد القدیر کا استقبال کرتے ہوٰے اپنے خطاط میں کہا کہ کہا کہ اللہ تعالی جس بندے کے عمل کو شرف قبولیت بخشتا ہے اس کا بہترین بدلہ آخرت میں دینے کے ساتھ اس کا حسی ثمرہ دنیا میں عطا کرتا ہے، یہ اللہ کا کرم ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی کاوشوں اور جاں فشانیو‌ں کا نتیجہ ان کی زندگی میں ظاہر و باہر ہے، ایسا بہت کم ہوتا ہے، انھوں نے مزید کہا کہ شاہین سے وہی جڑتا ہے جو قوم کا درد رکھے اور مخلص ہو، پھر انھوں نے ڈاکٹر صاحب کی صحت یابی اور طویل زندگی اور ان کی کوششوں کی قبولیت کی دعا کی-

ڈاکٹر عبد القدیر صاحب نے اپنی قیمتی باتیں رکھی، انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ اللہ کی توفیق ہے کہ اس نے میرے دل میں اس طبقہ کے تعلق سے فکرمندی ڈالی جسے پس پشت ڈال دیا گیا تھا، میں نے دیکھا کہ کتنے حافظ بچے حفظ مکمل کرکے اپنی راہ تبدیل کر رہے ہیں کیوں کہ ان کے سامنے ان کے مستقبل کی فکر دامن گیر ہوتی ہے، اس وجہ سے امت کا ایک بڑا سرمایہ ضائع ہورہا تھا، جسے قوم کی رہبری کرنی تھی وہ ذلت کے شکار ہو رہے تھے تو میں نے تیرہ سال قبل حفاظ کرام کو شاہین ادارہ بیدر میں بغیر فیس کے تعلیم کی شروعات کی اور اٹھارہ مہینے کی مختصر مدت میں اس لائق بنایا کہ دسویں کا امتحان دیں پھر آگے کی دوسری تعلیم اور میڈیکل کورسیز میں اپنی جگہ بنائیں، الحمد للہ اس کوشش کا نتیجہ سامنے آیا اور کئی حافظ طلبہ نے سرکاری کوٹے میں ڈاکٹری کے لیے اپنی نشست حاصل کی اور آج وہ ایم بی بی ایس اور ایم ڈی کر رہے ہیں، انھیں ان کے حفظ کی بقا کے ساتھ امانت داری و اخلاقی کی ایسی تربیت دی جارہی ہے کہ وہ ناجائز طریقے سے کسی کا ایک روپیہ نہیں لیتے، شاہین مقصد ہے کہ قوم اس عظیم سرمایہ جو ضیاع کے دہانے پر تھا، انھیں اس لائق بنایا جائے کہ وہ دینے والا بنیں، شاہین کی تحریک سے جڑنے والا شاہین ہوتا ہے، ہماری کوشش ہے کہ قوم کے یتیم ونادار بچوں کو فری تعلیم کے ذریعہ عزت افزا زندگی عطا کی جائے اور وہ اپنی دینی و عصری تعلیم کے ذریعہ ملک و قوم کے لیے یکساں مفید ثابت ہوسکیں،اسی مقصد کے تحت پورے ملک میں مدرسہ پلس کی جال بچھائی جارہی ہے، اللہ ہماری مدد فرمائے اور اخلاص کے ساتھ کام کرنے کی توفیق بخشے. واضح رہے کہ جامعہ الہدی میں قائم حفظ القرآن پلس کے سینٹر میں تا ہنوز داخلہ جاری ہے. اخیر میں ناظم پروگرام مولانا عالمگیر تابش تیمی کے کلمات تشکر کے ساتھ مجلس کے اختتام کا اعلان کیا گیا