Wednesday, June 12, 2024
homeاہم خبریںمسلمانوں کے تعلیمی اداروں میں مسلم طلبا کے مقابلے ہندو طلبا کی...

مسلمانوں کے تعلیمی اداروں میں مسلم طلبا کے مقابلے ہندو طلبا کی کہیں تعداد زیادہ

CSR-NOUS کی مشترکہ رپورٹ مسلمانوں کے بے فیض ہونے اورمسلم اداروں کے غیر معیاری ہو نے کا پردہ چاک کرتی ہے

نئی دہلی : انصاف نیوز آن لائن

دہلی کے ایک تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹڈی اینڈ ریسرچ (CSR) اور NOUS نیٹ ورک پرائیویٹ لمیٹڈ کی طرف سے کی گئی ایک مشترکہ تحقیق نے اس افسانے کا پردہ فاش کر دیا ہے کہ مسلمانوں کے زیر انتظام چلنے والے تعلیمی اداروں میں صرف مسلم طلبا تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔

“A Survey of Muslim-managed Public and Private Institutions of Higher Education in India” کے عنوان سے کی گئی اس تحقیق سے واضح ہوتاہے کہ ملک بھر میں مسلمانوں کے زیر انتظام چلنے والے تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے ہندو طلباکی تعداد مسلم طلباسے زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق ان اداروں میں ہندوؤں کی شرح تقریباً 55 فیصد ہے جب کہ 42 فیصد مسلم طلبہ ہیں۔

تاہم،رپورٹ میں مسلمانوں کے زیر انتظام اداروں میںاس کی وجہ نہیں بیان کی گئی ہے کہ آخر ان تعلیمی اداروں میں مسلم طلبا کے مقابلے ہندوطلبا کی تعداد زیادہ ہے کیوں ہے۔اس پر رپورٹ میں خاموشی ہے۔تاہم ہندو طلبا کی زیادہ تعداد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسلم ادارے غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرتے اور اس غلط فہمی کا بھی ازالہ کرتے ہیں کہ مسلم اداروں میں صرف مسلم طلبا ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔

یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ مسلمانوں کے زیر انتظام چلنے والے اداروں میں تعلیم کا معیار دوسری کمیونٹیز کے ذریعے چلائے جانے والے اداروں کے برابر ہے۔ اگر مسلم اداروں میں تعلیم کا معیار خراب ہوتا تو ہندو طلباء یقیناً اس سے گریز کرتے اور بڑے پیمانے پر داخلہ نہ لیتے جیسا کہ اس وقت ہو رہا ہے۔

یہ مطالعہ مسلمانوں کے زیر انتظام تعلیمی اداروں کے بارے میں معاشرے کے بعض طبقات میں رائج غلط تصور کے خلاف تجرباتی ثبوت فراہم کرتا ہے۔

رپورٹ میں ایک حیران کن رجحان کا انکشاف کیا گیا ہےکہ مسلمانوں کے زیر انتظام یونیورسٹیوں میں ہندو طلباء کی تعداد 52.7فیصد ہے۔جب کہ مسلم طلبا کی تعداد 42.1فیصد ہے۔یہی صورت حال مسلمانوں کے کالجوں میں بھی ہے۔مسلمانوں کے زیر انتظام چلنے والے تعلیمی اداروں میں ہندو طلبا کا سب سے بڑا گروپ 55.1فیصداس کے بعد مسلم طلبا 42.1فیصد اور دیگر اقلیتی گروہ کے طلبا کی تعداد 8.2فیصد ہیں ۔

گزشتہ دنوں رپورٹ کے نتائج پر ایک گول میز تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں مسلم کمیونٹی کو درپیش موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے رپورٹ کو ایک قابل قدر کوشش قرار دیا گیا ۔مقررین نے کمیونٹی کی مخدوش صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا ۔ خاص طور پر اعلیٰ تعلیم میں کم حصہ داری اور ڈراپ آئوٹ کی شرح میں اضافے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ۔


CSR کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد رضوان نے CSR کے قیام کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک بامقصد، جامع اور قدر پر مبنی علمی ماحولیاتی نظام کو تیار کرنا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ رپورٹ ایک ’’افسانہ باز‘‘ ہے جو معاشرے کے بعض طبقات کے درمیان رائج غلط معلومات کے خلاف تجرباتی ثبوت فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق، آج تک ایسا کوئی مطالعہ نہیں کیا گیا ہے، اور فی الحال مسلم اقلیتی گروپ سے وابستہ اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی تعداد کے بارے میں کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں ہےپ جب کہ یہ تحقیق اس اہم مسئلے کو حل کرنے کی اپنی نوعیت کی پہلی کوشش کی نمائندگی کرتی ہے۔

ڈاکٹر رضوان نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کمیونٹی کی مسلسل کوششوں کے باوجود، تجرباتی شواہد مزید ٹھوس کوششوں کی ضرورت کی نشاندہی کرتے ہیں، ڈاکٹر رضوان نے کہا کہ ان کوششوں کو خاص طور پر اعلیٰ تعلیم میں مجموعی اندراج، ڈراپ آؤٹ کی شرح میں کمی، اور اعلیٰ تعلیم کے دیگر پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر رضوان نے کہا کہ یہ رپورٹ مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے تجزیہ کرکے اعلیٰ تعلیم کے اندر چیلنجوں اور مواقع پر روشنی ڈالتی ہے۔ ان پہلوؤں میں تعلیمی اداروں کی تعداد اور اقسام، ان کے اندر صنفی تناسب، ان کی وابستگی کی حیثیت، ان کی تعلیمی پیداواری صلاحیت، ان کی NAAC ایکریڈیٹیشن کی حیثیت، طلباء کی آبادی اور بہت کچھ شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ کے نتائج اعلیٰ تعلیم میں مسلم اقلیت کی منفرد ضروریات کو تسلیم کرنے اور ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اہداف طے کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےجماعت اسلامی ہند (جے آئی ایچ) کے نائب صدر پروفیسر سلیم انجینئر نے اس طرح کے اہم مطالعہ کے انعقاد کے لیے CSR اور NOUS ٹیم کی ستائش کرتے ہوئے خبردار کیا کہ کمیونٹی کی تعلیمی صورتحال کے حوالے سے نتائج حوصلہ افزا نہیں ہیں۔پروفیسر سلیم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ مطالعہ بہتری کے لیے ایک روڈ میپ کا کام کرے گا، ان علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں کمیونٹی کو اپنی کامیابیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی کوششوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ 75 سالوں میںمسلسل فرقہ وارانہ فسادات اور تقسیم کی وجہ سے پیدا ہونے والے صورت حال کے بعد مسلم کمیونیٹی کامیابی حاصل کی ہے۔مسلم اقلیت کے تئیں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کی بے حسی پر تنقید کرتے ہوئے، پروفیسر سلیم نے افسوس کا اظہار کیا کہ متعدد مطالعات بشمول قابل ذکر سچر کمیٹی کی رپورٹ، کمیونٹی کی سماجی، معاشی اور تعلیمی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم ان رپورٹوں پر ان کی سفارشات پر کوئی خاص عمل درآمد نہیں کیا گیا ۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ملک کی ترقی مسلم اقلیت کی ترقی پر منحصر ہے، پروفیسر سلیم نے کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ خود کو الزام تراشی سے گریز کریں اور مشکلات کے باوجود اپنی کامیابیوں کا جشن منائیں۔ انہوں نے قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہتے ہوئے اختتام کیا کہ مسلم کمیونٹی کا مقصد دوسروں کی خدمت کرنا ہے۔

NOUS نیٹ ورک پرائیویٹ لمیٹڈ کے سی ای او ۔اور دہلی میں واقع ایک تھنک ٹینک اور میڈیا ہاؤس کے مالک علی جاویدنے زور دے کر کہا کہ یہ رپورٹ واقعی ایک منفرد کوشش کے طور پر سامنے آئی ہے، کیونکہ فی الحال مسلمانوں کو کیٹرنگ کرنے والے اداروں میں اعلیٰ تعلیم کی حیثیت کے بارے میں کوئی موجودہ جامع جائزہ موجود نہیں تھی۔علی جاوید نے امید ظاہر کی کہ یہ رپورٹ ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں اور تعلیمی ترقی میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے غور وفکر اور جائزہ لینے کا ایک موقع فراہم کرے گی ۔اس رپورٹ کے بعد مسلمانوں سے وابستہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے بارے میں ہماری سمجھ میں نمایاں مدد ملے گی مزید بات چیت اور اقدامات کی راہ ہموار ہوگی۔

اجتماعی کارروائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، NOUS کے سی ای او نے کہا کہ ماہرین، معلمین، ماہرین تعلیم، اور اسٹیک ہولڈرز کی اس گول میز کو بلانے کا مقصد کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لیے تعاون کرنا اور ان کا حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔نہ صرف تعلیم بلکہ مختلف اشاریوں میں کمیونٹی کو درپیش ’’انتہائی محرومی‘‘ کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جاوید نے ایک کثیر الجہتی طریقہ کار تجویز کیا، جس میں مسلم اکثریتی علاقوں میں سروے کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کرنا، الگ الگ ڈیٹا اکٹھا کرنا، اور کمیونٹی کو ترقی کی راہ میں گامزن کرناہے۔ پالیسی سازوں کے ساتھ گفت و شنید کے لیے مکمل ڈیٹا کی ضرورت ہے۔انہوں نے سماجی اصلاحات اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ثبوت پر مبنی حکمت عملی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مطالعہ کے نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے، محقق عابد فہیم، جنہوں نے اعداد و شمار کو مرتب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، نشاندہی کی کہ ہندوستان کی آبادی کا 14 فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں۔ تاہم اعلیٰ تعلیم میں ان کی نمائندگی کم ہے۔ تازہ ترین آل انڈیا سروے آف ہائر ایجوکیشنAISHE-2021-22 کے مطابق اعلیٰ تعلیم میں داخلہ لینے والے طلباء میں سے صرف 4.8فیصد مسلمان ہیں۔ یہ درج فہرست ذاتوں (SC) اور درج فہرست قبائل (ST) کے اندراج کی شرح سے بھی کم ہے، جو بالترتیب14.3اور 6.3ہ فیصدہیں ۔ایس سی اور ایس ٹی بالترتیب کل آبادی کا16.6فیصد اور8 .6فیصدپر مشتمل ہیں۔

فہیم نے کہا کہ مسلم اداروں سے وابستہ کالجوں میں مسلم طلبہ کے اندراج کا مجموعی تناسب 1.23فیصد ہے۔ یہ تناسب یونیورسٹیوں میں نمایاں طور پر کم ہے، صرف 0.23فیصد۔ مسلم طلباء کے لیے مجموعی اندراج کا تناسب1 .46ہے۔ تاہم، قومی اہمیت کے اداروں جیسے IITs، IIITs، IISERs، NITs، اور IIMs میں صورتحال مزید خراب ہے، جہاں صرف1. 72مسلم طلبا ہیں ۔

فہیم نے بتایا کہ 17 سال قبل مسلم کمیونٹی کی سماجی، معاشی اور تعلیمی حالت پر سچر کمیٹی کی رپورٹ جاری ہونے کے باوجود اس میں زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2006 میں جب سچر رپورٹ شائع ہوئی تھی، اعلیٰ تعلیم میں مسلمانوں کے داخلے کا تناسب 3.6فیصد تھا۔ جب کہ اس تناسب کو بہتر بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں، 2012-13 میں پہلی AISHE رپورٹ میں چھ سال کے بعد صرف 0.6اضافہ ہوا ہے۔ ایک دہائی بعد، AISHE 2021-2022 کی رپورٹ نے 0.6کے ایک اور معمولی اضافے کا اشارہ دیا۔ اس کے برعکس، دیگر پسماندہ گروہوں جیسے ایس سی اور ایس ٹی نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ان کے اندراج کی شرح 2006 میں 2.4 سے بڑھ کر بالترتیب 2021-22 میں15.4فیصد اور6 .3ہو گئی ہے۔
یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ سچر رپورٹ نے ابتدائی طور پر SCs اور STs کے لیے مشترکہ اندراج کی شرح 2.4بتائی تھی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سینٹر فار سوشل میڈیسن اینڈ کمیونٹی ہیلتھ کی چیئرپرسن پروفیسر سنگھمترا نے سی ایس آر اور نوس نیٹ ورکس ٹیم کی تعریف کی۔ انہوں نے مسلم کمیونٹی کے بارے میں کچھ وسیع پیمانے پر پائے جانے والے غلط فہمیوں کو واضح کرنے میں ان کے کام کی بھی تعریف کی۔
پروفیسر سنگھمترا نے پالیسی سازی میں شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔ تاہم، اس نے پالیسی اور حقیقت کے درمیان فرق پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ پہلے ہی مسلمانوں کی پسماندہ حالت کو دستاویزی شکل دے چکی ہے اور ثبوت فراہم کر چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امیتابھ کنڈو کمیٹی کی رپورٹ، جس نے سچر کمیٹی کی رپورٹ کی پیروی کی اور اس پر کم توجہ دی گئی، پہلے پیش کیے گئے شواہد اور سفارشات کے باوجود کمیونٹی کی حیثیت میں کم سے کم پیش رفت دکھائی گئی۔پروفیسر سنگھمترا نے پرائمری سطح کے علاوہ سیکنڈری سطح پر بھی مسلم کمیونٹی کے اعداد و شمار جمع کرنے کی سفارش کی۔

سابق سرکاری ملازم اختر محبوب سید نے مسلم کمیونٹی کی سماجی و اقتصادی حالت کو سمجھنے کے لیے ڈیٹا اکٹھا کرنے اور مطالعہ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ پر بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے، لیکن امیتابھ کنڈو کمیٹی کی رپورٹ اور پروفیسر متو کی رپورٹوں پر کم بحث کی جاتی ہے۔

مختلف سرکاری محکموں کے ساتھ کام کرنے کے بعد، انہوں نے اقلیتوں کے لیے تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے موجودہ اسکیموں کے اثرات پر سوال اٹھایا، جیسا کہ میٹرک سے پہلے اور بعد کے اسکالرشپس اور مولانا آزاد فاؤنڈیشن اور اقلیتی امور کی وزارت۔ انہوں نے دلیل دی کہ کمیونٹی کو خود ان اقدامات کی تاثیر کے بارے میں ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ حکومت کے ایسا کرنے کا امکان نہیں ہے۔ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے علاوہ، اس نے کمیونٹی کے اندر موجود “ڈر کمپلیکس” سے نمٹنے کی تجویز دی۔

مطالعہ کے دیگر اہم نتائج:

یونیورسٹیاں:
1۔AISHE 2020-21کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان کی کل 1113 یونیورسٹیوں میں سے 23 یونیورسٹیاں مسلم اقلیت سے تعلق رکھتی ہیں۔ مسلم یونیورسٹیوں کا حصہ صرف 2.1فیصد ہے۔
2. اتر پردیش میں سب سے زیادہ یونیورسٹیاں ہیں، اس کے بعد کرناٹک ہے۔

3۔ 23 مسلم یونیورسٹیوں میں سے اکثریت 43.5نجی طور پر زیر انتظام ہیں، اس کے بعد سرکاری ریاستی یونیورسٹیاں (26.1فیصد)، ڈیمڈ پرائیویٹ یونیورسٹیاں (13فیصد) اور مرکزی یونیورسٹیاں (13فیصد) ہیں۔

4. تقریباً 9,69مسلم یونیورسٹیاں شہری علاقوں میں واقع ہیں۔

5. تعلیمی سال 2021-22 میں داخلہ لینے والے کل 97,928طلباء میں سے42.1فیصد مسلمان،52.7ہ فیصد ہندو، اور5 .2فیصد کا تعلق دیگر اقلیتی گروپوں سے ہے۔

6. مسلم طلباء کے حوالے سے039، 26(مر طلبا)اور 15,236(36.91فیصد)طالبات میںاعلیٰ تعلیم میں داخلہ لیا۔

7. اندراج شدہ14,275 مسلم طلباء میں سے فیصد سے کم شیڈول کی نمائندگی کرتے ہیں

8. قبائل، 34فیصد دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے تھے، 42.8فیصدغیر محفوظ زمرے سے تھے، اور باقی16.4فیصد اقتصادی طور پر کمزور طبقات (EWS) سے تھے۔

کالجز:
(1)
AISE 2020-2021کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں کل 43,796کالجوں میں 1,551کالجوں کا انتظام مسلم اقلیتی برادری کے زیر انتظام ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مسلم زیر انتظام کالجوں کا حصہ محض 2.6فیصدہے۔
(2)
1,551کالجوں میں سے، 141 (12.2فیصد )کنیکی کالج ہیں جو آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔

3. تمام اقلیتی گروپوں کا73.4فیصد تیکنیکل کالجز ہونے کےباوجود مسلم اقلیتی برادریوں کا ٹیکنیکل کالجوں میں صرف 16.6حصہ ہے۔ اس کے برعکس، دیگر اقلیتی گروہ، جو کہ آبادی کا 26.6ہیں، تکنیکی کالجوں میں83.4حصہ رکھتے ہیں۔

4. ہندوستان میں 6.4 مسلم کالجز صرف لڑکیوں کے لیے ہیں۔

5. ہندوستان میں کالجوں کی تعداد کے لحاظ سے سرفہرست 10 ریاستیں کیرالہ، اتر پردیش، مہاراشٹر، کرناٹک، تلنگانہ، تامل ناڈو، آندھرا پردیش، مغربی بنگال، بہار، اور جموں و کشمیر ہیں۔ ان ریاستوں میں ملک کے کل کالجوں کا 90.46فیصد ہے۔

6
1,551مسلم اقلیتی کالجوں میں سے85.5پرائیوٹیٹ. (غیر امدادی)10,6فیصد پرائیویٹ (مدد یافتہ) اور 3.9فیصد سرکاری کالج ہیں۔

7. کیرالہ میں فی لاکھ آبادی میں 24.9کالج ہیں جبکہ یوپی میں4.9کالج ہیں اور مغربی بنگال میں فی لاکھ آبادی میں محض 1.8کالج ہیں۔ فی لاکھ آبادی پر کالجوں کی قومی اوسط 6.4ہے۔

8 تقریباً 57.8مسلم اقلیتی کالج دیہی علاقوں میں واقع ہیں۔

10. کالجوں کی اکثریت 16.93فیصد انڈرگریجویٹ سطح کے پروگرام پیش کرتے ہیں، جبکہ صرف 6.32پی ایچ ڈی سطح کے پروگرام پیش کرتے ہیں۔

11. کیرالہ میں پی ایچ ڈی پروگرام پیش کرنے والے کالجوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے، اس کے بعد تمل ناڈو اور مہاراشٹر ہیں۔

12. تقریباً 51 فیصد کالج صرف انڈرگریجویٹ سطح کے پروگرام فراہم کرتے ہیں۔

13. تعلیمی سال 2021-22 میں داخلہ لینے والے کل524,441 طلباء میں سے42.1فیصد مسلمان،55.1فیصد ہندو، اور8 .2فیصدکا تعلق دیگر اقلیتی گروہوں سے ہے۔

14. مسلم طلباء کے لحاظ سے104,163(47.18) مرد طلباء اور116,622(52.82)فیصد طالبات نے اعلیٰ تعلیم میں داخلہ لیا۔

15
NIRF 2023 کالج رینکنگ میں کسی بھی کالج نے ٹاپ 100 میں پوزیشن حاصل نہیں کی۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین