Friday, July 19, 2024
homeاہم خبریںآسام کے عارضی کیمپوں میں مقیم سیکڑوں مسلمان زندگی کے بجائے مر...

آسام کے عارضی کیمپوں میں مقیم سیکڑوں مسلمان زندگی کے بجائے مر نے کی تمنا کررہے ہیں

گوہاٹی: انصاف نیوز آن لائن

17 جون کی صبح جب ملک بھر مسلمان عید الاضحی منارہے تھے ۔اس وقت آسام کے ہوجائی ضلع کے عارضی کیمپ میں مقیم سیکڑوں آسامی مسلمانوں میں خاموشی تھی۔ان کیمپوں میں پانی بھر گئے ہیں ۔

عارضی میں کیمپ میں بھر گئے پانی کو دکھاتے ہوئے نورالاسلام کہتے ہیںکہ اس زندگی سے بہتر مرجانا ہے۔یہ زندگی نہیں ہے ہم لوگ یہاں ہرروز مرتے ہیں۔اس کیمپ میں 350خاندان آباد ہیں جنہیں اپنے گھروں سے بے دخل کردیاہے۔یہ کیمپ فٹ بال سائز کے دومیدانوں میں آباد ہیں ۔

2021 میں بی جے پی کی قیادت والی آسام حکومت نے لمڈنگ جنگل میں پانچ دن کی بے دخلی مہم کے بعد پسماندہ کمیونٹیز، قبائلیوں اور مسلمانوں کے تقریباً 3000 افراد کو بے گھر کر دیا گیا اور انہیں عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کردیا گیا۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمانتا بسوا شرما نے 2021 میں دعویٰ کیاتھا کہ لمڈنگ جنگل کا تقریباً نصف حصہ بارپیٹا، ناگاؤں اور دھوبری اضلاع کے لوگوں نے گزشتہ برسوں کے دورا ن قبضہ کرلیا گیا تھا۔سرمانے دعویٰ کیا تھا کہ ان جنگلوں پر قبضہ 2012میں کیا گیا ۔ان قابضین جنگل کا تقریبا نصف درخت کاٹ دیے ہیں اور 25 کروڑ روپے کے سالانہ کاروبار کے ساتھ ادرک کی کاشت شروع کر دی گئی تھی۔

بے دخلی مہم کے دوران ریاستی حکومت نے1 ,410ہیکٹر اراضی سےقبضے کو ختم کرتے ہوئے 700سے زائدمکانات خالی کرائے تھے۔ان خاندانوں کو قریبی علاقوں میں منتقل کر دیا گیا، ان میںسے 350 خاندانوں کو بے دخل کیے گئے مقام سے تقریباً 50 کلومیٹر دور منتقل کر دیا گیا۔کیمپ میں عارضی خیمے نازک ہیں اور زیادہ بارش اور طوفان کا شکار ہیں۔ کیمپ میں پانی بھرنے کی وجہ سے یہاں کے مقیم افراد کی صحت کو سخت خطرات لاحق ہوگئے ہیں ۔

بے دخل ہونے والی 35 سالہ سلطانہ بیگم نے کہا کہ وہ تقریباً تین سال سے کیمپ میں مقیم ہیں۔اب ہمارا خاندان زندہ رہنے کیلئےجدو جہد کررہا ہے۔سلطانہ نے کہاکہ ’’ہمیں بے دخل کیا گیا، ہمارے پاس کوئی زمین نہیں ہے۔ یہاں انہوں نے ہر خاندان کو رہنے کے لیے 20 فٹ کا رقبہ دیا ہے۔اب اس چھوٹے سے حصے میں بیت الخلا، غسل خانہ بنانا ہے یا رہنے کے لیے؟… یہ عید کا دن ہے، لیکن بارش مسلسل ہو رہی ہے۔ اور گھروں کی اس حالت کے ساتھ، ہم بچوں کے ساتھ صرف دعائیں کر رہے ہیں، ہماری مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے‘‘۔

60 سالہ نور الاسلام نے کہا کہ گزشتہ تقریباً تین سالوں میں حکومت کی جانب سے خاندانوں کے لیے صرف ترپال کی چادریں فراہم کی گئی ہیں۔ اس عید پر ان بچوں نے منانا تھا، لیکن دیکھیں ان کے پاس کپڑے تک نہیں ہیں، کیمپ میں سیلاب آنے کی وجہ سے کہاں منائیں؟۔اب کہاں جانا ہے؟ اس وقت کئی گھر زیر آب آگئے ہیں۔ طوفان کے دوران گھروں، ترپالوں کو نقصان پہنچا جس کی وجہ سے ہماری حالت بہت زیادہ خراب ہو گئی۔

آپ بیت الخلاء کا استعمال بھی نہیں کر سکتے، وہ سیلاب میں ڈوب گئے ہیں۔ خوراک، لباس اور رہائش – یہ ہماری بنیادی ضروریات ہیں، یہ ہمارے حقوق ہیں۔ پانی بھی پینے کے قابل نہیں۔ لوگ تکلیف میں ہیں۔ ہمارے حقوق پر مکمل طور پر ڈاکہ ڈال دیا گیاہے اور حکومت ہمیں ہردن بدترین حالت کی طرف ڈھکیل رہی ہے۔اس زندگی سے بہتر ہے کہ ہمیں ماردیا جائے۔سلطانہ بانس اور ترپال کی چادروں سے بنے بیت الخلاء کی حالت پر فکر مند تھیں اور اس نے نشاندہی کی کہ ایسی حالت میں رازداری ایک سنگین تشویش ہے۔ ہماری کوئی عزت نہیں ہے۔ بحیثیت مسلمان، ہماری کوئی عزت نہیں، عزت کی زندگی گزارنےسے قاصر ہیں۔

ان عارضی کیمپ میں رہنے والوں میں بیشتر وہ افراد ہیں جنہوں نے اپنی زمین دریا کے کٹاؤ کی وجہ سے محروم ہوگئے تھے اور جنگل کی زمین پر رہنے پر مجبور ہوگئے ۔2021 میں جب اس رپورٹر نے علاقے سے بے دخل کیے گئے 70 سالہ کسان نبی حسین سے ملاقات کی تو اس نے بتاتھایا کہ 18 سال قبل وہ اپنے بچوں سمیت اس علاقے میں دریا کے کٹاؤ کی وجہ سے زمین کھونے کے بعد ہجرت کی تھت ۔

تقریباً تین سال قبل عارضی پناہ گاہوں میںمنتقل کئے جانے سے قبل وہ کاشتکار ہوا کرتے تھے مگر اب کھیتی باڑی اور کام کرنے کے لیے زمین نہیں ہونے کی وجہ سے وہ کیمپ میں بیکار بیٹھے ہیں۔یہ کسان دھان، پھلیاں، ہلدی، ادرک، جوٹ وغیرہ اگاتے تھے۔


سلطانہ نے بتایا کہ وہ بھی کھیتی باڑی سے وابستہ تھی اور خاندان بچوں کا پیٹ پالنے اور سالانہ اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی کماتی تھی لیکن اب یہ ایک آزمائش ہے۔ آج ہم بچوں کو 10 روپے کا نوٹ نہیں دے سکتے۔ ہم نے ایک بار یہ کمایا تھا، لیکن اب حکومت نے ہمیں بے دخل کردیا، اور ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ پہلے ہم عید پر 20 سے 30 ہزار خرچ کر سکتے تھے لیکن اب ہمارے پاس خرچ کرنے کے لیے 500 روپے کا نوٹ بھی نہیں ہے۔

کیمپ میں موجود بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح، سلطانہ روزانہ اجرت کمانے والی ہے، گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہے، اور 150-200 روپے کے درمیان کماتی ہے، جو سات افراد کے خاندان کے زندہ رہنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

40 سال کے ایک کسان مطب الدین نے بتایا کہ وہ سانس کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ مطب نے کہا کہ مالی عدم استحکام کی وجہ سے وہ خاندان چلانے کے قابل نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بیمار بڑے بھائی 50 سالہ قطب الدین جو دل اور پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا تھے، ایک سال قبل انتقال کر گئے تھے کیونکہ وہ مناسب علاج کی استطاعت نہیں رکھتے تھے اور کیمپ میں طبی سہولیات کی کمی تھی۔ہم تین سالوں میں اس کیمپ میں طبی سہولیات کی کمی کی وجہ سے تقریباً 40 افراد کو کھو چکے ہیں۔ مرنے والوں میں بہت سے بچے بھی ہیں… کسی کو کوئی پرواہ نہیں، کوئی اعلیٰ عہدیدار یہ دیکھنے کے لیے نہیں آیا کہ ہم کیا گزر رہے ہیں۔‘‘

2021 میں بے دخلی مہم سے پہلے مقامی انتظامیہ نے ان سے ’’چھ بیگھہ اراضی کا وعدہ کیا تھا‘‘مگر اس وعدے پر عمل نہیں کیا گیا ۔

AIUDF کے ایم ایل اے اشرف حسین، جو جبری بے دخلی مہم سے متعلق مسائل پر آواز اٹھاتے رہے ہیں، نے اسے’’انسانی حقوق کی خلاف ورزی‘‘قرار دیا ۔ان کی بازآبادکاری کیلئے فوری اقدمات کی ضرورت ہے۔

آسام میں ایشین سینٹر فار ہیومن رائٹس نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ وہاں3لاکھ سے زائد افراد آسام میں بے گھر ہیں ۔ہوجائی، درنگ، سونیت پور، اور بارپیٹا میں بے دخلی کے بعد یہ پتہ چلا ہے کہ بے دخل کیے گئے ان میں سے بہت سے لوگ دریا کے کٹاؤ کے شکار ہیں اور برسوں سے حکومت نے ان کی بازآبادکاری نہیں کی ہے۔دریں اثنا، کیمپ کے تقریباً 120 بچے سرکاری اسکولوں میں جاسکتے ہیں، اور باقی 100 بچے، جیسا کہ نور نے کہاکہ ابھی تک داخلہ نہیں ہونا ہے کیونکہ قریبی اسکولوں میں مزید گنجائش نہیں ہے۔
یہ رپورٹ انگریزی ویب سائٹ مکتوب ڈاٹ کام سے لی گئی ہے۔اس رپورٹ کے مصنف محمودالحسن

متعلقہ خبریں

تازہ ترین