اب آئی آئی ٹی کھڑکپور جیسا باوقار ادارہ بھی توہم پرستی کے فروغ میں سرگرم

0
64

نوراللہ جاوید

ملک کو توہم پرستی ،دقیانوسی نظریات سے نکال کر سائنسی نظریہ اور فکر کو فروغ دینے کےلئے1951میں سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے ملک کے پہلے’ کھڑکپور آئی آئی ٹی‘ کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئےاس عزم کا اظہار کیا تھا کہ ہندوستان آئی آئی ٹی تکنالوجی میںنہ صرف خود کفیل ہوگا اور ہندوستانی نوجوان پوری دنیا میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوائیں گے۔بلکہ یہ تعلیمی ادارے ملک میں سماجی نظریہ اور فکر کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔آئی آئی ٹی تکنالوجی میں ہندوستان نہ صرف خود کفیل ہوا بلکہ ان اداروں سے تعلیم یافتہ نوجوان آج دنیا کی مشہور آئی ٹی کمپنیوں ’’گوگل ، ٹوئٹر اور آئی بی ایم ودیگر کی قیادت کررہے ہیں ۔اس طرح نہرو کے خواب کا یہ حصہ ضرور شرمندہ تعبیر ہوا۔تاہم ہندوستانی سماج کو توہم پرستی اور دقیانوسی کو نجات دلانے کاخواب نہ صرف ادھورا ہے بلکہ ہندوراشٹرکا خواب دیکھنے والوں نے ان آئی آئی ٹی اداروں کو معکوس کے سفر پر گامزن کردیا ہے۔جن اداروں کو سائنسی نظریات و فکر کے فروغ کےلئے قائم کیا گیاتھا اب ان اداروںکو فرسودہ نظریات ، بے سرو پا کی باتیں ، جھوٹی عظمتوں کو فروغ دینے کے کام میں لگادیا گیا ہے۔

اس طویل تمہیدی گفتگو کا پس منظر در اصل’’ نئے سال کے موقع پر’’ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کھڑگپور ‘‘میں نو تشکیل شدہ سینٹر فار ایکسیلنس فار انڈین نالج سسٹمزکا’’ ای کلینڈر‘‘ ہے۔ اس کلینڈر میں سائنسی فکر کے بجائے قدیم ہندوستانی تہذیب کے دیومالائی قصوں کوحقیقت بناکر پیش کیا گیا ہے۔ہندوستانی تہذیب و تمدن کو دنیا کی سب سے قدیم تہذیب اور ہندئوں کو ہندوستان کا اصل باشندہ ثابت کرنے کےلئے ایک سائنسی ادارے کا بھونڈا استعمال کیا گیا ہے۔

دراصل اس کلینڈر کا مقصد مزعومہ ہندو تہذیب کی بالادستی کو قائم کرنا ہے۔اس کلینڈر کے ذریعہ اس تاریخی تسلسل کی تردید کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ آریائی ایرا ن اور وسط ایشائی ممالک سے ہجرت کرکے ہندوستان میں آباد ہوئے ہیں۔کلینڈر میں یہ دعویٰ کیا گیا ہےکہ دراوڑی تہذیب ہی ہندوتہذیب ہے اور آریائی ہجرت کرکے ہندوستان نہیں آئے ہیں بلکہ وہ اسی زمین کے اصل باشندہ ہیں ۔ظاہر ہے کہ اس طرح کے بے سر و پا دعوے ہندوستانی سائنسی اور عقلی سوچ کے تابوت میں آخری کیل کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ کیلنڈر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی جیسے ادارے سے کس طرح شائع ہوسکتا ہے یہ سب سے بڑا سوال ہے۔

یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ قدیم ہندو فلسفہ اور فکر کی کھوج اور تحقیق میں کیا حرج ہے؟ہندوستانی ثقافت کے فروغ کےلئے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی، کھڑگ پور کے زیر اہتمام انڈین نالج سسٹم سنٹر قائم کیا جاتا ہے تو اس میں برائی کیا ہے؟۔دراصل جن امور میں اختلافات ہوں ،تحقیق کا موضوع ہواور مورخین کسی ایک نظریہ پر متفق نہ ہو تو سائنسی ادارے کی ذمہ دار ی ہے کہ وہ تعصب سے پاک ہوکرسائنسی طریقے سے حقائق کی جانچ اور پرکھ کرے اور اس کے بعدہی کسی نتیجے پر پہنچے ۔اسٹیفن کووی نے اپنی سب سے مقبول اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابThe Seven Habits of Highly Effective People میں لکھا ہے کہ موئثر اور ذہین افراد اپنے کام کی شروعات نتیجے کو مد نظر رکھ کر کرتے ہیں ۔سائنس داں کسی بھی نظریہ و فکر کی جانچ کا آغاز ا س کے نتیجے کو سامنے رکھ کر نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ نتائج کی پرواہ کئے بغیر اس نظریہ کی جانچ و پرکھ کرتے ہیں چاہے نتیجہ کچھ بھی آئے۔

یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت آئی آئی ٹی کھڑکپور نے گزشتہ سال بھی اسی طرح کا کلینڈر شائع کیا تھا۔اصل بات یہ ہے کہ یہ سب ملک کے تعلیمی اداروں کو ہندو کرن کی مہم کا تسلسل ہے۔گزشتہ مہینہ دسمبر میں ہی شیب پور انجینئرنگ و تکنالوجی میں انجینئرنگ کے طلبا کو کلاسیس کی ابتدا سے قبل ہندو میتھالوجی کی کلاسس دی گئی۔

ا س کلینڈر میں کون سے دعوے بے بنیاد ہیں اس کو ترتیب وار سمجھانے کےلئےڈاکٹرسیدھار کمارکے مضمون ’’ IIT Kharagpur 2022 calendar on ancient India is an exercise in propaganda – not rigorous research‘‘‘کے کچھ اقتباس پیش کررہا ہوں ۔

’’ آریائی حملے کا نظریہ ‘‘ہندوستان میں ہمیشہ سے موضوع بحث رہا ہے۔رچرڈ ایٹ ال اپنے حالیہ تحقیقاتی مقالہ میں لکھا ہے کہ ’’2000ہزار سال قبل
ہندوستان کی جینیاتی تاریخ میں ہندوستانی جینیاتی مرکب میں ہندوستان کے باہر کے مردانہ ڈی این اے کی اچانک آمد کو ظاہر کرتا ہے۔اسی دور میں700سالہ سندھ تہذیب کے زوال کا آغاز ہوا ہے ۔اس وقت غیر ملکی افراد کے حملے یا ہجرت کا حتمی ثبوت ملتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ مشہورمحقق اراتھم مہادیونے اپنی تحقیق میں لکھا ہے کہ وادی سندھ کی تہذیب دراوڑی تھی اور اس کی زبان کا تعلق تامل سے تھا۔ اگرچہ یہ مکمل طور پر ثابت نہیں ہے۔تاہم یہ موضوع تحقیق طلب ہے۔
تیسرا، موجودہ علمی رائے ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جسے آج ہندو مت کے طور پر سمجھا جاتا ہے وہ ویدک دیوتاؤں جیسے شیو اور موروگا، اندرا، اگنی، وایو اور دیگر ویدک دیوتاؤں کا مجموعہ ہے۔
کلینڈر میں شیو کو دراوڑی دیوتا کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔اگر اس دعوے کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ہندو مذہب ہی اصل ہندوستانی مذہے اور باہر سے آ نے والے آریائیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ صرف شیو ہی کیوں؟ دیگر ہندو دیوتائوں کو بھی دراوڑی کے طور پر تسلیم کرنا پڑے گا اور اس کا یہ مطلب ہوگا کہ دراوڑیوں کو اہمیت دی جائے، اور شاید یہ کہا جائے کہ ہندو مت کی ابتدا دراوڑی تہذیب سے ہوئی ہے اور یہ وہی دراوڑی ہیں جن کے نمائندے جنوبی ریاستوں میں آباد ہے اور تمل بولتے ہے۔مگریہ بی جے پی کےہندی ،ہندو اور ہندوستان کے نعرے سے میل نہیں کھاتا ہے۔
اس کلینڈر میں کئی ایسی تصاویر کو شائع کیا گیا ہے جو حقائق سے میل نہیں کھاتاہے ۔مارچ کے صفحہ پر رگ وید کی بحث کی گئی ہے، لیکن جو تصویر دکھائی گئی ہے وہ بدھ کی ہے۔ اسی تصویر میں وادی سندھ کے مہروں میں بدھ کے سر کے دائیں طرف پائی جانے والی ’’پسوپتی‘‘ کی مہر (جسے’’شیو‘‘ سمجھا جاتا ہے) کی تصویر ہے (ہمارے نقطہ نظر سے)، لیکن بائیں طرف کی بے ہودہ تصویر جو کسی بھی مہر میں نظر نہیں آتی۔
مئی کےصفحے میں’دیوی ماں کی چند تصاویر شائع کی گئی ہے۔مگر یہ تصاویر در اصل ابنیندرناتھ کی پیٹنگ ہیں جسے انہوں نے سندھ کی مشہوررقاصہ کے طور پر پیش کیا ہے۔یہ تصاویر کسی بھی صورت میں دیوی اور دیوتائوںسے متعلق نہیں ہے۔یہ بے معنی ہے اور غیر متعلقہ ہیں ۔ اگر انڈس ڈانسنگ گرل کا کوئی مذہبی مفہوم ہے ، تو بھی اسے ٹیگور کے پینٹنگ سے جوڑنا فرضی اور مکمل طور پر سیاق و سباق سے باہر ہے۔
جون کے مہینےمیں نام نہاد وادی سندھ کے ایک تنگاوالا کو ہندوستانی افسانوں کے بابا رشیاسرنگا سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن مہابھارت کے مطابق رشیاسرنگا ایک تنگاوالا نہیں تھا۔ اسے ہرن جیسے سینگوں والا آدمی ہونا چاہیے تھا، جو انسان اور ایک ڈو سے پیدا ہوا تھا۔یہ ہندتو کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے اور یہ تنگ نظری کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔
ساتویں بات یہ ہے اس کلینڈر میں سنسکرت اور یورپی زبانوں کے درمیان مماثلت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔جب کہ حقائق کچھ نہیں ہے اس کا مقصد کیا ہے وہ بھی واضح نہیں ہے۔
اس کلینڈر کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے دو عالمی جنگیں ’’آریائیوں ‘‘کی بالادستی کےلئے لڑی گئی تھی ۔جب کہ دوسری عالمی جنگ اس کےلئے لڑی گئی تھی ۔مگراس کے ذریعہ کیا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہ واضح نہیں ہے۔

مذکورہ بالانکات واضح کرتے ہیں کہ اس کلینڈر میں ایسے دعوے کئے ہیں جو متنازع فیہ ہیں ، ایسے میں یہ سوال ہوتا ہے کہ ایک سائنسی ادارے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ایسے نظریہ اور فکر کو فروغ دے جو متنازع ہو اور دلائل وشواہد کی میں ہے۔ایک اچھیے تحقیقی اور اچھی سائنس ادارے کےلئے تکنالوجی سے زیادہ عدم تعصب کا ہونا ضروری ہے۔اگرچہ تعصب کو مکمل طور پر ختم کرنا ناممکن ہے، لیکن کوئی بھی تحقیق اس وقت تک سچائی کو ظاہر کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک کہ تعصب کو ختم کرنے کی ایماندارانہ کوشش نہ کی گئی ہو۔
آئی آئی ٹی کھڑگپور کا’’ انڈین نالج سسٹم سینٹر‘‘کے قیام کامقصد ہی بنیاد ہی متبادل نقطہ نظر کو مسترد کرنا اور کسی خاص نظریے کو فروغ دینا مشن ہے۔ظاہر ہے کہ یہ سائنس کے طریقے کار کے خلاف ہے۔سائنس ہر ایک چیز کو شک کے نظریہ سے دیکھتی ہے اور اگر کوئی بھی نظریہ اپنے حق میں شواہد اوردلائل دینے میں ناکام رہے تو اسے مسترد کردیا جاتا ہے۔اگر ایک تحقیقی ادارہ نظریاتی تعصب رکھتا ہے، تو وہ ان تمام شواہد کو مسترد کر دے گا جو اس کے نظریے سے متصادم ہوں گے ۔ظاہر ہے کہ ایسے میں یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ آئی آئی ٹی کھڑکپور میں ’’ سینٹر آف ایکسی لینس ‘‘کے قیام کا مقصد علم کا فروغ ہے یا پروپیگنڈہ ہے۔کیا آئی آئی ٹی کھڑکپور جیسے اعلیٰ قابل قدر تحقیقی ادارے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ سائنسی نظریہ کو فروغ دینے کے بجائے پروپیگنڈے کو فروغ دے ۔
ہندوستانی سماج کو توہم پرستی سے نکالنے کےلئے پنڈت نہرو نے آئی آئی ٹی کھڑکپور جیسے اداروں کے قیام کاسلسلہ شروع کیا تھا ۔تاکہ ہندوستانی
سائنسی سالمیت کا کیا مطلب ہے اس کے سبق کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن ہم انہیں یہ یاد دلانے پر مجبور ہیں کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ اس سائنسی مزاج کو بھول گئے ہیں جس کو فروغ دینے کے لیے نہرو نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجیز قائم کیا تھا۔ یہ افسوسناک ہے کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی، کھڑگپور، پہلا آئی آئی ٹی تھا جس کا افتتاح نہرو نے کیا تھا اور اب وہ توہم پرستی اور عقیدہ پرستی کی تاریک گلیوں میں بھٹک گیا ہے۔