دی میکنگ آف دی ماڈرن انڈین مسلم :علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

0
78

مصنف:محمدوجیہہ الدین
کل صفحات:217+18=235

سال اشاعت:2021
پبلیشر:ھارپرکولنس
قیمت:399
ایک تعارف

یوں تو علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی، علی گڑھ تحریک پر مختلف زبانوں میں آپ بیتی اور تحقیقی کتابیں اور مضامین لکھی گئی ہے- جس میں یونیورسٹی کی تاریخ سے لیکر اس کے پیچ و خم پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے
یہ کتاب کئی معنوں میں اہم اس لیے بھی ہے کہ اس میں مصنف نے گاہے بگاہے اپنی آپ بیتی کا ذکر کر تے ہو ئے مسلم یو نیورسٹی کی تہذیب و تمدن، القاب و آداب میں وقت کے ساتھ کس طرح سے تبدیلی رونما ہو رہی ہے اس کا موازنہ مصنف جا بجا کرتے نظر آتے ہیں-
کتاب میں تعارف کے علاوہ کل دس ابواب ہیں ہر باب میں یو نیورسٹی اور اسکے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے
اس کتاب میں مصنف نے قومی تحریک کے وقت مسلم یو نیورسٹی میں کس طرح کا سیاسی ہلچل چل رہی تھی اور طلبہ کی سر گر میوں کا بھی ذکر کیا ہے قومی رہنما مولانا آزاد اور جناح کی سر گرمیوں کے حوالے سے مصنف نے نہایت ہی دلکش انسان حالیہ دنوں میں ہونے والے اختلاف کا بھی ذکر کیا ہے
آزادی کے بعد مسلم یو نیورسٹی میں ہو نے والی تبدیلی اور حکومت ہند کی کا وشوں کا بھی ذکر ملتا ہے کہ کس طرح سے بٹوارے کے بعد، مسلم یو نیورسٹی میں ایک بار پھر سے اس میں روح ڈالی گئی، جس میں ڈاکٹر ذاکر حسین اور انکے ساتھ ہونے والی پریشا نیوں کا زکر مختلف حوالوں سے دیا گیا ہے
مسلم یونیورسٹی کے متعلق ایک عام خیال بہت سے لوگوں کا رہا ہے کہ یہ ایک مدرسہ (آج کل مدرسہ سے مراد دینی تعلیم کا ادارہ سمجھا جاتا ہےحالانکہ اس وقت مدرسہ وہ جگہ ہوا کرتا تھا جہاں ہر قسم کی تعلیم دی جاتی تھی) ہے یا جدید تعلیم کا مر کز ہے سابق وائس چانسلر سید حامد اور لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے اپنے وقت میں مدرسہ کے طالب علموں کے لئے جو کاوش کی(سی پی کیمی) کے حوالے سے اس پر تفصیل سے لکھا ہے
اپنے تجربہ کی روشنی میں کیمپس میں تبلیغی جماعت کی سر گرمیوں کے ذکر کے ساتھ ہی ساتھ کسطرح سے ایک ایسی جماعت کو سیاست میں استعمال کیا گیا جو یا تو زمین کے نیچے اور آسمان کے اوپر کی تعلیم دیتی ہے۔
حالیہ دنوں میں مختلف مذہبی فرقوں کا عروج اور اس کی وجہ سے کیمپس میں کسطرح کی تبدیلیاں ہو ئ ہے اس کا بھی ذکر ملتا ہے(مصنف کو چاہیے تھا کہ مختلف فرقوں کے عروج میں یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ کے رول کو بھی اجاگر کر نا چاہیے تھا- یونیورسٹی کے ہاسٹل کے میدان میں بھی جمعہ کی نماز ہو رہی ہے شاید اسکا علم مصنف کو نہیں ہے)

کتاب میں حوالہ(حواشی ) دیا گیا ہے پر بعذ اوقات مصنف نے فلاح صاحب نے کہا سے کام چلایا ہے۔ جگہ بجگہ جہاں حوالے کی کمی محسوس ہوتی ہے (صفحہ ۹، ۱۵،۴۰، ۶۹، )
الغرض ایک اچھی کتاب ہے جس میں یونیورسٹی کی تاریخ کے ساتھ ہی ساتھ موجودہ دور کے واقعات کا بھی ذکر مل جاتا ہے

عنایت اللہ خان
اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ تاریخ، عالیہ یونیورسٹی، کولکاتہ