امارت شرعیہ پھلواری شریف کی تاریخ کا یہ بھی ایک پہلو ہے —————-جسے آج حرف غلط کی طرح مٹایا جارہا ہے

0
75

نوراللہ جاوید

(یہ چند صفحات میری آنے والی کتاب ’’ گل ولالہ ‘‘ سے ماخد ہے۔’’گل ولالہ‘‘ دراصل معارف قاسم کے خصوصی شمارے جو اب مجموعہ قاسم سیریز کے تحت کتابی شکل میں شائع ہوچکی ہے کے تبصرے پر مبنی ہے۔ حضر ت مفتی محفوظ الرحمن عثمانی ؒ کی ہدایت پرمیں نے گیارہ جلدوں پر مشتمل ان خصوصی شماروں کا تجزیاتی و تبصراتی مطالعہ قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔کچھ میری لاپرواہی زیادہ مصروفیت کم اور اس کے بعد کورونا کے قہر کی وجہ سے یہ کتاب منظر عام پر اب تک نہیں آسکی اور اس درمیان حضرت مفتی محفوظ الرحمن عثمانی بھی اللہ کے حضور میں پیش ہوگئے۔۔ انشا اللہ اب جلد ہی اس کتاب کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی جائے گی۔۔۔ اس وقت ان صفحات کو قارئین کی خدمت میں اس لئے پیش کیا جارہا ہے کہ حضرت مولانا ولی رحمانیؒ کے انتقال کے بعدامیرشریعت کے انتخاب کےلئے لابنگ کرنے والے افراد امارت کی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کررہے ہیں۔ چناں چہ امارت تاریخ کا ایک روشن پہلو پیش کرکے حقائق سے آگاہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں )

امارت شرعیہ بہار ،جھار کھنڈو اڑیسہ حضرت مولاناابوالمحاسن سجادصاحب ؒکے عالی دماغ ، فکر ونظر کی بلند ی اور اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی کیلئے ان کی فکر مندی کا نتیجہ ہے ۔ابوالمحاسن حضرت مولانا محمد سجاد ؒ امارت شرعیہ کے قیام کے ذریعہ ہندوستان میں مسلمانوں کی دینی ، ملی اورسیاسی مستقبل کو محفوظ کرناچاہتے تھے،ان کامنصوبہ تھاکہ امارت شرعیہ کے ذریعہ ایک ایسے ادارہ قائم کیا جائے۔جو مسلمانوں کو اجتماعیت فراہم کرسکے اور اس کے سایے میں مسلمان آزادانہ طورپر اپنے عائلی زندگی قرآن و حدیث کی روشنی میں گزار سکیں اور اپنے تنازعات عدالتوںکے بجائے اسلامی عدالتوں سے حل کرائیں ۔ امارت شرعیہ کے قیام کے ذریعہ مولا نا ابوالمحاسن محمد سجادؒ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی معاشرت ،کلچر، سوشل تہذیب،اوقاف،نکاح ،طلاق،زکوۃ اورعشرہ اور دیگر تمام دینی امور ایک شرعی عدالت کے تحت انجام دئیے جائیں ۔ ہندوستان کے دستور اساسی میں مسلمانوں کے عائلی اور مذہبی حقوق کی ضمانت حاصل کرلی جائے اور یہ تمام امور امارت شرعیہ کے تحت انجام دئیے جائیں ۔مولاناابوالمحاسن سجاد ؒ پورے ہندوستان میں امارت شرعیہ قائم کرنا چاہتے تھے ۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی ؒ کو قائل بھی کرلیا تھا ۔مگر مالٹاکی اسیری سے نجات ملنے کے ساتھ ہی شیخ الہند ؒ کی صحت خراب ہوگئی ہوچکی تھی۔ جمعیہ علماء ہند کے اجلاس کی صدارت شیخ الہند کو کرنی تھی مگر طبیعت کی ناسازی نے اس کی اجازت نہیں دی جب کہ اسی اجلاس میں امارت سے متعلق تجویز پیش کیا جانا تھا اور امید تھی کہ اس موقع پر امیر شریعت کا انتخاب کرلیا جاتا مگر ایسا نہیںہوسکا اور حضرت شیخ الہند ؒ کا علینن سے بلاوا آگیااور و ہ راہی عدم ہوگئے ۔حضرت شیخ الہند کے انتقال کے بعد اس کیلئے کوشش بھی ہوئی ، امارت کے قیام پر سبھی متفق ہوئے مگر امیرشریعت کا مسئلہ حل نہیں ہونے کی وجہ سے یہ بات آگے نہیں بڑھ سکی اور اس طرح پورے ہندوستان میں امارت شرعیہ کے قیام کا خواب خواب ہی رہ گیا ۔مگرمولانا ابوالمحاسن محمد سجاد ؒ بہار میں امارت شرعیہ قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے اور امارت کے قیام کے ذریعہ انہوں نے جہاں مسلمانوں کی دینی رہنمائی کی وہیں مولانا نے بہار میں سیاسی جماعت قائم کی اور حکومت سازی میں شامل بھی ہوئے ۔امارت شرعیہ کے قیام کو سو سال مکمل ہوچکے ہیں ، آج امارت شرعیہ بہار ہی نہیں بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کا ایک اہم ادارہ ہے ۔ امارت شرعیہ جس شکل و صورت میںآج ہمارے سامنے ہیں اور امارت مختلف جہتوں اور شعبوں میں ہندوستانی مسلمانوں کو فیض یاب کررہا ہے تواس کے پیچھے دو شخصیتوں کا بہت ہی اہم کردار رہا ہے ان میں سے ایک مولاقاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور دوسری شخصیت امیر شریعت مولانا سید محمد نظام الدین ؒکی ہے۔

قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ کے لائق و فائق بھتیجے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جو علمی کے اعتبار سے حضرت قاضی صاحب کے جانشیں بھی ہیں نے اپنے مضمون ’’قاضی صاحب ایک خاکہ ‘‘ میں قاضی ؒ صاحب کے خاندانی پس منظر ، زندگی کے ابتدائی کے ایام کا ذکر کرنے کے ساتھ حضرت قاضی ؒ کے ملی و قومی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ایسے تو یہ پورا مضمون مطالعے کے قابل ہیں تاہم اپنے قارئین کیلئے اس مضمون کا جستہ جستہ پیش کرکے بات آگے بڑھائی جاتی ہے۔مولانا نے لکھا ہے کہ
’’امار ت شرعیہ میں آپ اس وقت آئے جب کام کرنے والوں کو بیٹھنے کیلئے باقاعدہ بوریا بھی میسر نہیں تھااور امارت کا دائرہ اثر پٹنہ اور صوبہ کے کچھ مخصوص علاقے تک محدود ہوکر رہ گیا تھا، بیت المال خالی تھا ،دارالقضاء کا کام پھلواری شریف تک محدود ہوکر رہ گیا تھا اور پورے صوبے میں صرف دو مقامات پر دارالقضا قائم تھے ۔آپ کی کوششوں سے موجودہ امیر شریعت حضرت مولانا محمد نظام الدین صاحب دامت برکاتہم(اب مرحوم ہوچکے ہیں) تشریف لائے اور انتظام و انصرام کا شعبہ ان سے متعلق ہوا ، قضا کے نظام کی تو سیع اور زیادہ سے زیادہ مقامات پر دارالقضا قائم کئے گئے۔آپ نے شبانہ روز جد وجہد کی ، اس اہم اورنازک کام کیلئے افراد کار تیار کئے ،امارت شرعیہ کا وفد لے کر گائوں گائوں پہنچے ، قریہ قریہ کو امارت کی تنظیم سے منسلک کیا، مکاتب قائم کئے ،لوگوں کے باہمی نزاعات کا تصفیہ کیااورمدتوں کی مقدمہ بازیاں چند ساعتوں کی کوشش سے ختم ہوئیں ، شہر شہر ، گائوں گائوں کا دورہ کیا ، آپ کی اس جدو جہد کا یہ فائدہ ہوا کہ ہر عام و خاص کی امارت سے وابستگی بڑھی اور امارت کے تمام شعبوں کو استحکام حاصل ہوا ۔دارالقضا میں مقدمات کی آمد بڑھی ، بیت المال کو استحکام حاصل ہوا ،مسلمانوں میں آپ اپنی تعلیم کے نظم کا مزاج پیدا ہوا اوربہار و اڑیسہ میں امارت کی آواز مسلمانوں کے مسائل کے لئے ایک ایسی نمائندہ آواز سمجھی گئی کہ حکومتیں بھی اسے اہمیت دینے پر مجبور ہوئیں اور ارباب اقتدار کو بھی ان بوریہ نشینوں کی بارگاہ کی حاضری کے سواچارہ نہ رہا‘‘۔

قبل اس کہ امارت شرعیہ کی تاریخ کے ساتھ چھیڑ خوانی کی جائے ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سچائیوں اور حقائق کو آن ریکارڈ کردیا جائے کہ مسلمانان ہند میں امارت شرعیہ پھلواری کا شریف کا عزت و مقام ہے تو اس میں ایک بڑا حصہ حضرت قاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ کی جد وجہد، انتظام کار کا دخل ہے۔امارت شرعیہ کے پلیٹ فارم سے مسلمانو ں کی تعلیمی ترقی کیلئے عملی اقدامات ٹیکنیکل انسی ٹیوٹ اور دیگر اداروں کا قیام ان کے ہی ذہن رسا کا کمال ہے ۔ یہ بات ذہن نشیں رہے کہ امارت شرعیہ کے ناظم مولانا قاضی احمد حسین ؒکے انتقال اور حضرت مولانا شاہ عون احمد قادریؒ کے عہد قضاء کے الگ ہوجانے کے بعدامارت شرعیہ 1962میں بحران کا شکار ہوگیا ۔ امیرشریعت مولانا سید منت اللہ رحمانی اور نائب امیر شریعت مولاناعبد الصمد رحمانی کے مشورے پر 1962میں مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ کو امارت شرعیہ کی نظامت اور قضاۃ دونوں کی ذمہ داری سونپی گئی ۔جیسا کہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ اس وقت امارت شرعیہ میں بیٹھنے کیلئے بوریا تک نہیں تھی اور امارت کا دائرہ اثر پٹنہ شہراور آس پاس کے علاقے تک محدود ہ تھا۔ان حالات میں مولانا قاضی مجاہدالاسلا قاسمیؒ امارت شرعیہ کے گیسو برہم کو سنوارنے کی ذمہ داری قبول کی ۔حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی شخصیت عبقری تھی۔اللہ نے انہیں منصوبہ ساز ذہن عطا فرمایا تھا۔فکر ابو المحاسن سجاد سے بہت کچھ حاصل اور اخد کیا تھا ۔اس لئے ان کے ذہن و دماغ میں امارت کی اہمیت و افادیت نقش تھی ۔ ابوالمحاسن حضرت مولانا سجاد ؒ کے مقاصد اور ان کے وژن کا حضرت قاضیؒ نے گہرا مطالعہ کیا تھا چناں چہ وہ امارت بھی اسی مقصد کے تحت آئے حضرت مولانا محمد سجادؒ کے خوابوں کی تکمیل کی جائے اور یہ اسی وقت ہوسکتا تھا جب امارت کا فیض بہار ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے چپے چپے اورتمام علاقے تک پہنچ جائے۔ جب مشن بڑا تا ہے اور وژن کو پایہ تکمیل کو پہنچنا ہی زندگی کا حاصل ہوتا ہے تو ذاتی مفادات اور انا کوئی معنی نہیں رکھتا ہے۔حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ کے پیش نظر امارت شرعیہ کو بلندیوں تک پہنچانا تھا۔ہندوستانی مسلمانوں کی آواز بنانی تھی اور حضرت مولانا ابوالمحاسن سجاد خوابوں کی تکمیل کرنی تھی اس کیلئے ایک ٹیم کی ضرورت تھی۔لہذا انہوں نے اس کے لئے دارالعلوم دیوبند کے اپنے رفیق مولانا سید محمد نظام الدین کا انتخاب کیا۔وہ اس وقت دارالعلوم چترا میں مدرس تھے۔مولانا سید محمد نظام الدین اپنے بزرگ مولانا سید منت اللہ رحمانی اور مولانا عبدالصمد رحمانی کے حکم اپنے رفیق درس مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمی کے اصرار کو نظرانداز نہیںکرسکے۔1964میںوہ امارت شرعیہ سے وابستہ ہوگئے ۔ان دونوں نے امارت کی تعمیر و ترقی ، نیک نامی اور حضرت ابوالمحاسن سجادؒ کے خوابوں کی تعبیر کوہی اپنی زندگی کا سب سب سے بڑا مقصد اور مشن بنالیا۔ان دونوں کی جوڑی نے خلوص و للہیت ،خودسپردگی کی جومثالیں قائم کی ہیں وہ آج کے دورمیں کمیاب تو نہیں مگر نایاب توضرور ہے ۔آ ج دینی ادارے عہدوں کی جنگ کا مرکز بن چکے ہیں۔ بندوقیں تان لی جاتی ہیں ،اور اسی امارت شرعیہ میں یہ سب ہو چکے ہیں مگر اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے حضرت مولانا قاضی مجاہدا لاسلام ؒ کو انہوں نے امارت شرعیہ کی ترقی کی خاطر نظامت کا عہدہ اپنے دوست مولانا سید محمد نظام الدین ؒ کو سونپ دیا۔حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ کا یہ کردار دینی مشن سے جڑے افراد کیلئے ایک سبق اورپیغام ہے۔ کوئی بھی شخص یونہی عظیم نہیں بن جاتا ہے ۔ عظمت کیلئے پہلی شرط قربانی اور ایثار ہوتی ۔ذاتی مفادات سے کہیں زیادہ ادارہ کا مفادات جب عزیز ہوتو اس وقت جنگ وجدل کی نوبت نہیں آتی ہے۔
امارت شرعیہ کی تعمیر و ترقی میں حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ کے کردار پر ان کے رفیق کار اور چار دہائیوں تک ساتھ مل کر یکسوئی کے ساتھ کام کرنے والے سابق امیرشریعت حضرت مولانا سید محمد نظام الدین ؒنے اپنے مضمون ’’حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور 37سالہ رفاقت‘‘میں اس طرح روشنی ڈالی ہے ۔
اس وقت سے ہم دونوں نے ساتھ مل کر اپنے عہدوں کا فرق کئے بغیر امارت شرعیہ کے ساتے کام کو انجام دینا شروع کردیا، سب سے پہلے عوام میں اتحاد کو بحال کرنا تھا، اس کیلئے تنظیمی علاقوں کا دورہ کرنا تھا، تما م شعبوں کی ترقی کیلئے مالی استحکام کا نظم کرنا تھا،ہم دونوں نے اس وقت کے کارکنوں اورمبلغوںکو ساتھ لے کر پوری لگن کے ساتھ اس کام کو انجام دیااللہ کا شکر ہے کہ ہرمرحلے میں کامیاب رہے ، اس طرح 1964سے 2002یعنی 37سال تک ہرکام میں ساتھ رہے ۔یہ بات ضروری تھی کہ ہمارے منصوبوں کی کامیابی قاضی صاحب کی ذہانت ،ان کی اقدامی صلاحیت ، ارادے کی پختگی ،راستہ کی صعوبتوں کو جھیلنے اور روکاوٹوں کو دور کرنے کی پوری صلاحیت تھی اور اس سے ہمیں اپنے دووں کو کامیاب بنانے میں مد ملتی رہی۔
آگے لکھا ہے کہ
1965میں ہندوستان اور پاکستان کی پہلی جنگ ہوئی تو اس میں امارت شرعیہ نے جو موقف اختیار کیا اس میں امیر شریعت مولانا سید منت اللہ رحمانی ؒ اور مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ کی حکمت عملی کا بڑا دخل تھا۔

مولانا سید محمد نظام الدینؒ نے اپنے مضمون میں امارت شرعیہ کیلئے زمین کے حصول سے لے کر اسپتال، تکنیکل ادارے اور امارت کو عوام سے جوڑنے میں حضرت قاضی مجاہدالاسلام قاسمی کے کردار ، ان کی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کا ذکر کیا ہے ۔یہ حقیقت ہے کہ آج امارت شرعیہ جو کچھ بھی ہے وہ ان دونوں بزرگوں کی محنت ومشقت اور جدوجہد کانتیجہ ہے ۔ ملک بھر میں دارالقضا کا قیام، امارت شرعیہ کی افادیت کو عا م کرنے کیلئے مختلف اداروں کا قیام المعہد العالی فی تدریب الافتا و القضا، دارالعلوم امارت شرعیہ،بہارکے مدارس اسلامیہ کی تنظیم ’وفاق المدارس اسلامیہ بہار‘ امارت شرعیہ تکنیکل اور اسپتال یہ سب ان ہی دونوں بزرگوں کے دور میں منصوبے بنائے گئے اور اس کو زمین پر اتارا گیا ۔
مگرآج یہ جا ن کر دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ اسی امارت شرعیہ میں مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ کا ذکر مصیبت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔وہ افراد جنہوں نے حضرت قاضی مجاہدالاسلام قاسمی کی تربیت میں امارت میں عروج حاصل کیا تھا وہ بھی فکر معاش کی وجہ سے ان کے ذکر سے گریز کرنے لگے ہیں۔یہ وقت کی ستم ظریفیاں ہے مگر یہ سب زیادہ دنوں تک نہیں چلنے والا ہے مستقبل کا مورخ ضرورایسے چہروں کو بے نقاب کرے گا اور تاریخ کے جھومر پر مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ کا نام ’’ نقوش جادواں ‘‘کے طور پر چمکے گا۔
جیسا کہ مولانا سید محمد نظام الدین ؒ نے اپنے مضمون میں اس کا ذکر کیا ہے کہ امارت شرعیہ کاانتظام و انصرام سنبھالتے ہی عوام میں اتحاد کو بحال کرنے کی جدو جہد شروع کی گئی دراصل یہ حضرت مولانا مجاہدالاسلام قاسمی ؒ کی پوری زندگی کا حاصل ہے وہ امت مسلمہ کو وحدت کلمہ کی بنیاد پر جمع کرنے اور متحد کرنے کیلئے سرگرم عمل رہے ۔امارت شرعیہ کا پلیٹ فارم ہو ، یا مسلم پرسنل لا بورڈ، یاپھر ملی کونسل اور یا پھر فقہ اسلامی ہند کے سیمینار ہرجگہ ان کی زندگی کامشن امت مسلمہ کو وحدت کلمہ کی بنیاد پر متحد کرنا تھا۔اختلافات رائے میں اعتدال کی راہ پر قائم رہتے ہوئے تعامل اور تعاون باہمی کی راہیں کھولنا ان کا سب سے بڑا مقصد تھا۔ملی کونسل کی تعمیر و ترقی میں کئی سالوں تک رفاقت کا کردار ادا کرنے والے حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی سابق ممبر پارلیمنٹ وسابق جنرل سیکریٹری آل انڈیا ملی کونسل نے اپنے مضمون ’’اتحاد ملت کا عظیم داعی قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ‘‘ میں حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کے اس وصف کو نمایاں کیا ہے ۔مولانا اسرارالحق قاسمی نے لکھا ہے کہ
حضر ت قاضی ؒ اتحاد امت کے عظیم داعی اور پرجوش علمبردار تھے۔مولانا قاسمی نے کانپور میں منعقد مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس میں حضرت قاضی صاحب کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ تقریر آج بھی کانوں میں گونج رہی اور وہ اجلاس کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔حضرت قاضی کی تقریر محض تقریر نہیں تھی بلکہ ایک مجاہد کی للکار تھی جس نے پورے مجمع کو گوش برآواز کرد یا تھا ۔ایک طاقتور پیغام پوری قوت کے ساتھ سنارہے تھے۔
لوگو!امت اصل ہے ، امت کی بقا ، امت کا تحفظ ،امت کا استحکام ،امت کی وحدت اصل ہے،امت رہے گی تحریکیں برپا ہوتی رہیں گی، امت رہیں گی تو تنظیمیں اور جماعتیں وجود میں آتی رہیں گی، جماعتیں اصل نہیں ہیں ، امت اصل ہے۔امت کبھی بانجھ نہیں رہی۔امت باقی رہے گی تو اس میں سینکڑوں ابوالحسن اور سینکڑوں منت اللہ رحمانی پیدا ہوں گے(ہوئے)۔لوگو!امت کا اتحاد ،امت محمدیہ والی شان اور ابراہیمی مزاج مطلوب و مقصود ہے۔
یہ تھا حضرت قاضی ؒ کی زندگی کی مشن اور ان کی دعوت ،انہوں نے وحدت امت کا پیغام ملک کے چپہ چپہ تک پہنچایا ،ان کا بس ایک ہی خوا ب تھا کہ بکھری ہوئی امت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیں،انہوں نے لکھنو میں شیعہ و سنی کے مشہور اختلافات کو ختم کرنے کیلئے بہت کوشش کی اور ان کی کوششوں کا ہی نتیجہ تھا کہ اختلاف کی شدت میں کمی آئی ، ایک دوسروں سے ملاقات اور ایک دوسرے کی مجلس میں شرکت کا سلسلہ شروع ہوا۔اسی طرح حضرت قاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ جب علم ہوا کہ ہندوستان کے کئی حصوں میں ایک مسلک والے دوسرے مسلک کے ماننے والوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ہیں تو بستر مرگ پر تھے،قویٰ جواب دینے لگے تھے، ان حالات میں آپ نے ایک جامع فتویٰ دیا کہ ایک مسلک والے دوسرے مسلک کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں ۔امت فتنہ میں مبتلا نہ ہو۔