Friday, July 19, 2024
homeہندوستاناہانت رسول کے بارے میں سپریم کورٹ کی گزشتہ ہدایات پر عمل...

اہانت رسول کے بارے میں سپریم کورٹ کی گزشتہ ہدایات پر عمل سے متعلق رپورٹ تین ہفتوں میں داخل کرنے کے ہدایت جمعیۃ علماء ہند کی عرضی پر جسٹس اے ایم کھانلویلکر کی ریاستی حکومتوں کو سخت ہدایت

نئی دہلی۲۱؍جولائی ۲۰۲۲:سپریم کورٹ نے جمعرات کو اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی عرضی ( (1265/2021پر سماعت کرتے ہوئے سبھی ریاستی حکومتوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ(تحسین پونہ والا کیس) میں عدالت عظمی کی دی گئی گائیڈلائن کے مطابق اپنے اقدامات سے متعلق رپورٹ تین ہفتے کے اندر داخل کریں ۔سپریم کورٹ نے جمعیۃ علماء ہند و دیگر عرضی گزاروں کو بھی حکم دیا کہ وہ اہانت رسول و منافرت انگیزی کے واقعات کو ظاہر کرنے والا ایک مجموعی ٹیبل چارٹ بنائیں اور ایک ہفتے میں ریاستی حکام کو فراہم کریں جو اس کے جواب میں یہ بتائیں گے کہ ان واقعات کے سلسلے میں کیا کارروائی کی گئی ہے۔ اس کے بعد ایک ہفتے کے اندر جواب الجواب داخل کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے اگلی سماعت کے لیے چھ ہفتوں کے بعد کا وقت مقرر کیا ہے ۔
آج یہ مقدمہ جسٹس اے ایم کھانویلکر اورجسٹس اے ایس اوکا کی بنچ کے سامنے زیر سماعت تھا، جہاں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی طرف سے سینئر وکیل میناکشی ارورا اور ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد پیش ہوئے۔ وکلاء نے پرزور طریقے سے جمعیۃ علماء ہند کے اس فکرمندی کو عدالت کے سامنے رکھا کہ مسلمان ،سارے عالم کے عظیم ترین پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت پر بہت ہی زیادہ دکھ اور قلق میں ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند نے ستمبر ۲۰۲۱ء میں تری پور ہ میں اجتماعی طور سے پیغمبر اسلام کی توہین کے بعد ہی سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور اس وقت یہ عرض کیا تھا کہ اگر سپریم کورٹ نے ہدایت جاری نہیں کی تو ملک میں ایسے واقعات دوبارہ ہوں گے ، جو کافی تکلیف دہ اور مشکل حالات کا سبب ہوں گے ۔ آج جو ملک میں حالات ہیں ، وہ جمعیۃ علماء ہند کی پیش آگاہی کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہے اور اس کے لیے سرکاروں کے سرد مہری پر مبنی رویہ بھی ذمہ دار ہے ۔
ایڈوکیٹ میناکشی ارورا نے کہا کہ اہانت رسول کے واقعات ملک کے آئین اور اس میں موجود سیکولر کردار پر بھی حملہ ہے ، لیکن حرفِ افسو س یہ ہے کہ موجودہ سرکاروں نے ان واقعات کے سلسلے میں انتہائی متعصبانہ کردار ادا کیا ہے اور اس کے مرتکبین سے نرمی برتی ہے ۔ جمعیۃ علماء ہند ان حقائق کا برملا اظہار کرتی ہے کہ نفرتی واقعات بالخصوص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی وجہ سے ملک کی تکثیریت اور مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان بقائے باہمی کی وطنی خصوصیت کو شدید خطرہ لاحق ہے جس کی حفاظت سبھی ہندستانیوں بالخصوص سرکاری مشنریوں کی آئینی ذمہ داری ہے۔
صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی کا رد عمل
آج سپریم کورٹ کی ہدایت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی نے کہا کہ پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ساری دنیا کے انسانوں کے لیے سراپار حمت اور قابل احترام ہے ، اس لیے سپریم کورٹ سے امید ہے کہ وہ اس انتہائی حساس موضوع پر جلد ہدایت جاری کرے گی ۔ آج یہ افسوس کا مقام کہ ہماری حکومتیں خود سے بیدار نہیں ہوتیں ، ان کو عدالتوں کی ہدایت کا انتظار کرنا پڑتا ہے، جو کسی بھی طرح ملک کی ترقی ، سالمیت اور خود مختاری کے لیے مفید نہیں ہے ۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین