نور اللہ جاوید
ایس آئی آر (Special Intensive Revision) کی حتمی فہرست شائع ہونے کے بعد جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ 60 لاکھ ووٹروں کو ’زیر غور‘ (Under Verification) کے زمرے میں ڈال دیا گیا ہے، تو یہ صورتحال انتہائی تشویشناک تھی۔ اس فہرست میں مسلمانوں اور دیہی علاقوں کے پسماندہ افراد کی اکثریت تھی۔ کسی بھی جمہوری ملک میں احتجاج اور مظاہرے عوام کی سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں مغربی بنگال کی سول سوسائٹی کے اراکین، جن میں ڈاکٹرز، پروفیسرز، طلباء اور دیگر نمایاں شخصیات شامل تھیں، نے احتجاج کا فیصلہ کیا اور ماہِ رمضان کے دوران پارک سرکس میدان میں دھرنا شروع کر دیا گیا۔
توقع کے برعکس، اس احتجاج کو کلکتہ شہر کے عام شہریوں کی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ ابتدا میں یہ جواز پیش کیا گیا کہ رمضان اور عید کی مصروفیات کے باعث لوگ شریک نہیں ہو پا رہے، مگر اب عید گزرے بھی ایک ماہ سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے اور شہر کی اردو آبادی کی مجرمانہ بے التفاتی بدستور برقرار ہے۔ چند مخصوص ناموں اور افراد کو چھوڑ کر، گزشتہ 50 دنوں میں کلکتہ کی اردو آبادی کا کوئی بڑا طبقہ اس احتجاج میں نظر نہیں آیا۔
یہ صورتحال نہ صرف کلکتہ کی اردو آبادی کی سیاسی بے شعوری، جمہوری حقوق سے لاپروائی اور عدم دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے، بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ جن مسلم اکثریتی علاقوں میں بڑی تعداد میں مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹے گئے ہیں، وہاں کے لوگ سڑکوں پر کیوں نہیں اترے؟ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس دھرنے نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ کلکتہ کے تمام بنگلہ اور انگریزی اخبارات نے اس پر بڑی رپورٹنگ کی، قومی میڈیا میں یہ سرخیاں بنیں، اور یہاں تک کہ کئی بین الاقوامی آؤٹ لیٹس نے اس دھرنے کے بعد ہی ایس آئی آر کی حقیقت اور مسلمانوں کو ٹارگٹ کیے جانے کے مسئلے کو اجاگر کیا۔
یہ دھرنا نہ صرف کلکتہ بلکہ مغربی بنگال کے عام شہریوں میں بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کلکتہ کی اردو آبادی اس آواز میں اپنی آواز ملانے سے کیوں محروم رہی؟ جو آبادی سیاسی جماعتوں کے جلوسوں میں بڑی تعداد میں شرکت کرتی ہے، وہ اس سول سوسائٹی کے احتجاج میں شامل ہونے سے کیوں گریزاں ہے جس پر کسی سیاسی رنگ کا چڑھاوا نہیں ہے؟ اگر جادو پور یونیورسٹی کے طلباء اس احتجاج کا حصہ بن سکتے ہیں، تو پھر مولانا آزاد کالج کے مسلم طلباء یا عام طلبا کیوں نہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈنا بہت ضروری ہے۔

دراصل گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے کلکتہ کی اردو آبادی روحانی اور فکری اعتبار سے بانجھ ہو چکی ہے۔ انہیں اپنے قوتِ بازو پر بھروسہ نہیں رہا۔ یہ طبقہ مکمل طور پر حکمرانوں کے زیرِ اثر ہو کر اپنی سلامتی کو یقینی سمجھنے کی بھول کر رہا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کلکتہ کے تمام مسلم ادارے، چاہے وہ یتیم خانہ اسلامیہ ہو، اسلامیہ ہسپتال، ملی الامین کالج، مسلم انسٹی ٹیوٹ، انجمن مفید الاسلام ہو یا پھر خلافت کمیٹی؛ یہ وہ ادارے تھے جنہوں نے آزادی سے قبل اور بعد میں بھی کئی دہائیوں تک مسلمانانِ بنگال کی ترجمانی کی، مگر آج ان اداروں پر سیاست دانوں کا قبضہ ہو چکا ہے۔ ان سیاست دانوں نے اپنی دکان چمکانے کے لیے اپنے آبا و اجداد کے ان اداروں کی خودمختاری اور وقار کو ملیا میٹ کر دیا ہے۔
سیاست کے سائے سے اب مساجد بھی محفوظ نہیں رہیں۔ اگر کوئی سیاسی آقا خوش نہ ہو تو امام صاحب کو نکال باہر کرنے میں ایک منٹ نہیں لگتا۔ ٹیپو سلطان مسجد کے امام مولانا برکتی، جو ایک طویل عرصے تک ممتا بنرجی کے سایہ عاطفت میں رہے اور اس وقت بھی ان کے ساتھ کھڑے ہونے کی جرات کی تھی جب کوئی مسلمان ممتا بنرجی کا نام لینے کو بھی تیار نہیں تھا، انہیں بعد میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک مرحوم لیڈر نے یہاں تک کہا تھا کہ ‘سور کا گوشت کھانا اور ترنمول کانگریس میں جانا برابر ہے’، مگر بعد میں اسی سیاست دان نے ممتا بنرجی کے حکم پر امام برکتی کو نکالنے کے لیے ٹیپو سلطان مسجد کے تقدس کو پامال کیا۔ جمعہ کے دن نعرے بازی کی گئی، خطبے کے دوران امام پر پتھر برسائے گئے۔ مولانا صدیق اللہ، جو آج ایس آئی آر کی لڑائی لڑنے کے بجائے انتخاب لڑنے میں مصروف ہیں، وہ اس وقت برکتی کے خلاف احتجاج کرنے والوں میں پیش پیش تھے۔ مگر سوال یہ تھا کہ برکتی کا قصور کیا تھا؟ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ممتا بنرجی کے لیے سیاسی مشکلات کھڑی کر رہے تھے۔
گزشتہ ایک دہائی میں ان سیاسی گماشتوں نے کلکتہ کے تمام ملی اداروں کو اسی نہج پر تباہ کیا ہے۔ خلافت کمیٹی نے تو عید کے تقدس کو ہی پامال کر دیا ہے۔ مسلم ادارے تباہ ہوتے رہے، مسلمانوں کی آزاد آواز دبتی رہی، مگر اردو حلقے سے احتجاج کی ایک بھی آواز بلند نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو آبادی کا تعلیم یافتہ طبقہ انتہائی خود غرض اور مفاد پرستی میں مبتلا ہو چکا ہے۔ انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مالدہ اور مرشد آباد میں کیا ہو رہا ہے یا بھانگر میں کس طرح کا ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔ جب ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات ہی نہیں، تو حق کی لڑائی کیسے لڑی جا سکتی ہے؟
کم و بیش تمام ملی تنظیموں، بشمول جمعیت علمائے ہند، ملی کونسل اور دیگر ذمہ داران کی یہی کیفیت ہے۔ بنگال کے ایک دانشور کے مطابق، کلکتہ کے مسلم اشرافیہ اور بدعنوان مذہبی طبقے نے شہر کے مسلمانوں کی روح ہی نکال دی ہے۔
