این آر سی ، حراستی کیمپ اور رام مندر سے متعلق سوالات پر مالارائے سوالوں کی زد میں!

جب ملک بھرمیںCAA کو لے کر احتجاج ہورہے تھے تو اس وقت ترنمول کانگریس کی ممبر پارلیمنٹ مالا رائے گرہ منترالیہ سے حراستی کیمپ کی تعمیر اور این آر سی کے نفاذ کے بعد ممکنہ قیدیوں کی تعداد سے متعلق سوالات پوچھ رہی تھی

0
176

انصاف نیوز آن لائن

جنوبی کلکتہ سے ترنمول کانگریس کی امیدوار اور ممبرپارلیمنٹ مالا رائےسے متعلق یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ انہوں نے این آرسی ، حراستی کیمپ اور رام مندر سے متعلق سوالات پوچھ کر بنگال کے27فیصد مسلمانوںکے جذبات کی توہین کی ہےاور ترنمول کانگریس کا دہرا کردار بھی سامنے آیا ہے۔یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ این آر سی اور شہریت ترمیمی ایکٹ کو لے کر ممتا بنرجی مخلص نہیں ہیں۔
مالا رائے پر الزام ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں وزارت داخلہ سے ایسے سوالات پوچھے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ این آر سی اور غیر ملکیوں کیلئے حراستی کیمپ کی تعمیر کے حق میں ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ مالارائے پر لگائے جارہے الزامات کی سچائی کیا ہے؟۔
ممبر پارلیمنٹ کی کارکردگی کا تجزیہ کرنے والی ایک غیر سرکاری ویب سائٹ www.prsindia.orgپر جاکر ہم نے مالا رائے کے ذریعے پوچھےگئے سوالات کی فہرسرت دیکھی تو معلوم ہوا کہ انہوں نے این آر سی اور حراستی کیمپ سے متعلق سوالات کئے ہیں ۔

4فروری 2020کو چار ممبر پارلیمنٹ جن میں اروند گنپت ساونت،کودی کونیل سریش، اتم کمار ریڈی اور مالا را ئے شامل ہیں نے گرہ منترالیہ سے تحریری سوال کیا جس میں غیر قانونی شہریوں کیلئے حراستی کیمپ کی تعداد اور اس کے ماڈل سے متعلق ہیں ۔حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ اگر این آر سی اور شہریت ترمیمی ایکٹ نافذ ہوجاتا ہے تو کیا ان حراستی کیمپ کی تعداد میں اضافہ ہوگااور اس صورت میں ممکنہ قیدیوں کی تعداد کیا ہوسکتی ہے۔

ان چار ممبرپارلیمنٹ نے حراستی کیمپ سے متعلق کل 7 سوالات کئےہیں ۔مگر وزارت داخلہ کی جانب سے وزیر مملکت نتیانند رائے نے صرف تین سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حراستی کیمپ کی کل تعداد کاعلم انہیں نہی ہیں ۔کیوںکہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر ریاستی حکومتیں حراستی کیمپ کی تعمیر کررہی ہیں اس لئے ان کے پاس کوئی معلومات نہیں ہے۔ این آر سی سے متعلق کسی بھی سوال جواب دینے سے گرہ منترالیہ نے گریز کیا۔

یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخر این آر سی اور حراستی کیمپ سے متعلق واضح جواب دینے وزارت داخلہ نے گریز کیوں کیا؟

دراصل سی اے اے کے خلاف 2020میںملک بھر میں احتجاج جاری تھے۔دنیا بھر کی نگاہیں خواتین کے احتجاج کی طرف مرکوز تھے۔پارلیمنٹ میں این آر سی اور سی اے اے کے درمیان کورونا لوجی سمجھانے والی امیت شاہ بھی 190ڈگری پلٹی مارچکے تھے۔اس موقع پر فروری 2020میں ہی و زیر اعظم مودی نے دہلی کے رام لیلا میدان میں این آر سی کے ممکنہ نفاذ کی باتیں کرنے والوں کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب این آر سی کو لے کر ان کی حکومت نے غور ہی نہیں کیا تو اس کو نفاذ کا سوال کہاں سے آگیا ہے۔ ہم نے این آرسی سے متعلق کبھی بھی غور نہیں کیا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے این آرسی کے نفاذ کو لے کر کسی بھی سوال کا واضخ جواب دینے سے گرہ منترالیہ نے گریز کیا ۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ گرہ منترالیہ سے مالارائے کو این آر سی سے متعلق سوال کہ این آر سی نافذ کیا جاتا ہے تو پھر قیدیوں اور حراستی کیمپ کی تعداد کیا ہوگی؟پوچھنے کی ضرورت کیوں تھی ؟۔یہ سوالات ایسے وقت میں پوچھا گیا جب ملک بھر میں سی اے اے کے خلاف احتجاج ہورہے تھے۔

��
مندرجہ بالا گرافی سے معلوم ہوتا ہے کہ مالا رائے کی بحیثیت ممبر پارلیمنٹ کیا رول تھا

پارلیمنٹ میں حاضری کے اعتبار سے مالارائے کا کوئی خاص اچھا ریکارڈ نہیں ہے۔پانچ سالوں میںانہو ں نے محض دس مرتبہ بحث میں حصہ لیا اور پارلیمنٹ میں ان کی حاضری کی شرح محض 43فیصد ہے۔جب کہ ملک بھر کے ممبران پارلیمنٹ کی حاضری کی مجموعی شرح 79فیصد ہے اور بنگال کے ممبران پارلیمنٹ کی شرح 66فیصد ہے۔یعنی انہوں نے اوسط شرح سے بھی کم پارلیمنٹ میں حاضری دی ۔ترنمول کانگریس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ تحریری سوالات میں ممبر پارلیمنٹ کے ذاتی کردار سے زیادہ پارلیمانی کمیٹی کا رول زیادہ ہوتا ہے۔اس لئے این آر سی کے نفاذ سے متعلق سوالات کو صرف مالا رائے سے جوڑنے کے بجائے ترنمول کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ کی رائے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

جنوبی کلکتہ میں اس مرتبہ تینوں بڑی پارٹیوں نے خاتو ن کو میدان میں اتارا ہے اور اس مرتبہ خواتین کے درمیان مقابلہ ہے۔سماجی کارکن سائرہ شاہ حلیم جو سابق ڈپٹی آرمی چیف ضمیرالدین شاہ کی بیٹی ہیں انڈیا اتحاد کی جانب سے سی پی آئی ایم کی امیدوار ہیں ۔جب کہ بی جے پی نے رائے گنج سے بی جے پی کی ممبر پارلیمنٹ و سابق مرکزی وزیر دیپاشری کو امیدوار بنایاہے۔دیپا شری کلکتہ کے شہریوں کیلئے بالکل نئی ہیں ۔اس لئے اس وقت سائرہ شاہ حلیم اور مالارائے کے درمیان موازنہ کیا جارہا ہے۔ایک طرف مالارائے ہیں جن کی پارلیمنٹ کی کارکردگی مایوس کن ہیں تو دوسری طرف سائرہ شاہ حلیم ہیں جو ٹی وی ڈیبیٹ سے لے کر، سول سائٹی کے پروگراموں اور تمام پلیٹ فارموں سے این آر سی اور سی اے اے کے کی مخالفت میں بلندآواز کی مالک رہی ہیں۔چناچہ یہی وجہ ہے کہ این آر سی مخالف فارم نے جنوبی کلکتہ سے سائرہ شاہ حلیم کی حمایت ا علان کیا ہے۔

مالا رائے پر دوسرا الزام ہے کہ ایک طرف ترنمول کانگریس مسلمانوں کے ساتھ کھڑا ہونے کادعویٰ کرتی ہے تو دوسر ی طرف 7نومبر 2019میں بابری مسجد ملکیت کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے محض ایک مہینے کے بعد ہی 10دسمبر2019 کوپارلیمنٹ میں رام مندر کی تعمیر ، رام مندر ٹرسٹ سے متعلق مالا رائے نے بی جے پی کی حریف جماعت چراغ پاسوان سوالات کئے۔22جنوری 2024کو اجودھیامیں پران پرتشٹھا کے موقع پر ممتا بنرجی مرکزی کلکتہ کے پارکس سرکس میدان میں مسلمانوں کے ساتھ کھڑے رہنے کا پیغام دے رہی تھیں ۔
مالا رائے کے خلاف اس الزام کی جانچ کیلئے ایک بار پھر ہم نے اس ویب سائٹ سے رجوع کیا تو یہ سچائی سامنے آئی کہ مالارائے نے وزارت داخلہ سے رام مندر کی تعمیر اور ٹرسٹ کو لے کر سوالات کئے ہیں ۔

دی وائر نے بنگال میں حراستی کیمپ سے متعلق خبر شائع کی تھی

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 2020میں جب ملک بھر میں شہریت ترمیمی ایکٹ کو لے کر بحث چل رہی تھی کہ اسی وقت مغربی بنگال میں غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کیلئے حراستی کیمپ تعمیر کئے جانے کی خبریں سامنے آئیں ۔گرچہ مغربی بنگال کے محکمہ جیل کے وزیر اجول بسواس نے بار بار وضاحت کی اس کا تعلق این آر سی اور سی اے اے سےنہیں ہیں اورسپریم کورٹ کی ہدایت پر تعمیر کئے جارہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے کئی سال قبل حراستی کیمپ سے متعلق ہدایات دی تھی مگر جب این آر سی اور سے اے کو لےکر ہنگامہ آرائی جاری تھی اور آسام کے حراستی کیمپوں سے ہولناک خبریں آرہی تھی ایسے بنگال میں حراستی کیمپ کی تعمیر سے کیا پیغام دینے کی کوشش کی جارہی تھی ۔